رہائی کے دروازے پر گرفتاری اعظم خان کے لیے آخر یہ کیسی آزمائش؟

رہائی کے دروازے پر گرفتاری  اعظم خان کے لیے آخر یہ کیسی آزمائش؟

رہائی کے دروازے پر گرفتاری
اعظم خان کے لیے آخر یہ کیسی آزمائش؟

✍️ افتخاراحمدقادری

اترپردیش کی سیاست میں اعظم خان ایک ایسی متنازع مگر اثرانداز سیاسی قوت کا عنوان ہیں جس کے گرد اقتدار، مزاحمت، قانونی کشاکش اور سیاسی عداوت کی کئی داستانیں گردش کرتی رہی ہیں۔ تاہم 31 اکتوبر 2026ء کو رام پور جیل کے دروازے پر پیش آنے والے واقعے نے ان کی طویل قانونی آزمائش کو ایک نئے سوالیہ نشان کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیر اعظم خان اپنے صاحب زادے عبدالله اعظم کے ہمراہ تقریباً گیارہ ماہ بعد جیل سے باہر آئے لیکن رہائی کی خوشی ابھی مکمل بھی نہ ہونے پائی تھی کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی ٹیم نے انہیں ایک دوسرے مقدمے میں اپنی تحویل میں لے لیا۔ عبدالله اعظم اپنے گھر روانہ ہوگئے مگر ان کے والد کے لیے آزادی کی پہلی سانس بھی ایک نئی قانونی گرفت میں تبدیل ہوگئی۔ یکم نومبر کو غازی آباد کی خصوصی عدالت نے اعظم خان کو چودہ روزہ عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔ یوں رہائی کی دہلیز پر کھڑا شخص ایک مرتبہ پھر زنداں کی سمت روانہ ہوگیا۔ یہ واقعہ اس پورے نظامِ انصاف، تفتیشی اداروں کے اختیار، حکومت کے سیاسی رویّے اور شہری آزادیوں سے متعلق کئی بنیادی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اعظم خان قانون سے بالاتر ہیں یا نہیں، کوئی بھی شخص خواہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو قانون کے دائرے سے باہر نہیں ہوسکتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ قانون کا نفاذ کس انداز میں ہورہا ہے؟ اس کے پیچھے کیا ٹھوس شواہد ہیں؟ کارروائی کا وقت کس نوعیت کے شبہات پیدا کرتا ہے اور کیا سیاسی اختلاف رکھنے والی شخصیات کے معاملے میں بھی وہی قانونی معیار اختیار کیا جاتا ہے جو ہر عام شہری کے لیے مقرر ہے؟ اعظم خان اور عبدالله اعظم کو دو پین کارڈ رکھنے سے متعلق مقدمے میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے 29 اکتوبر کو ضمانت دیتے ہوئے ان کی سزا معطل کرنے کا حکم دیا تھا تاہم عدالت نے ان کی سزا کے فیصلے پر روک لگانے کی درخواست منظور نہیں کی۔ یہ فرق قانونی اعتبار سے اہم ہے۔ ضمانت ملنے کا مطلب بریت نہیں اور سزا کی معطلی کا مطلب مقدمے کا اختتام بھی نہیں۔ اسی طرح کسی شخص کے خلاف الزامات موجود ہونے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اس کے تمام حقوق ساقط ہوگئے۔ عدالت نے جو قانونی رعایت دی اس پر عمل درآمد ہونا چاہیے تھا لیکن اعظم خان کے معاملے میں ایک مقدمے سے رہائی کا راستہ دوسرے مقدمے کی گرفت میں تبدیل ہوگیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قانون کی کارروائی کے ساتھ ساتھ اس کے سیاسی مضمرات پر غور ناگزیر ہوجاتا ہے۔
اعظم خان کی گرفتاری انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور محمد علی جوہر یونیورسٹی، رام پور سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں کی ہے۔ ای ڈی کا الزام ہے کہ یونیورسٹی کی تعمیر پر ظاہر کردہ اخراجات اور عمارتوں کی تخمینی مالیت میں بڑا فرق پایا گیا۔ تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق انکم ٹیکس محکمے کی ایک تخمینی رپورٹ میں تعمیرات کی مالیت تقریباً 494.46 کروڑ روپے بتائی گئی، جب کہ ٹرسٹ کے گوشواروں میں مالی سال 2013-14ء سے 2024-25ء تک سرمایہ جاتی اخراجات تقریباً 78.32 کروڑ روپے ظاہر کیے گئے۔ ایجنسی نے اس فرق کو تقریباً 416.14 کروڑ روپے کے مبینہ غیر واضح اخراجات سے تعبیر کیا ہے۔ اسی سلسلے میں یونیورسٹی کی زمین اور عمارتوں کی تقریباً 1170 کروڑ روپے کی تخمینی بازاری مالیت رکھنے والی جائیدادوں کو بھی عارضی طور پر منسلک کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ یہ الزامات اپنی نوعیت میں سنگین ہیں۔ اگر سرکاری وسائل کا ناجائز استعمال ہوا، مالی لین دین میں بے ضابطگیاں ہوئیں یا کسی ادارے کی تعمیر کے لیے غیر قانونی ذرائع سے رقم حاصل کی گئی، تو اس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ عوامی دولت کسی سیاسی جماعت، ٹرسٹ یا بااثر شخصیت کی ذاتی جاگیر نہیں۔ لیکن اسی اصول کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے کہ تحقیقاتی ایجنسی کا الزام عدالتی فیصلہ نہیں ہوتا، تخمینی فرق بذاتِ خود جرم کا قطعی ثبوت نہیں بنتا اور مالی بے قاعدگی کے شبہے کو قانونی طور پر ثابت کرنے کے لیے دستاویزی شواہد، مالی لین دین کی تفصیلات اور ذمہ داری کے تعین کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا اعظم خان کے خلاف الزامات کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے بھی انہیں مجرم قرار دینے کا اختیار عدالت ہی کو حاصل ہے۔ تاہم معاملہ صرف اعداد و شمار اور مالی گوشواروں تک محدود نہیں رہتا۔ اس کے پس منظر میں ایک ایسا سیاسی سوال موجود ہے جسے نظرانداز کرنا آسان نہیں۔ آخر اعظم خان کے معاملے میں قانونی کارروائیوں کا سلسلہ اس قدر طویل اور پیچیدہ کیوں ہوتا جارہا ہے؟ ان کے خلاف مقدمات، سزاؤں، ضمانتوں اور نئی گرفتاریوں کی کڑی عوامی سطح پر یہ تاثر کیوں پیدا کررہی ہے کہ ان کے لیے قانونی آزمائش کا کوئی اختتام نہیں؟ کیا حکومت اور اس کے ماتحت ادارے اس تاثر کو دور کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں، یا ان کی ترجیح محض یہ ہے کہ ہر قانونی رعایت کے بعد ایک نیا قضیہ سامنے آجائے؟ ان سوالات کا جواب شفاف تحقیقات، واضح دستاویزات اور قابلِ احتساب قانونی کارروائی سے دیا جاسکتا ہے۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ صرف رہائی کے فوراً بعد گرفتاری ہوجانے سے سیاسی انتقام کا الزام خودبخود ثابت ہوگیا؛ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسی غیر معمولی صورتِ حال میں سیاسی انتقام کا خدشہ جنم لیتا ہے، اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس خدشے کو دور کرنے کے لیے قابلِ اعتماد وضاحت پیش کرے۔
اعظم خان نے جیل سے باہر آنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی گرفتاری کو مسلمان ہونے کی سزا قرار دیا اور کہا کہ ان کی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے طلبہ کے لیے یونیورسٹی اور اسکول قائم کیے۔ ان کے اس بیان کو ایک سیاسی رہنما کے ذاتی مؤقف کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ کسی ثابت شدہ سرکاری منصوبے کے قطعی ثبوت کے طور پر۔ تاہم ان کے الفاظ نے ایک ایسے طبقے کے احساسِ محرومی کو زبان ضرور دی ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ مسلمانوں کے تعلیمی، سماجی اور سیاسی اداروں کے معاملے میں سرکاری کارروائیوں کا پیمانہ مختلف ہوسکتا ہے۔ یہ احساس درست ہے یا غلط، اس کا فیصلہ جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ ٹھوس شواہد اور یکساں قانونی معیار سے ہونا چاہیے۔
اگر جوہر یونیورسٹی میں مالی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں تو ان کی تحقیقات کیجیے، ذمہ داروں کا تعین کیجیے اور عدالت میں ثبوت پیش کیجیے۔ لیکن اگر کسی تعلیمی ادارے کی تعمیر اور اس کے وجود ہی کو مشکوک بناکر پیش کیا جائے، تو یہ سوال بھی اٹھے گا کہ حکومت کی نظر میں تعلیم کے فروغ کا تصور کیا ہے؟ کسی یونیورسٹی کا قیام بذاتِ خود نہ جرم ہے، نہ اس کے بانی کو قانون سے استثنا فراہم کرتا ہے۔ تعلیمی ادارہ قائم کرنے کا حوالہ مالی بے ضابطگیوں سے متعلق الزامات کا جواب نہیں ہوسکتا، لیکن محض کسی ادارے کی شناخت، اس کے بانی کے مذہب یا اس کی سیاسی وابستگی کو کارروائی کی بنیاد بنانا بھی آئینی انصاف کے منافی ہوگا۔
اترپردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے سیاسی طرزِ عمل پر پہلے ہی اپوزیشن کی جانب سے سخت سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں اعظم خان کی رہائی کے فوراً بعد گرفتاری نے ان سوالات کو مزید شدت بخشی ہے۔ بالخصوص جب ریاست میں آئندہ اسمبلی انتخابات کی سیاسی سرگرمیاں تیز ہونے کی توقع ہے تو کسی نمایاں اپوزیشن رہنما کے خلاف اس نوعیت کی کارروائی کو سیاسی عینک سے دیکھا جانا فطری ہے۔ اس کے باوجود محض انتخابی تقویم کو بنیاد بناکر تحقیقات کو بے بنیاد قرار دینا بھی صحافتی دیانت کے خلاف ہوگا۔ اصل کسوٹی یہ ہے کہ کیا ای ڈی کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو گرفتاری اور عدالتی تحویل کی ضرورت کو ثابت کرتے ہیں، اور کیا یہی معیار حکمران جماعت سے وابستہ شخصیات کے معاملات میں بھی اختیار کیا جاتا ہے؟ حکومت کے ذہن و دماغ میں کیا چل رہا ہے اس کا قطعی دعویٰ کرنا ممکن نہیں لیکن اس کے اقدامات سے پیدا ہونے والے سیاسی تاثر کا تجزیہ ضرور کیا جاسکتا ہے۔ اگر حکومت کا مقصد صرف مالی بدعنوانی کا سدباب ہے تو اسے اپنی کارروائی کو شواہد کی روشنی میں اس قدر شفاف بنانا چاہیے کہ سیاسی انتقام کا شبہ کم سے کم رہ جائے۔ اگر کسی ادارے کی تعمیر میں سرکاری وسائل کے استعمال کا معاملہ ہے تو ان وسائل کی منتقلی، متعلقہ معاہدوں، ادائیگیوں اور ذمہ دار افراد کے کردار کو واضح کیا جائے۔ اگر غیر قانونی مالی لین دین کا الزام ہے تو اس کے ثبوت عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں۔ لیکن اگر کارروائیوں کا نتیجہ یہ نکلے کہ ایک سیاسی مخالف کی ہر قانونی پیش رفت کے بعد اس کے گرد ایک نیا حصار کھڑا ہوجائے تو حکومت کو اس تاثر کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے جواب دینا ہوگا۔ یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ توجہ ہے۔ اعظم خان کے صاحب زادے عبدالله اعظم نے رہائی کے بعد کہا کہ ان کا سب سے بڑا دشمن ان کا نام ہے اور انہیں اسی کی سزا دی جارہی ہے۔ یہ بیان ان کے احساسات کی ترجمانی کرتا ہے مگر اس کے پیچھے موجود قانونی سوال بھی اہم ہے: کیا کسی شہری کو اس کے خاندانی تعلق، سیاسی شناخت یا مذہبی پس منظر کی وجہ سے اجتماعی طور پر مشتبہ سمجھا جاسکتا ہے؟ قانون ہر شخص کے انفرادی کردار اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔ باپ کے خلاف الزام بیٹے کے جرم کا ثبوت نہیں اور بیٹے کے خلاف الزام باپ کی مجرمانہ ذمہ داری خودبخود ثابت نہیں کرتا۔ دونوں کے معاملات میں الگ الگ شواہد اور الگ قانونی فیصلے ضروری ہیں۔ اعظم خان کے سیاسی مخالفین ان کے ماضی، ان کے طرزِ سیاست اور ان کے خلاف درج مقدمات کو بنیاد بناکر ان پر تنقید کرسکتے ہیں۔ ان کے حامی ان کی گرفتاری کو سیاسی انتقام قرار دے سکتے ہیں۔ لیکن جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ نہ مخالفین کی نفرت قانون کا متبادل بنے اور نہ حامیوں کی عقیدت احتساب سے استثنا کا جواز پیدا کرے۔ کسی سیاسی رہنما کی مقبولیت اسے قانون سے بلند نہیں کرتی، مگر اس کی مخالفت بھی اسے قانون کے تحفظ سے محروم نہیں کرسکتی۔ یہی وہ باریک حد ہے جس پر آئینی جمہوریت کی ساکھ قائم رہتی ہے۔ اعظم خان کی رہائی کے موقع پر جمع ہونے والے حامیوں کی خوشی کا مایوسی میں تبدیل ہوجانا ایک سیاسی واقعہ ضرور ہے، لیکن اس سے بڑھ کر یہ قانون کے نفاذ کے طریقۂ کار پر اٹھنے والا سوال ہے۔ اگر گرفتاری قانونی تقاضوں کے مطابق ہوئی ہے تو اس کی بنیاد، وجوہات اور ضروری قانونی کارروائی کو واضح انداز میں سامنے آنا چاہیے۔ اگر کہیں طریقۂ کار میں بے ضابطگی ہوئی ہے تو متعلقہ عدالت کو اس کا جائزہ لینا چاہیے۔ نہ گرفتاری کو محض تماشا بناکر پیش کیا جانا چاہیے، نہ کسی ملزم کے ساتھ ایسا سلوک ہونا چاہیے جس سے اس کی انسانی عزت مجروح ہو۔ قانون کی قوت اس کے اختیار میں نہیں، اس کی غیر جانب داری میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ کیا جوہر یونیورسٹی سے متعلق الزامات کا فیصلہ شواہد کریں گے یا سیاسی بیانیے؟ کیا اعظم خان کو عدالت میں اپنے دفاع کا پورا موقع ملے گا؟ کیا تفتیشی ادارے ان سوالات کے جواب دیں گے جو رہائی کے فوراً بعد گرفتاری کے وقت اور طریقۂ کار سے متعلق اٹھے ہیں؟ اور کیا حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کسی بھی شہری کو اس کے مذہب یا سیاسی وابستگی کی بنیاد پر نشانہ بنائے جانے کا تاثر پیدا نہ ہو؟ ان سوالات کو اٹھانا آئینی حقوق، عدالتی وقار اور جمہوری شفافیت کا تقاضا ہے۔ اعظم خان بے قصور ہیں یا قصوروار، اس کا فیصلہ شواہد اور قانون کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ لیکن ان کے خلاف کارروائی کا ہر مرحلہ بھی اسی قانونی میزان پر پرکھا جانا چاہیے جس پر کسی عام شہری کے معاملے کو پرکھا جاتا ہے۔ اگر حکومت کے پاس ثبوت ہیں تو انہیں عدالت میں پیش کرے، اگر الزامات درست ہیں تو قانون کے مطابق سزا ہو اور اگر کسی مرحلے پر بے ضابطگی ثابت ہو تو اس کی اصلاح بھی اسی قوت سے کی جائے جس قوت سے کارروائی کی گئی۔ ریاست کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ اپنے مخالفین کو مسلسل قانونی الجھنوں میں گرفتار رکھے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنے مخالفین کے حقوق کی بھی اسی طرح حفاظت کرے جس طرح اپنے حامیوں کے حقوق کی کرتی ہے۔ جمہوریت میں اقتدار عارضی ہوتا ہے، مگر انصاف کا معیار مستقل رہنا چاہیے۔ اعظم خان کے معاملے میں اصل امتحان صرف ایک سیاسی رہنما کا نہیں، بلکہ اس اصول کا ہے کہ قانون کی نگاہ میں سب برابر ہیں۔ اگر یہ اصول محض کتابوں، تقریروں اور آئینی عبارتوں تک محدود رہ گیا تو جمہوریت کا جسم باقی رہنے کے باوجود اس کی روح مجروح ہوتی رہے گی اور رہائی کے دروازے پر گرفتاری نے جو سوال اٹھائے ہیں ان کا جواب سیاسی نعروں، الزام تراشیوں یا جذباتی دعووں سے نہیں، بلکہ شفاف تحقیقات، غیر جانب دارانہ عدالتی کارروائی اور آئینی اصولوں کی پاسداری سے دیا جانا چاہیے۔ یہی حکومت کی ذمہ داری ہے، یہی تحقیقاتی اداروں کا امتحان اور یہی جمہوریت کی حقیقی آبرو ہے۔
*مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں
iftikharahmadquadri@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے