جھانسی کا چوہا اور قانون کی اندھی آنکھ: انصاف کی فراہمی یا اقلیتوں کی تضحیک؟

جھانسی کا چوہا اور قانون کی اندھی آنکھ: انصاف کی فراہمی یا اقلیتوں کی تضحیک؟

جھانسی کا چوہا اور قانون کی اندھی آنکھ:
انصاف کی فراہمی یا اقلیتوں کی تضحیک؟

ازقلم: اسماء جبین فلک

اتر پردیش کے شہر جھانسی کی قصائی منڈی میں کچھ دن پہلے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس ویڈیو میں چار نوجوان؛ جنید قریشی، ذیشان قریشی، آصف قریشی اور شفیق؛ نظر آ رہے تھے، جنھوں نے مبینہ طور پر ایک زندہ چوہے کو رسی سے باندھا، لوہے کے گیٹ پر لٹکایا، اس پر پیٹرول چھڑکا اور آگ لگا دی۔ چوہا تڑپتا رہا اور آخرکار مر گیا۔ نوجوانوں نے یہ منظر اپنے موبائل پر ریکارڈ کیا اور سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیا۔ جب ویڈیو وائرل ہوئی تو پولیس خود بخود حرکت میں آگئی۔ کوتوالی پولیس نے چاروں کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 325 کے تحت مقدمہ درج کیا اور تین کو گرفتار کر لیا، جبکہ چوتھا ملزم فرار ہو گیا۔
اب ذرا ٹھہر کر سوچیں۔ یہ فعل بذاتِ خود قابلِ مذمت ہے۔ کسی بے زبان جاندار کو اس طرح جلانا اور اس کی ویڈیو بنا کر شیئر کرنا حیوانیت ہے، اور قانون اسے جرم قرار دیتا ہے۔ لیکن سوال یہ نہیں کہ آیا یہ جرم ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ جرم اچانک اتنا اہم کیسے بن گیا؟ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اسی ریاست میں روز بروز کتنے ایسے سنگین جرائم ہو رہے ہیں جن کا نشانہ مسلمان بنتے ہیں، مگر وہاں پولیس کی ایسی کوئی بے چینی نظر نہیں آتی۔
دفعہ 325 کا معاملہ ہی لے لیں۔ یہ بھارتیہ نیائے سنہتا کا وہ حصہ ہے جو کسی جانور کو مارنے، زہر دینے یا نقصان پہنچانے پر پانچ سال تک قید کی سزا دیتا ہے، اور یہ جرم ناقابلِ ضمانت بھی ہے۔ یعنی قانونی طور پر یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ لیکن قانون کی کتابی شدت اور زمینی حقیقت میں وہی فرق ہے جو ہمیشہ سے چلا آ رہا ہے۔ پرانے قانون "پریونشن آف کرولٹی ٹو اینیملز ایکٹ” کے تحت پہلی بار جانور کو تکلیف دینے پر صرف دس سے پچاس روپے تک جرمانہ تھا، اور عدالتیں خود اسے ناکافی قرار دے چکی ہیں۔ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے حال ہی میں کہا تھا کہ اس پرانے قانون کے تحت کوئی بھی شخص کسی جانور کو تشدد کا نشانہ بنا کر، پیٹ کر یا مار کر صرف دس سے پچاس روپے کا جرمانہ ادا کر سکتا ہے، اور یہ سزائیں اتنی کمزور ہیں کہ ان میں ظلم کو روکنے کی کوئی طاقت ہی نہیں۔ نئے قانون میں سزا سخت کر دی گئی، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پولیس ہر جانور پر ہونے والے ظلم کے معاملے میں یکساں طور پر متحرک ہوتی ہے؟ یا پھر یہ حرکت صرف اسی وقت ہوتی ہے جب کوئی ویڈیو وائرل ہو جائے اور معاملہ سوشل میڈیا کی زد میں آ جائے؟
اصل کہانی یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ جھانسی کے اس واقعے کو اگر تنہا دیکھا جائے تو یہ ایک جانور پر ظلم کا مقدمہ ہے۔ لیکن اسے اتر پردیش کے وسیع تر تناظر میں رکھ کر دیکھیں تو پوری تصویر بدل جاتی ہے۔ یہ وہی ریاست ہے جہاں سال 2020ء سے اب تک گائے کی اسمگلنگ کے الزام میں پولیس نے تقریباً ساڑھے چھ سو افراد کو گولی مار کر زخمی کیا ہے۔ خبر رساں ادارے "ایسوسی ایٹڈ پریس” کی ایک تفصیلی تفتیش کے مطابق، "سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ” نے اتر پردیش پولیس کے ایسے تقریباً 650 واقعات کا ریکارڈ اکٹھا کیا ہے جن میں گائے کی اسمگلنگ کے مشتبہ افراد کو سال 2020ء سے اب تک گولی مار کر زخمی کیا گیا۔ اے پی نے ان میں سے دو سو سے زیادہ کیسز کا خود جائزہ لیا اور یہ پایا کہ تقریباً ہر واقعے میں گولی ٹانگ کے نچلے حصے میں ماری گئی، جو اکثر گھٹنے کے نیچے ہوتی ہے۔ مقامی سطح پر اس انداز کو "آپریشن لنگڑا” کہا جاتا ہے۔ ماہرِ طبِ قانون ڈاکٹر محمد کلیم خان کا کہنا ہے کہ بھاگتے ہوئے کسی شخص کی پنڈلی سے گولی کا افقی انداز میں گزرنا اور ہڈی کو نہ چھونا "انتہائی غیر معمولی” بات ہے، خاص طور پر ایک خاص فاصلے سے؛ اس طرح کے زخم قریب سے جان بوجھ کر ماری گئی گولیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان تمام زخمیوں میں نوے فیصد سے زیادہ مسلمان تھے۔
دوسری طرف پولیس کا مؤقف یہ ہے کہ وہ جوابی کارروائی "دفاعِ خود” کے تحت کرتی ہے۔ سینئر پولیس افسر امیتابھ یش نے اے پی کو بتایا کہ ٹانگ میں گولی مارنے کا کوئی تحریری یا زبانی حکم نہیں ہے، اور اگر مناسب شکایت موصول ہوئی تو اس پیٹرن کی جانچ کی جائے گی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ زخمی ہونے والے مشتبہ افراد میں مسلمانوں کی کثیر تعداد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مویشیوں کی تجارت پر ان کا غلبہ ہے۔ لیکن یہ دلیل خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے: اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی ایک مخصوص برادری کو پہلے سے ہی "زیادہ مجرم” سمجھنے لگیں، تو پھر پولیس کی تمام تر کارروائیوں کا اسی برادری پر مرکوز ہو جانا کوئی انہونی بات نہیں رہتی۔
یہی دہرا معیار انکاؤنٹر کلنگز میں بھی صاف نظر آتا ہے۔ "ساؤتھ ایشیا جسٹس کیمپین” کی ایک رپورٹ کے مطابق، سال 2025ء میں پورے بھارت میں کم از کم پچاس مسلمانوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، جن میں سے تئیس افراد براہِ راست ریاستی کارندوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ صرف اتر پردیش میں سال 2025ء کے دوران کم از کم چھ مسلمان پولیس انکاؤنٹرز میں جان سے گئے، جبکہ درجنوں افراد کو مبینہ "ادھورے انکاؤنٹرز” کے ذریعے معذور کر دیا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، مارچ 2025ء تک یوگی آدتیہ ناتھ کے دورِ حکومت میں انکاؤنٹرز کے دوران مجموعی طور پر 222 افراد ہلاک اور 8,118 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ دریں اثنا، اے پی کی رپورٹ بتاتی ہے کہ سال 2017ء سے 2025ء کے درمیان 316 مشتبہ افراد انکاؤنٹرز میں مارے گئے، جن میں سے 110 افراد—یعنی تقریباً ایک تہائی—مسلمان تھے، جبکہ ریاست کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب محض پانچواں حصہ ہے۔
اس کے علاوہ بلڈوزر کی کارروائیوں کا معاملہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ اتر پردیش میں "بلڈوزر جسٹس” کا ایک ایسا انوکھا طریقہ کار رائج کیا گیا ہے جس کے تحت کسی بھی مسلمان پر الزام عائد ہوتے ہی اس کے گھر اور جائیداد کو بھاری مشینری کے ذریعے مسمار کر دیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے یکم اپریل 2025ء کو پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو سخت حکم دیا کہ وہ ایسے چھ افراد کو فی کس دس دس لاکھ روپے معاوضہ ادا کرے جن کے گھر غیر قانونی طریقے سے گرائے گئے تھے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ "یہ مقدمات ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں”، اور اس بات پر زور دیا کہ پناہ یا سر چھپانے کا حق آئین کے آرٹیکل 21 کا بنیادی حصہ ہے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ انہدام کا نوٹس صرف مکان کی دیوار پر چسپاں کر دیا گیا تھا، نہ تو اسے ذاتی طور پر کسی کے حوالے کیا گیا اور نہ ہی رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعے بھیجا گیا تھا۔ معزز جج نے سخت الفاظ میں کہا کہ "نوٹس دیوار پر چسپاں کرنے کا یہ کاروبار اب بند ہونا چاہیے”۔ تاہم، سپریم کورٹ کی ان سخت ہدایات کے باوجود ریاستی مشینری کی رفتار پر کوئی خاص فرق نہیں پڑا ہے۔ "جماعت اسلامی ہند” کے ایک جاری کردہ بیان کے مطابق، بلڈوزر اب ترقی کی علامت کی بجائے "اجتماعی سزا اور سیاسی انتقام کا ایک طاقتور ہتھیار” بن چکے ہیں، جنہیں قانون کے دائرے سے باہر رہ کر لوگوں میں خوف پھیلانے اور ان کے آشیاں اجاڑنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اب ان تمام تلخ حقائق کے درمیان جھانسی کے اس چوہے والے واقعے کو رکھ کر دیکھیں۔ یہاں پولیس نے ویڈیو وائرل ہوتے ہی تین نوجوانوں کو حراست میں لے لیا اور میڈیا کے سامنے باقاعدہ پریس کانفرنس کر کے اپنی کارروائی کا ڈھنڈورا پیٹا۔ یہی پولیس جب گائے کی اسمگلنگ کے نام پر کسی مسلمان کی ٹانگ توڑتی ہے تو کہتی ہے کہ یہ "دفاعِ خود” تھا؛ جب کسی کو فرضی انکاؤنٹر میں موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے تو کہتی ہے کہ ملزم "فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا”؛ اور جب کسی مسلمان کا گھر زمین بوس کر دیا جاتا ہے تو اسے "قانونی کارروائی” کا نام دیا جاتا ہے۔ لیکن جب ایک چوہے کو جلایا جاتا ہے، تو پولیس کی سوئی ہوئی حسِ قانون کو اچانک یاد آ جاتا ہے کہ قانون کیا ہے، شواہد کی اہمیت کیا ہوتی ہے اور فوری گرفتاری کس بلا کا نام ہے۔
اسے محض پولیس کی پیشہ ورانہ کارکردگی کہنا سراسر ناانصافی ہوگی۔ دراصل یہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ اتر پردیش میں ریاستی مشینری کسے اپنا "مجرم” سمجھتی ہے اور کسے باعزت "شہری” کا درجہ دیتی ہے۔ "انڈیا ہیٹ لیب” کی سال 2025ء کی رپورٹ کے مطابق، پورے ملک میں نفرت انگیز تقاریر کے 1,318 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے 98 فیصد یعنی 1,289 واقعات کا براہِ راست نشانہ مسلمان تھے۔ اس فہرست میں اتر پردیش سرِفہرست رہا جہاں نفرت آمیز تقاریر کے 266 واقعات سامنے آئے، یعنی اوسطاً ہر روز کم از کم ایک ایسا واقعہ پیش آیا۔ رپورٹ کے مطابق، اس نوعیت کی 88 فیصد نفرت انگیز تقاریر ان ریاستوں میں ہوئیں جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے، اور خود وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے بیانات بھی اس فہرست کا حصہ ہیں۔ جب ریاستی سطح پر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو اس طرح مسلسل نشانہ بنایا جائے گا، تو پولیس کے لیے یہ فیصلہ کرنا انتہائی آسان ہو جاتا ہے کہ کس کے خلاف اٹھنے والا قدم "قانون کی پاسداری” ہے اور کس کے خلاف "نرمی” برتی جانی چاہیے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی اس دہرے معیار پر کڑی تنقید کی جا چکی ہے۔ "ایمنسٹی انٹرنیشنل” کی رپورٹ برائے سال 2025/26 میں صاف کہا گیا ہے کہ بھارت میں مذہبی اور نسلی اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے خلاف ظلم و ستم میں اضافہ ہوا ہے اور انھیں امتیازی قوانین کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسی طرح اقوام متحدہ کی "کمیٹی برائے خاتمۂ نسلی امتیاز” نے بھی اس صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، بالخصوص روہنگیا اور بنگالی زبان بولنے والے مسلمانوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی امتیازی کارروائیوں میں اضافے پر۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس طرح کی بین الاقوامی رپورٹس اور بیانات بھی ریاستی مشینری کا رویہ تبدیل کرنے میں ناکام رہتے ہیں، کیونکہ جب تک مقامی سطح پر پولیس کی جوابدہی کا کوئی مؤثر نظام قائم نہ ہو، اس نوعیت کی تمام مذمتی قراردادیں محض کاغذی کارروائی بن کر رہ جاتی ہیں۔
جھانسی کے ان چار نوجوانوں کا معاملہ اس بات کی زندہ مثال ہے کہ اتر پردیش میں انصاف کا ترازو کس طرف جھکا ہوا ہے۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب کسی مسلمان کو اتنی معمولی بات پر قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ہو۔ اس سے قبل سال 2023ء میں نوئیڈا پولیس نے زین العابدین نامی ایک 23 سالہ نوجوان کو محض اس الزام میں گرفتار کر لیا تھا کہ اس کی موٹر سائیکل کے نیچے آنے سے مبینہ طور پر ایک چوہا مر گیا تھا۔ بعد ازاں، پولیس کمشنر لکشمی سنگھ نے اس گرفتاری کو متنازع قرار دیتے ہوئے محکمہ جاتی تحقیقات کا حکم دیا اور یہ واضح کیا کہ چوہے کی اس ویڈیو کا اس نوجوان کی گرفتاری سے کوئی تعلق نہیں تھا، بلکہ وہ کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب تھا۔ لیکن اس سارے واقعے سے جو پیغام عام ہوا وہ یہی تھا کہ کسی بھی مسلمان کو دبوچنے کے لیے بس ایک ویڈیو، ایک بے بنیاد الزام یا معمولی سا شبہ ہی کافی ہے۔
یہ تحریر کسی بھی جانور پر ہونے والے ظلم کی ہرگز تائید یا حمایت میں نہیں۔ کسی بھی جاندار کو تکلیف دینا یا جلانا ایک غلط فعل ہے، اور قانون کے مطابق اس کی سزا ملنی چاہیے۔ مگر سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اسی ریاست میں جب مسلمانوں کو گولیاں ماری جاتی ہیں، ان کے گھر بلڈوزر سے موند دیے جاتے ہیں اور انھیں فرضی مقابلوں میں مار ڈالا جاتا ہے، تو کیا وہاں بھی یہی قانون، یہی سخت دفعات اور یہی برق رفتاری نظر آتی ہے؟ اس کا واضح جواب "نہیں” میں ہے۔ یہی وہ دہرا معیار ہے جس پر آج عالمی سطح پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں، اور یہی وہ تلخ حقیقت ہے جسے جھانسی کے اس واقعے نے ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ ایک چوہے کی ہلاکت پر پولیس کی یہ طوفانی دوڑ اور ایک بے گناہ انسان کی موت پر ریاستی خاموشی؛ یہی وہ "تاریخی کارنامہ” ہے جس پر یوپی پولیس فخر محسوس کرتی ہے، اور یہی اس بات کا کھلا اعتراف ہے کہ ہمارے ریاستی ادارے اپنے تمام شہریوں کے لیے یکساں انصاف فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے