اسرائیل کے حالیہ انتخاب میں نہ صرف وزیر اعظم نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی نے سیٹیں گوائیں بلکہ اس کا اتحاد بھی اقلیت میں آگیا۔ اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کیونکہ اقتدار میں رہتے ہوئے جو بدمعاشی ان لوگوں نے کی تھی اس کے سبب اتنی سیٹیں بھی نہیں ملنی چاہئیں تھیں ۔اس انتخاب کا سب سے حیرت انگیز پہلو فلسطینی عرب جماعتوں کی زبردست برتری ہے۔ یہ وہی پارٹیاں جن کو اسرائیل گیانیش کمار کی قیادت میں کام کرنے والے مرکزی الیکشن کمیٹی نے انتخاب لڑنے سے روک دیا تھا ۔ اس کے بعد ان عرب اکثریتی سیاسی جماعتوں نے عدالتِ کا رخ کیا ۔ اتفاق سے اسرائیل کی سپریم کورٹ میں کوئی چندچوڑیا سوریہ کانت نہیں تھا ۔ وہاں پر اگر جسٹس چندر چوڑ کا ہمزاد ہوتا تو وہ اپنے فیصلے میں ان عرب جماعتوں کے انتخاب لڑنے کا حق تسلیم کرنے باوجود الیکشن لڑنے سے منع کردیتا اور جسٹس سوریہ کانت کا کلون ہوتا تو بے نیازی سے کہہ دیتا کہ اس بار نہیں تو اگلی بار سہی کیا فرق پڑتا ہے۔ اس لیے کہنا پڑے گا کہ مودی جی کی قیادت میں ہندوستان کا سیاسی نظام اسرائیل سے بھی بدتر ہوچکا ہے ۔ وہاں ایس آئی آر جیسی کسی بدمعاشی کی آڑ میں عرب شہریوں وو ٹ دینے نہیں روکا جاتا اور الیکشن کمیشن ان کے اس حق کا احترام کرتا ہے ۔
اسرائیل کی سپریم کورٹ نے 2؍ اکتوبر 2026ء کو متفقہ طور پر سینٹرل الیکشنز کمیٹی کے فیصلے کو اس کے منہ پر دے مارا جس کے تحت عرب اکثریتی سیاسی جماعتوں مثلاً رعم ، حداش، بلد اور تعل پر پابندی لگائی گئی تھی۔ اپنے آپ کو غیر جانبدار ثابت کرنے کے لیے وہاں کے الیکشن کمیشن نے یہودی قانون ساز عوفر کاسیف پر بھی 27 اکتوبر 2026ء کے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کی تھی مگر سپریم کورٹ نے الیکشن کمیٹی کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئےسب کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی اور وہی نیتن یاہو کے گلے کی ہڈی بن گئی ۔عدالت سے ہری جھنڈی ملنے کے باوجودصدر اسحاق ہرگوز کے دباؤ کی وجہ سے بلد پارٹی کے رہنما سامی ابو شحادہ نے 7؍ اکتوبر 2023 کے حملوں سے متعلق دیے گئے بیانات کی وجہ سے عدالتی مخالفت کے اندیشے سے ازخود کنارہ کشی اختیار کرلی مگر دیگر عرب جماعتوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور شاندار کامیابی درج کرانے کے بعد اب کنگ میکر کے طور پر آئندہ کی حکومتی سازی میں اہم کردار ادا کرنے جا رہے ہیں ۔ تاریخ کے اہم موڑ پرفلسطینی صدر محمود عباس نے امیدظاہر کی ہے کہ اسرائیل میں نئی حکومت قائم ہوجانے کے بعد امن مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں گے۔
نیکوسیا میں قبرص کے صدر نیکوس کرسٹوڈولائڈس کے ساتھ ملاقات کے دوران محمود عباس نے کہا کہ ’ہم کئی برسوں سے اسرائیل کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتے آ رہے ہیں تاکہ ان کے ساتھ امن قائم کیا جا سکے اور اسرائیل اور فلسطین سلامتی، استحکام اور امن کے ساتھ رہ سکیں۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ اسرائیل میں نئی حکومت کے قیام کے فوراً بعد ہم دوبارہ بات چیت اور مذاکرات کا آغاز کر سکیں گے۔‘ غزہ کے اندر بدترین نسل کشی کے باوجود حماس یا محمود عباس نے مذاکرات سے انکار نہیں کیا لیکن کسی دباو میں آکر اپنے وقار سے کوئی سمجھوتا بھی نہیں کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی رائے عامہ ان کے حق میں ہوگئی جبکہ اسرائیل ایک جارح کی حیثیت سے دنیا کا سب سے ناپسندیدہ ملک بن گیا۔ نیتن یاہو کے کھسیانی بلی کھمبا نوچے والے الزام کو قطر نے دو ٹوک‘ انداز میں مسترد کردیا ۔قطری حکومت کے مطابق اسرائیلی انتخابات میں مداخلت یا انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کے لیے اس نے کسی سرگرمی کی مالی معاونت نہیں کی ۔ قطر کا یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیت کو ان الزامات کی تحقیقات سونپی گئی ہیں کہ ترکی اور قطر سے اسرائیل میں رقوم منتقل کی گئیں تاکہ عرب ووٹروں کے فیصلوں پر اثر ڈالا جا سکے۔ یہ الزامات بنیامین نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے عائد کیے گئے تھے۔
قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجدالانصاری نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’یہ الزامات نہ صرف مضحکہ خیز بلکہ خطرناک بھی ہیں۔ اسرائیلی انتخابی مہم اور سیاسی مباحثوں میں بار بار قطر کا نام لیا جانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بعض اسرائیلی سیاسی اور میڈیا شخصیات ہمارے ملک کے بارے میں غیر معمولی حساسیت رکھتی ہیں۔‘ دبئی سے تل ابیب جانے والے جہاز کا تماشا ہوا تو اس وقت کہا جارہا تھا کہ نیتن یاہو نے اپنے دوست مودی کے سرجیکل اسٹرائیک کی بھونڈی نقل کی ہے ۔ اس بیان سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہندوستان کے ہر واقعہ کو پاکستان سے جوڑا جاتا ہے اسی طرح اسرائیلی حکومت قطر کی آڑ میں چھپنے کی کوشش کررہی ہے ۔ اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ سارے چور موسیرے بھائی ہوتے ہیں۔ امریکہ میں جب ٹرمپ پر حملہ ہوتا ہے تو اسے ایران سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ احمق لوگ اپنےگریبان میں جھانک کر دیکھنے کے بجائے اغل بغل دیکھ کر جگ ہنسائی کا چھوٹابندر بن جاتے ہیں۔قطر کی بادشاہت نے دنیا کی سب اسمارٹ جمہوریت کو عار دلاتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی سیاست دانوں کواپنی سیاسی ناکامی چھپانے کے لیے انہیں قربانی کا بکرا نہیں بنانا چاہیے۔ قطر کی جانب توجہ مبذول کرانے کے بجائے انھیں اپنے ووٹروں پر توجہ دینی چاہیے، عوام کی زندگی بہتر بنانے کے لیے کام کرنا چاہیے اور خطے میں ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنا چاہیے۔‘
اسرائیل کے گال پرایسا کرارہ طمانچہ آج تک کسی عرب ملک نے نہیں مارا ہوگامگر نیتن یاہو کی بدولت یہ بھی ہوگیا ۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے مبینہ غیر ملکی مداخلت کی تحقیقات کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ ایسے کسی بھی عمل سے اسرائیل کی پوری عرب برادری میں ساکھ متاثر نہیں ہونی چاہیے۔ ویسے غزہ کی نسل کشی کے بعد عرب ممالک تو دور یوروپ میں بھی اسرائیل بدنام ترین ملک بن چکا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بنیامین نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں نے عرب ووٹروں کی انتخابی شرکت بڑھانے کے لیے مبینہ ’انتخابی رشوت‘ کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان الزامات کے بعد اسرائیل کی داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیت کو ان دعوؤں کی تحقیقات سونپی گئی کہ ترکی اور قطر سے اسرائیل میں رقوم منتقل کی گئیں تاکہ عرب ووٹروں کے انتخابی فیصلوں پر اثر انداز ہوا جا سکے۔قطر کے علاوہ چونکہ ترکی کو بھی اس معاملے میں گھسیٹا گیا تھا اس لیے اردغان کے سرکاری سینٹر برائے کاؤنٹر ڈس انفارمیشن (غلط معلومات کے تدارک کاحکومتی مرکز )نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ ’بعض بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والے یہ دعوے کہ ’ترکی نے اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کی‘ مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔‘بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یہ الزامات عوامی رائے کو متاثر کرنے کے مقصد سے چلائی جانے والی ایک دانستہ اور کھلی گمراہ کن مہم کا حصہ ہیں۔‘ اس کے ساتھ عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ان جھوٹی خبروں اور گمراہ کن الزامات پر یقین نہ کریں، جن کا مقصد عوام کو غلط سمت میں لے جانا ہے۔‘
اسرائیل کی عرب جماعتوں کے اتحاد نے نیتن یاہو کے دھاندلی اور غیر ملکی مداخلت کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔اس نے اپنے اپنے بیان میں کہا ’نیتن یاہو اور ان کے فاشسٹ اتحادیوں کی جانب سے عرب شہریوں کے ووٹوں کے خلاف اشتعال انگیز مہم اس برادری کی سیاسی طاقت کے خوف کو ظاہر کرتی ہے۔‘عرب جماعتوں نے 19 نشستیں حاصل کرکے آئندہ کی حکومت سازی میں بڑی سیاسی طاقت بن کر ابھرے ہیں اور نہایت اہم فیصلہ کن کردار ادا کرنے جارہے ہیں ۔نیتن یاہو کے اوٹ پٹانگ الزامات کی تحقیق کرنے والی اسرائیل کی داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیت کا کہنا ہےکہ انتخابات میں مبینہ غیر ملکی مداخلت کی تحقیقات سیاسی شخصیات کی فراہم کردہ معلومات پر نہیں بلکہ ادارے کی اپنی ’آزادانہ معلومات‘ کی بنیاد پر شروع کی گئی تھیں اور اس کا مقصد قانونی اور جمہوری طریقے سے ووٹ ڈالنے والی کسی پوری برادری کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں ہے۔ اس طرح گویا اس نے نیتن یاہو کی مرعوبیت کا انکار کردیا ۔ شن بیت کا کہنا تھا کہ انتخابات کے اختتام سے قبل ادارے سے باہر سپریم کورٹ کے جج نوام سولبرگ کے علاوہ کسی کو بھی اس معلومات تک رسائی نہیں مل سکے گی۔ سپریم کورٹ کے جج نوام سولبرگ اور نیتن یاہو کا جھگڑا بہت پرانا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے بدعنوان نیتن یاہو کو کلین چٹ دینے سے انکار کیا تو وہ چراغ پا ہوگیا۔ اس نے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے پر منعقد ہونے والے پارلیمانی (کینسیٹ) اجلاس میں ان کو شرکت کی دعوت نہیں دے کر ان کی اہانت کی۔ اب ان کے پاس انتقام لینے کا بہترین موقع ہے اور امید ہے کہ وہ یاہو کو ایسا سبق سکھائیں گے کہ اس کا دماغ ٹھکانے آجائے گا۔
(۰۰۰۰۰۰۰۰جاری)