Breaking
اتوار. اکتوبر 4th, 2026

ووٹ چور، گدی چھوڑ: ووٹ کی حفاظت کون کرے گا؟

ووٹ چور، گدی چھوڑ:  ووٹ کی حفاظت کون کرے گا؟

ووٹ چور، گدی چھوڑ:
ووٹ کی حفاظت کون کرے گا؟

✍️ افتخاراحمدقادری

اکتوبر کی گاندھی جینتی کے موقع پر جب دہلی کے جنتر منتر سے ممبئی کے شیواجی پارک تک ’’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘‘ کا نعرہ گونجا تو یہ منظر کسی ایک دن کی سیاسی ہنگامہ آرائی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ گزشتہ ایک برس سے جاری انتخابی فہرستوں، خصوصی گہری نظرثانی اور مبینہ ووٹ چوری کے الزامات سے پیدا ہونے والی سیاسی کشمکش کا تازہ مظہر تھا۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ووٹوں کے اخراج کے سوال کو اپنے سیاسی بیانیے کا مرکزی موضوع بنایا جس کے بعد ’’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘‘ کا نعرہ احتجاجی سیاست کی زبان میں نمایاں ہوتا چلا گیا۔ اب یہی نعرہ مختلف سیاسی کارکنوں، طلبہ تنظیموں اور احتجاجی گروہوں کے مظاہروں میں بھی سنائی دے رہا ہے۔ مگر اس سارے معاملے کو محض ایک سیاسی نعرے یا جماعتی احتجاج تک محدود کر دینا اس بنیادی سوال سے صرفِ نظر کے مترادف ہوگا جو ہندوستان کے انتخابی نظام کی ساکھ اور عوامی اعتماد سے براہِ راست وابستہ ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر کسی اہل شہری کا نام انتخابی فہرست سے خارج ہو جائے تو اس کے حقِ رائے دہی کا عملی تحفظ کون کرے گا؟ اگر کسی ووٹر کو یہ شبہ ہو کہ نام حذف کرنے، شامل کرنے یا بحال کرنے کے طریقۂ کار میں بے قاعدگی ہوئی ہے تو اس کی داد رسی کا مؤثر راستہ کیا ہے؟ اور اگر انتخابی فہرست ہی شہری کے جمہوری وجود کی بنیادی دستاویز ہے تو اس میں ہونے والی ہر تبدیلی کے لیے شفاف، قابلِ تصدیق اور عوام کے سامنے جواب دہ نظام کیوں نہ ہو؟ یہ سوال کسی ایک سیاسی جماعت کے مفاد کا نہیں بلکہ ہر اس شہری کا مسئلہ ہے جو اپنے ووٹ کو جمہوری اختیار سمجھتا ہے۔
اس بحث کو اس وقت مزید تقویت ملی جب ’’دی انڈین ایکسپریس‘‘ کی ایک تحقیق میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی سربراہی میں قائم تین رکنی الیکشن کمیشن کے دو ارکان، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی، نے گزشتہ دس ماہ کے دوران کم از کم چودہ مرتبہ کمیشن کے بعض فیصلوں اور اقدامات پر تحریری اعتراضات درج کیے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اعتراضات نئے ووٹروں کے اندراج، انتخابی فہرستوں سے ناموں کے اخراج اور بحالی، فارم 6 میں تبدیلی، انتخابی فہرستوں کے ڈیجیٹل نظام تک رسائی اور بعض اختیارات کو مرکزی سطح پر مرکوز کرنے جیسے معاملات سے متعلق تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ دونوں کمشنروں نے بعض اقدامات کو ان کی اطلاع یا منظوری کے بغیر کیے جانے پر اعتراض کیا اور انتخابی فہرستوں کے ڈیجیٹل ڈھانچے سے متعلق امور پر کابینہ سکریٹری تک اپنی تشویش پہنچائی۔ یہاں سے معاملہ محض اپوزیشن کے سیاسی الزام تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ادارہ جاتی شفافیت اور فیصلہ سازی کے طریقۂ کار کا سوال بھی سامنے آتا ہے۔ اگر ایک آئینی ادارے کے دو ارکان کسی اہم معاملے پر باضابطہ اعتراض درج کرتے ہیں تو ان اعتراضات کی نوعیت، بنیاد اور ان پر ہونے والی کارروائی کو عوامی بحث سے بالاتر نہیں رکھا جا سکتا۔ تاہم اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ الیکشن کمیشن نے ان اختلافات کی ایسی تعبیر کو قبول نہیں کیا جس سے یہ نتیجہ اخذ ہو کہ کمیشن کی مجموعی فیصلہ سازی غیر قانونی یا غیر متفقہ تھی۔ کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر سمیت فیصلے تینوں کمشنروں کی منظوری سے کیے گئے اور داخلی اختلافات معمول کی ادارہ جاتی کارروائی کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی اور حکومت کی طرف سے بھی انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے عمل کو قانونی اور ضروری قرار دیا گیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں اس کے طریقۂ کار اور اس کے نتیجے میں ووٹروں کے ناموں کے اخراج پر مسلسل سوال اٹھا رہی ہیں۔ چنانچہ ایک طرف کمیشن قانونی طریقۂ کار اور انتخابی فہرستوں کی تطہیر کی ضرورت کی بات کرتا ہے، دوسری طرف ناقدین اس عمل میں شفافیت، نگرانی اور اہل ووٹروں کے حق کے تحفظ کو بنیادی مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔ ایسے متضاد دعووں کی موجودگی میں جمہوری تقاضا یہی ہے کہ فیصلہ سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ دستاویزی شواہد، قابلِ تصدیق اعداد و شمار اور واضح قانونی وضاحتوں سے ہو۔
یہ بھی اہم ہے کہ ایس آئی آر کے دوران انتخابی فہرستوں سے بڑی تعداد میں نام حذف کیے جانے کی اطلاعات نے ملک بھر میں تشویش پیدا کی ہے۔ ’’دی انڈین ایکسپریس‘‘ کی رپورٹ کے مطابق تیس ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے مسودۂ انتخابی فہرستوں سے تیرہ کروڑ سے زیادہ نام خارج ہوئے، اگرچہ ان میں تمام نام حتمی طور پر ووٹنگ سے محروم قرار دیے گئے افراد کے مترادف نہیں ہیں، کیونکہ نظرثانی کے عمل میں اعتراض، دعویٰ اور بحالی کے قانونی مراحل بھی موجود ہیں۔
اسی پس منظر میں الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی فہرستوں میں رہ جانے والے اہل ووٹروں کے نام شامل کرنے اور ایس آئی آر کے دوران باہر رہ جانے والے ووٹروں کی جانچ کے لیے اضافی اقدامات کا اعلان اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خود انتخابی فہرستوں کی صحت اور درستگی ایک حساس انتظامی مسئلہ بن چکی ہے۔ حالیہ رپورٹوں کے مطابق کمیشن نے ووٹر فہرستوں کے سافٹ ویئر کے جائزے اور بعض معاملات میں متعلقہ ووٹروں تک براہِ راست پہنچنے کے طریقۂ کار پر بھی اقدامات کیے ہیں۔ دہلی میں گاندھی جینتی کے روز جنتر منتر پر ہونے والا احتجاج بھی اسی کشمکش کا ایک نمایاں مظہر بن کر سامنے آیا۔ احتجاج کی پیشگی اجازت نہ ملنے کے باوجود طلبہ تنظیموں، سماجی کارکنوں اور سیاسی کارکنوں نے مظاہرے کی کوشش کی، جس کے بعد پولیس نے رکاوٹیں قائم کیں اور متعدد افراد کو حراست میں لیا۔ رپورٹوں کے مطابق پولیس نے غیر مجاز اجتماع اور امن و قانون کی صورتِ حال کو بنیاد بنایا، جبکہ مظاہرین نے اسے اپنے جمہوری احتجاج کے حق میں رکاوٹ قرار دیا۔ متعدد میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی و خارجی راستوں پر پابندیاں اور وسیع حفاظتی انتظامات نے اس احتجاج کو معمول کے سیاسی مظاہرے سے کہیں زیادہ نمایاں بنا دیا۔
ممبئی کے شیواجی پارک میں بھی چیف الیکشن کمشنر کے استعفے اور ایس آئی آر کے طریقۂ کار کے خلاف احتجاج سامنے آیا، جہاں احتجاجی گروہوں نے انتخابی عمل میں زیادہ شفافیت اور جواب دہی کا مطالبہ کیا۔ ان احتجاجی سرگرمیوں نے واضح کر دیا ہے کہ انتخابی فہرستوں کا معاملہ اب محض انتخابی انتظامیہ کی فنی کارروائی نہیں رہا بلکہ جمہوری اعتماد کے وسیع تر سوال سے جڑ چکا ہے۔
تاہم یہاں ایک بنیادی احتیاط بھی ضروری ہے۔ ’’ووٹ چوری‘‘ ایک شدید سیاسی الزام ہے، اور کسی مخصوص فرد یا ادارے کے خلاف اس الزام کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش کرنے کے لیے ٹھوس، قابلِ تصدیق ثبوت درکار ہیں۔ انتخابی فہرست میں نام کا حذف ہونا لازماً دانستہ ووٹ چوری کا ثبوت نہیں، کیونکہ نقل مکانی، وفات، دوہرا اندراج، غلط معلومات یا دیگر انتظامی وجوہات بھی فہرستوں میں تبدیلی کا سبب بن سکتی ہیں۔ اسی طرح کسی انتظامی اختلاف کو فوراً انتخابی دھاندلی کا قطعی ثبوت قرار دینا بھی مناسب نہیں۔ لیکن اس کے برعکس یہ کہنا بھی کافی نہیں کہ چونکہ انتخابی عمل قانونی نگرانی میں ہے، اس لیے ہر سوال غیر ضروری ہے۔ جمہوری اداروں کی قوت سوالات سے فرار میں نہیں بلکہ سوالات کے شفاف جواب دینے میں مضمر ہوتی ہے۔ انتخابی فہرست محض کاغذ، کمپیوٹر یا سرکاری دفتر کی فائل نہیں بلکہ یہ شہری کے سیاسی وجود کی عملی شہادت ہے۔ نام فہرست میں موجود ہو تو شہری پولنگ مرکز تک پہنچ کر اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے، لیکن نام ہی موجود نہ ہو تو آئینی حق عملی زندگی میں بے اثر ہو جاتا ہے۔ اسی لیے انتخابی فہرست میں کسی اہل شہری کے نام کا غلط اخراج معمولی انتظامی غلطی نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس کے ازالے کا طریقہ آسان، تیز، قابلِ رسائی اور قابلِ نگرانی ہونا چاہیے، تاکہ ایک عام شہری اپنے جمہوری حق کے حصول کے لیے دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور نہ ہو۔
جمہوریت میں حکومت کو بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، الیکشن کمیشن کو بھی اور اپوزیشن کو بھی۔ حکومت کا کام یہ نہیں کہ ہر سوال کو سیاسی سازش قرار دے؛ الیکشن کمیشن کا کام یہ نہیں کہ ہر اعتراض کو ادارے کی توہین سمجھ لے اور اپوزیشن کی ذمہ داری بھی یہ نہیں کہ ہر انتظامی خامی کو بلا تحقیق انتخابی چوری کا قطعی ثبوت قرار دے دے۔ تینوں فریقوں کے لیے اصل امتحان یہی ہے کہ وہ الزام، جواب اور جوابی الزام کے دائروں سے نکل کر ثبوت، شفافیت اور جواب دہی کی زبان اختیار کریں۔ ’’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘‘ آج احتجاجی سیاست کا ایک بلند آہنگ نعرہ ضرور بن چکا ہے، لیکن کسی بھی نعرے کی گونج انتخابی نظام کی خامیوں یا خوبیوں کا قطعی ثبوت نہیں ہوتی۔ اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو انہیں دستاویزی شواہد کے ذریعے رد کیا جانا چاہیے، اور اگر کسی سطح پر بے ضابطگی ثابت ہوتی ہے تو اس کی اصلاح بھی اسی شفافیت کے ساتھ ہونی چاہیے۔جمہوری نظام نعروں سے نہیں، اعتماد سے زندہ رہتا ہے؛ اور اعتماد دعووں سے نہیں، ایسے قابلِ تصدیق عمل سے پیدا ہوتا ہے جسے حکومت کا حامی بھی درست سمجھے اور حکومت کا مخالف بھی۔ آج اصل ضرورت کسی ایک فریق کو فاتح اور دوسرے کو شکست خوردہ قرار دینے کی نہیں، بلکہ انتخابی نظام کو اس مقام پر پہنچانے کی ہے جہاں کسی اہل شہری کو یہ خوف نہ رہے کہ اس کا نام فہرست سے غائب ہو سکتا ہے، کسی سیاسی جماعت کو یہ شکایت نہ رہے کہ انتخابی اعداد و شمار تک اس کی رسائی محدود ہے، اور الیکشن کمیشن کو بھی اپنے ہر انتظامی فیصلے کی قانونی و ادارہ جاتی بنیاد عوام کے سامنے رکھنے میں کوئی تردد نہ ہو۔
آخر حکومت عوام کے ووٹ سے تشکیل پاتی ہے، اقتدار کی آئینی منتقلی بھی عوامی رائے سے ہوتی ہے اور جمہوریت کی اصل قوت بھی عوام کے اعتماد میں مضمر ہے۔ چنانچہ ’’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘‘ کے نعرے کا جواب کسی دوسرے نعرے سے نہیں بلکہ ایسی انتخابی شفافیت سے آنا چاہیے جس میں ووٹر کا حق محفوظ ہو، انتخابی فہرست قابلِ اعتماد ہو، اختلافِ رائے کا احترام ہو، اداروں کی خودمختاری برقرار رہے اور ہر اعتراض کا جواب ثبوت کے ساتھ دیا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو سیاسی شور کو جمہوری شعور میں اور احتجاجی نعرے کو ادارہ جاتی اصلاح کے سنجیدہ مطالبے میں تبدیل کر سکتا ہے۔
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے