ایس آئی آر تنازع۔سپریم کورٹ میں سماعت.
الیکشن کمیشن کے جوابی حلف نامے کے اہم نکات
تحریر: محمد اعجاز الدین احمد عاجزؔ
رابطہ:9700389755
ہندوستان میں الیکشن کمیشن ایک اہم آئینی ادارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم، جب اسی ادارے کے اندر اختیارات کے ارتکاز، اجتماعی مشاورت کے فقدان اور یک طرفہ فیصلوں کے اعتراضات سامنے آنے لگیں تو معاملہ محض انتظامی اختلاف تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ایک اہم آئینی اور جمہوری قضیے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے اختیارات اور ان کے طرزِ کار سے متعلق حالیہ تنازع بھی اسی نوعیت کا ہے، جس نے الیکشن کمیشن کے داخلی نظامِ فیصلہ سازی، آئینی حیثیت اور ادارہ جاتی شفافیت کے حوالے سے کئی بنیادی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
۲۶ اکتوبر کو الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں اپنا جوابی حلف نامہ داخل کرتے ہوئے ان اعتراضات کی تردید کی کہ چیف الیکشن کمشنر نے دیگر دو ارکان، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی، کی مکمل شرکت اور منظوری کے بغیر اختیارات استعمال کیے۔ یہ جواب راکیش کمار سنگھ بنام حکومتِ ہند کے مقدمے میں داخل کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ تنازع اس وقت منظرِ عام پر آیا جب ذرائع ابلاغ میں ایسی اطلاعات شائع ہوئیں جن سے انکشاف ہوا کہ دونوں الیکشن کمشنرز نے کمیشن کے نام سے کیے گئے بعض فیصلوں اور انتظامی اقدامات پر اپنے تحفظات اور اعتراضات قلم بند کرائے تھے۔
۵ اکتوبر کو چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ان اعتراضات پر نوٹس جاری کیا، تاہم چیف الیکشن کمشنر کو عبوری طور پر فرائض کی انجام دہی سے روکنے کی درخواست مسترد کر دی۔ ڈپٹی الیکشن کمشنر بھانو پرکاش یتورو کی جانب سے داخل کردہ حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ تینوں کمشنرز نے متفقہ طور پر جوابی حلف نامہ داخل کرنے کی منظوری دی تھی۔ کمیشن نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا ہے کہ اس کے تمام اہم فیصلے آئینی تقاضوں اور مقررہ قانونی طریقۂ کار کے مطابق کیے گئے ہیں۔
اس پورے قضیے کا بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا چیف الیکشن کمشنر محض کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے کام کرتے ہیں یا انہیں ایسے اختیارات بھی حاصل ہیں جن کے ذریعے وہ ایک اجتماعی آئینی ادارے کے اختیارات کو انفرادی صوابدید میں تبدیل کر سکتے ہیں؟
اس تنازع کا پہلا اور اہم پہلو فہرست رائے دہندگان کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) سے متعلق ہے۔ آئینِ ہند کا آرٹیکل ۳۲۴ الیکشن کمیشن کو انتخابات کے انعقاد اور فہرست رائے دہندگان کی تیاری و نگرانی کے وسیع اختیارات تفویض کرتا ہے۔ تاہم، ۲۰۲۳ کے قانون، یعنی چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز سے متعلق قانون، کی دفعہ ۱۸ میں واضح کیا گیا ہے کہ کمیشن کے فیصلے حتی الامکان اتفاقِ رائے سے کیے جائیں اور اختلاف کی صورت میں اکثریتی رائے کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہو۔درخواست گزار راکیش کمار سنگھ کا استدلال ہے کہ اگر دو الیکشن کمشنرز نے بعض فیصلوں پر اعتراضات اٹھائے تھے تو یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا ایس آئی آر جیسے حساس اور وسیع البنیاد عمل کو واقعی اجتماعی منظوری حاصل تھی؟وہ ۱۹۹۵ کے معروف مقدمے ٹی این شیشن بنام حکومتِ ہند کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی کا مطلب یہ نہیں کہ دیگر کمشنرز کی شرکت اور مشاورت کو غیر مؤثر بنا دیا جائے۔
اس کے برخلاف الیکشن کمیشن کا دعویٰ ہے کہ ۲۴ جون ۲۰۲۵، ۲۷ اکتوبر ۲۰۲۵ اور ۱۴ مئی ۲۰۲۶ کے تینوں اہم ایس آئی آر احکامات متفقہ طور پر منظور کیے گئے تھے۔ کمیشن کے مطابق، تجاویز، اختلافات اور سوالات مشاورت کے فطری مراحل ہیں اور ان کی موجودگی کو اختلافِ فیصلہ یا عدمِ منظوری کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یہاں ایک اہم آئینی نکتہ قابلِ غور ہے کہ کسی ادارے میں سربراہی اور فیصلہ سازی دو الگ تصورات ہیں۔ سربراہ کی حیثیت انتظامی قیادت کا تقاضا کرتی ہے، جب کہ اجتماعی ادارے کی روح باہمی مشاورت، مساوی شرکت اور قانونی حدود کی پاسداری میں مضمر ہوتی ہے۔
دوسرا اہم نکتہ ان خطوط اور احکامات سے متعلق ہے جو مبینہ طور پر الیکشن کمیشن کی منظوری کے بغیر اس کے نام سے جاری کیے گئے۔
درخواست گزار نے وویک جوشی کے اس بیان کا حوالہ دیا ہے کہ ایک طویل عرصے تک انہیں اجلاسوں سے قبل ایجنڈا اور اجلاسوں کے بعد کارروائی کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اسی طرح بعض افسران کے بیرونِ ملک دوروں کی منظوری کے فقدان کے حوالے سے بھی نکات سامنے آئے۔
الیکشن کمیشن نے اپنے دفاع میں ۱۹۹۶ اور ۱۹۹۷ کے اختیارات کی تفویض سے متعلق احکامات کا حوالہ دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ مخصوص انتظامی اختیارات افسران اور چیف الیکشن کمشنر کو تفویض کیے جا سکتے ہیں، تاہم آئینی اور نیم عدالتی نوعیت کے اہم اختیارات کمیشن کے پاس محفوظ رہتے ہیں۔بلاشبہ انتظامی امور کی انجام دہی کے لیے اختیارات کی تفویض ناگزیر ہے، لیکن یہ تفویض کسی بھی صورت اصل آئینی اختیار کی جگہ نہیں لے سکتی۔ اگر افسران کی انتظامی خودمختاری اور کمیشن کی اجتماعی منظوری کے درمیان حدِ فاصل دھندلا جائے تو ادارہ جاتی جواب دہی کا پورا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔
تیسرا نکتہ الیکشن کمیشن کے داخلی نظامِ کار اور ذمہ داریوں کی تقسیم سے متعلق ہے۔درخواست گزار کے مطابق، ۲۸ جولائی ۲۰۲۶ کو ایک افسر نے شعبۂ اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی ذمہ داریوں میں ایسی تبدیلی کی جس سے نگرانی کا ایک اہم مرحلہ ختم ہو گیا، جب کہ دونوں الیکشن کمشنرز اس اقدام سے لاعلم تھے۔یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ ۲۰۲۳ کے قانون کی دفعہ ۱۸ (۱) کے تحت کمیشن کے داخلی طریقۂ کار اور ارکان کے درمیان ذمہ داریوں کی تقسیم میں اتفاقِ رائے کی شرط عائد ہوتی ہے۔
الیکشن کمیشن نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ ۳۰ جولائی کو دونوں کمشنرز کی مشترکہ ہدایت کے بعد ۲۸ جولائی کے حکم پر عمل درآمد روک دیا گیا اور سابقہ انتظام بحال رکھا گیا۔اس وضاحت سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ داخلی انتظامی امور بھی محض دفتری نوعیت کے معاملات نہیں رہے، بلکہ ان کی آئینی و قانونی حیثیت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
چوتھا اہم نکتہ فہرست رائے دہندگان میں ناموں کے اندراج اور فارم ۶ میں مبینہ تبدیلیوں سے متعلق ہے۔فارم ۶ وہ قانونی دستاویز ہے جس کے ذریعے کوئی شہری فہرست رائے دہندگان میں اپنا نام شامل کرانے کی درخواست دیتا ہے۔ اعتراض ہے کہ اس فارم کے ساتھ ایک اضافی لازمی خانہ شامل کیا گیا، جس میں درخواست گزار سے دریافت کیا جاتا تھا کہ آیا وہ خود یا اس کے والدین اور اجداد سابقہ خصوصی جامع نظرثانی کی فہرست رائے دہندگان میں شامل تھے یا نہیں۔سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے مبینہ طور پر اس اقدام پر نکتہ کیا تھا کہ متعلقہ قواعد میں قانونی ترمیم کے بغیر ایسی شرط کو لازمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
الیکشن کمیشن نے اس اعتراض کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فارم ۶ میں کوئی قانونی ترمیم نہیں کی گئی، بلکہ خصوصی جامع نظرثانی کے دوران ایک الگ اعلانیہ دستاویز طلب کی گئی تھی۔تاہم، کمیشن نے یہ تسلیم کیا ہے کہ برقی نظام میں اس دستاویز کو فارم ۶ کے ساتھ اس انداز میں منسلک کیا گیا تھا جس سے یہ تاثر پیدا ہو سکتا تھا کہ خود قانونی فارم میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔ چنانچہ کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ برقی درخواست کے دو الگ حصے ہوں گےایک قانونی فارم ۶ اور دوسرا خصوصی جامع نظرثانی کا اعلانیہ فارم۔یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا فہرست رائے دہندگان میں نام کے اندراج کے لیے ایسی اضافی شرائط عائد کی جا سکتی ہیں جن کی صراحت قانون میں موجود نہ ہو؟ اگر ایسا کیا جا سکتا ہے تو اس کی حدود کیا ہوں گی اور ان شرائط کی قانونی توثیق کون کرے گا؟
الیکشن کمیشن نے سابقہ فہرست رائے دہندگان سے ووٹروں کے ناموں کو منسلک کرنے کے عمل کو میپنگ کا نام دیا ۔ اس کے مطابق، یہ طریقۂ کار شہریوں کو اضافی دستاویزات فراہم کرنے کی مشقت سے بچاتا ہے۔تاہم، درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ اس عمل کو کسی شہری کے انتخابی حق سے محرومی کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔
کمیشن نے سپریم کورٹ کے ۲۷ مئی ۲۰۲۶ کے فیصلے، ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز بنام الیکشن کمیشن آف انڈیا، کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے اقدام کا دفاع کیا ہے۔ اس فیصلے میں بہار کی خصوصی جامع نظرثانی کے لیے دستاویزات سے متعلق طریقۂ کار کو برقرار رکھا گیا تھا۔اس کے باوجود ایک بنیادی جمہوری اصول اپنی جگہ برقرار رہنا چاہیے کہ فہرست رائے دہندگان کی اصلاح اور تطہیر کا عمل کسی اہل شہری کے حقِ رائے دہی کے خاتمے کا وسیلہ نہ بن جائے۔ فہرست رائے دہندگان کی صحت مندی یقیناً ضروری ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ اس عمل میں کسی مستحق ووٹر کے حق پر حرف نہ آئے۔
چھٹا نکتہ انتخابی اندراج کے افسران کے معلوماتی ذخیرے تک رسائی اور ان کے قانونی اختیارات سے متعلق ہے۔درخواست گزار کا اعتراض ہے کہ فہرست رائے دہندگان کے معلوماتی ذخیرے کو مرکزی سطح پر اس انداز سے قابو میں رکھا گیا کہ مقامی اور قانونی طور پر مجاز افسران کی رسائی محدود ہو گئی۔
الیکشن کمیشن نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فہرست رائے دہندگان میں نام شامل کرنے، درستگی کرنے اور حذف کرنے کا اختیار بدستور متعلقہ انتخابی اندراج افسر (ای آر او)کے پاس ہے۔ کسی اندراج میں تبدیلی اسی کے حکم سے ممکن ہے۔اس معاملے کی جانچ کے لیے کمیشن نے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے، جس میں سینئر انتخابی افسران کے علاوہ آئی آئی ٹی بمبئی اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، بنگلورو کے دو آزاد ماہرین شامل ہیں۔
یہ پیش رفت اس اعتبار سے اہم ہے کہ جدید جمہوری نظام میں ٹیکنالوجی انتظامی سہولت ضرور فراہم کرتی ہے، لیکن اسے قانون سے بالاتر نہیں رکھا جا سکتا۔ آن لائین معلوماتی ذخیرہ کسی قانونی منصب دار کے اختیارات کو محدود کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ ٹیکنالوجی کا مقصد قانونی اختیار کو مؤثر بنانا ہے، اس کا متبادل بننا نہیں۔
ساتواں معاملہ گوا کے ۹۷ ایسے ووٹروں سے متعلق ہے جن کے بارے میں مقامی افسران نے اہلیت کی تصدیق کی تھی، لیکن مبینہ طور پر برقی نظام میں سابقہ حالت بحال کرنے کی سہولت نہ ہونے کے باعث ان کے نام فہرست رائے دہندگان میں دوبارہ شامل نہیں ہو سکے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق، متاثرہ افراد کے گھروں پر افسران کو بھیجا گیا، ۸۸ افراد نے فارم ۶ جمع کرایا اور ان کی درخواستیں قبول کر لی گئیں۔ چھ افراد ملک سے باہر تھے، جب کہ تین کے پاس پرتگالی پاسپورٹ تھے یا وہ غیر ملکی شہری تھے۔
تاہم، کمیشن کی فراہم کردہ رپورٹ میں یہ وضاحت موجود نہیں کہ ان ۸۸ درخواستوں میں سے کتنے نام حقیقتاً فہرست رائے دہندگان میں بحال کیے گئے۔یہاں معاملہ محض ایک تکنیکی سہولت کی عدم موجودگی کا نہیں، بلکہ شہری کے بنیادی انتخابی حق اور انتظامی نظام کی جواب دہی کا ہے۔ اگر کوئی شخص قانونی طور پر اہل قرار پا چکا ہو تو محض برقی نظام کی تکنیکی خامی اس کے حقِ رائے دہی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔
آٹھواں نکتہ مغربی بنگال میں خصوصی جامع نظرثانی کے دوران عدالتی افسران کے احکامات کے خلاف اپیلیں دائر کرنے سے متعلق ہے۔
سکھبیر سنگھ سندھو نے مبینہ طور پر سوال اٹھایا تھا کہ ووٹروں کے نام فہرست رائے دہندگان میں شامل کرنے کے عدالتی فیصلوں کے خلاف اپیلیں کس کی اجازت سے دائر کی گئیں؟
الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے مقدمے مستاری بانو بنام الیکشن کمیشن آف انڈیا میں یکم اور ۶ اپریل کے احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ افسران کو اپیل دائر کرنے کا اختیار حاصل تھا۔کمیشن کے مطابق، مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے بھی ۲۲ اکتوبر کو واضح کیا تھا کہ اپیلیں متعلقہ افسران نے اپنے قانونی منصب کی حیثیت سے دائر کی تھیں۔
یہ وضاحت اپنی جگہ، لیکن اس سے ایک بنیادی سوال ختم نہیں ہوتا کہ حساس انتخابی معاملات میں اختیارات کے استعمال، فیصلوں کی منظوری اور جواب دہی کا ریکارڈ کس قدر شفاف ہونا چاہیے؟
نواں نکتہ اس پورے تنازع کا اہم قانونی پہلو ہے۔ درخواست گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کا اصل ریکارڈ طلب کرے، جس میں اجلاسوں کے ایجنڈے، کارروائی کی تفصیلات، منظوریوں، دفتری نوٹنگز، اختیارات کی تفویض کے احکامات، اطلاعاتی ٹیکنالوجی تک رسائی کے ریکارڈ اور معلوماتی ذخیرے میں تبدیلیوں کی تفصیلات شامل ہوں۔اگر ان دستاویزات سے یہ ثابت ہو کہ فہرست رائے دہندگان، فارم ۶، معلوماتی ذخیرے یا اپیلوں سے متعلق اہم فیصلے کمیشن کی منظوری کے بغیر کیے گئے تو درخواست گزار ایک آزاد عدالتی تحقیقاتی کمیشن یا خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل چاہتا ہے۔اس ٹیم کی سربراہی سپریم کورٹ کے کسی سبکدوش جج کے سپرد کرنے اور اس میں تکنیکی و انتخابی ماہرین کو شامل کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن کا استدلال ہے کہ پوری درخواست ایک اخباری رپورٹ پر استوار ہے اور درخواست گزار نے متعلقہ فریقین سے حقائق کی تصدیق کرنے کی زحمت بھی نہیں کی۔ کمیشن کے مطابق، اخباری رپورٹ بذاتِ خود کسی اعتراض کا حتمی ثبوت نہیں ہوتی۔
یہاں عدالتی عمل کے دو اہم اصول روبرو آتے ہیں۔ ایک طرف درخواست گزار کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اعتراضات کو قابلِ اعتبار مواد سے ثابت کرے، جب کہ دوسری طرف ایک آئینی ادارے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فیصلوں اور اقدامات کے متعلق شفاف اور قابلِ تصدیق ریکارڈ پیش کرنے کی صلاحیت رکھے۔
دسواں اور سب سے زیادہ حساس نکتہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ان کے منصب کی انجام دہی سے روکنے سے متعلق ہے۔درخواست گزار نے منصب کے قانونی جواز سے متعلق آئینی درخواست کے ذریعے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا چیف الیکشن کمشنر کو وہ اجتماعی اختیارات انفرادی طور پر استعمال کرنے کا حق حاصل ہے جو قانون نے پورے کمیشن کو تفویض کیے ہیں؟درخواست میں عبوری طور پر گیانیش کمار کو فرائض کی انجام دہی سے روکنے اور اس مدت میں باقی دونوں کمشنرز سے اتفاقِ رائے کی بنیاد پر کمیشن کے معاملات چلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے اس استدلال کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گیانیش کمار کی تقرری قانونی طور پر عمل میں آئی ہے اور آئین کے آرٹیکل ۳۲۴ (۵) کے تحت چیف الیکشن کمشنر کو مخصوص آئینی تحفظ حاصل ہے۔کمیشن کے مطابق، کسی ایک رکن کو کام سے روکنے کا نتیجہ تین رکنی ادارے کے فیصلہ سازی کے پورے نظام کو متاثر کرنا ہوگا، جہاں اختلافِ رائے کی صورت میں اکثریت کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ کمیشن نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ان درخواستوں کو ابتدائی مرحلے ہی میں خارج کر دیا جائے۔
اس پورے تنازع کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ معاملہ محض دو الیکشن کمشنرز اور چیف الیکشن کمشنر کے درمیان انتظامی اختلاف کا نہیں ہے۔ اس کی تہہ میں ایک زیادہ بنیادی سوال پوشیدہ ہے کیا ہندوستان کا الیکشن کمیشن ایک اجتماعی آئینی ادارہ ہے یا اس کے اختیارات کا عملی مرکز ایک فرد کی ذات میں مرتکز ہو سکتا ہے؟جمہوری نظام میں اختلافِ رائے کوئی عیب نہیں، بلکہ ادارہ جاتی صحت کی علامت ہے۔ البتہ اختلافات کو ریکارڈ پر لانے، ان پر غور کرنے اور قانونی ضابطوں کے مطابق فیصلہ کرنے کا طریقۂ کار شفاف ہونا چاہیے۔
آئین کا آرٹیکل ۳۲۴ الیکشن کمیشن کو وسیع اختیارات ضرور دیتا ہے، لیکن ان اختیارات کا مقصد انتخابی عمل کی غیر جانب داری، شفافیت اور دیانت کو یقینی بنانا ہے۔ یہ اختیارات کسی ایک منصب دار کی انفرادی بالادستی کا پروانہ نہیں ہیں۔اسی طرح، ۲۰۲۳ کے قانون کی دفعہ ۱۸ میں اتفاقِ رائے اور اکثریتی فیصلے کی جو ترتیب مقرر کی گئی ہے، اس کی معنویت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب ہر رکن کو مشاورت، اظہارِ رائے اور فیصلوں میں شرکت کا حقیقی موقع حاصل ہو۔یہ بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ فہرست رائے دہندگان کی اصلاح، رائے دہندوںکی شناخت، آن لائن معلوماتی ذخیرے کی نگرانی اور انتخابی اپیلوں جیسے معاملات کروڑوں شہریوں کے جمہوری حقوق سے براہِ راست وابستہ ہیں۔ ان میں کسی بھی قسم کی انتظامی بے ضابطگی یا قانونی ابہام جمہوری اعتماد کو مجروح کر سکتا ہے۔سپریم کورٹ کے سامنے اب بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ محض فریقین کے دعووں اور جوابی دعووں تک اپنے جائزے کو محدود نہ رکھے، بلکہ جہاں ضرورت محسوس ہو، اصل دستاویزات، فیصلوں اور منظوریوں کا قانونی تناظر میں جائزہ لے۔ اس طرح یہ طے کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ الیکشن کمیشن کے اجتماعی فیصلہ سازی کے آئینی تقاضوں پر کس حد تک عمل کیا گیا اور انتخابی عمل کی شفافیت و غیر جانب داری کو یقینی بنانے کے لیے کون سے قانونی اصول نافذ العمل ہونے چاہیے۔