جیل کے تالے ٹوٹیں گے، اعظم خان چھوٹیں گے

جیل کے تالے ٹوٹیں گے،اعظم خان چھوٹیں گے

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

 

ملک کے اندر جہاں مودی جی کے لیے ’چھپنّ انچ کا چھوٹا بندر، بال نریندر بال نریندر ‘ جیسے نعرے گھڑے جارہے ہیں ۔ یوگی جی کو ’چھوٹا فانٹا ‘ کے لقب سے نوازہ جارہا ہے ایک رہنما ایسا بھی ہے جس کی رہائی کے لیے لوگ سڑکوں پر اتر کر احتجاج کررہے ہیں اور نعرے بلند کررہے ہیں ’جیل کے تالے ٹوٹیں گے، اعظم خان چھوٹیں گے ‘۔ یہ وہی اعظم خان ہیں جن سے سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے گزشتہ جمعرات کو رامپور کی ڈسٹرکٹ جیل میں جاکر ملاقات کی تھی۔ پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق کابینی وزیر محمد اعظم خان کے ساتھ طویل ملاقات کے بعد اکھلیش یادو نے کہا تھا ”اعظم خان، اعظم تھے، اعظم ہیں اور اعظم ہی رہیں گے‘‘۔ اپنے اس خراجِ عقیدت کے بعد انہوں نے یہ اضافہ بھی کیا تھا کہ ’’ بی جے پی جب بھی اپنی ناانصافی کی تاریخ لکھے گی، تو اس میں رامپور کا نام سب سے اوپر آئے گا‘‘۔ اکھلیش یادو کے مطابق ’’ بدعنوان افسران اور فرضی مقدمات بی جے پی حکومت کے دو اہم ترین ہتھیار بن چکے ہیں۔“ فی الحال اترپردیش پر بھگوا چادر اوڑھ کر ایک ڈھونگی اعظم خان کے ساتھ دشمنی پر تلا ہوا ہے اور خود کو یوگی بھی کہتا پھرتا ہے حالانکہ سنت کبیر نے کہا تھا ؎
جات نہ پوچھو سادھو کی، پوچھ لیجیئے گیان
مول کرو تلوار کا، پڑا رہنے دو میان
سنت کبیر فرماتے ہیں کسی بزرگ، سادھو یا دانا شخص کی ذات پات یا خاندانی پس منظر جاننے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے بلکہ اصل چیز تو اس کا علم اور معرفت و روحانیت ہےمگر یوگی جی چونکہ نرے جاہل ہیں اس لیے ان پر آگے بیان کی جانے والی تشبیہ منطبق نہیں ہوتی۔کبیر کے مطابق جس طرح تلوار کی قدرو قیمت کا اندازہ اس کے میان سے نہیں بلکہ اس کی دھار سے کیا جاتا ہے اسی طرح انسان کی پہچان اس کی ذات یا رنگ و نسل سے نہیں بلکہ اس کے علم و کردار سے ہوتی ہے ۔ یوگی کی شخصیت چونکہ ان دونوں خصائل سے عاری ہے اس لیے وہ اپنے زعفرانی لباس اور زہریلی زبان سے اپنا رعب جھاڑتے پھرتے ہیں۔ اعظم خان جیسے پر وقار رہنماوں پر سرکاری جبر استبداد کا کوڑہ برسا کر اپنی مقبولیت بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اسی سیاسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اعظم خان پر ظلم و ستم کیا جاتا ہے مگریوگی کی تلوارِ بے نیام کی دھار اب کند ہوچکی ہے۔ اسی لیے وہ خود اپنے ہی پارٹی کےوزیر اعظم کی گود میں بیٹھے گیانیش کمار پر الزام لگاتے ہیں کہ ایس آئی آر کی مشق کے دوران ایک لاکھ ستائیس ہزار ہندووں کے ووٹ کاٹ دئیے گئے ۔
یوگی کو یہ خوش فہمی ہے کہ اسیّ فیصد ہندو کمل پر ٹھپہ لگاتے ہیں جبکہ بی جے پی چالیس فیصد ووٹ بھی نہیں ملتے۔ اس لیے یہ ایک لاکھ ستائیس ہزار ان ہندووں کے ووٹ ہوں گے جو بی جے پی کے دشمن ہیں۔خیر یہ بات یوگی کی سمجھ سے باہر ہے جبکہ خود گورکھپور میں ان کا امیدوار صرف ساڑھے تین سو ووٹ سے جیتا اور اگر اکھلیش نے سنجین ترپاٹھی کے بجائے کملیش یادو کو ٹکٹ دیا ہوتا تو وہ ۹؍ ہزار کے فرق سے ہار جاتا۔ اکھلیش یادو نے ہیلی کاپٹر کے ذریعہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کے ہیلی پیڈ پر اترکر بلا واسطہ یکجہتی کا ایک پیغام دیا۔ اس کے بعد وہاں سے وہ اعظم خان کے بڑے بیٹے ادیب اعظم کے ہمراہ سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان رام پور ڈسٹرکٹ جیل پہنچے۔جیل کے اندر دونوں رہنماوں نے تقریباً ایک گھنٹے تک تفصیلی بات چیت کی۔ اس کے بعد اکھلیش یادو نے اعظم خان کی رہائش گاہ جا کر ان کی اہلیہ اور سابق رکن پارلیمان ڈاکٹر تزئین فاطمہ سمیت دیگر اہلخانہ سے بھی ملاقات کی اور مشکل وقت میں پارٹی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کو نشانہ بنانا دراصل پسماندہ طبقات، دلتوں اور اقلیتوں (پی ڈی اے) سے تعلیم کا حق چھیننے کی سازش ہے۔ اکھلیش یادو کا کہنا تھا کہ بی جے پی کا علم و تعلیم سے کوئی واسطہ نہیں ہے اور وہ اس معاملے میں بالکل صفر ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتقامی سیاست کرنے والی بی جے پی کا عوام آئندہ انتخابات میں صفایا کر دے گی۔ اس حقیقت کو سنت کبیر نے اس طرح بیان کیا ہے کہ ؎
چلتی چکی دیکھ کر ، دِیا کبیرا روئے
دوئی پٹن کے بیچ میں ، ثابت بچا نہ کوئے
یعنی چکی کو چلتا دیکھ کر کبیر اس لیے روتا ہے کہ گردشِ ایام کے دو پاٹ سبھی کو پیس کر رکھ دیتے ہیں۔ اس سے کوئی نہیں بچ پاتا چاہے یوگی ہو یا مودی۔ اکھلیش یادو کے دورے اور بیانات پر حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے سخت ردعمل ظاہر کیا ۔ اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے اکھلیش یادو کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کی جانب سے دی گئی سزاؤں اور عدالتی فیصلوں کو ’سیاسی انتقام‘ یا ’ہراسانی‘ قرار دینا ملک کے عدالتی نظام اور آئین پر حملہ ہے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ جلد ہی یہ الفاظ خود ان کے منہ پر آپڑیں گے۔اس بیان کے بعد اعظم خان اور ان کے بیٹے کو الہ آباد ہائی کورٹ نے دوہرے پین کارڈ کیس میں ان کی سزاؤں کو معطل کر دیا ۔ رامپور کی ڈسٹرکٹ جیل میں اعظم خان نومبر 2025 سے قید تھے۔ اپنی رہائی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعظم خان نے کہا تھا کہ "کہنے کو کیا ہے… یہ مسلمان ہونے کی سزا ہے… غلطی یہ ہے کہ ایک مسلمان نے طلبہ کے لیے یونیورسٹی اور اسکول بنا دیا…” اس دوران انہوں نے اپنے حق میں نعرے لگانے والوں کا ہاتھ اٹھا کر شکریہ ادا کیا ۔اعظم خان کے اس تبصرے کے بارے میں پوچھے جانے پر اکھلیش یادو نے کہا کہ ان کی بات سچ ہے، اور لوگ بی جے پی سے انصاف کی امید نہ رکھیں ۔ دوسروں کے عیب ڈھونڈنے والی بی جے پی کی عکاسی تو کبیر کے اس دوہے میں ہے؎
برا جو دیکھن میں چلا ، بُرا نہ مِلیا کوئے
جو مَن کھوجا اپنا ، تو مُجھ سے بُرا نہ کوئے
عدالت کے اس فیصلے کو بسرو چشم تسلیم کرنے کے بجائے یوگی اور موریہ نے عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اعظم خان پر ای ڈی کو چھوڑ دیا۔ اتر پردیش پولیس نے اعظم خان اور ان متعلقین کے خلاف درج کی گئی 58 ایف آئی آرز کا نوٹس لیتے ہوئے انسدادِ منی لانڈرنگ قانون کے تحت پھر سے گرفتار کرلیا ۔ایجنسی کا الزام ہے کہ عوامی فلاح و بہبود کے کاموں کے لیے مختص سرکاری فنڈز کا رخ موڑ کر اس نجی یونیورسٹی کی تعمیر میں استعمال کیا گیا۔ اعظم خان نے ریاست کے شہری ترقی کے کابینہ وزیر اور اتر پردیش جل نگم کے چیئرمین کے طور پر اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کیا۔رام مندر کا چندہ چوری کروانے اور ان چوروں کو سزا سے بچانے کی کوشش کرنے والی یوگی سرکار نے اعظم خان کی محمد علی جوہر یونیورسٹی کی زمین اور عمارتوں کو یہ کہہ کرقرق کر لیا ہےکہ ان اثاثوں کی موجودہ مارکیٹ ویلیو 1,170 کروڑ روپے ہے۔ رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے تو جولائی میں یونیورسٹی کیمپس کے اندر 38 عمارتوں کو مسمار کرنے کا حکم بھی دےدیا تھا لیکن چونکہ اس کے خلاف یونیورسٹی نے اپیل دائر کردی اس لیے یہ کارروائی رکی ہوئی ہے۔
اعظم کے خلاف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے جیل سے باہر آتے ہی منی لانڈرنگ کے ایک کیس میں گرفتار کر کے اگلے روز غازی آباد میں منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (پی ایم ایل اے) کی خصوصی عدالت میں پیش کرکے تفتیش کے لیے ریمانڈ کی استدعا کردی۔ان کی حمایت میں رامپور کے اندر جو پوسٹر لگائے گئےان پر لکھا تھا— "جیل کے تالے ٹوٹیں گے، اعظم خان چھوٹیں گے”۔ اتنا ہی نہیں، حکومت آنے پر اعظم خان پر ہونے والے ایک ایک ظلم کا حساب لینے کا عہد بھی کیا گیا تھا۔ ان سے یوگی سرکار اتنی ڈر گئی کہ اس نے پولیس اور انتظامیہ کی مدد سے ان ہورڈنگز کو ہٹوا دیا۔ اعظم خان نے پیر کے روز سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کرکے اس نئے مقدمے میں ای ڈی کی جانب سے کی گئی اپنی گرفتاری کو چیلنج کردیا۔ جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جویمالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بینچ نے اعظم خان کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نظام پاشا کے دلائل سنےاس درخواست پر اس ہفتے کے آخر میں سماعت کا عندیہ دیا۔ فی الحال اترپردیش کے اندر تبدیلیٔ اقتدار کی بیار چل رہی ہے اور ایسے میں جب یہ نعرہ لگتا ہے کہ ’ہم اس لہوکا خراج لیں گے‘‘ تو سرکار تھر تھر کانپنے لگتی ہے ۔اس لیے کہ یہ جانتے ہیں؎
ماٹی کہے کُمہار سے ، تُو کیا روندھے موئے
اِک دِن ایسا ہو وے گا ، میں روندھوں گی توئے

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے