دبئی ہوائی حملہ اور معاہدۂ ابراہیمی
ازقلم ؛ ڈاکٹر سلیم خان
اسرائیلی وزیر اعظم اور عالمی عدالتِ انصاف کے ذریعہ مطلوبہ نسل کشی کے مجرم بینجمن نیتن یاہو کے سامنے ایک اور انتخاب منہ کھولے کھڑا ہے۔ اس الیکشن کے اندر ناکامی ان کو اہلیہ سمیت بدعنوانی کے الزام میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے لے جائے گی۔ اس لیے کسی بھی صورت الیکشن ہارنا نہیں چاہتے۔ بدقسمتی سے نیتن یاہو کے پاس کوئی گیانیش کمار نہیں ہے جو گھپلے بازی کرکے اسے انتخابی کامیابی سے ہمکنار کردے اس لیے وہ بہت پریشان ہے۔ انسانی تاریخ کی بدترین نسل کشی کے باوجود وہ غزہ کے اندر اپنے ناپاک مقاصد کے حصول میں ناکام رہے ہیں ۔ اپنی فوج کے بل بوتے پر یرغمالیوں کو چھڑانے کا اعلان کرنے والے مغرور کو اس حماس کے سامنے ناک رگڑ کر بیٹھنا پڑا جن کو وہ صفحۂ ہستی سے مٹا دینا چاہتا تھا۔ حماس کی قید سے جتنے یہودی چھڑائے گئے اس سے کئی گنا زیادہ قیدی نیتن یاہو کو رہا کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اس قیدیوں کے تبادلے میں بھی واضح فرق تھا ۔ حماس کی قید سے نکلنے والے قیدی ان کی پیشانی کا بوسہ لے رہے تھے اور ان کے حسنِ سلوک کی تعریف کررہے تھے اور اسرائیل کے قید سے نکلنے والے اس کی بدترین سفاکی کا منہ بولتا نمونہ تھے ۔ اس طرح ساری دنیا کے سامنے مجاہدین اسلام حسنِ اخلاق اور ظالموں کا کریہہ چہرا آگیا تھا ۔
اسرائیل کو امریکی حمایت کے سبب مشرق وسطیٰ کی ایک ناقابلِ شکست طاقت سمجھا جاتا تھا اس لیے دنیا کے ممالک کی ایک بہت بڑی تعداد اس کی قوت و جبروت سے مرعوب تھی مگر حالیہ جنگ کے اندر ایران نے اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجاکر دِکھا دیا کہ گریٹر اسرائیل تو دور جو کچھ ہے اس کے وجود پر سوالیہ نشان لگاہوا ہے۔ایسے میں نیتن یاہو نے سنگھ پریوار کے گھسے پٹے نعرے ’ہندو خطرے میں ہے‘ کو بدل کر ’ یہودی خطرے میں ہے‘ بناکر اچھال دیا۔ اسی لیے دبئی کی نوٹنکی کی گئی اور ا س کے ایک دن قبل نیتن یاہو نے حزب اختلاف رہنما لاپڈ کو بلا کر ان کے سامنے یہ خدشہ ظاہر کردیا تھا کہ ”اشارے‘‘ مل رہے ہیں، اسرائیل کے دشمن انتخابات سے قبل حملہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اس بے پرکی پر اپوزیشن رہنما نے ان پر ”خوف پھیلانے‘‘ کا الزام عائد کیا مگر مرتا کیا نہ کرتا کی مصداق نیتن یاہو نے دبئی فلائیٹ میں ناٹک کروا ہی دیا ۔ وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کے وزیر داخلہ نے تو اس پرانتخابی کامیابی حاصل کرنے والے بیانات دئیے مگر اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل نے اس کے پس پشت ”اسرائیلیوں، متحدہ عرب امارات اور ابراہیمی معاہدوں کے خلاف دہشت گردانہ حملے کی کوشش‘‘ کا سراغ لگالیا ۔
ان کے اس بیان سے ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 2020 میں تعلقات معمول پر لانے کے لیے جس معاہدے پر دستخط کیے تھے وہ اسے باقی رکھنا چاہتا ہے ۔اسرائیلی وزیر خارجہ کے مطابق انہوں نے مذکورہ بالا حملے کے بعد اپنے اماراتی ہم منصب سے بات کی اور ”سلامتی کو نقصان پہنچانے اور استحکام کو متاثر کرنے والے انتہا پسند عناصر کے خلاف تعاون‘‘ پر اتفاق کیا لیکن سچائی تو یہ ہے کہ اس معاہدے کو پامال کرنے کا کام خود اسرائیلی حکومت زور و شور کے ساتھ کرتی رہی ہے۔ ابراہیمی معاہدہ امریکہ کے اندر قصرِ ابیض کے اندر طے پایا تھا۔ اس وقت صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ”آج سہ پہر ہم یہاں تاریخ کا دھارا بدلنے کے لیے جمع ہوئے ہیں” انہوں نے مزید کہا تھا”کئی دہائیوں کی تقسیم اور تنازعات کے بعد نئے مشرق وسطی کا سورج طلوع ہورہا ہے۔“ ٹرمپ اس کے سہارے اگلا الیکشن جیتنا چاہتے مگر ہار گئے بلکہ گودی مودی جی کی بھی مدد لی مگر اور اب کی بار ٹرمپ سرکار نے نعرے لگائے لیکن وہ بھی اکارت گئے۔ اب پھر امریکی صدر ٹرمپ کے سر پر بھی وسط مدتی انتخاب کی تلوار لٹک رہی ہے اور وہ اپنے عوام کو گمراہ کرنے کے لیے دبئی جہاز ناٹک کا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کے بعد نیتن یاہو سے گفتگو کرنے کے بعد کہا تھا ”ایسا لگتا ہے کہ شریک پائلٹ شاید دہشت گرد یا شاید ذہنی طور پر غیر متوازن شخص تھا۔‘‘ جہاز میں کیا ہوا ور شریک پائلٹ پاگل تھا یا سیانا؟ یہ تو تحقیق و تفتیش کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا مگر نیتن یاہو کی دہشت گردی پر عالمی عدالت اپنی مہر لگا چکی اور صدر ٹرمپ کی ذہنی حالت کسی تحقیق کی محتاج نہیں ہے۔ ان دونوں کے گہرے دوست مودی جی کے بارے میں کچھ نہ کہا جائے تو وہی بہتر ہے کیونکہ جس گیا نیش کمار کو وہ اپنی کرسی بچانے کے لیے لائے تھے انہیں کو بچانا موصوف کے لیےوبالِ جان بن گیا ہے۔ اس لیے یہ تینوں لوگ دبئی ناٹک کا اپنے سیاسی فائدے کے لیے خوب استعمال کررہے ہیں ۔ اسرائیل کی نیتن یاہو حکومت کے ظالمانہ رویہ نے اس کی کٹر حلیفوں سمیت دنیا کے بیشتر ممالک کو اس کا دشمن بنادیا ہے۔ اس کا بہترین نمونہ اس وقت سامنے آیا کہ جب نیتن یاہو اظہار خیال کے لیے اقوام متحدہ میں کھڑے ہوئے تو 67؍ ممالک نے واک آوٹ کرکے اپنی ناراضی کا اظہار کیا اور یہ سب اسلامی ممالک نہیں بلکہ دیگر مذاہب کے ماننے والےممالک تھے اس لیے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ساری دنیا میں اسرائیل الگ تھلگ پڑ گیا ہے۔
ستمبر 2020 میں وائٹ ہاوس کے اندر منعقدہ ایک تقریب کی میزبانی کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ابراہیمی معاہدے کے متعلق اعلان کیا تھا کہ ”ان معاہدوں سے پورے خطے میں جامع امن کے قیام کی بنیاد پڑے گی۔” اس موقع پرصدر ٹرمپ کے ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو، متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان اور بحرین کے وزیر خارجہ عبد الطیف الزیانی بھی موجود تھے۔اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھی یہ کہتے ہوئے ان معاہدوں کو خوش آمدید کہا تھا کہ ‘یہ دن تاریخی طور سے بہت اہم ہے، یہ امن کے ایک نئے آغاز کی علامت ہے۔‘اس موقع پر متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان نے ‘امن کا انتخاب کرنے اور فلسطینی علاقوں کو صیہونی ریاست میں ضم کرنے کے منصوبے کو روک دینے‘ کے لیے نیتن یاہو کا ذاتی طورپر شکریہ ادا کیا تھامگربعد میں منعقد ہونے والے پچھلےاسرائیلی انتخابات سے ایک روز قبل نیتن یاہو نے اسرائیلی ریاست میں توسیع سے متعلق ایک شرمناک اعلان کرکے ابراہیمی معاہدے کو دفنا دیا۔
بینجمن نیتن یاہو نے کھلے عام کہا تھا کہ اگر ان کی پارٹی یہ الیکشن جیت گئی اور وہ ایک بار پھر وزیر اعظم بن گئے، تو چند ہی ہفتوں کے اندر اندر دریائے اردن اور مغربی کنارے کے کئی مزید اور وسیع تر علاقے اسرائیلی ریاست میں ضم کر لیے جائیں گے۔اس عزم کو نیتن یاہو نے اقوام متحدہ میں عظیم اسرائیل کا خیالی نقشہ دکھا کر دوہرایا۔ نیتن یاہو کو اس کی ضرورت اس لیے پڑی تھی کہ اس سے قبل 12 ماہ کے دوران وہاں تیسری بار عام انتخابات ہونے والے تھے اور پچھلے دو انتخابات میں ان کی جماعت واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔ اس لیے اپنے رائے دہندگان کو بیوقوف بنانے کے لیے وہ بولے کہ اپنی انتخابی کامیابی کی صورت میں وادی اردن کے وسیع تر حصوں کا اسرائیل میں شامل کیا جانا ان کی ‘اولین ترجیح‘ ہو گی۔ لوگوں کو شیخ چلی کے خواب دکھاتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ’’ایسا محض چند ہفتوں کے اندر اندر ہو جائے گا۔ مجھے امید ہے، زیادہ سے زیادہ شاید صرف دو ماہ کے اندر اندر۔ اس سلسلے میں نقشے تیار کرنے والی امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کمیٹی ایک ہفتہ قبل اپنا کام باقاعدہ طور پر شروع بھی کر چکی ہے۔‘‘ اس لیے یہودیوں کو ابراہیمی معاہدے کے خاتمے کا ماتم نہیں کرنا چاہیے نیز کسی اور کو اس کے لیے قصوروار ٹھہرانے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانک کردیکھنا چاہیے۔
نیتن یاہو کے بیان نے ان تجزیہ کاروں کو سچ ثابت کردیا کہ اس معاہدے کے پس پشت خطے میں ایران کے اثرات کی مخالفت ان تینوں ملکوں کا مشترکہ مفاد ہے۔ اسرائیل، امارات اور بحرین کی قربت ان تینوں ملکوں کے ساتھ ساتھ امریکہ کو بھی ایران کے خطے میں بڑھتے ہوئے اثرورسوخ اور اس کے بیلیسٹک میزائل کے منصوبے پر تحفظات ہیں۔اس معاہدے میں چونکہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان عشروں پرانے تنازعے کا براہ راست حل پیش کرنے کے بجائے اسرائیل سے مغربی کنارے کو انضمام سے روکنے عہد لیا گیا جس سے وہ مُکر گیا۔ اس طرح فلسطینی اتھارٹی کا اندیشہ کہ یہ ‘عربوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے ‘ سچ ثابت ہوگیا۔ سعودی عرب نے اس وقت فلسطینی موقف کی تائیدمیں کہا تھا کہ ”مملکت فلسطینی عوام کے ساتھ ہے اور مسئلہ فلسطین کے ایک ایسے منصفانہ اور جامع حل کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے جس سے بین الاقوامی فیصلوں اور عرب امن پہل کے مدنظر 1967کی سرحدوں کی بنیاد پرمشرقی یروشلم کی دارالحکومت والی ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آئے۔یہ کیسے ہوگا کوئی نہیں جانتالیکن ایسا ہوکررہے گا ۔ دبئی ہوائی تماشے سے اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور مشیت کا فیصلہ نافذ ہوکررہے گا ان شاء اللہ ۔
