Breaking
ہفتہ. جون 6th, 2026

برکت الله یونیورسٹی کا نام کیوں بدلا جا رہا ہے؟

برکت الله یونیورسٹی کا نام کیوں بدلا جا رہا ہے؟

برکت الله یونیورسٹی کا نام کیوں بدلا جا رہا ہے؟

ازقلم: (حافظ)افتخاراحمدقادری

تاریخ کسی قوم کی اجتماعی یادداشت ہوتی ہے۔ قومیں اپنے محسنوں، مجاہدوں، مفکروں اور علمی شخصیات کو یاد رکھ کر اپنی تہذیبی شناخت کو محفوظ بناتی ہیں۔ جب کسی معاشرے میں تاریخ کو بدلنے، شخصیات کو فراموش کرنے یا قومی یادداشت کو نئے سانچوں میں ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کے اثرات محض چند ناموں کی تبدیلی تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری نسل کے فکری رجحانات، سماجی شعور اور قومی شناخت پر مرتب ہوتے ہیں۔ مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں واقع برکت الله یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کی تجویز بھی اسی تناظر میں دیکھی جارہی ہے جس نے سیاسی، سماجی اور تعلیمی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ برکت الله یونیورسٹی کا نام بدل کر "ماں گاؤ دیوی بھوجپال یونیورسٹی” رکھا جائے۔ ایگزیکٹیو کونسل نے اس تجویز کو متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے اور اب حتمی فیصلہ ریاستی حکومت کے ہاتھ میں ہے۔ بظاہر یہ ایک انتظامی معاملہ معلوم ہوتا ہے لیکن اس کے پس منظر، وقت اور نتائج کو دیکھا جائے تو یہ معاملہ صرف ایک ادارے کے نام کی تبدیلی کا نہیں بلکہ تاریخ، شناخت، سیاست اور سماجی ہم آہنگی سے جڑا ہوا مسئلہ بن جاتا ہے۔
مولانا برکت الله بھوپالی برصغیر کی آزادی کی جد وجہد کے ان روشن کرداروں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی غلامی کے خلاف مزاحمت میں گزار دی۔ وہ صرف ایک مذہبی عالم یا خطیب نہیں تھے بلکہ ایک بین الاقوامی سطح کے انقلابی رہنما، صحافی اور قوم پرست مفکر تھے۔ ان کی زندگی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ آزادی کی تحریک کسی ایک خطے، طبقے یا مذہب کی تحریک نہیں تھی بلکہ پورے ہندوستان کی مشترکہ جد وجہد تھی۔ برکت الله بھوپالی نے ایسے دور میں انگریز سامراج کو چیلنج کیا جب برطانوی اقتدار دنیا کی سب سے بڑی طاقت سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے ہندوستان کے اندر رہ کر ہی نہیں بلکہ بیرون ملک جا کر بھی آزادی کی تحریک کو منظم کیا۔ جاپان، امریکہ، جرمنی، ترکی اور افغانستان سمیت مختلف ممالک میں انہوں نے ہندوستان کی آزادی کے لیے سفارتی، فکری اور سیاسی محاذ پر جد وجہد کی۔ ان کی سب سے بڑی تاریخی شناخت 1915ء میں قائم ہونے والی ہندوستان کی پہلی جلاوطن حکومت کے وزیر اعظم کی حیثیت سے ہے۔ یہ وہ حکومت تھی جو کابل میں قائم کی گئی تھی اور جس کا مقصد ہندوستان کی آزادی کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنا تھا۔ اگر کسی شخصیت نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ بیرون ملک گزارا تو کیا اس کی خدمات کو کم تر سمجھ لیا جائے؟ کیا آزادی کی جنگ صرف وہی لوگ لڑ رہے تھے جو ہندوستان کے اندر موجود تھے؟ اگر ایسا ہوتا تو پھر راجہ مہندر پرتاپ، مولانا عبیداللہ سندھی، سبھاش چندر بوس اور متعدد دیگر انقلابی رہنماؤں کی قربانیوں کی بھی اہمیت کم ہو جاتی۔ حقیقت یہ ہے کہ آزادی کی تحریک ایک عالمی جد وجہد تھی اور اس میں بیرون ملک سرگرم انقلابیوں کا کردار کسی بھی طرح اندرون ملک جد وجہد کرنے والوں سے کم نہیں تھا۔
نام کی تبدیلی کے حق میں یہ دلیل دی جارہی ہے کہ برکت الله بھوپالی نے بھوپال کی ترقی یا شہر کی تعمیر میں براہ راست کوئی کردار ادا نہیں کیا جبکہ راجہ بھوج کا تعلق اس خطے کی تاریخی شناخت سے ہے۔ بظاہر یہ دلیل معقول معلوم ہوسکتی ہے لیکن کیا کسی یونیورسٹی کا نام صرف اس شخصیت کے نام پر ہونا چاہیے جس نے شہر کی تعمیر میں حصہ لیا ہو؟ اگر یہی معیار اختیار کیا جائے تو دنیا کی بے شمار یونیورسٹیوں، سڑکوں، اداروں اور یادگاروں کے نام تبدیل کرنے پڑیں گے جو قومی ہیروز، سائنس دانوں، ادیبوں اور آزادی کے مجاہدوں کے نام پر قائم ہیں۔ تعلیمی ادارے صرف جغرافیائی شناخت کی علامت نہیں ہوتے بلکہ وہ فکری اور نظریاتی ورثے کے بھی امین ہوتے ہیں۔ جب کسی یونیورسٹی کا نام ایک عظیم انقلابی رہنما کے نام پر رکھا جاتا ہے تو اس کا مقصد نئی نسل کو اس شخصیت کے افکار، قربانیوں اور قومی خدمات سے روشناس کرانا ہوتا ہے۔ برکت الله یونیورسٹی کا نام بھی اسی جذبے کے تحت رکھا گیا تھا تاکہ طلبہ جان سکیں کہ بھوپال کی سر زمین نے ایسے عظیم فرزند کو جنم دیا جس نے اپنی پوری زندگی وطن کی آزادی کے لیے وقف کر دی۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ملک میں گزشتہ چند برسوں سے ناموں کی تبدیلی کا ایک رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ مختلف شہروں، سڑکوں، ریلوے اسٹیشنوں اور اداروں کے نام تبدیل کیے جا چکے ہیں۔ ان تبدیلیوں کے حامی اسے تاریخی اصلاح قرار دیتے ہیں جبکہ ناقدین کے نزدیک یہ عمل تاریخ کو ایک مخصوص نظریے کے مطابق ازسرنو مرتب کرنے کی کوشش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برکت اللہ یونیورسٹی کے معاملے کو بھی محض ایک تعلیمی یا انتظامی فیصلہ نہیں سمجھا جا رہا بلکہ اسے وسیع تر سیاسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں اختلاف رائے کا حق موجود ہوتا ہے۔ حکومتیں پالیسیاں بناتی ہیں، فیصلے کرتی ہیں اور عوام ان فیصلوں پر سوال بھی اٹھاتے ہیں۔ لیکن جب تاریخ اور قومی شخصیات کا معاملہ ہو تو احتیاط اور توازن کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ تاریخ کو نظریاتی عینک سے دیکھنے کے بجائے حقائق کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر ہر دور کی حکومت اپنے سیاسی نظریات کے مطابق قومی یادگاروں اور اداروں کے نام تبدیل کرتی رہے تو آنے والی نسلوں کے لیے تاریخ کا اصل چہرہ دھندلا جائے گا۔ اس بحث کا ایک اہم پہلو سماجی ہم آہنگی بھی ہے۔ ہندوستان مختلف مذاہب، زبانوں، ثقافتوں اور تہذیبوں کا ملک ہے۔ اس کی خوبصورتی اسی تنوع میں پوشیدہ ہے۔ آزادی کی تحریک بھی اسی تنوع کی علامت تھی جس میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور دیگر تمام طبقات نے مل کر حصہ لیا۔ مولانا برکت الله جیسے رہنما اس مشترکہ ورثے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی شناخت صرف ایک مذہبی شخصیت کی نہیں بلکہ ایک ہندوستانی انقلابی کی ہے۔ اگر ایسے کرداروں کو قومی یادداشت سے آہستہ آہستہ دور کیا جائے تو اس سے مشترکہ تاریخ کا تصور کمزور پڑ سکتا ہے۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ راجہ بھوج ہندوستان کی تاریخ کی ایک اہم شخصیت ہیں۔ ان کی علمی، ثقافتی اور انتظامی خدمات مسلمہ ہیں۔ ان کے نام پر متعدد ادارے پہلے سے موجود ہیں اور ان کی تاریخی حیثیت اپنی جگہ برقرار ہے۔ لیکن کیا ایک عظیم تاریخی شخصیت کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے دوسری عظیم شخصیت کا نام مٹانا ضروری ہے؟ مہذب معاشرے اپنے تمام محسنوں کو ساتھ لے کر چلتے ہیں، ایک کو عزت دینے کے لیے دوسرے کو فراموش نہیں کرتے۔
طلبہ کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یونیورسٹیوں کا اصل مقصد تعلیم، تحقیق اور علمی ترقی ہے۔ ملک کے نوجوان روزگار، تحقیق، جدید تعلیم اور بہتر تعلیمی سہولیات کے خواہاں ہیں۔ ایسے وقت میں جب اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو متعدد چیلنجز درپیش ہیں، ناموں کی تبدیلی کا مسئلہ فطری طور پر عوامی بحث کا موضوع بن جاتا ہے۔ بہت سے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا تعلیمی معیار کی بہتری کے بجائے ناموں کی سیاست کو ترجیح دینا واقعی وقت کی ضرورت ہے؟
یہ حقیقت ہے کہ تاریخ کا احترام صرف کتابوں میں شخصیات کے تذکروں سے نہیں ہوتا بلکہ قومی اداروں، یادگاروں اور تعلیمی مراکز کے ذریعے بھی ہوتا ہے۔ جب کوئی نوجوان برکت اللہ یونیورسٹی میں داخلہ لیتا ہے تو وہ لاشعوری طور پر اس شخصیت کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتا ہے جس کے نام پر ادارہ قائم ہے۔ یہی عمل قومی شعور کو زندہ رکھنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اگر تاریخی شخصیات کے نام مسلسل تبدیل ہوتے رہیں تو نئی نسل کا تعلق اپنے ماضی سے کمزور ہو سکتا ہے۔ آج ہندوستان کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ تاریخی کشمکش نہیں بلکہ تاریخی مصالحت ہے۔ ہمیں ایسی تاریخ درکار ہے جو سب کو ساتھ لے کر چلے، جو قوم کے تمام محسنوں کو ان کا جائز مقام دے اور جو نئی نسل کو تقسیم کے بجائے اتحاد کا پیغام دے۔ برکت الله بھوپالی جیسے رہنما اسی مشترکہ ورثے کی علامت ہیں جن پر پورے ملک کو فخر ہونا چاہیے۔ حکومتوں کے فیصلے وقتی ہوتے ہیں لیکن تاریخ کے فیصلے دائمی ہوتے ہیں۔ سیاسی حالات بدلتے رہتے ہیں، اقتدار آتے جاتے رہتے ہیں، مگر قومیں اپنے ہیروز کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں۔ مولانا برکت الله بھوپالی کا نام ہندوستان کی آزادی کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جا چکا ہے۔ کوئی بھی انتظامی فیصلہ ان کی خدمات، قربانیوں اور قومی کردار کو کم نہیں کر سکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے پر جذبات کے بجائے سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ تاریخ کو سیاسی مفادات سے بالاتر رکھ کر دیکھا جائے اور ایسے فیصلے کیے جائیں جو قومی یکجہتی، سماجی ہم آہنگی اور تاریخی انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔ قومیں اپنی تاریخ سے طاقت حاصل کرتی ہیں اور جو قومیں اپنے محسنوں کو فراموش کر دیتی ہیں وہ اپنی شناخت کے ایک اہم حصے سے محروم ہو جاتی ہیں۔ برکت اللہ بھوپالی صرف ایک نام نہیں بلکہ ہندوستان کی آزادی، قومی خودداری اور مشترکہ تہذیبی ورثے کی ایک روشن علامت ہیں اور یہی حقیقت اس پوری بحث کا سب سے اہم پہلو ہے۔

کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،یوپی
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے