سلیم درانی کے نام سے کرکٹ کی نئی روایت کا آغاز، انجمن اسلام نے نوجوانوں کے لیے کھولا ایک نیا میدان
شرد پوار کی موجودگی میں انٹر کالجیٹ روٹیٹنگ ٹرافی کا افتتاح؛
دلیپ وینگسرکر نے انجمن اسلام کی کرکٹ روایت کو سراہا،
ڈاکٹر ظہیر قاضی نے ادارے کے ڈیڑھ سو سالہ تعلیمی و تاریخی سفر کے اہم گوشے اجاگر کیے
ازقلم:جاوید جمال الدین
ممبئی، 31اکتوبر: بعض نام وقت کے ساتھ تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں، لیکن کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی یاد آنے والی نسلوں کے لیے بھی تحریک کا سرچشمہ بنی رہتی ہے۔ ہندوستانی کرکٹ کے مایہ ناز آل راؤنڈر سلیم درانی کا شمار بھی ایسی ہی شخصیات میں ہوتا ہے، جنہوں نے اپنے کھیل، بے خوف انداز، غیر معمولی صلاحیتوں اور شائقین سے بے مثال تعلق کے ذریعے کرکٹ کے میدان میں ایک منفرد شناخت قائم کی۔ ان کے نام سے ممبئی میں انٹر کالجیٹ کرکٹ ٹرافی کا آغاز محض ایک یادگاری اقدام نہیں بلکہ کھیل کی اس روایت کو نئی نسل تک منتقل کرنے کی کوشش ہے جس نے کبھی ممبئی کو ہندوستانی کرکٹ کی نرسری کا درجہ دلایا تھا۔
ممبئی کی ڈیڑھ صدی سے زائد قدیم تعلیمی تنظیم انجمن اسلام نے ممبئی کرکٹ اسوسی ایشن (ایم سی اے) کے اشتراک سے ’’سلیم درانی انٹر کالجیٹ روٹیٹنگ کرکٹ ٹرافی‘‘ شروع کرنے کا اعلان کرکے اسی روایت کو آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس ٹرافی کے تحت ممبئی کے جونیئر کالجوں کے درمیان ٹی 20 کرکٹ مقابلے منعقد کیے جائیں گے، جن کا مقصد کالجوں میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے ساتھ نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا باقاعدہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔
جمعہ 30 اکتوبر کو انجمن اسلام کے تاریخی سی ایس ایم ٹی کیمپس میں ’’ایک شام سلیم درانی کے نام‘‘ سے منعقدہ تقریب میں مہاراشٹر کے سابق وزیراعلیٰ اور ہندوستانی کرکٹ انتظامیہ کی ممتاز شخصیت شرد پوار، انجمن اسلام کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی، سابق ہندوستانی کپتان دلیپ وینگسرکر، سابق فاسٹ بولر کرشن گھاوری، ممبئی کرکٹ اسوسی ایشن کے صدر اجنکیا نائیک اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب میں سلیم درانی کی شخصیت اور خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ انجمن اسلام کی تعلیمی، سماجی اور کھیلوں کی تاریخ کے ان پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا گیا جو ممبئی کی مشترکہ تہذیبی اور قومی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔
شرد پوار: سلیم درانی صرف کرکٹر نہیں، ایک منفرد شخصیت تھے
تقریب کے مہمان خصوصی شرد پوار نے اپنے خطاب میں سلیم درانی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شخصیت محض ایک کامیاب کرکٹر تک محدود نہیں تھی۔ وہ بہترین آل راؤنڈر ہونے کے ساتھ خوش مزاج، حاضر جواب اور شائقین سے غیر معمولی قربت رکھنے والے انسان تھے۔ کرکٹ کے میدان میں ان کا انداز ایسا تھا کہ تماشائی ان کی بیٹنگ کا انتظار کرتے اور ان کی موجودگی سے کھیل میں ایک خاص جوش پیدا ہوجاتا تھا۔
شرد پوار نے سلیم درانی سے وابستہ ایک مشہور واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ جب وہ بیٹنگ کررہے ہوتے تو اسٹینڈز میں موجود تماشائی ان سے چھکا لگانے کی فرمائش کرتے تھے۔ درانی صاحب اپنے مداحوں کی اس خواہش کو نظرانداز نہیں کرتے اور اکثر اگلی ہی گیند پر چھکا لگا کر انہیں خوش کردیتے تھے۔ ان کا یہ انداز ان کی عوامی مقبولیت اور شائقین کے ساتھ ان کے گہرے تعلق کا مظہر تھا۔
شرد پوار نے اس موقع پر ہندوستان میں کھیلوں کے مستقبل اور باصلاحیت نوجوانوں کی تلاش کے حوالے سے بھی اہم باتیں کہیں۔ ان کے مطابق کھیلوں کی حقیقی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ صلاحیتوں کی تلاش اسکولوں اور کالجوں کی سطح سے شروع ہو۔ ملک میں بے شمار ایسے نوجوان موجود ہیں جو غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن وسائل، تربیت اور مناسب رہنمائی نہ ملنے کے سبب اپنی منزل تک نہیں پہنچ پاتے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کھیلوں کے میدان میں مواقع کسی مخصوص طبقے تک محدود نہیں ہونے چاہئیں۔ معاشی طور پر کمزور خاندانوں کے نوجوانوں کو بھی یکساں مواقع ملنے چاہئیں تاکہ وہ اپنی محنت اور صلاحیت کی بنیاد پر آگے بڑھ سکیں۔ شرد پوار نے انجمن اسلام اور ممبئی کرکٹ اسوسی ایشن کے مشترکہ اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ سلیم درانی کے نام سے شروع ہونے والی یہ ٹرافی آنے والے وقت میں نئے کھلاڑیوں کی تلاش اور تربیت کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوگی۔
انجمن اسلام کی ڈیڑھ سو سالہ تاریخ: تعلیم، رواداری اور قومی یکجہتی کا سفر
انجمن اسلام کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی نے اپنے خطاب میں ادارے کی تاریخ کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 1876ء میں قائم ہونے والی انجمن اسلام نے اپنے ڈیڑھ سو سالہ سفر میں تعلیم کو معاشرتی اصلاح اور قومی ترقی کا بنیادی وسیلہ بنایا ہے۔ اس کا قیام ایسے دور میں عمل میں آیا جب ہندوستانی معاشرے کو جدید تعلیم، سماجی بیداری اور فکری رہنمائی کی شدید ضرورت تھی۔
انہوں نے کہا کہ انجمن اسلام کی خدمات کو صرف اسکولوں، کالجوں اور تعلیمی اداروں کے قیام کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ اس ادارے نے مختلف نسلوں کی علمی، فکری اور پیشہ ورانہ تربیت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بالخصوص مسلم معاشرے میں تعلیم کے فروغ اور خواتین کو تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ادارے نے دیگر طبقات کے لیے بھی اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں۔ اس کی بنیادی فکر میں قومی یکجہتی، باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی ہمیشہ نمایاں رہی ہے۔
ڈاکٹر قاضی نے انجمن اسلام کی تاریخی کریمی لائبریری کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض کتابوں کا ذخیرہ نہیں بلکہ ایک قیمتی علمی اور تہذیبی ورثہ ہے۔ یہاں مختلف زبانوں، مذاہب، فلسفوں اور علوم سے متعلق نادر کتابیں محفوظ ہیں۔ رامائن اور مہابھارت جیسے اہم مذہبی و ادبی متون کے قدیم اردو تراجم کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ ادارے نے ہمیشہ علمی وسعت اور فکری رواداری کو اہمیت دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ علم کسی مذہب، زبان یا طبقے کی میراث نہیں ہوتا۔ مختلف تہذیبوں اور مذاہب کے علمی ورثے کا مطالعہ معاشرے میں ایک دوسرے کو سمجھنے اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا ذریعہ بنتا ہے۔ کریمی لائبریری کا ذخیرہ اسی وسیع النظر فکر کی عکاسی کرتا ہے۔
خواتین کی تعلیم اور بااختیاری
ڈاکٹر ظہیر قاضی نے خواتین کی تعلیم کو انجمن اسلام کی اہم ترجیحات میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کے زیر انتظام اسکولوں، ڈگری کالجوں، تکنیکی مراکز اور پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں میں بڑی تعداد میں طالبات تعلیم حاصل کررہی ہیں۔
ان کے مطابق معاشرے کی حقیقی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خواتین کو تعلیم، روزگار اور قیادت کے یکساں مواقع فراہم نہ کیے جائیں۔ انجمن اسلام نے خواتین کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے ساتھ انہیں مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں آگے بڑھنے اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کے قابل بنانے کی کوشش کی ہے۔ یہ ادارے کی سماجی خدمات کا ایک اہم پہلو ہے۔
ہیرس شیلڈ میں انجمن اسلام کی تاریخی بالادستی
کرکٹ کے میدان میں انجمن اسلام کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر قاضی نے کہا کہ ادارے کی کھیلوں کی روایت بھی اس کی تعلیمی تاریخ کی طرح قابل فخر ہے۔ ممبئی کا قدیم اور معروف اسکول کرکٹ ٹورنامنٹ ہیرس شیلڈ اس روایت کا ایک اہم حوالہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہیرس شیلڈ کی تقریباً 130 سالہ تاریخ میں انجمن اسلام کے اسکولوں نے سب سے زیادہ مرتبہ یہ چیمپئن شپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ ادارے کے لیے یہ بھی ایک نمایاں کامیابی رہی ہے کہ اس کے کھلاڑیوں نے تقریباً 25 برس تک مسلسل اس ٹورنامنٹ میں اپنی برتری برقرار رکھی۔
ڈاکٹر قاضی کے مطابق یہ کامیابیاں کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ادارے کی اس مستقل کوشش کا ثمر ہیں جس کے تحت اپنے طلبہ کی صلاحیتوں کو پہچانا گیا، انہیں کھیل کے مواقع فراہم کیے گئے اور ان کی تربیت پر توجہ دی گئی۔ انجمن اسلام کی کوشش رہی ہے کہ اس کے طلبہ تعلیم کے ساتھ کھیلوں میں بھی اپنی شناخت قائم کریں۔
انہوں نے ادارے کے پہلے صدر جسٹس بدرالدین طیب جی کی قومی اور تاریخی خدمات کا بھی حوالہ دیا۔ جسٹس بدرالدین طیب جی ہندوستان کے ممتاز قانون داں اور قومی زندگی کی اہم شخصیت تھے۔ ڈاکٹر قاضی نے لوک مانیہ بال گنگادھر تلک کے مقدمے میں ان کے اس تاریخی کردار کا ذکر کیا جس میں انہوں نے بطور قائم مقام چیف جسٹس ضمانت منظور کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔ اس حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ انجمن اسلام کی تاریخ ہندوستان کی مشترکہ قومی جدوجہد اور قومی رہنماؤں کی تاریخ سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔
دلیپ وینگسرکر: انجمن اسلام کے خلاف کھیلنا بڑا چیلنج ہوتا تھا
ہندوستان کے سابق کپتان دلیپ وینگسرکر نے اپنے خطاب میں اسکول اور کالج کے زمانے کی کرکٹ کی یادیں تازہ کرتے ہوئے انجمن اسلام کی ٹیم کا خصوصی تذکرہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ سینٹ زیویئرز کالج کی جانب سے کھیلتے تھے تو انجمن اسلام کی ٹیم کے خلاف مقابلہ ہمیشہ ایک بڑا چیلنج ہوتا تھا۔
ان کے مطابق انجمن اسلام کے پاس بہترین بلے بازوں کے ساتھ ایسے تیز رفتار گیند باز بھی موجود تھے جن کا سامنا کرنا مخالف ٹیموں کے لیے آسان نہیں ہوتا تھا۔ ان کے خلاف میچ سے پہلے خصوصی تیاری کرنا پڑتی تھی، کیونکہ ٹیم میں باصلاحیت اور محنتی کھلاڑیوں کی کمی نہیں تھی۔
دلیپ وینگسرکر نے انجمن اسلام کی اس پالیسی کو بھی سراہا جس کے تحت ادارہ اپنے ہی اسکولوں کے طلبہ کو تربیت دے کر آگے بڑھاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی تعلیمی ادارے کے لیے یہ ایک قابل فخر بات ہے کہ وہ باہر سے کھلاڑی حاصل کرنے کے بجائے اپنے طلبہ کی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور انہیں تراش کر ایک بہتر کھلاڑی بنائے۔
ان کے مطابق کھیلوں کی اصل روح بھی یہی ہے کہ نوجوانوں کو ابتدائی سطح سے تربیت دی جائے اور ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل مواقع فراہم کیے جائیں۔ سلیم درانی ٹرافی اسی روایت کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
اجنکیا نائیک: ممبئی کرکٹ میں انجمن اسلام کا اہم حصہ
ممبئی کرکٹ اسوسی ایشن کے صدر اجنکیا نائیک نے انجمن اسلام کے ساتھ مشترکہ طور پر اس ٹرافی کے آغاز کو اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انجمن اسلام کا ممبئی کی کرکٹ تاریخ میں ایک نمایاں مقام ہے۔ اس ادارے نے مختلف ادوار میں باصلاحیت کھلاڑیوں کی تربیت اور پرورش میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایم سی اے اس بات پر فخر محسوس کرتی ہے کہ وہ انجمن اسلام کے ساتھ مل کر سلیم درانی کے نام سے انٹر کالجیٹ روٹیٹنگ ٹرافی شروع کررہی ہے۔ اس مقابلے سے ممبئی کے جونیئر کالجوں کے طلبہ کو مسابقتی کرکٹ کھیلنے، اپنی صلاحیتوں کو منوانے اور آگے بڑھنے کے بہتر مواقع حاصل ہوں گے۔
ان کے مطابق کالج کرکٹ کو منظم کرنے کی ایسی کوششیں ممبئی میں کھیلوں کے مستقبل کے لیے اہم ہیں۔ اس سے نہ صرف تعلیمی اداروں میں کرکٹ کی سرگرمیاں بڑھیں گی بلکہ نئے کھلاڑیوں کی شناخت اور ان کی صلاحیتوں کو آگے لانے میں بھی مدد ملے گی۔
سلیم درانی: اعدادوشمار سے آگے ایک زندہ کردار
سلیم درانی کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ کرکٹ کے روایتی تصور سے آگے بڑھ کر کھیل کو ایک دلچسپ اور عوامی تجربہ بنا دیتے تھے۔ 11 دسمبر 1934ء کو کابل، افغانستان میں پیدا ہونے والے سلیم درانی نے ہندوستانی کرکٹ میں اپنی جارحانہ بیٹنگ اور بائیں ہاتھ کی اسپن بولنگ سے ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ ان کا خاندان بعد میں ہندوستان منتقل ہوگیا اور انہوں نے راجستھان اور گجرات کی جانب سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی۔
انہوں نے ہندوستان کی طرف سے 29 ٹیسٹ میچ کھیلے، 1202 رنز بنائے اور 75 وکٹیں حاصل کیں۔ وہ بائیں ہاتھ کے جارحانہ بلے باز اور مؤثر اسپن بولر تھے۔ ان کی بیٹنگ میں وہ بے خوفی اور دلکشی تھی جو انہیں اپنے دور کے دیگر کھلاڑیوں سے ممتاز کرتی تھی۔
1961ء میں انہیں ارجن ایوارڈ سے نوازا گیا۔ وہ اس اعزاز سے سرفراز ہونے والے ابتدائی ہندوستانی کرکٹر تھے۔ اس کامیابی نے کھیل کے میدان میں ان کی خدمات کو قومی سطح پر تسلیم کیے جانے کی علامت فراہم کی۔
ان کے کیریئر کا سب سے یادگار باب 1971ء میں ہندوستان کے دورہ ویسٹ انڈیز سے وابستہ ہے۔ اجیت واڈیکر کی قیادت میں ہندوستان نے ویسٹ انڈیز کی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز جیت کر تاریخ رقم کی۔ پورٹ آف اسپین ٹیسٹ میں سلیم درانی نے کلائیو لائیڈ اور گیری سوبرز جیسے اہم بلے بازوں کو آؤٹ کرکے ہندوستان کی کامیابی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ یہ سیریز ہندوستانی کرکٹ کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی اور اس نے عالمی کرکٹ میں ہندوستان کی حیثیت کو نئی بلندی عطا کی۔
سلیم درانی کی مقبولیت کرکٹ تک محدود نہیں رہی۔ ان کی وجیہہ شخصیت اور غیر معمولی عوامی کشش نے انہیں فلمی دنیا تک بھی پہنچایا۔ 1973ء کی فلم ’’چرترا‘‘ میں انہوں نے معروف اداکارہ پروین بابی کے ساتھ کام کیا۔ وہ اپنی خوش لباسی، خوش مزاجی اور شائقین سے قربت کے باعث بھی ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ 2 اپریل 2023ء کو ان کا انتقال ہوا، لیکن ہندوستانی کرکٹ میں ان کی خدمات آج بھی زندہ ہیں۔
تقریب میں ممتاز شخصیات کی شرکت
اس تقریب میں کھیل، سیاست اور سماجی خدمات سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات نے شرکت کی۔ ان میں سابق وزیراعلیٰ شرد پوار، ڈاکٹر ظہیر قاضی، دلیپ وینگسرکر، کرشن گھاوری، اجنکیا نائیک کے علاوہ اراکین اسمبلی ابو عاصم اعظمی اور رئیس شیخ، سماجی رہنما ہارون خان، ہندوستانی خاتون کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان ڈائنا ایڈلجی اور معروف اسپورٹس آرگنائزر ارمنی ملک شامل تھے۔
تقریب کے اختتامی مرحلے میں انجمن اسلام کا ترانہ پیش کیا گیا، جس نے ادارے کی تعلیمی، سماجی اور تہذیبی روایت کو ایک مرتبہ پھر یاد دلایا۔ انجمن اسلام کے سینئر نائب صدر مشتاق انتولے نے اظہار تشکر کرتے ہوئے مہمانوں، کرکٹ کی ممتاز شخصیات، معززین اور شرکائے تقریب کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اپنے مخصوص شاعرانہ اور دلنشیں انداز میں اظہار تشکر کرتے ہوئے تقریب کو خوشگوار ماحول میں اختتام تک پہنچایا۔
ایک ٹرافی، ایک تاریخ اور آنے والی نسلوں کا خواب
سلیم درانی انٹر کالجیٹ روٹیٹنگ کرکٹ ٹرافی کا آغاز دراصل تین اہم روایتوں کا امتزاج ہے: ایک طرف سلیم درانی جیسے عظیم کرکٹر کی یاد ہے، دوسری طرف انجمن اسلام کی ڈیڑھ سو سالہ تعلیمی اور کھیلوں کی تاریخ، اور تیسری طرف ان نوجوانوں کے خواب ہیں جو کرکٹ کے میدان میں اپنی شناخت بنانا چاہتے ہیں۔
اس اقدام کی حقیقی کامیابی اس وقت سامنے آئے گی جب ممبئی کے مختلف جونیئر کالجوں کے طلبہ اس مقابلے میں بھرپور حصہ لیں گے، نئے کھلاڑی سامنے آئیں گے اور انہیں اعلیٰ سطح پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملے گا۔ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ ٹرافی کو مستقل سالانہ سرگرمی بنایا جائے، کالجوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت یقینی بنائی جائے اور ایم سی اے کی جانب سے نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کی مناسب رہنمائی اور حوصلہ افزائی کا نظام قائم کیا جائے۔
انجمن اسلام نے اپنے قیام سے آج تک تعلیم کو محض ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ شخصیت سازی اور معاشرتی ترقی کی بنیاد سمجھا ہے۔ اس کی ہیرس شیلڈ کی کامیابیاں ہوں، کریمی لائبریری کا علمی سرمایہ ہو یا خواتین کی تعلیم کے لیے جاری کوششیں، ہر شعبہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ادارے نے اپنے وقت کے تقاضوں کے مطابق نئی نسل کی رہنمائی کی ہے۔
سلیم درانی نے کرکٹ کے میدان میں یہ ثابت کیا تھا کہ ایک کھلاڑی کی عظمت صرف رنز، وکٹوں اور ریکارڈز سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس بات سے بھی پہچانی جاتی ہے کہ وہ اپنے کھیل سے کتنے دلوں میں جگہ بناتا ہے۔ ان کے نام سے شروع ہونے والی یہ ٹرافی اسی جذبے کو آگے بڑھانے کا وسیلہ بن سکتی ہے۔
ممکن ہے آنے والے برسوں میں اسی ٹرافی کے کسی مقابلے میں کھیلنے والا کوئی نوجوان اپنے پہلے بڑے چھکے، پہلی وکٹ یا پہلی کامیابی کے ساتھ ایک نئی منزل کی جانب قدم بڑھائے۔ شاید اسی میں اس اقدام کی اصل معنویت پوشیدہ ہے۔ ایک طرف ماضی کا وہ عظیم کھلاڑی ہوگا جس نے تماشائیوں کی فرمائش پر چھکے لگا کر انہیں خوش کیا تھا، اور دوسری طرف مستقبل کے وہ نوجوان ہوں گے جو اسی کھیل کے ذریعے اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کریں گے۔
سلیم درانی کی یاد کو ٹرافی کی صورت میں زندہ رکھنا ایک خراج عقیدت ہے، لیکن اس یاد کو نئی نسل کے لیے مواقع، حوصلے اور کامیابی میں تبدیل کرنا اس سے بھی بڑا کام ہوگا۔ اگر انجمن اسلام اور ممبئی کرکٹ اسوسی ایشن اس مقصد میں کامیاب ہوگئیں تو یہ ٹرافی محض ایک کپ نہیں رہے گی، بلکہ ممبئی کی کرکٹ تاریخ میں ایک نئی روایت اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن حوالہ بن جائے گی۔