رشتوں کے تقدس کو پامال مت کیجیے!

رشتوں کے تقدس کو پامال مت کیجیے!

رشتوں کے تقدس کو پامال مت کیجیے!

از قلم: مفتی احسان شاہ قاسمی نرمل

رشتے اللہ تعالیٰ کی عطا ہیں،انسان کی بنائی ہوئی چیز نہیں، انسان دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو ماں کی آغوش، باپ کی شفقت، بہن بھائیوں کی محبت اور خاندان کے بے شمار رشتوں کے حصار میں پروان چڑھتا ہے۔ یہ رشتے محض خون کے رشتے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ حقوق، ذمہ داریاں اور امانتیں ہیں۔ اسی لیے اسلام نے رشتوں کی حفاظت کو عبادت کا درجہ دیا اور رشتہ توڑنے کو گناہِ کبیرہ قرار دے کر سخت وعیدیں سنائی ہیں۔
صلہ رحمی کی حقیقت!
صلہ رحمی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ خوشی کے موقع پر رشتہ داروں سے ملاقات کرلی جائے یا کبھی کبھار فون کرلیا جائے۔ صلہ رحمی کا دائرہ بہت وسیع ہے: رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنا، ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا، ضرورت کے وقت ان کا ساتھ دینا، بیمار پرسی کرنا، خوشی میں شریک ہونا، غم میں دل جوئی کرنا، ان کی عزت کا خیال رکھنا، ناراضی کے باوجود خیر خواہی کرنا اور حتیٰ کہ ان کی طرف سے ہونے والی زیادتی کے باوجود ممکن حد تک رشتے کو ٹوٹنے سے بچانا۔
رشتہ جوڑنے کی فضیلت
رسول اللہ ﷺ نے صلہ رحمی کو رزق میں وسعت اور عمر میں برکت کا ذریعہ قرار دیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهٗ” (صحیح البخاري، رقم الحدیث :2067) ’’جسے پسند ہو کہ اس کے رزق میں وسعت دی جائے اور اس کی عمر میں برکت دی جائے، اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے۔‘‘ جس کام کے نتیجے میں رزق میں وسعت اور زندگی میں برکت کا وعدہ ہو، ہم اسے معمولی خاندانی معاملہ سمجھ کر کیوں نظر انداز کردیں؟
رشتہ توڑنے کی وعید
اس کے مقابلے میں قطع رحمی انتہائی سنگین گناہ ہے۔ قطع رحمی معمولی بات نہیں، آج ’’بلاک‘‘ کرنا، ’’ان فالو‘‘ کردینا اور بات چیت بند کردینا اتنا آسان ہوگیا ہے کہ لوگ برسوں پرانے رشتے چند سیکنڈ میں ختم کردیتے ہیں؛ مگر شریعت کے نزدیک قطع رحمی کوئی معمولی سماجی برائی نہیں بلکہ کبیرہ گناہ ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے صاف الفاظ میں فرمایا: "لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ” (صحیح البخاری، حدیث نبمر: 5984) یعنی رشتہ توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔‘‘ یہ وعیدیں معمولی نہیں۔ انسان دنیا میں کسی رشتہ دار کو نظر انداز کرکے سمجھتا ہے کہ میں نے اپنا راستہ الگ کرلیا، مگر آسمان پر اس کا معاملہ صرف ایک خاندانی اختلاف نہیں رہتا؛ وہ اللہ کے ہاں ایک شرعی ذمہ داری اور جواب دہی کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
رشتوں کو نبھانے کے لیے خوفِ الٰہی ضروری ہے
قرآن کریم نے صلہ رحمی کو تقویٰ کے ساتھ جوڑتے ہوئے فرمایا: "وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ” (سورۃ النساء، آیت نمبر: 01) یعنی: ’’اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے اپنے حقوق مانگتے ہو اور رشتہ داریوں کا بھی خیال رکھو۔‘‘ گویا رشتے صرف جذبات سے نہیں، خوفِ خدا سے محفوظ رہتے ہیں۔ جب دل میں یہ احساس زندہ ہو کہ مجھے اپنے رشتہ دار کے ساتھ کیے گئے سلوک کا حساب اللہ کے سامنے دینا ہے، تو انسان غصے کے باوجود زبان کو قابو میں رکھتا ہے، اختلاف کے باوجود دروازہ بند نہیں کرتا اور ناراضی کے باوجود سلام کا رشتہ قائم رکھتا ہے۔ یاد رکھیے! رشتے ہمیشہ آسان حالات میں نہیں نبھائے جاتے۔ کبھی قریبی شخص دل دکھا دیتا ہے، کبھی مالی معاملہ خراب ہوجاتا ہے، کبھی وراثت کا اختلاف پیدا ہوتا ہے، کبھی سسرال کے مسائل فاصلے پیدا کرتے ہیں، کبھی کسی کی زبان تلخ ہوجاتی ہے اور کبھی معمولی سی غلط فہمی برسوں کی ناراضی میں تبدیل ہوجاتی ہے، یہیں انسان کے ایمان کا امتحان ہوتا ہے۔اگر تعلق صرف ’’تم میرے ساتھ اچھے، تو میں تمہارے ساتھ اچھا‘‘ کے اصول پر قائم ہو تو یہ صلہ رحمی نہیں، بلکہ لین دین ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنِ الْوَاصِلُ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهٗ وَصَلَهَا”( صحیح البخاري، حديث نمبر:5991) ’’صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو بدلے میں صلہ رحمی کرے، بلکہ حقیقی صلہ رحمی کرنے والا تع وہ ہے کہ جب اس سے رشتہ توڑا جائے تو وہ اسے جوڑ دے۔‘‘یہی وہ مقام ہے جہاں رشتہ داری عبادت بن جاتی ہے۔
دو قرآنی نسخے: اگر رشتے بچانے ہیں تو انہیں یاد رکھیے! رشتوں کو مضبوط رکھنے کے لیے قرآن کریم نے دو نہایت جامع نسخے عطا فرمائے ہیں۔
پہلا نسخہ: رشتہ داروں کا حق ادا کیجیے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ”(سورۃ الإسراء، آیت نمبر:26) اور رشتہ دار کو اس کا حق دو ۔یہ مختصر سا جملہ پوری خاندانی زندگی کا منشور ہے یہاں ’’حق‘‘ کا لفظ بہت وسیع ہے۔ رشتہ دار کا حق صرف پیسہ نہیں؛ وقت بھی حق ہے، توجہ بھی حق ہے، عزت بھی حق ہے، خیر خواہی بھی حق ہے، بیمار پرسی بھی حق ہے، مشکل میں ساتھ دینا بھی حق ہے اور ناراضی کے باوجود خیر سگالی کا دروازہ کھلا رکھنا بھی حق ہے، بعض اوقات کسی رشتہ دار کو ہزار روپے سے زیادہ ضرورت ایک فون کال کی ہوتی ہے؛ کوئی رشتہ دار کھانے سے زیادہ دو محبت بھرے بول کا محتاج ہوتا ہے؛ کسی بوڑھے کو دوا سے زیادہ ضرورت اس احساس کی ہوتی ہے کہ ’’میرے بچے مجھے بھولے نہیں۔۔
دوسرا نسخہ: محبت کے باوجود مال خرچ کیجیے
قرآن کریم نیکی کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
"وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَىٰ”(سورۃ البقرۃ،آیت نمبر:177) یعنی نیکوکار وہ ہے جو مال کی محبت کے باوجود اسے رشتہ داروں پر خرچ کرے۔
یہاں قرآن انسانی نفسیات کی ایک گہری حقیقت سامنے رکھتا ہے: انسان کو مال محبوب ہوتا ہے، مگر مومن اپنے محبوب مال میں بھی اپنے رشتہ دار کا حق تلاش کرتا ہے، رشتے صرف الفاظ سے نہیں چلتے؛ کبھی جیب کھولنی پڑتی ہے، کبھی وقت دینا پڑتا ہے، کبھی اپنی مصروفیت قربان کرنی پڑتی ہے اور کبھی اپنی اَنا کو فَنا کرنا پڑتا ہے۔
حضرت ابوبکرؓ: دل زخمی ہوا، مگر ہاتھ نہیں رکا
صحابۂ کرامؓ کی زندگیوں میں صلہ رحمی کا سب سے درخشاں نمونہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔واقعۂ افک نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور پورے صدیقی گھرانے کو شدید صدمہ پہنچایا۔ حضرت مسطح رضی اللہ عنہ بھی اس معاملے میں شریک ہوگئے تھے، حالاں کہ حضرت ابوبکرؓ ان کی مالی مدد کیا کرتے تھے، طبعی طور پر حضرت ابوبکرؓ نے ارادہ کرلیا کہ اب وہ مسطح کی مالی تعاون نہیں کریں گے۔ مگر قرآن نازل ہوا: "وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ” (سورۃ النور، آیت:22) ترجمہ :تم میں سے فضل اور وسعت والے لوگ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ وہ قرابت داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہیں دیں گے؛ انہیں چاہیے کہ معاف کریں اور درگزر کریں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے؟‘‘حضرت ابوبکرؓ نے فوراً اپنا فیصلہ بدل دیا اور فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ اللہ مجھے بخش دے؛ چنانچہ انہوں نے حضرت مسطحؓ کی مالی مدد دوبارہ جاری کردی، یہ صرف معافی نہیں تھی؛ یہ اپنے زخمی دل پر ایمان کی حکمرانی تھی۔
رشتے توڑنے سے پہلے دولت کا انجام سوچیے
ہمارے معاشرے میں رشتوں کے ٹوٹنے کی ایک بڑی وجہ مال اور وراثت کے تنازعات بھی ہیں۔چند گز زمین، چند لاکھ روپے، ایک دکان، ایک مکان یا جائیداد کا حصہ اور برسوں کی محبت دشمنی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ عجیب المیہ ہے کہ جس بھائی کے ساتھ بچپن گزرا اس کے ساتھ چند لاکھ روپے کے لیے عدالت میں کھڑے ہوجاتے ہیں! جس بہن کی شادی میں خوشی سے آنسو بہائے تھے، اسی بہن کا حقِ وراثت دیتے ہوئے دل تنگ ہوجاتا ہے۔ مال قبر میں ساتھ نہیں جاتا، مگر اس کے لیے توڑے گئے رشتوں کا بوجھ انسان کے ساتھ ضرور جاتا ہے۔
میاں بیوی: موبائل نے فاصلے کم کیے یا بڑھا دیے؟
میاں بیوی کا رشتہ قرآن کے الفاظ میں مَوَدَّت اور رَحْمَت کا رشتہ ہے؛ مگر آج اس مقدس رشتے پر بھی موبائل اور سوشل میڈیا کے اثرات نمایاں ہیں۔ایک دوسرے سے بات کرنے کے بجائے دونوں اسکرین دیکھ رہے ہیں۔ شوہر بیوی کی بات سننے کے بجائے فون میں مصروف ہے، بیوی شوہر کی توجہ کے بجائے سوشل میڈیا کی مصروفیات میں ہے۔ معمولی اختلاف اسٹیٹس بن جاتا ہے، گھریلو شکایت رشتہ داروں کے گروپ تک پہنچ جاتی ہے، اور کبھی ایک غصے میں لکھی ہوئی پوسٹ پورے خاندان کے سامنے عزت کا مسئلہ بن جاتی ہے۔
یاد رکھیے:ہر سچ عوامی ایشو بنانے کے لیے نہیں ہوتا۔میاں بیوی کے بہت سے اختلافات ایسے ہوتے ہیں جنہیں دو دلوں کے درمیان دفن ہوجانا چاہیے۔ شوہر کو بیوی کی کمزوریاں بازار میں بیان نہیں کرنی چاہئیں اور بیوی کو شوہر کی خامیوں کو محفلوں کا موضوع نہیں بنانا چاہیے، گھر کی عزت دراصل دونوں کی عزت ہے۔
والدین: موبائل کی دنیا میں سب سے زیادہ نظر انداز ہونے والا رشتہ! والدین کے بارے میں قرآن کا لہجہ سب سے زیادہ دل ہلا دینے والا ہے:”وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا (سورۃ الإسراء: آیت:23) ’اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔‘‘پھر فرمایا:” فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ” انہیں اُف تک نہ کہنا۔‘‘ ذرا موجودہ مسلم معاشرے کے گھروں کا منظر دیکھیے! جہاں ماں بات کرنا چاہتی ہے، بیٹا موبائل دیکھ رہا ہے۔باپ کچھ کہنا چاہتا ہے، بیٹی ہیڈفون لگائے ہوئے ہے، بوڑھے والدین انتظار کرتے رہتے ہیں کہ اولاد کچھ دیر ان کے پاس بیٹھے، مگر اولاد کے پاس دنیا کے لیے وقت ہے، اپنے والدین کے لیے نہیں۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہماری جوانی ہمارے والدین کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔آج اگر ان کے قدم کمزور ہیں، آواز میں تکرار ہے، یادداشت میں کمی ہے یا انہیں بار بار ایک ہی بات کہنے کی عادت ہوگئی ہے تو یہ ان کے لیے نہیں، ہمارے لیے امتحان ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص بڑی محرومی میں ہے جس نے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا اور پھر بھی جنت حاصل نہ کی۔ کہاجاتا ہے کہ مکان اینٹوں سے بنتے ہیں لیکن "گھر” رشتوں سے۔ اینٹیں کمزور ہوں تو عمارت گر سکتی ہے، مگر رشتے کمزور ہوجائیں تو بظاہر قائم و دائم مکان بھی اندر سے ویران ہوجاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب گھر کے دروازے کمزور لکڑی کے ہوتے تھے مگر دلوں کے دروازے مضبوط تھے؛ آج دروازے مضبوط ہیں، تالے مضبوط ہیں، موبائل اسمارٹ ہیں، رابطے چند سیکنڈ میں قائم ہوجاتے ہیں، مگر دلوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جارہے ہیں۔کبھی ایک خط کئی دنوں میں پہنچتا تھا، مگر اس کے الفاظ مہینوں دل میں زندہ رہتے تھے؛ آج پیغام چند لمحوں میں پہنچ جاتا ہے، مگر جواب دینے کے لیے دل میں فرصت نہیں بلکہ وسعت نہیں رہی، سوشل میڈیا پر ہزاروں دوست ہیں، مگر کبھی اپنے ہی بھائی سے بات کرنے کا وقت نہیں۔ دنیا کے آخری کونے میں بیٹھے شخص کی خیریت معلوم ہے، مگر گھر میں موجود بوڑھے والد کی خاموشی کا احساس نہیں۔ یہ محض طرزِ زندگی کی تبدیلی نہیں؛ یہ رشتوں کے تقدس کے بحران کی علامت ہے۔
سوشل میڈیا: رشتوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنائیں، توڑنے کا نہیں! ٹیکنالوجی بری نہیں؛ اس کا استعمال اہم ہے۔وہی موبائل جو رشتہ توڑ سکتا ہے، وہ رشتہ جوڑ بھی سکتا ہے۔
لہٰذا آج ہی کسی دور کے رشتہ دار کو فون کیجیے، کسی بیمار کی خیریت دریافت کیجیے، کسی ناراض بھائی کو سلام بھیجیے۔کسی بزرگ سے دعاؤں کی درخواست کیجیے، اور اگر خاندان میں کوئی غلط فہمی پیدا ہوگئی ہے تو اسے مزید لوگوں تک پہنچانے کے بجائے خاموشی سے ختم کرنے کی کوشش کیجیے۔ ہر ناراضی کو اسٹیٹس بنانا، ہر اختلاف کو پوسٹ کرنا اور ہر خاندانی معاملے کو عوامی بحث بنا دینا دانائی نہیں۔ کبھی کبھی خاموشی ایک گھر بچا لیتی ہے۔ اخیر میں صرف ایک سوال سب کے لیے ہے کہ :”اگر آج ہمیں خبر ملے کہ وہ رشتہ دار جس سے ہم ناراض تھے، دنیا سے رخصت ہوگیا تو کیا ہم اپنے دل سے یہ کہہ سکیں گے کہ ہم نے اس کے تئیں اپنا فرض پورا کردیا تھا؟ اگر آج والدہ نہ رہیں تو کیا ان کے ساتھ بیٹھنے کے مواقع یاد کرکے ہمارا دل مطمئن ہوگا؟ اگر والد کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہوجائے تو کیا ہمیں افسوس نہیں ہوگا کہ کاش! آخری دنوں میں ہم موبائل سے زیادہ ان کے ساتھ بیٹھ لیتے؟
اگر بھائی سے برسوں بات نہ کی اور اچانک اس کی میت سامنے آجائے تو کیا انا ہمیں تسلی دے سکے گی؟ نہیں! اس وقت دل صرف ایک ہی بات کہے گا:کاش! میں پہلے ایک قدم پہلےآگے بڑھالیتا۔ اسی لیے ابھی وقت ہے، کسی ناراض کو منالیجیے، کسی سے معذرت کرلیجیے، کسی کو معاف کردیجیے، والدین کے قدموں میں بیٹھ جائیے، بہن بھائیوں کا حال پوچھ لیجیے، میاں بیوی ایک دوسرے کو وقت دیجیے۔ اور اپنے بچوں کو یہ سبق ضرور دیجیے کہ خاندان صرف ایک نام نہیں، ایک ذمہ داری ہے۔اور حقیقت یہی ہے کہ رشتے بہت نازک ہوتے ہیں۔ انہیں غصے سے نہ توڑیے، انا سے نہ کاٹیے، مال کے لیے نہ بیچیے اور موبائل کی اسکرین پر نہ بکھیریے۔رشتے اللہ کی امانت ہیں۔انہیں نبھائیے، سنبھالیے، معاف کیجیے، جوڑیے، اگر کوئی آپ سے دور ہوجائے تو آپ خیر خواہی کا راستہ کھلا رکھیے۔اگر کسی نے دل دُکھایا ہے تو معافی کی گنجائش پیدا کیجیے۔ کسی بھی صورت رشتوں کے تقدس کو پامال مت کیجیے؛ کیونکہ رشتے ٹوٹتے ہیں تو صرف دو دل جدا نہیں ہوتے بلکہ ایک پورا خاندان اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے