نیتن یاہو : بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے ہم نکلے

نیتن یاہو : بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے ہم نکلے

نیتن یاہو : بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے ہم نکلے

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

امریکہ کے معروف صحافی ٹکر کارلسن نے خبردار کیا ہے کہ بنیامین نتن یاہو کے دباؤ میں آ کرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگلے چند دنوں میں ایران پر ایٹمی حملہ کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل کی حالیہ انتخابی نتائج کے بعد اگلی حکومت کی تشکیل پر اختلافات کے سبب یاہو پردباو بڑھ گیا ہے۔ مخالفین کا الزام ہے کہ وہ اقتدارکو طول دینے کی خاطر سیاسی عمل کو معطل کرکے ایران پر نئے حملے کی ا ٓڑ میں سکیورٹی خدشات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود باراک نے بنیامین نتن یاہو پر اقتدار سے چمٹے رہنے کے لیے اسرائیل کو ایران کے ساتھ ایک نئے عسکری تصادم کی طرف دھکیلنے کی کوشش کا سنگین الزام لگایا ہے۔انہوں نےخبردار کیا کہ یہ حملہ تہران کو کمزور کرنے کے بجائے مزید طاقتور بنا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے خلاف فوری اقدام کا تقاضا کرنے والی کوئی انٹیلی جنس معلومات موجود نہیں ہیں۔ نئی حکومت کی تشکیل تک کسی بھی عسکری اقدام کو چھ سے آٹھ ہفتوں کے لیے مؤخر کیا جا سکتا ہے مگر یاہو جنگ چھیڑکر ہنگامی حالت نافذ کرکے 10؍ نومبر کی آئینی حلف برداری میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں ۔ جنگ کی حالت میں قومی وحدت کی حکومت کا دباؤ بنے گا اور سیاسی عمل کے بجائے تمام تر توجہ سکیورٹی کی جانب مرکوز ہوجائے گی ۔

ایہود باراک نے یاد دلایا کہ ماضی میں بنیامین نتن یاہو کی حکومت نے چھ مختلف موقعوں پر نام نہاد "مطلق فتح” کے قریب پہنچنے کا اعلان کیا، لیکن وہ’حماس‘ کو ختم کرنا تو دور غزہ کی پٹی پر اس کا کنٹرول ختم کرنے میں بھی ناکام رہی۔ انہوں نے یاہو کی حکومت سات اکتوبر سنہ 2023ء کے واقعات کا ذمہ دار ٹھہراکر ایران کے ساتھ تصادم کو اگلی حکومت پر چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔ مشکل کی اس گھڑی میں نتن یاہو کا ساتھ چھوڑنے والوں میں اس کی سرکار کا وزیر آوی گیڈور لائبرمین بھی شامل ہوگیا ہے جس سے ہنود اور یہود کی ابن الوقتی میں مماثلت ظاہر ہوتی ہے ۔انہوں نے یاہو کی سربراہی میں کسی بھی حکومت کے اندر شمولیت سے انکار کرکے اس میں وزیراعظم کی باری باری کا معاہدے کو بھی مسترد کردیا۔ لائبر مین نے حکومت کی تشکیل کے لیے ‘یشار’ پارٹی کے سربراہ گاڑی آئزنکوٹ کی حمایت کا اعلان کرکے یاہو کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا۔ انہوں نے کنیسٹ کے موجودہ سپیکر امیر اوحانا (لیکوڈ پارٹی) کے بجائے ‘ییش عتید’ پارٹی کے سربراہ یائر لاپید کانام پیش کردیا۔

حالیہ انتخابات کے نتائج میں بنیامین نتن یاہو کے اتحاد کو 120 میں سے 53 نشستیں حاصل ہوئی ہیں، جبکہ اپوزیشن بلاک کو 48 نشستیں ملیں اور عرب پارٹیاں 19 نشستیں جیت کر کنگ میکر بن گئیں۔عرب پارٹیوں کی حمایت آئزنکوٹ کے بلاک کو 67 تک پہنچا دیتی ہے ۔ ۴؍اکتوبر سے اسرائیلی پارلیمنٹ ( کنیسٹ) میں نمائندگی رکھنے والی پارٹیوں کےدرمیان مشاورتی عمل کا آغازہوگا جو دو دن تک جاری رہے گا۔ اس کی غرض و غایت اگلے ممکنہ وزیراعظم کا تعین ہوگا۔اسرائیل کے نہایت ذہین سمجھے جانے والے احمق وزیر اعظم کو یہ خام خیالی ہے کہ وہ بیرونی مسلم ممالک کی مداخلت کے سبب انتخاب ہار گیا۔ یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ غزہ میں وہ حماس سے ہار گیا۔ تل ابیب میں ایران نے آکر اس کو ہرادیا اور انتخابات ہوئے تو قطر و ترکی کے ہاتھوں وہ شکست کھا گیا۔ ان خبروں کو پڑھنے کے بعد ممبئی کی لوکل ٹرین میں پکڑے جانے والے پاکٹ مار کی شبیہ سامنے آجاتی ہے کہ جب وہ پکڑا جاتا ہے تو راہ چلتا ہر مسافر اس پر ہاتھ صاف کرکے کچھ نہ کچھ ثواب کمانے کی سعی کرلیتا ہے ۔

کاش کہ یاہو کو پتہ ہوتا کہ اس شکست کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ اس کے خاص دوست نریندر مودی کا ہے۔ مودی جی کی پنوتی اس قدر خطرناک ہے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس کی نحوست سے نہیں بچ سکے ۔ صدر ٹرمپ نے جب پہلی مرتبہ الیکشن لڑا تو ان کی مودی جی سے دعا سلام نہیں تھی لیکن جب وہ جیت گئے تو یہ ’رام ملائی (اٹوٹ ) جوڑی‘ بن گئی۔ ان دونوں کے درمیان تعلقات اس قدر گہرے ہوگئے کہ جب وہ دوسری بار قسمت آزمائی کررہے تھے تو انہوں نے مودی جی کو ہیوسٹن بلاکر اپنا پرچارک بنالیا ۔ وزیر اعظم مودی نے اسے اپنی سعادت سمجھی اور وہاں جاکر ’اب کی بار ٹرمپ سرکار ‘کا نعرہ بلند کردیا۔ وزیر اعظم کی اس خدمت نے ٹرمپ کو اس قدر خوش کیا کہ کورونا کی وبا کے باوجود انہیں ہندوستان بلایا گیا تو وہ دوڑے چلے آئے ۔ احمد آباد میں ’نمستے ٹرمپ‘ نامی تقریب میں لاکھوں لوگوں کو جمع کرنے کا خطرہ مول لیا گیا مگر اس کے باوجود ٹرمپ الیکشن ہار گئے۔ اس کے بعد ٹرمپ کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اور تیسری بار جب انہوں نے اپنی قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا تو مودی کے قریب نہیں پھٹکے۔

مودی جی نے بھی سوچا کہ امریکہ کے اندر پہلی مرتبہ ایک ہندوستانی نژاد خاتون کملا ہیرس صدارتی انتخاب لڑ رہی ہیں ۔ وہ اگر اپنی محنت سے جیت گئیں تو مودی جی اس کا کریڈٹ لے لیں گے۔ اس بیچاری نے بھی سوچا کہ ان سے ملنے کے سبب کچھ نہ کچھ تو فائدہ ہوجائے گا ۔ ہندوستانی نہیں تو کم ازکم امریکہ کے گجراتی ووٹرس تو ان پر مہربان ہو ہی جائیں گے لیکن بیچاری کملا کا کمل بھی مرجھا گیا اور اس کی قسمت پھوٹ گئی یعنی وہ ہار گئیں۔ مودی اور ٹرمپ کی دشمنی کا ایک سبب وہ ابن الوقتی بھی ہے۔ اسی کا انتقام لینے کے لیے وہ وقتاً فوقتاً مودی جی کو رسوا کرتے رہتے ہیں۔بینجمن نتن یاہو میں اگر ذرا سی بھی عقل ہوتی تو وہ اپنے الیکشن کی مہم کے زمانے میں مودی سے نہیں ملتے لیکن انہوں ایران پر حملہ کرنے کے محض ایک دن قبل مودی جی کو بلاکر جو پنوتی مول لی اور اب اس کی قیمت چکارہا ہے۔کانگریس کے صدر ملک ارجن کھرگے نے پچھلے دنوں اسی تناظر میں پٹنہ کے اندر کہا تھا’ مودی کیا ان کا باپ بھی جائے گا‘ ۔ اس سے مراد فادر لینڈ کا نتن یاہو تھا لیکن بی جے پی والے بیوقوف اس لطیف طنز کو سمجھ نہیں سکےجبکہ تجربہ کار کھرگے کی بات درست نکل گئی ۔

وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے اقتدار کے نشے میں سب سے پنگا لیا ۔ اسرائیلی صدر سے بھی اس کے اچھے تعلقات نہیں ہیں کیونکہ جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر اسحاق ہرگوز سے کہا تھا کہ وہ نتن یاہو کے جرائم کو معاف کردیں تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا تھا کہ پہلے جرم ثابت ہوجائے اور پھر سزا مل جائے تواس کے بعد وہ معافی پر غور کریں گے ۔ اسی لیے یہ امکان نہیں ہے امریکہ اپنے اثرات کو استعمال کرکے نتن یاہو کو دوبارہ وزیر اعظم بنوانے میں کامیاب ہوسکے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیلی سربراہ کی خلاصی کے لیے سفارش کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ امریکہ اسے اپنا بغل بچہ سمجھتا ہے ۔ اسرائیل کے حوالے کیا جانے والا یہ دعویٰ بالکل کھوکھلا ہے کہ یہودی لابی امریکہ کو کنٹرول کرتی ہے اور اس کی مدد سے صہیونی پوری دنیا پر اپنی مرضی چلاتے ہیں۔ان بلند بانگ دعووں پر پہلے بھی غیر مرعوب لوگ یقین نہیں کرتے تھے مگر اب تو خو دنتن یاہو نےیہ غلط فہمی دور کردی ۔ کہاں تو گریٹر اسرائیل کا خواب اور امریکہ کے توسط سے پوری دنیا پر حکومت کرنے گیدڑ بھپکی اور کہاں اپنے ملک کے انتخابات کو متاثر کرنے کا ترکی اور قطر پر الزام ؟

اسرائیل کا جو بڑ بولا رہنما خود اپنے ملک میں دوسروں کو مداخلت سے نہیں روک سکا وہ بھلا دیگر ممالک پر کیسے اثر انداز ہوسکتاہے؟ ویسے مودی اور سنگھ پریوار کو اس معاملے استثناء حاصل ہے ۔ یہ ہندوتوانواز تو انگریزوں کے زمانے میں بھی برطانیہ کے غلام تھے اس لیے ہر طاقت کی غلامی کا قلاوہ خوشی خوشی اپنے گلے میں ڈال لیتے ہیں۔ انہیں غلامی کی عادت جو پڑی ہوئی ہے ۔ نیتن یاہو نے اپنے دور اقتدار میں اسرائیل کے حوالے سے بہت ساری غلط فہمیاں دور کردیں ۔ اس نے یہ ثابت کردیا کہ حماس کو نیست و نابود کرنے کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوگا ۔ ایران کی جانب وہ آنکھ اٹھا کر دیکھے گا تو آئرن ڈوم کو چیر کر ایرانی میزائل اس کی آنکھیں پھوڑ دیں گے ۔ وہ دن دور نہیں کہ اپنی تمام تر سفاکی کے باوجود ایران جیسے ملک کا اقتدار بدلنے کے سپنے دیکھنے والا درندہ حکومت سے بے دخل ہوکر جیل کی ہوا کھائے گا۔ اسرائیلی صحافی اور معاشی تجزیہ نگار نحیم یا شتراسلر نے اخبار "ہارٹز” میں 44 سال پر محیط اپنے پیشہ ورانہ سفر کے اختتام پر ایک تند و تیز مضمون میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’ یہودی تاریخ کا کمینہ ترین شخص ‘ کے لقب سے نوازہ ہے۔ایسے میں نتن یاہو ذاتِ رذالت پر غالب کا یہ شعر صادق آہے؎
نکلنا خلد سے آدم کا سنے آئے ہیں لیکن
بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے