مودی سرکار: جنتر منتر پر شیر اور چینی سرحد پر ڈھیر

مودی سرکار: جنتر منتر پر شیر اور چینی سرحد پر ڈھیر

مودی سرکار: جنترمنترپرشیراورچینی سرحد پرڈھیر

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

پہلگام کا سانحہ اور آپریشن سیندور کے درمیان چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اس آپریشن کے دوران ہندوستانی فضائیہ کی قیادت ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے کی تھی ۔اس کے بعد اکتوبر 2026 میں فلائی دبئی کے ہندوستانی پائلٹ کیپٹن سمت مچھر کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے یہودی مسافروں کی جان بچائی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے سمیت مچھر کو تو فون کر کے ان کی دلیری کو ایک حقیقی "ہیرو” والا کارنامہ قرار دیا مگر ائیر چیف مارشل کی سبکدوشی پر ان کو نہ صرف نظر انداز کیا بلکہ روایتی تقریب کو منسوخ کرکے ایک لحاظ سے ان کی توہین کردی ۔ہندوستانی فضائیہ کے سبکدوش ہونے والے سربراہ ایئر چیف مارشل امر پریت (اے پی) سنگھ کی روایتی الوداعی گالف تقریب اس لیے منسوخ کر دی گئی کیونکہ نئی دہلی میں وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے قریب واقع ایئر فورس اسپورٹس کمپلیکس کو اچانک بند کر دیا گیا ۔ وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ اربن افیئرز کے تحت لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس کی جانب سے لوک کلیان مارگ پر واقع اس زمین کو واپس لینے کے نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ حکومت کی طرف سے اس اہم اراضی کو واگزار کرانے کی مہم کے باعث 28 اکتوبر کو اسپورٹس کمپلیکس کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا، جس کی وجہ سے یہ روایتی تقریب منسوخ کرنی پڑی۔ مودی سرکار اگر چاہتی تو اس کارروائی کو دو چار دن کے لیے ملتوی کیا جاسکتا تھا لیکن ایسا نہیں کرکے ائیر چیف کی خدمات کی ان دیکھی کی گئی۔

اس نقصان کی بھرپائی کے لیے گالف کی الوداعی تقریب منسوخ کیے جانے کے باوجود ایئر چیف مارشل اے پی سنگھکے اعزاز میں 26؍ اکتوبر کو وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ایک الوداعی تقریب کی میزبانی کی مگر اس میں وزیر اعظم نے شرکت کرنے کی زحمت نہیں کی۔31؍ اکتوبر 2026 کو اپنی ریٹائرمنٹ کے آخری دن انہوں نے قومی جنگی یادگار پر جا کر شہید فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور انہیں نئی دہلی کے ایئر فورس اسٹیشن پر الوداعی ‘گارڈ آف آنر’ بھی پیش کرکے رخصت کردیا گیا۔ کیا کسی ایئر چیف مارشل کو فضائیہ میں 42 سالہ خدمات مکمل کرنے پر اس طرح رخصت کیا جاتا ہے۔ آپریشن سیندور کے بعد پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے مودی جی نے چھپن انچ کا سینہ تان کر کہا تھا کہ گولی کا جواب گولے سے دیا جائے گا مگر جب چین کا معاملہ آتا ہے تو لال آنکھ دکھانا تو دور یہ کہنے کی جرأت بھی نہیں ہوتی اور نہ چینیوں کی دراندازی کا منہ توڑ جواب دیا جاتا ہےکیونکہ اس سے نہ صرف سفارتی بلکہ تجارتی تعلقات بھی متاثر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔آپریشن سیندور کے بعد وزیر اعظم نے کہا تھا کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے ۔ ہم دریائے سندھ کا پانی روک دیں گے۔ اسی نہج پر چین سے درآمدات بند کرکے اسے گھٹنوں پر لانے کی دھمکی دی جاسکتی ہے ۔ اس طرح کا جرأتمندانہ موقف کو اختیار کرنے میں آخر کیا رکاوٹ ہے؟

مذکورہ بالا سوالات کا جواب معلوم کرنے میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا چین سے متعلق فروری 2023 میں دیا جانے والا ایک انٹرویو مددکرسکتا ہے۔ انہوں نے معروف صحافی سمیتا پرکاش کے ساتھ گفتگو میں کہا تھا، "دیکھیں، وہ (چین) ایک بڑی معیشت ہے۔ ایک چھوٹی معیشت ہونے کے ناطے، کیا میں جا کر ایک بڑی معیشت سے لڑائی مول لے لوں؟ یہ ردِعمل ظاہر کرنے کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ کامن سینس (عقلِ سلیم) کا معاملہ ہے”۔ وزیر خارجہ کے جواب میں احساسِ کمتری جھانک رہا ہے۔ جے شنکر نے انٹرویو میں واضح کیا تھا کہ ہندوستان اور چین کے درمیان سرحد پر بڑی تعداد میں فوجیں جمع نہیں کرنے کا ایک طے شدہ معاہدہ ہےاس لیے ہندوستان پہلے اس معاہدے کو کیوں توڑے؟ قومی وقار کا تقاضہ ہے کہ پہلے نہ سہی تو کم ازکم چین کی بدعہدی کے بعد تو اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا جائے ۔ وزیر خارجہ نے فرمایا تھا کہ ہندوستان جذباتی ہو کر جنگ کی طرف بڑھنے کے بجائے اشتعال انگیزی کے بغیر سفارتی اور معاشی حقیقتوں کو مدنظر رکھ کر عقلمندی سے اپنی سرحدوں کا تحفظ کر رہا ہے لیکن آئی ٹی بی پی کے ڈی جی کا بیان تو یہی ظاہر کرتا ہے کہ چین اس حکمت عملی کو ہندوستان کی کمزوری سمجھ کر غلط فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہا ہے۔

جے شنکرنے اپنی کمزوری چھپانے کے لیے یہ کہا کہ ہندوستان کو چین سے ڈرنے کی ضرورت نہیں بلکہ مسابقتی سیاست کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے مگر وہ حزب اختلاف اور سبکدوش فوجی افسران کو متاثر نہیں کرسکے ۔ انہوں نے جے شنکر کے اس بیان کو "بزدلانہ اور مایوس کن رویہ”قرار دیا۔حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ اگر معیشت کاکمیت ہی سب کچھ ہوتی تو ماضی میں ویتنام، کیوبا یا شمالی کوریا کبھی بڑی طاقتوں کے سامنے نہیں کھڑے ہو پاتے۔ناقدین کا الزام تھا کہ اس طرح کے بیانات سے ہندوستانی فوج کی بہادری اور قربانیوں کی توہین ہوتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ جے شنکر کے معاشی حقیقتوں اور طاقت کے عدم توازن کو تسلیم کرتے ہوئے تنازعات سے بچنے اور سفارت کاری کو ترجیح دینے کی بات کو ناقدین نے ہتھیار ڈالنے یا کمزوری دکھانے سے تعبیر کیا تھا۔ چین کے ساتھ سرحدی تنازع بہت ہی بنیادی نوعیت کا ہے ۔ وہ تاریخی طور پر اروناچل پردیش کوہندوستان کا حصہ ہی تسلیم نہیں کرتا ۔ وہ تو اسے "جنوبی تبت” (Zangnan) کا نام دے کر اس پر اپنا دعویٰ پیش کرتا رہا ۔

ہندوستان اس دعوے کو سختی سے مسترد کرکے اروناچل پردیش کو اپنا اٹوٹ حصہ قرار دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کور کمانڈر سطح کے مذاکرات کے باوجود زمینی سطح پر کشیدگی اور گشت کے دوران مڈ بھیڑ ہوجاتی ہے۔ہند چین سرحدی تنازع گول مول بیانات سے حل ہونے کے بجائےپیچیدہ ہوتا چلا جائے مگر مودی سرکار اس خطرے سے آنکھ موند کر دودھ پینے والی بلی کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ آئی ٹی بی پی ڈائریکٹر جنرل کا بیان سامنے آنے کے بعد کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت کو بجا طور پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اپنی طویل پوسٹ میں لکھا کہ ’’ایک طرف چین کے سامنے گھٹنے ٹیکنے والے وزیر اعظم کی جانب سے مسلسل رعایتیں دینے کا سلسلہ جاری ہے، وہیں آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پی ایل اے کے ساتھ ہندوستانی سرحد کے اندر حالیہ تصادموں کا انکشاف کردیا۔ اس موقع پر آئی ٹی بی پی کی کارکردگی تو قابلِ ستائش ہےلیکن وزیر اعظم اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پرکیوں خاموشی اختیار کیے بیٹھا ہے؟

جے رام رمیش نے بتایا کہ تکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ اروناچل پردیش کے واچا اور دمائی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت کے باوجود مقامی لوگ لداخ کی طرح ایک بار پھر گشت کے کچھ مقامات ہمارے ہاتھ سے نکل جانے کا شکوہ کررہے ہیں۔ جے رام رمیش نے چین کے ذریعہ اروناچل پردیش کے شہروں کے نام کی تبدیلی اور 60,000 میگاواٹ کا ایک ڈیم تعمیر کرنے سے ہمارے ماحولیاتی نظام اور آبی سلامتی کے لیے لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیا مگر کمبھ کرن کی نیند سونے والی مودی سرکار کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔جئے رام رمیش نےمودی سرکار کی خارجہ پالیسی کو بھی ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ 26-2025 میں ریکارڈ 112 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال 99 ارب ڈالر تھا۔ اس سے کئی صنعتوں میں ہمارے ایم ایس ایم ای بری طرح تباہ ہوئے ہیں۔‘‘ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’میک اِن انڈیا‘ اب ’امپورٹ فرام چائنا‘ بن گیا ہے۔ اتنا بڑا تجارتی خسارہ ہماری اقتصادی سلامتی کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج ہے۔

جے رام رمیش کے نزدیک اس سنگین صورتحال کے لیے پی ایم مودی کا 19 جون 2020 والا بیان ہے جس میں گلوان کے بعد چین کو یہ کہہ کر کلین چٹ دی گئی تھی کہ ’نہ وہاں کوئی ہماری سرحد میں داخل ہوا اور نہ ہی کوئی گھسا ہوا ہے، نہ ہی ہماری کوئی چوکی کسی دوسرے کے قبضے میں ہے۔‘‘ جبکہ اس تصادم میں ہمارے 20 بہادر جوانوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کردیا تھا۔ انہوں نے وزیر اعظم کی بزدلی ثابت کرنے کے لیے سابق آرمی چیف جنرل نرونے کا وہ انکشاف یاد دلاتے ہیں جس میں لداخ کے اندر چینی دراندازی کے دوران طویل انتظار کے بعد صرف یہی ہدایت دی گئی تھی کہ’’ جو مناسب سمجھو، وہ کرو۔‘‘ کانگریسی ترجمان نے اپنی پوسٹ میں یہ بات بھی سامنے رکھی کہ 4 جولائی 2025 کو نائب آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل راہل سنگھ نے عوامی طور پر بتایا تھا کہ ’آپریشن سیندور‘ کے دوران پاکستان کی فوجی کارروائی میں چین کا کردار کس قدر وسیع اور گہرائی تک پھیلا ہوا تھا۔ ان حقائق کو سامنے رکھنے کے بعد جئے رام رمیش سوال کرتے ہیں کہ: ’’ سرحد پر جاری کشیدگی کے باوجود چین کے تئیں یہ نرمی اور اقتصادی محاذ پر بڑھتا ہوا انحصار آخر کس طرح کی قوم پرستی ہے؟ وہ بولے ملک کو 56 انچ کے سینے والے کھوکھلے دعوے نہیں، بلکہ قومی سلامتی پر واضح جواب چاہیے۔‘‘ ملک کا ہر خوددار شہری اس سوال کا جواب چاہتا ہے مگر اقتدار کے گلیاروں میں اس بابت پر اسرار سناٹا پسرا ہوا ہے۔ آج یا کل مودی جی کو اپنی خاموشی توڑنی ہوگی ورنہ لوگ انہیں جھولا تھما کر سیاسی بن باس پرروانہ کردیں گے ۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے