جمہوریت پر شب خون:
کرناٹک میں ووٹر لسٹ کا سر قلم اور الیکشن کمیشن کی مشکوک خاموشی
قلم کار: ایڈووکیٹ طاہر حُسین
جمہوریت کا سب سے بڑا حسن اور اس کی بنیاد عوام کا ‘حقِ رائے دہی’ ہے۔ جب یہی بنیاد ہل جائے تو پوری عمارت کے انہدم میں دیر نہیں لگتی۔ ابھی 27 اکتوبر 2026 کو ریاست کرناٹک میں ‘اسپیشل انٹینسو ریوژن’ (SIR) کا عمل اپنے انجام کو پہنچا اور الیکشن کمیشن کی جانب سے حتمی ووٹر لسٹ جاری کی گئی۔اس حتمی ووٹر لسٹ کو دیکھنے کے بعد لگتاہے کہ SIR کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض ایک انتظامی رد و بدل یا معمول کی اصلاحِ فہرست نہیں، بلکہ ملک کی سب سے بڑی جمہوریت کے سینے پر ایک گہرا زخم ہے۔ SIR کے نام پر جو طوفان کھڑا کیا گیا ہے، اس نے ریاست کے کروڑوں شہریوں کے جمہوری وجود کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
اعداد و شمار کی زبان: جھوٹ بولتے سرکاری آنکڑے اور زمینی حقیقت:
آبادی بڑھ رہی ہے، ووٹر گھٹ رہے ہیں!
نیشنل ہیلتھ مشن اور حکومتِ ہند کے سرکاری تخمینوں (Population Projections for India and States) کے مطابق، سال 2026ء میں کرناٹک میں 18 سال یا اس سے زائد عمر کی بالغ آبادی کی تخمینہ شدہ تعداد بڑھ کر 5.19 کروڑ ہو چکی ہے۔ جبکہ دوسری ریاستوں سے نقل مکانی کرکے کرناٹک میں آباد ہونے والوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ اس کے باوجود، حیرت انگیز طور پر 2025ء کے 5.4 کروڑ ووٹروں کی تعداد کو گھٹا کر 27 اکتوبر کی حتمی فہرست میں محض 4.5 کروڑ کر دیا گیا ہے۔ کیا کروڑوں بالغ شہریوں کا اس ریاست سے وجود ختم ہو گیا ہے؟
بنگلورو جیسے آئی ٹی حب میں 43.2 فیصد ووٹروں کا صفایا
ریاست کے دارالحکومت بنگلورو میں، جہاں ملک بھر سے روزانہ لاکھوں افراد روزگار اور تعلیم کے لیے آتے ہیں اور آبادی میں تیز رفتار اضافہ ہو رہا ہے،جہاں پہلے رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 1,03,88,363 تھی، وہیں اب 27 اکتوبر کی فہرست میں اسے کاٹ کر محض 59,08,151 پر لا کھڑا کیا گیا ہے۔ یعنی ایک ہی جھٹکے میں بنگلورو کے کل 43.2 فیصد ووٹروں کے نام مٹا دیے گئے! الیکشن کمیشن کے پاس اس ہولناک حذف کا کوئی جواب نہیں ہے۔
ASDDO
کی آڑ میں لاکھوں ووٹرز کااخراج اور۔ آٹے میں نمک کے برابر واپسی:
ASDDO
فہرست کے نام پر تقریباً 1 کروڑ 8 لاکھ شہریوں کو ‘مشکوک’ قرار دے کر باہر کا راستہ دکھایا گیا۔ جب احتجاج ہوا تو ان میں سے صرف 8.19 لاکھ افراد ہی کسی طرح واپس آ سکے۔ ان میں بھی لگ بھگ 6.8 لاکھ نئے نوجوان (18-19 سال) شامل ہیں جو پہلے ہی رجسٹرڈ ہونے والے تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ اصل حذف شدہ کروڑوں افراد میں سے فارم 6 کے ذریعے واپس لوٹنے والوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ صرف 5 لاکھ بنتی ہے۔ باقی ایک کروڑ سے زائد شہری کہاں غائب ہو گئے؟
ملک بھر میں 13 کروڑ سے زائد ووٹروں کا صفایا
یہ المیہ صرف کرناٹک تک محدود نہیں ہے۔ پورے ملک میں اس متنازع ایس آئی آر (SIR) مہم کے تحت تقریباً 13 کروڑ سے زیادہ ووٹروں کے نام حذف کیے جاچکے ہیں۔ بہار اور مغربی بنگال کے بعد اب کرناٹک کے انتخابی اور جمہوری ڈھانچے پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔
صرف چند سو غیر ملکیوں کے نام پر کروڑوں ہندوستانیوں کی قربانی
جب الیکشن کمیشن سے پوچھا گیا کہ ایس آئی آر (SIR) کی اس مہم سے کتنے غیر ملکی درانداز پکڑے گئے، تو طویل خاموشی کے بعد جو انکشاف ہوا وہ خود کمیشن کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ کرناٹک بھر سے محض 700 کے قریب ایسے افراد بتائے گئے جنہیں ‘غیر ملکی’ قرار دیا گیا—جن میں نیپال (624)، امریکہ (33)، آسٹریلیا (14)، کینیڈا (8) اور یہاں تک کہ پاکستان اور بنگلہ دیش سے شادی کرکے قانونی طور پر بسنے والے محض 2 افراد شامل ہیں۔ چند سو افراد کی چھان بین کے نام پر کروڑوں ہندوستانی شہریوں کے جمہوری حق پر ڈاکا ڈالنا کون سا انصاف ہے؟
چودہ سنگین اعتراضات: آئین اور قانون کا قتلِ عام
زمینی تضاد: آبادی کے سرکاری تخمینوں (5.19 کروڑ بالغ افراد) کے برعکس ووٹروں کی تعداد کو 27 اکتوبر کی فہرست میں جبراً 4.5 کروڑ پر لا کر کھڑا کرنا سراسر بدعوانی ہے۔
بنگلورو میں خون ریزی: بنگلورو جیسے متحرک شہر میں 43.2 فیصد ووٹروں کا اخراج ناقابلِ فہم اور مشکوک ہے۔
ناممکن واپسی کا تناسب: 1.08 کروڑ حذف شدہ ووٹروں میں سے بمشکل 5 لاکھ کا دوبارہ بحال ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عمل بوگس اور جبری تھا۔
شہری علاقوں میں بوگس اخراج: ‘ناگرک مت کاوالو سمیتی’ کے سروے نے ثابت کر دیا ہے کہ باقاعدہ مقیم اور اہل شہریوں کے نام دانستہ کاٹے گئے ہیں۔
رہائش بدلنے پر سزا: ممبئی ہائی کورٹ کے واضح فیصلوں کے خلاف، گھر بدلنے والے تقریباً 66 لاکھ افراد کے نام ‘فارم 8’ سے منتقل کرنے کے بجائے سرے سے حذف کر دیے گئے۔
فارم 6 کی ظالمانہ شرط: متاثرہ ووٹروں کو پرانی حیثیت دینے کے بجائے ان سے نیا ‘فارم 6’ بھروا کر یہ جھوٹا اعلان (Declaration) لیا جا رہا ہے کہ وہ "پہلی بار” ووٹر بن رہے ہیں۔
بی جے پی کا مبینہ ‘فارم 7’ گھوٹالا: سیاسی سطح پر حریف جماعت کی جانب سے بڑے پیمانے پر فارم 7 کا غلط استعمال کرکے مخالفین کے ووٹ کاٹنے کی شکایات پر الیکشن کمیشن کی مجرمانہ خاموشی۔
دراندازوں کی فرضی کہانی: چند سو غیر ملکیوں کی آڑ میں کروڑوں محب وطن ہندوستانیوں کے حقوق کو پامال کرنا۔
ضابطوں کا جنازہ: گرام سبھا اور وارڈ سبھا میں ڈرافٹ لسٹ پڑھ کر سنانے جیسے قانونی قواعد کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔
بی ایل اوز (BLOs) پر سسٹمیٹک ٹارچر: محض 8,800 بی ایل اوز پر غیر انسانی دباؤ ڈالا گیا، جس کے نتیجے میں شدید ذہنی تناؤ کے باعث 14 بی ایل اوز اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ملک گیر سطح پر جمہوریت کا قتل: کرناٹک ہی نہیں، بلکہ پورے ملک میں 13 کروڑ سے زائد ووٹروں کے ناموں کو اس ایس آئی آر عمل کے ذریعے غائب کیا گیا ہے۔
غیر قانونی سافٹ ویئر کا استعمال: بغیر کسی پارلیمانی بحث یا ادارہ جاتی جانچ کے ایک نیا اور مشکوک طریقہ کار عوام پر مسلط کیا گیا۔
کمیشن کے اندرونی اختلافات اور یوٹرن: انڈین ایکسپریس کی رپورٹس کے مطابق کمیشن کے اندرونی اختلافات کو دبا کر یکطرفہ فیصلے کیے گئے، اور بعد میں ‘فارم 6’ کی شرط ختم کرنے کے بیانات دے کر کمیشن نے خود اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔
آزاد اداروں کی غلامی: 2023 کے متنازع قانون کے ذریعے اپوزیشن کے کردار کو ختم کرکے الیکشن کمیشن کو حکومت کا کٹھ پتلی ادارہ بنا دیا گیا ہے۔
سیکولر جماعتوں اور سماجی تنظیموں کا دوٹوک مؤقف
27 اکتوبر کو جب سے یہ فائنل لسٹ جاری ہوئی ہے، کرناٹک کی تمام اہم سیکولر سیاسی جماعتوں اور گراس روٹ سطح پر کام کرنے والی سماجی تنظیموں نے ایک آواز ہو کر اعلان کر دیا ہے کہ وہ اس فہرست کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ ان تنظیموں نے اس پورے عمل کے دوران گھر گھر جا کر، بوتھ سطح پر محنت کرکے اور لاکھوں فارمز کی تصدیق کرکے الیکشن کمیشن کی اس دھاندلی کو بے نقاب کیا تھا۔
آج ان کا کہنا ہے کہ جس فہرست سے ریاست کے لاکھوں باقاعدہ مقیم شہریوں، خصوصاً پسماندہ اور اقلیتی طبقوں کے ووٹ منظم طریقے سے کاٹ دیے گئے ہوں، اسے تسلیم کرنا براہِ راست جمہوریت کے گلے پر چھری پھیرنے کے مترادف ہے۔
نتیجہ اور سوالیہ نشان
آج ملک بھر میں 13 کروڑ سے زائد اور کرناٹک میں لاکھوں ووٹروں کے ناموں کا اس طرح غائب ہو جانا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے؛ یہ اس بات کا غماز ہے کہ جمہوری نظام کو اندر سے کھوکھلا کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش رچی جا چکی ہے۔ 27 اکتوبر کی اس فائنل لسٹ کے اجراء کے بعد کرناٹک کی سیکولر جماعتوں اور عوام کا اس غیر قانونی فہرست کے آگے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کرنا دراصل آئینِ ہند کی بقا کی جنگ ہے۔ اگر آج اس من مانی کے خلاف بھرپور مزاحمت نہ کی گئی، تو آنے والے وقتوں میں عوام کا ووٹ ڈالنے کا حق صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ جائے گا۔