للن پاٹل نے کلن پوار سے کہا یار کمل والوں نے تو لاڈلی بہن کا بھی دل توڑ دیا ۔
آج کل پردھان جی روپیہ بچانے پر تلے ہوئے ہیں کہیں اس کے تحت لاڈلی بہن والی اسکیم بند تو نہیں کردی؟
پوری طرح بند تو نہیں کی مگر میری دو بہنوں کو دھتکار دیا۔
تیری بہنیں اوران کے خاوند تو سرکاری ملازم ہیں ۔ وہ اس اسکیم سے استفادہ کیسے کرنے لگیں ؟
ارے بھیا مہنگائی کے اس زمانے میں خرچ بھی تو بہت بڑھ گیا ہے۔ ایسے میں سرکاری ملازمین بھی مسکینوں کی فہرست میں آتے ہیں۔
لیکن بھائی یہ پندرہ سو روپئے کی مدد تو ڈھائی لاکھ سالانہ سے کم آمدنی والوں کے لیے تھی۔ اب ایسی کون سی درکاری ملازمت ہے کہ جس میں ۰۰۰
اب زیادہ حساب کتاب مت کرو ۔ سالانہ ڈھائی لاکھ میں کیسے گزر بسر ہوگا ؟ کچھ بھی بولتے ہو ؟؟
نہیں ہوسکتا اسی لیے تو سرکارسالانہ ایک لاکھ اسیّ ہزار کی مدد فراہم کرتی تھی ۔
تم تو ایسے کہہ رہے ہو کہ میں اکیلا ہی اس سے فائدہ اٹھا رہا تھا ۔ میرے بہن جیسی ۵؍ لاکھ سرکاری ملازمین اس سے استفادہ کررہی تھیں ۔
اچھا یہ بتا ہے تب تو ٹھیک ہی ہوا ۔ بہت موج کرلی اب صبر کرو۔
ارے ان عورتوں کے نام اپنی گاڑی تک تھی جبکہ میری بہن تو پیدل اپنے دفتر جاتی ہے۔
پیدل یا گاڑی سے کوئی فرق نہیں پڑتالیکن تیری بڑی بہن تو کب کی ریٹائرڈ ہوگئی۔ اس کو سرکاری وظیفہ ملتا ہوگا۔
جی ہاں لیکن اس کے بیٹے بیروزگار ہیں۔ سرکاری اسکول بند ہوگئے اس لیے پوتوں کو نجی اسکول میں پڑھانا پڑتا ہے۔ اب بتاو گھر کیسے چلے گا؟
ہاں یار یہ تو ہے مگر اس کا وظیفہ تو کم ہے اس لیے اسے لاڈلی بہن کے تحت امداد ملنی چاہیے۔
جی ہاں مگر اس میں عمر کی قید اکیس سے پینسٹھ ہے۔ اب تم ہی بتاو کہ پینسٹھ سال کے بعد ضرورت بڑھتی ہے یا کم ہوتی ہے۔
یار دیکھو بھوک تھوڑی بہت کم بھی ہوجاتی ہو توعلاج معالجہ کا خرچ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے وظیفہ کی رقم بڑھا دینی چاہیے ۔
یہی تو میں کہہ رہا ہوں مگر سرکار نے وظیفہ بند کردیا ۔ اب اسے کون سمجھانے کے لیے جائے کیا عمر دراز بہن لاڈلی نہیں ہوسکتی ؟
کلن بولا بھیا 14 ؍ سال کے بعد شبھیندو ادھیکاری گئو ماتا کو ذبح کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں تو بہن تو پھر بھی بہن ہے ۔
ہاں یار ان لوگوں کی منطق ہی الٹی ہے ۔ جب چاہا کسی ماں بہن بناکر مہر بان ہوگئے اور چاہا اس سے ہاتھ جھٹک لیا۔
کلن بولا لیکن ایک آئیڈیا ہے۔ تمہاری بہں اپنی نواسی کو اس اسکیم میں کیوں نہیں ڈال دیتی ؟
ارے بھیا اس کی عمر 20سال ہے اور اس سے استفادہ کے لیے 21؍ برس کا ہونا ضروری ہے۔
یار یہ غضب ہے۔ ووٹ تو 18سال میں لے لیتے ہیں مگر وظیفے کے لیے 21برس کی قید ؟ یہ کہاں کا انصاف ہے؟؟
للن بولا یار مجھے تو یہ ڈر ستا رہا ہے کہیں یہ لوگ ایک کروڈ پچیس لاکھ لوگوں سے وصولی کرنے نہ آجائیں ۔ تب تو لینے کے دینے پڑجائیں گے ۔
یار لینے کے دینے والی بات سمجھ میں نہیں آئی۔
میرا مطلب ہے جو سرکار نے دیا اس کو تو ہم نے کھاپی کر برابر کردیا۔اب واپس کہاں سے کریں گے؟
بھیا میں تو کہتا ہوں کہ سود اور جرمانہ سمیت واپس دینا چاہیے کیونکہ دھوکہ دے کر سرکاری خزانہ خالی کرنا ناقابلِ معافی جرم ہے۔
للن بولا بھیا میں تو تمہیں غریب پرور انسان سمجھتا تھا لیکن تم تو سنگدل سرمایہ داروں کے باپ نکلے ۔
اس میں سرمایہ دارانہ سنگدلی کہاں سے آگئی؟
کہاں سے آئی کیا مطلب؟ سرکار نے اربوں پتی سرمایہ داروں کا کئی لاکھ کروڈ قرض معاف کردیا اور ہم غریبوں سے سود سمیت وصولی شرم نہیں آتی؟
ارے بھیا میں تو یونہی کہہ رہا تھا تم برا مان گئے لیکن موجودہ سرکار کچھ بھی کرسکتی ہے۔ کیا سمجھے؟
جی ہاں کرتو سکتی ہے مگراس نے یہ کہا روپیہ واپس کرو تو ہم بھہ اپنا ووٹ واپس مانگ لیں گے کیا سمجھے ؟
اس میں ووٹ کہاں سے آگیا ؟ اور ووٹ بھی کہیں واپس ہوتا ہے؟؟
ووٹ سے سیدھا تعلق ہے ۔ دو سال قبل مہاراشٹر کے پارلیمانی انتخاب میں اوندھے منہ گرنے کے بعد اسمبلی انتخاب کے پیش نظر اسے لاگو کیا گیا ۔
تو کیا تمہارا مطلب ہے یہ رشوت تھی ؟ یار کچھ بھی بولتے ہو۔
بھائی رشوت نہیں تو کیا تھا۔ اپریل میں پارلیمانی انتخاب کے بعد اور اکتوبر میں ہونے والےجون میں اسمبلی الیکشن سے پہلے اسکیم کا نافذ ہونا کیا بتاتا ہے؟
ہاں لیکن ایک اسکیم کی مدد سے الیکشن پر کیا فرق پڑتا ہے؟
بہت فرق پڑتا ہے۔ مہاراشٹر کے اندر این آر آئی سمیت کل تقریباً3کروڈ79لاکھ 86 ہزار سے زیادہ خواتین رائے دہندگان ہیں۔
ہاں تو ہوں گی اس سے لاڈلی بہن یوجنا کا کیا تعلق؟
بالکل ہے اب دیکھو ووٹنگ کا تناسب 66.57% تھا ۔ اس طرح ووٹ دینے والی خواتین ارکان کی تعداد ڈھائی کروڈ سے کچھ زیادہ ہوتی ہے۔
ارے ہاں بھائی ہوتی ہوگی ۔ تم مجھے ان اعدادو شمار میں کیوں الجھا رہے ہو؟
بھیا سمجھتے کیوں نہیں کہ این ڈی اے کو48.2 % ووٹ ملے تو وہ سوا کروڈ بنتے ہیں اور اتنی ہی خواتین کو لاڈلی بہن اسکیم کا فائدہ پہنچایا گیا ۔ کیا سمجھے؟
یار تم نے تو اعدادو شمار کے کھیل میں پرنب رائے کو بھی دھوبی پچھاڑ دیا لیکن اب یہ کٹوتی کیوں ۔ اگلی بار ووٹ نہیں چاہیے کیا؟
بھیا الیکشن تو پانچ سال بعد ہیں نا؟ اس لیے اب دھوکہ دے رہے ہیں اس وقت کوئی نیا جال لے کر فریب دینے کے لیے آجائیں گے ۔
للن نے کہا یار مہاراشٹر اور مغربی بنگال میں تو بالکل الٹی منطق لگائی گئی۔
الٹی منطق میں نہیں سمجھا ۔ اس لیے کہ دونوں جگہ گیانیش کمار اور ان کے آقا تو وہی تھے پھر الٹی منطق کیسے لگ گئی۔
وہی تو میری سمجھ میں نہیں آرہی مہاراشٹر میں بلا تحقیق دو کروڈ لوگوں کو رقم جاری کرنے کے بعد پھر جستہ جستہ ان کے نام نکالے گئے۔
جی ہاں اور اس کام میں دوسال لگ گئے۔ اس بیچ وہ غیر مستحق لوگ سرکاری خزانے کو لوٹتے رہے۔
کلن بگڑ کر بولا اپنی زبان کو لگام دو ہم نے کوئی لوٹ مار نہیں کی سرکار خود میری بہن کے بنک کھاتے میں رقم منتقل کرتی رہی تو ہم کیا کریں ؟
ارے بھائی سوچنا چاہیے نا کہ یہ مہربانی کیوں کی جارہی ہے۔ یہ تو رام رام جپنا پرایا مال اپنا والی بات ہوگئی ۔
ہوئی تو ہوئی جب پورے ملک میں رام نام کی لوٹ مچی ہوئی ہے تو اس بہتی گنگا میں ہم انگلی دھو لی تو کون سا آسمان پھٹ گیا ۔
للن بولا جی ہاں یہ بات درست ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ہمارے رہنما بدعنوانی کے سمندر میں ڈبکی لگا رہے ہیں عوام نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔
وہی تو میں کہہ رہا ہوں لیکن تم مغربی بنگال کی منطق بتاتے بتاتے کہیں اور نکل گئے۔
جی ہاں ۔ وہاں پر شک کی بنیاد پر چھبیس لاکھ ووٹرس کو ان کے جائز حق سے محروم کردیا گیا ۔ یہ کتنی بڑی ناانصافی ہے۔
ہاں یار ایک بار انہیں ووٹ دینے دے دیا جاتا اور بعد میں اگر وہ غلط نکلتے تو منع کردیا جاتا ۔ جیسے مہاراشٹر میں لاڈلی بہن اسکیم میں کیا گیا۔
وہی تو نہیں ہوا ۔ وہ بیچارے اپنی حق تلفی کے خلاف عدالتِ عظمیٰ تک جا پہنچے ۔ خود سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ان کی پیروی کی ۔
اچھا یہ تو بہت بڑی ہے۔ اس کے بعد عدالت کا دل پگھلنا چاہیے تھا ۔
جی نہیں عدالت کے ججوں نے اپنی آنکھو ں پر پٹی باندھ کر آقاوں کے اشارے پر کہہ دیا کہ ’وہ اس بارنہ سہی اگلی بار ووٹ دیں گے‘
یار کمال کی بے حسی ہے۔ یہاں روپیہ بانٹنے میں تقسیم پہلے اور تفتیش بعد میں وہاں تحقیق پہلے ووٹ بعد میں ۰۰۰۰
یار اسی کو تو کہتے ہیں غضب تیری مایا غضب تیرے کھیل ۰۰۰۰چھچھوندر کے سر میں چمیلی کا تیل ۔
یار میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ اگر عدالت ووٹ دینے کی اجازت دے دیتی تو کیا فرق پڑتا ؟
بھائی عدالت تو سرکار کے اشارے پر کام کرتی ہے ۔ وہ اگر اپنے آقاوں کی نہ مانے تو ان کا مستقبل تاریک ہوجاتا۔
لیکن یہ بتاو کے سرکار نے غلط رویہ کیوں اختیار کیا؟
بھائی مہاراشٹر میں انتخاب جیتنے کے لیے اضافی ووٹ کی ضرورت تھی جو لاڈلی بہن کے نام پر سرکاری خزانے سے نوٹ بانٹ کر حاصل کرلیے ۔
اچھا اور مغربی بنگال میں کیا مسئلہ تھا؟
وہاں ترنمول کانگریس کے ووٹرس کو حق رائے دہندگی استعمال کرنے سے روکنا تھا ،جن علاقوں میں کم ووٹ سے ہار ہوئی تھی وہاں کی بساط الٹی جائے۔
یار تم تو بہت دور کی کوڑی لے آئے ۔ مجھے تو امیت شاہ کے چانکیہ ہونے میں شک ہونے لگا تھا لیکن اب میں مانتا ہوں کہ ۰۰۰۰۰۰۰
رک کیوں گئے ۔ یہ کہنے میں ڈر تو نہیں لگتا کہ ان سے بڑا تگڑم باز کوئی اور نہیں ہے؟