جمہوریت کی بساط پر ہر انتخاب عوامی رجحانات، سیاسی جماعتوں کی کارکردگی، قیادت کے دعووں اور اقتدار کے تئیں رائے دہندگان کے بدلتے ہوئے رویّوں کا ایک ایسا آئینہ ہوتا ہے جس میں سیاسی قوتوں کو اپنی اصل صورت دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ بسا اوقات انتخابی معرکہ آرائی کا دائرہ محدود ہوتا ہے، لیکن اس کے نتائج قومی سیاست میں دور رس معنویت اختیار کر لیتے ہیں۔ مہاراشٹر، کرناٹک، اترپردیش اور بہار کی قانون ساز کونسلوں کے انتخابات کے نتائج بھی اسی نوعیت کے سیاسی اشارات اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے اتحادیوں کے حصے میں نشستوں کی مجموعی اکثریت ضرور آئی ہے لیکن ان کامیابیوں کے درمیان بعض ایسی شکستیں بھی موجود ہیں جنہیں محض اتفاق یا مقامی سیاسی عوامل کا نتیجہ قرار دے کر نظرانداز کرنا دانش مندی نہیں ہوگی۔ چار ریاستوں کی 28 نشستوں میں سے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کو 16 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔ بادی النظر میں یہ نتیجہ حکمراں اتحاد کے لیے اطمینان کا باعث دکھائی دیتا ہے، لیکن انتخابی اعداد و شمار کی ظاہری چمک سے آگے بڑھ کر ان کے سیاسی مضمرات کا جائزہ لیا جائے تو تصویر یکسر یک رُخا نظر نہیں آتی۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے رہنماؤں کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ کتنی نشستیں حاصل ہوئیں، بلکہ یہ ہے کہ کن علاقوں میں کامیابی ملی، کن حلقوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ان نتائج کے پس منظر میں عوامی ذہن کس کروٹ بیٹھ رہا ہے۔ یہی وہ سوالات ہیں جو حالیہ انتخابات کو محض ایک محدود انتخابی سرگرمی کے بجائے قومی سیاست کے ایک قابلِ توجہ مرحلے میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
مہاراشٹر کے انتخابی نتائج نے اس حقیقت کو نمایاں کیا ہے کہ سیاسی اتحادوں کی تشکیل اور اقتدار میں شرکت بذاتِ خود عوامی تائید کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ ریاست کی پانچ نشستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو پونے کے اساتذہ حلقے سے کامیابی ملی، جب کہ شیو سینا کے شندے دھڑے نے امراؤتی کے اساتذہ حلقے میں اپنی برتری ثابت کی۔ اس کے برعکس تین گریجویٹ حلقوں میں شرد پوار کی قیادت والی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور کانگریس نے کامیابی حاصل کی۔ یہ نتائج بتاتے ہیں کہ مہاراشٹر میں انتخابی سیاست کو محض حکمراں اتحاد کی عددی قوت کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ ریاستی اقتدار میں شراکت داری رکھنے والی جماعتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے انتخابی امکانات کا جائزہ زمینی حقائق کی روشنی میں لیں کیونکہ سیاسی اتحادوں کی قوت کا حقیقی امتحان انتخابی میدان ہی میں ہوتا ہے۔ اترپردیش کے نتائج کی معنویت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ ملک کی سب سے بڑی ریاست میں قانون ساز کونسل کے انتخابات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے سیاسی صف بندی، عوامی رابطہ مہم اور انتخابی حکمت عملی کی تیاریوں کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ 403 رکنی اسمبلی کے آئندہ معرکے سے پہلے ان نتائج نے حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی اور حزبِ اختلاف سماج وادی پارٹی، دونوں کو اپنی سیاسی قوت کا اندازہ لگانے کا موقع فراہم کیا ہے۔ بی جے پی نے مجموعی طور پر اپنی برتری برقرار رکھی لیکن سماج وادی پارٹی نے بھی یہ واضح کر دیا کہ ریاستی سیاست میں اس کی موجودگی کو کسی طور کمزور یا غیر مؤثر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ خصوصاً وارانسی کے گریجویٹ اور اساتذہ حلقوں میں سماج وادی پارٹی کی کامیابی نے سیاسی مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ وارانسی محض ایک تاریخی اور مذہبی شہر نہیں بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی کا پارلیمانی حلقہ بھی ہے۔ گزشتہ برسوں میں اس شہر کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاسی قوت اور وزیر اعظم کی عوامی مقبولیت کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ ایسے میں یہاں کے دونوں قانون ساز کونسل حلقوں میں سماج وادی پارٹی کی کامیابی نے اس تصور کو ایک نئی بحث کے حوالے کر دیا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کا مضبوط انتخابی مرکز بھی ہمیشہ یک طرفہ نتائج کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ تاہم ان نتائج سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ وارانسی میں دو نشستوں کی شکست کے بعد پورے اتر پردیش میں بی جے پی کی انتخابی گرفت ختم ہو چکی ہے، سیاسی حقیقتوں کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دینے کے مترادف ہوگا۔ قانون ساز کونسل کے انتخابات کا انتخابی حلقہ، ووٹروں کی نوعیت اور مقامی سیاسی عوامل اسمبلی انتخابات سے مختلف ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود وارانسی کی شکست کو معمولی واقعہ قرار دینا بھی درست نہیں۔ اس نے کم از کم اتنا ضرور واضح کر دیا ہے کہ سماج وادی پارٹی اپنے لیے سیاسی گنجائش پیدا کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے اور آئندہ اسمبلی انتخابات میں سخت مقابلے کا امکان پوری طرح موجود ہے۔
اترپردیش کے اساتذہ حلقے میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے سیاسی اثر و رسوخ سے وابستہ سمجھے جانے والے انتخابی ماحول کے باوجود بی جے پی امیدوار دھرُو کمار ترپاٹھی کو محض 307 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل ہوئی۔ مسلسل تین میعادوں سے قانون ساز کونسل کے رکن رہنے والے امیدوار کے لیے چوتھی مرتبہ کامیابی یقیناً ایک انتخابی کامیابی ہے لیکن معمولی فرق سے حاصل ہونے والا یہ نتیجہ اپنے اندر کئی سوالات بھی رکھتا ہے۔ آزاد امیدوار راجیو یادو کی جانب سے ووٹوں کی گنتی میں بے ضابطگیوں کے الزامات نے اس انتخابی عمل کو مزید موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔ ایسے الزامات کی حقیقت کا فیصلہ متعلقہ قانونی اور انتخابی فورم ہی کر سکتے ہیں، تاہم شفافیت سے متعلق ہر شکایت کا غیر جانب دارانہ جائزہ انتخابی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ انتخابی اعتماد محض نتائج کے اعلان سے قائم نہیں ہوتا بلکہ اس اعتماد کی بنیاد شفاف طریقۂ کار، مؤثر نگرانی اور شکایات کے منصفانہ ازالے پر استوار ہوتی ہے۔ بہار میں بھی انتخابی نتائج نے حکمراں اتحاد کے لیے غیر مشروط اطمینان کی صورت پیدا نہیں کی۔ آٹھ اساتذہ اور گریجویٹ حلقوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو تین نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی جب کہ اس کی اتحادی جنتا دل متحدہ ایک نشست جیت سکی۔ دیگر نشستوں پر آزاد امیدواروں اور حزبِ اختلاف کی قوتوں کی کامیابی نے ریاستی سیاست کے تنوع کو نمایاں کیا۔ بالخصوص جن سوراج کی انتخابی کامیابی نے سیاسی حلقوں میں اس لیے توجہ حاصل کی کہ نئی سیاسی قوتوں کے لیے پہلے سے قائم جماعتوں کے درمیان اپنی جگہ بنانا آسان نہیں ہوتا۔ اس کامیابی کو فوری طور پر کسی بڑے سیاسی انقلاب کی علامت قرار دینا قبل از وقت ہوگا، لیکن اسے نظرانداز کرنا بھی درست نہیں۔ بہار کی سیاست میں اگر کوئی نئی جماعت انتخابی سطح پر اپنی موجودگی درج کرانے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ اس امر کا اشارہ ہے کہ ووٹروں کا ایک طبقہ متبادل سیاسی امکانات کو آزمانے کے لیے آمادہ ہے۔ اس تناظر میں کرناٹک کے نتائج ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ ریاست میں کانگریس برسرِ اقتدار ہے، جب کہ قانون ساز کونسل کے متعلقہ انتخابی معرکے میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی اتحادی جنتا دل سیکولر کو کامیابی ملی۔ بی جے پی نے تین اور جنتا دل سیکولر نے ایک نشست حاصل کی۔ حکمراں جماعت کے لیے ان نتائج کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن انہیں ریاستی حکومت کے خلاف عوامی فیصلے کا قطعی ثبوت قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ قانون ساز کونسل کے انتخابات میں ووٹروں کی مخصوص نوعیت اور حلقوں کی محدود وسعت کے سبب نتائج کی تعبیر احتیاط کے ساتھ کی جانی چاہیے۔ انتخابی کامیابی یقیناً سیاسی حوصلہ بڑھاتی ہے، لیکن اس سے آئندہ اسمبلی انتخابات کے نتائج کی ضمانت اخذ نہیں کی جا سکتی۔ ان چاروں ریاستوں کے نتائج میں سب سے زیادہ سیاسی معنویت وارانسی اور ناگپور کی کامیابیوں اور ناکامیوں کے تقابل میں نمایاں ہوتی ہے۔ ناگپور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے محض ایک شہر نہیں، بلکہ اس کی سیاسی شناخت اور نظریاتی پس منظر سے وابستہ ایک اہم مرکز ہے۔ یہ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور مرکزی وزیر نتن گڈکری کا آبائی شہر ہونے کے ساتھ ساتھ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا صدر مقام بھی ہے۔ ایسے شہر میں کانگریس کی کامیابی نے بی جے پی کے لیے سیاسی اعتبار سے ایک غیر معمولی صورتِ حال پیدا کی ہے۔ جب کسی جماعت کا مضبوط سمجھے جانے والا انتخابی مرکز بھی مخالف جماعت کی کامیابی کا گواہ بن جائے تو اس نتیجے کو محض مقامی انتخابی اتار چڑھاؤ کہہ کر ٹالنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ناگپور میں انتخابی نتائج کے مکمل طور پر سامنے آنے سے پہلے ہی بی جے پی کے بعض رہنماؤں کی جانب سے کانگریس کی شکست پر جشن منانے اور اسے طنز کا نشانہ بنانے کی اطلاعات نے اس مقابلے کو مزید سیاسی رنگ دے دیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات میں بھی کانگریس کی شکست پر طنز کیے جانے کے بعد ناگپور کے نتیجے نے کانگریس کو جواب دینے کا موقع فراہم کیا۔ تاہم جمہوری سیاست کا تقاضا یہ نہیں کہ ہر انتخابی نتیجے کو کسی جماعت کی فتح یا کسی دوسری جماعت کی تضحیک کے لیے استعمال کیا جائے۔ بیلٹ پیپر ہو یا الیکٹرانک ووٹنگ، انتخابی نظام کی ساکھ کا انحصار اس امر پر ہے کہ تمام جماعتیں نتائج کو قبول کرنے، اعتراضات کو قانونی طریقے سے اٹھانے اور انتخابی عمل کی شفافیت برقرار رکھنے میں ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کریں۔ یہاں بنیادی سوال کسی ایک جماعت کے طنز کا جواب دینے یا کسی دوسری جماعت کے سیاسی بیانیے کو کمزور کرنے کا نہیں، بلکہ اس وسیع تر رجحان کو سمجھنے کا ہے جس میں عوامی حمایت کو مستقل اور غیر متزلزل تصور کرنے کی سیاسی روش بار بار آزمائش سے دوچار ہوتی ہے۔ جمہوریت میں کوئی بھی انتخابی قلعہ ناقابلِ تسخیر نہیں ہوتا۔ سیاسی جماعتیں جب اپنی سابقہ کامیابیوں کو آئندہ فتوحات کا یقینی پروانہ سمجھنے لگتی ہیں تو ان کے لیے عوامی بے اطمینانی کے ابتدائی آثار کو پہچاننا دشوار ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس حزبِ اختلاف کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ محدود انتخابی کامیابیوں کو غیر معمولی سیاسی انقلاب کا عنوان دینے کے بجائے انہیں مضبوط تنظیم، مؤثر عوامی رابطے اور قابلِ اعتبار پالیسیوں میں تبدیل کرے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاسی کامیابیوں کے باوجود مہنگائی، روزگار، تعلیم، صحت اور معاشی عدم مساوات جیسے بنیادی مسائل عوامی بحث کا حصہ ہیں۔ کسی حکومت کی کارکردگی کا حقیقی معیار انتخابی مہم کے بلند آہنگ نعروں یا سیاسی تشہیر کی وسعت سے نہیں، بلکہ عام شہری کی زندگی میں پیدا ہونے والی آسانیوں اور مشکلات سے متعین ہوتا ہے۔ جب روزمرہ زندگی کے مسائل عوام کے لیے مسلسل تشویش کا سبب بنے رہیں تو محض انتخابی کامیابیوں کے اعداد و شمار ان کے اضطراب کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتے۔ یہی وہ پہلو ہے جس پر حکمراں جماعتوں کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ سیاسی مقبولیت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ عوامی توقعات کو سمجھا جائے، شکایات کا ازالہ کیا جائے اور حکمرانی کو انتخابی مصلحتوں کے بجائے عوامی ضرورتوں سے ہم آہنگ رکھا جائے۔ حزبِ اختلاف کے لیے بھی ان نتائج میں ایک واضح پیغام موجود ہے۔ سماج وادی پارٹی کی وارانسی میں کامیابی اور ناگپور میں کانگریس کی پیش رفت نے یہ ضرور دکھایا ہے کہ بی جے پی کے مقابلے میں انتخابی گنجائش موجود ہے، لیکن اس گنجائش کو مستقل سیاسی قوت میں تبدیل کرنے کے لیے محض حکمراں جماعت کی کمزوریوں کی نشان دہی کافی نہیں ہوگی۔ اپوزیشن کو عوام کے سامنے روزگار، تعلیم، صحت، کسانوں، نوجوانوں اور معاشی تحفظ سے متعلق واضح اور قابلِ عمل متبادل پیش کرنا ہوگا۔ عوامی ناراضی کو ووٹوں میں تبدیل کرنے کے لیے تنظیمی استحکام، مقامی قیادت، مؤثر انتخابی حکمت عملی اور قابلِ اعتماد سیاسی طرزِ عمل بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انتخابی میدان میں کامیابی کا راستہ صرف مخالف کی لغزشوں سے نہیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں کے عملی اظہار سے بھی ہموار ہوتا ہے۔
یہ انتخابی معرکے نشستوں کی تعداد کے اعتبار سے محدود ضرور ہیں، لیکن ان سے ابھرنے والے سوالات قومی سیاست کے وسیع تر تناظر سے تعلق رکھتے ہیں۔ این ڈی اے کی مجموعی کامیابی کو تسلیم کرتے ہوئے بھی یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ وارانسی اور ناگپور جیسے اہم مراکز میں شکست نے حکمراں اتحاد کے لیے غور و فکر کے دروازے کھول دیے ہیں۔ اسی طرح سماج وادی پارٹی، کانگریس اور دیگر سیاسی قوتوں کے لیے بھی یہ نتائج جشن منانے سے زیادہ اپنی آئندہ حکمت عملی کو مضبوط بنانے کا موقع ہیں۔ جمہوریت کی خوب صورتی اسی میں ہے کہ وہ کسی جماعت کو ہمیشہ کے لیے کامیابی کا پابند نہیں بناتی اور نہ کسی مخالف قوت کے لیے شکست کو دائمی مقدر قرار دیتی ہے۔ عوام ہر انتخاب میں اپنی ترجیحات کا اظہار کرتے ہیں اور سیاسی جماعتوں کو اپنی کارکردگی پر نظرثانی کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ جو جماعتیں اس پیغام کو سمجھتی ہیں، وہ اپنی کمزوریوں کی اصلاح کرکے آگے بڑھتی ہیں جو اسے محض اتفاق یا مخالفین کی وقتی کامیابی سمجھ کر نظرانداز کرتی ہیں، انہیں مستقبل میں زیادہ سخت آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حالیہ نتائج کا اصل حاصل یہی ہے کہ انتخابی کامیابی کو خود احتسابی سے مستثنیٰ ہونے کا پروانہ نہ سمجھا جائے اور شکست کو سیاسی میدان سے بے دخلی کا فیصلہ قرار نہ دیا جائے۔ اقتدار کی اصل قوت عوامی اعتماد میں پوشیدہ ہے، اور یہ اعتماد اسی وقت پائیدار ہوتا ہے جب حکومتیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس رکھیں، حزبِ اختلاف عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں اٹھائے اور انتخابی ادارے اپنی غیر جانب داری اور شفافیت کے ذریعے جمہوری نظام پر شہریوں کا یقین مستحکم کریں۔ چار ریاستوں کی قانون ساز کونسلوں کے یہ نتائج سیاسی جماعتوں کو یہی یاد دہانی کراتے ہیں کہ جمہوریت میں آخری فیصلہ کسی جماعت کے دعووں، نعروں یا انتخابی تشہیر کا نہیں، بلکہ رائے دہندگان کے اعتماد کا ہوتا ہے۔
مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں
iftikharahmadquadri@gmail.com