دہلی کے جنتر منتر سے اٹھنے والی طلبہ و نوجوانوں کی آواز ابھی اربابِ اقتدار کے ایوانوں میں پوری طرح مدغم بھی نہیں ہوئی تھی کہ جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی سے احتجاج کی ایک نئی صدائے بازگشت سنائی دینے لگی۔ یہ محض دو شہروں کے احتجاج کا باہمی ربط نہیں، بلکہ ملک کے تعلیمی، امتحانی اور سرکاری بھرتی کے نظام میں پیدا ہونے والی اس تشویش ناک صورتِ حال کا مظہر ہے جس نے کروڑوں نوجوانوں کے مستقبل کو اضطراب اور بے یقینی کے حصار میں لے رکھا ہے۔ دہلی میں NEET امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے خلاف طلبہ نے جنتر منتر کا رخ کیا تھا، جبکہ رانچی میں JPSC اور JSSC کے امیدوار امتحانات میں مبینہ بے قاعدگیوں، بھرتی کے عمل میں تاخیر اور شفافیت کے فقدان کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ دونوں تحریکوں کے مطالبات کی نوعیت اگرچہ مختلف ہے، مگر ان کے پس پشت موجود اضطراب ایک ہی ہے: نوجوان اپنے مستقبل کے ساتھ کسی قسم کی چشم پوشی قبول کرنے کے لئے آمادہ نہیں۔ دہلی اور رانچی کے احتجاج میں ایک بنیادی فرق بہرحال نمایاں ہے۔ دہلی کی تحریک کا تعلق ایک قومی سطح کے امتحانی بحران سے تھا اور اس کا مخاطب مرکزی حکومت و متعلقہ قومی امتحانی ادارے تھے، جبکہ رانچی کا احتجاج بنیادی طور پر ریاستی سطح کے سرکاری امتحانات اور بھرتی کے عمل سے متعلق ہے۔ دہلی میں طلبہ کی آواز پورے ملک کے تعلیمی نظام میں اصلاح کا مطالبہ بن کر ابھری، جب کہ رانچی میں نوجوان اپنے صوبے کے امتحانی و تقرری نظام کی مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف برسرِ احتجاج ہیں۔ اسی طرح دونوں احتجاج کے سیاسی پس منظر میں بھی فرق ہے۔ دہلی میں مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج کو قومی سیاست کے تناظر میں دیکھا گیا، جبکہ رانچی میں ریاستی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان الزام تراشی نے تحریک کو ایک الگ سیاسی رنگ دے دیا ہے۔
جنتر منتر کی تحریک اس اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ اس نے ملک کے مختلف حصوں میں موجود طلبہ اور ملازمت کے متلاشی نوجوانوں کو یہ احساس دلایا کہ انفرادی شکایت کو اجتماعی آواز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ ایک ماہ تک جاری رہنے والی اس تحریک میں طلبہ نے امتحانی نظام کی اصلاح، شفافیت اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا مطالبہ کیا۔ مگر جب حکومتی سطح پر ان کے اضطراب کو خاطر خواہ اہمیت نہ ملی اور احتجاج کو طاقت کے استعمال سے منتشر کرنے کی کوشش کی گئی تو معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔ جنتر منتر پر پولیس کارروائی نے پہلے سے موجود بے اعتمادی کو مزید گہرا کیا اور یہ سوال پیدا کیا کہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوال کرنے والے نوجوانوں سے مکالمہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ رانچی میں صورتِ حال قدرے مختلف تھی۔ یہاں JPSC اور JSSC کے امیدوار تقریباً دو ہفتوں سے احتجاج کر رہے تھے اور ریاستی حکومت کے ساتھ گفت و شنید بھی جاری تھی۔ حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ طلبہ کے تقریباً 98 فیصد مطالبات تسلیم کئے جا چکے ہیں اور صرف سی بی آئی تحقیقات کے معاملے پر تعطل برقرار ہے۔ بظاہر یہ صورتِ حال ایسی تھی جس میں مذاکرات کے ذریعے اختلافات کو کم کیا جا سکتا تھا، مگر پیر کے روز احتجاجی طلبہ نے اسمبلی مارچ کا اعلان کر دیا اور ہزاروں نوجوان اسمبلی کی سمت بڑھنے لگے۔ انتظامیہ نے شاہراہوں پر بیریکیڈ قائم کئے اور مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی۔ احتجاجی نوجوانوں نے جب رکاوٹوں کو عبور کرنے کی کوشش کی تو پہلے واٹر کینن کا استعمال کیا گیا اور بعد ازاں لاٹھی چارج کیا گیا۔ یوں ایک طویل عرصے سے جاری نسبتاً پرامن احتجاج اچانک تصادم کی صورت اختیار کر گیا۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں دہلی اور رانچی کے احتجاج کے درمیان ایک نمایاں فرق سامنے آتا ہے۔ دہلی میں طویل احتجاج کے بعد مرکزی حکومت اور مظاہرین کے درمیان کشمکش نے شدت اختیار کی جبکہ رانچی میں ریاستی حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رہنے کے باوجود اسمبلی مارچ نے صورتِ حال کو تصادم کی طرف دھکیل دیا۔
یہ سوال بہرحال اپنی جگہ موجود ہے کہ جب ریاستی حکومت کا دعویٰ تھا کہ طلبہ کے بیشتر مطالبات تسلیم کئے جا چکے ہیں تو پھر احتجاج اسمبلی مارچ تک کیوں پہنچا؟ کیا احتجاجی نوجوانوں کو حکومتی یقین دہانیوں پر اعتماد نہیں تھا؟ کیا انہیں خدشہ تھا کہ مذاکرات کے ذریعے ملنے والے وعدے عملی فیصلوں میں تبدیل نہیں ہوں گے؟ یا پھر احتجاج کی صفوں میں ایسے عناصر داخل ہو گئے تھے جنہوں نے تحریک کو زیادہ جارحانہ رخ اختیار کرنے پر آمادہ کیا؟ ان سوالات کا جواب قیاس آرائیوں سے نہیں بلکہ غیر جانب دارانہ تحقیقات سے سامنے آنا چاہئے۔ رانچی کے احتجاج کو سیاسی رنگ دینے کے الزامات بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہیں۔ ریاستی حکومت کے بعض ذمہ داران کی جانب سے بھارتیہ جنتا پارٹی پر احتجاج کو ہائی جیک کرنے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ دیگر ریاستوں سے لوگوں کو احتجاج میں شامل کرکے حالات کو کشیدہ کیا گیا۔ کانگریس کے سینئر رہنما پون کھیڑا نے بھی بی جے پی یوا مورچہ کے کارکنوں کی شرکت کا الزام لگایا ہے۔ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ نہایت سنگین معاملہ ہے، لیکن اگر ان میں سیاسی مبالغہ آرائی شامل ہے تو وہ بھی قابلِ مذمت ہے۔ حقیقت تک پہنچنے کا واحد راستہ شفاف تحقیقات ہے۔
یہاں بی جے پی کا کردار بھی زیرِ بحث آنا فطری ہے۔ ایک اپوزیشن جماعت کی حیثیت سے ریاستی حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھانا اس کا سیاسی حق ہے، لیکن طلبہ کے حقیقی مطالبات کو محض حکومت مخالف سیاسی مہم کا وسیلہ بنانا کسی بھی جمہوری روایت کے لئے سودمند نہیں۔ اگر بی جے پی طلبہ کے مطالبات کی حمایت کر رہی ہے تو اسے یہ حمایت امتحانی شفافیت، میرٹ اور بروقت بھرتی تک محدود رکھنی چاہئے۔ احتجاج کو انتخابی سیاست کا میدان بنانے سے سب سے زیادہ نقصان خود ان نوجوانوں کو ہوگا جن کے مستقبل کا مسئلہ اس تحریک کی بنیاد ہے۔ دوسری جانب ہیمنت سورین حکومت کی ذمہ داری اس سے کہیں زیادہ ہے، کیونکہ اقتدار کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں ہے۔ اپوزیشن کے الزامات کا جواب دینا اپنی جگہ، مگر حکومت کے پاس مسئلے کا عملی حل نکالنے کے تمام انتظامی ذرائع موجود ہیں۔ اگر 98 فیصد مطالبات تسلیم کئے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے تو باقی مطالبات پر بھی سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے راستہ نکالا جانا چاہئے۔ بالخصوص سی بی آئی تحقیقات کے مطالبے کو محض سیاسی ضد سمجھ کر مسترد کرنے کے بجائے اس کے قانونی اور انتظامی پہلوؤں کو عوام کے سامنے واضح کرنا چاہئے۔
یہ امر بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ ایک نوجوان کے لئے مسابقتی امتحان محض ایک امتحان نہیں ہوتا۔ وہ برسوں اپنی تعلیم، وقت، توانائی اور مالی وسائل صرف کرتا ہے۔ اس کے اہل خانہ بھی اس کی کامیابی سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں۔ جب امتحان میں مبینہ بے ضابطگی سامنے آتی ہے، نتیجہ متنازع ہو جاتا ہے یا بھرتی کا عمل برسوں تک التوا میں پڑا رہتا ہے تو اس کا اثر صرف ایک امیدوار پر نہیں پڑتا بلکہ پورا خاندان اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسی لئے امتحانی بے ضابطگی کو معمولی انتظامی لغزش سمجھنا نوجوان نسل کے احساسات سے ناواقفیت کی علامت ہے۔ ہندوستان میں سرکاری ملازمتوں کے محدود مواقع پہلے ہی نوجوانوں کے لئے شدید مسابقت پیدا کر چکے ہیں۔ ایسے میں اگر امتحانی نظام بھی ناقابلِ اعتماد محسوس ہونے لگے تو نوجوانوں کے اندر بے یقینی بڑھنا ناگزیر ہے۔ پیپر لیک، امتحانات کی منسوخی، نتائج میں تاخیر، بھرتیوں کا التوا اور قانونی تنازعات جیسے مسائل نے ایک ایسے طبقے کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے جو اپنی زندگی کے قیمتی سال سرکاری ملازمت کی تیاری میں صرف کرتا ہے۔ حکومتوں کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ نوجوانوں کا صبر لامحدود نہیں۔ راہل گاندھی کی جانب سے طلبہ کے ساتھ کھڑے ہونے اور حکومت کو نوجوانوں سے بات چیت کا مشورہ بھی اسی پس منظر میں دیکھا جانا چاہئے۔ اگر یہ محض سیاسی بیان نہیں بلکہ حقیقی اصلاحات کی جانب پیش قدمی کا ذریعہ بنتا ہے تو یقیناً قابلِ استقبال ہوگا۔ لیکن ہندوستانی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ طلبہ اور نوجوانوں کے مسائل اکثر اقتدار اور اپوزیشن کی باہمی کشمکش میں محض سیاسی نعرے بن کر رہ جاتے ہیں۔ حکومت بدل جاتی ہے، سیاسی جماعتیں تبدیل ہو جاتی ہیں، مگر امتحانی نظام کی بنیادی خامیاں اپنی جگہ برقرار رہتی ہیں۔ اس لئے رانچی کے احتجاج کو بی جے پی بمقابلہ کانگریس کی جنگ بنا دینا اصل مسئلے سے انحراف ہوگا۔ نہ ہی اسے محض قانون و نظم کا مسئلہ قرار دینا مناسب ہے۔ یہ بنیادی طور پر نوجوانوں کے مستقبل، امتحانی شفافیت اور سرکاری بھرتی کے نظام پر اعتماد کا سوال ہے۔ سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ الزام تراشی سے آگے بڑھ کر مشترکہ طور پر ایسی اصلاحات کی حمایت کریں جو امتحانی نظام کو محفوظ، شفاف اور قابلِ اعتماد بنائیں۔ طلبہ اور نوجوانوں کی بھی ذمہ داری کم نہیں۔ احتجاج ان کا جمہوری حق ہے، لیکن اس حق کے استعمال میں نظم و ضبط اور پرامن طرزِ عمل کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہئے۔ کسی بھی قسم کا تشدد، سرکاری املاک کو نقصان یا انتظامیہ سے غیر ضروری تصادم ان کے جائز مطالبات کو کمزور کرتا ہے۔ اگر احتجاج کے دوران سیاسی عناصر شامل ہو جائیں تو طلبہ کو بھی یہ دیکھنا چاہئے کہ کہیں ان کے نام اور مسائل کو کسی جماعت کے سیاسی مفاد کے لئے استعمال تو نہیں کیا جا رہا۔ دہلی اور رانچی دونوں ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ نوجوانوں کے مسائل اب خاموشی سے نظر انداز نہیں کئے جا سکتے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ دہلی میں قومی سطح کے امتحانی بحران کے خلاف آواز اٹھی، جبکہ رانچی میں ریاستی امتحانات اور بھرتی کے نظام کے خلاف اضطراب سڑک پر آیا۔ لیکن دونوں تحریکوں کے درمیان جو مشترک رشتہ ہے وہ نوجوانوں کا اپنے مستقبل کے بارے میں بڑھتا ہوا تشویش ناک احساس ہے۔ یہی احساس اگر مسلسل نظر انداز کیا گیا تو آنے والے دنوں میں ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج کی نئی لہریں پیدا ہو سکتی ہیں۔
حکومتوں کے لئے اب اصل آزمائش یہی ہے کہ وہ احتجاج کو طاقت سے دبانے کے بجائے اس کے اسباب کو ختم کریں۔ بیریکیڈ ہٹائے جا سکتے ہیں، سڑکیں خالی کرائی جا سکتی ہیں اور احتجاجی مقامات کو پولیس کے ذریعے قابو میں کیا جا سکتا ہے، لیکن نوجوانوں کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کو لاٹھی چارج سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ان سوالات کا جواب صرف شفاف نظام، بروقت فیصلوں اور قابلِ اعتماد انتظامی اصلاحات سے دیا جا سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں مل کر امتحانی و بھرتی کے نظام کی ہمہ گیر تطہیر کریں۔ امتحانات کی رازداری، سوالیہ پرچوں کی حفاظت، نتائج کی شفافیت، شکایات کے فوری ازالے، بھرتی کے مقررہ اوقات اور تقرریوں کی بروقت تکمیل کے لئے واضح ضابطے بنائے جائیں۔ اگر کسی امتحان میں بے ضابطگی کی شکایت سامنے آتی ہے تو اس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات مقررہ مدت میں مکمل کی جائیں تاکہ لاکھوں امیدواروں کو غیر یقینی کی اذیت سے نہ گزرنا پڑے۔ جنتر منتر سے رانچی تک کا سفر دراصل ہندوستانی نوجوان کے اضطراب کا سفر ہے۔ دہلی میں قومی امتحانی نظام پر سوال اٹھا، رانچی میں ریاستی بھرتی کے نظام پر انگلی اٹھی، مگر دونوں مقامات سے ایک ہی صدا بلند ہوئی کہ نوجوان اپنے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ برداشت نہیں کرے گا۔ یہ صدا کسی ایک سیاسی جماعت کے خلاف نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام سے جواب طلبی ہے جس پر نوجوان اپنی زندگی کے خواب استوار کرتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اربابِ اقتدار اس آواز کو سیاسی شور سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں یا اسے اصلاحِ نظام کا سنہری موقع تصور کرتے ہیں۔ اگر دہلی کے بعد رانچی کو بھی محض ایک وقتی احتجاج سمجھ کر فائلوں میں دفن کر دیا گیا تو شاید مسئلہ حل نہ ہو، صرف مقام تبدیل ہوگا۔ لیکن اگر حکومتوں نے نوجوانوں کے اضطراب کو سنجیدگی سے سمجھا، سیاسی جماعتوں نے اپنے مفادات سے بلند ہو کر اصلاحات کی حمایت کی اور طلبہ نے اپنے احتجاج کی پرامن شناخت برقرار رکھی تو یہی احتجاج ایک ایسے شفاف اور قابلِ اعتماد تعلیمی و بھرتی نظام کی بنیاد بن سکتا ہے جس کا خواب ملک کا ہر نوجوان دیکھتا ہے۔
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com