دبئی سے تل ابیب جانے والے ہوائی جہاز ڈرامہ تو خوب تھا مگر اس کی ٹائمنگ نے سازش کا راز کھول دیا ۔ یہ دراصل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ذریعہ وزیر اعظم نریندر مودی کے سرجیکل اسٹرائیک کی ایک بھونڈی نقل تھی لیکن یہاں تو اڑی کے حملے کا جواز موجود تھا ۔ اسی طرح آپریشن سیندور سے قبل پہلگام کا اہتمام کیا گیا تھا مگر اس کے بغیر ہی نیتن یاہو نے جہاز میں ہنگامہ کروا کر اپنا مذاق بنوا لیا۔ یہی وجہ ہے کہ فلائی دبئی مسافر طیارے کے واقعے کو کسی اور نے نہیں بلکہ اسرائیل میں اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیر اعظم یائر لاپڈ نے اسرائیل کی سلامتی کی قیمت پر سستی سیاست قرا ردے دیا۔لاپڈ نے اس واقعے کو وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملنے والی سیکیورٹی بریفنگ سے جوڑنے کی کوششوں کو مسترد کر تے ہوئے ایکس پر لکھا کہ، ’’میں یہ واضح کر دوں کہ طیارہ کے واقعہ سے ملتی جلتی کوئی چیز بھی پچھلی وزیر اعظم کے ساتھ سیکیورٹی بریفنگ میں نہیں آئی تھی۔ نہ اس جیسی، نہ اس کی یاد دلانے والی، نہ اشارہ بھی۔‘‘لاپڈ نے حکومت سے منسلک آوازوں پر الزام لگایا کہ وہ اس واقعے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں الیکشن سے قبل اس طرح کے تماشوں کا اہتمام اب ایک عام بات ہوچکی ہے اوریہ معاملہ الیکشن کے عین پہلے رونماہواہے۔
دبئی ناٹک میں ایک مچھر بھی نہیں مرا مگر پائلٹ سمیت مچھر ہیرو بن گئے ۔ اس ڈرامہ کی آڑ میں نیتن یاہو سمیت ان کی سرکار میں شامل مختلف جماعتوں کے ساتھ مودی اور ٹرمپ بھی اپنے سیاسی مفادات کے حصول کی کوشش کی ۔ اس بار تو آرایس ایس سے بھی صبر نہیں ہوا ۔ اس نے اسرائیلی مسافروں کے بچنے خوشی منائی حالانکہ جب احمد آباد حادثے میں جب 279 افراد جاں بحق ہوگئے تھے تب بھی آر ایس ایس نے کسی رنج و غم کا اظہار نہیں کیا تھا۔ نیتن یاہو نےلاپڈ کو27؍ اکتوبر کے انتخابات سے قبل اسرائیل پر ممکنہ حملے کی غیر واضح وارننگ کے درمیان سیکیورٹی بریفنگ دی تھی۔ سوال یہ ہے کہ آخر نیتن یاہو نے اچانک یہ ماحول سازی کیوں شروع کی اور لاپڈ سمجھ گئے کہ آگے کیا کچھ ہوسکتا ہے اس لیے ملاقات کے بعدانہوں نے کہا تھا کہ عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور سیکیورٹی خطرات کو پیشہ ورانہ اور ذمہ دارانہ طریقے سے سنبھالا جانا چاہیے۔ اس گفتگو کے اگلے ہی دن فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 کا ہنگامی واقعہ پیش آگیا تو شک یقین میں بدل گیا ۔
دبئی سے تل ابیب جانے والے طیارہ واقعہ کی تفتیش جاری ہے۔ ابھی تک پائلٹ یا اس کے حملہ آور کا کوئی بیان تک سامنے نہیں آیا ہے مگر قیاس آرائیوں کا آتش فشاں بے تکان افواہیں اگل رہا ہے۔ اس رائی کو پہاڑ بناتے ہوے معاملے کو بڑھا چڑھا کر اسے نہ صرف دہشت گردانہ قرار دے دیاگیا ہے بلکہ ایک بے ضررحملے کو ۹؍۱۱ کا مماثل کہا جارہا ہے۔ اس معاملے میں پائلٹ نے پہلے ہنگامی اور پھر غیر قانونی مداخلت کے کوڈز بھیجے تھے جنہیں آپسی لڑائی اور طیارے کے اغوا سے جوڑا جارہا ہے۔آگے چل کر سعودی عرب کے تبوک شہر میں بحفاظت اترنے والے واقعہ میں اسرائیلی حکام نے ابتدائی طور پر ہائی جیکنگ یا سیکیورٹی کوتاہی کے امکان تلاش کرنا شروع کردئیے حالانکہ بعد کی رپورٹس میں کاک پٹ میں جھگڑے کی طرف اشارہ کیا گیا۔ دبئی جہاز کے معاملے میں کئی ایسے پیچ ہیں جن کی بنیاد پر نیتن یاہو کا بیانیہ کمزور ہوتا ہے مثلاً جہاز کے پائلٹ سمیت مچھر کا تو خوب چرچا ہے۔ ان کے بارے میں بے شمار تفصیلات میڈیا میں تیر رہی ہیں اور خوب تعریف و توصیف بھی ہورہی ہے لیکن جس شخص سے جھگڑا ہوا اس کا نام تک نہیں بتایا جارہا ہے۔ ابھی تک صرف یہ معلومات منظر عام پر آئی کہ وہ عمانی باشندہ ہے۔
عمان کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات نہیں ہیں ایسے میں وہاں کے رہنے والے پائلٹ کو سمیت کے ساتھ اس جہاز میں کیوں تعینات کیا گیا؟ یہ چونکانے والا سوال ہے؟ اس شخص کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ مذہبی انتہاپسند ہے اور یہ دلیل دی جارہی ہے کہ وہ نماز پڑھتا ہے اور اجنبی خواتین سے مصافحہ نہیں کرتا۔ کسی انسان کا پانچ وقت کی نماز پڑھنا اسے دہشت گرد بنا دیتا ہے مگر اس پر یہ الزام لگانے والے داخلی سلامتی کے اسرائیلی وزیر اتمار کا یہ کہنا کہ انتخاب کے بعد اگر اسے وزیر خارجہ بنایا گیا تو وہ سنوار سمیت سارے شہداء کی لاشوں کو نذر آتش کردے گا؟ نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ یہ عجب تماشا ہے ایپسٹن فائلس میں مقید معصوم بچیوں کی آبروریزی کرنے والے لوگ تو بڑےمہذب ہیں مگر نامحرم سے ہاتھ تک نہیں ملانے والے دہشت گرد یا انتہا پسند کہلاتے ہیں ۔ نیتن ہاہو کی منافقت اور اسے ملنے والے ٹرمپ و مودی کی حمایت ظاہر کرتی ہے کہ چور چور موسیرے بھائی ہیں۔ دبئی سے تل ابیب جانے والی جس پرواز کو شریک پائلٹ کے ذریعہ مبینہ طور گرانے کی کوشش کی گئی اس کے مسافروں میں تربیت یافتہ دیگر پائلٹس کی موجودگی اور ہنگامہ کے بعد ان کا فوراً جہاز کی کمان سنبھال کر اسے محفوظ اتار لینا کیا محض اتفاق ہے یا کسی پلاٹ کا حصہ ؟ یہ بھی ایک سوال ہے؟ وہ لوگ مسافر کے طور پر اسرائیل کا سفر کیوں کررہے تھے اور کس ملک کے شہری تھے اس کی بھی تفتیش ہونی چاہیے۔
فلائی دبئی ایئرلائن کے مطابق طیارے میں موجود عملے کے ایک اور گروپ نے پرواز کا رخ موڑکر طیارے کو بحفاظت اتارا۔ کمپنی نے تحقیقات مکمل ہونے تک اسرائیل کے لیے پروازیں معطل کرنے کا اعلان کیوں کیا؟ یہ سوال تشنہ ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق مسافروں اور عملے نے جس شریک پائلٹ کی طیارہ تباہ کرنے کی کوشش ناکام بنایا اس میں شریک پائلٹ نے سمیت مچھر پر چاقو سے حملہ کیا۔ سوال یہ ہے سیکیورٹی نے اسے چاقو کے ساتھ جہاز میں سوار ہونے کی اجازت کیسے دے دی؟ اس لیے کہ ہوائی جہاز میں مسافر سمیت عملہ کو بھی اسلحہ لے کر چڑھنے نہیں دی جاتی ۔ ایئرلائن تو کہہ رہی ہے کہ ا ن کے درمیان جھگڑے کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں لیکن اسرائیلی حکام نے تحقیقات کی ابتداء سے پہلے ہی اس واقعہ کو ”دہشت گردانہ حملے کی کوشش‘‘ قرار دے دیا۔ امریکی نشریاتی ادارے ”فوکس نیوز‘‘ سے گفتگو میں تو خود بینجمن نیتن یاہو نے اعتراف کیا کہ واقعے کے پیچھے کون تھا یہ کہنا قبل از وقت ہے مگر گودی میڈیا نے گیانیش کمار کے خلاف احتجاج سے توجہ ہٹانے کے لیے ہنگامہ مچا دیا ؟
نیتن یاہو نے زخمی پائلٹ سومیت مچھار کی ”غیر معمولی بہادری‘‘ کو سراہا کیونکہ ان کے مطابق اس نے اپنے شریک پائلٹ کا مقابلہ کرتے ہوئے ”ہوا میں ایک تباہ کن سانحے‘‘ کو روک دیا۔اس کی خبر بنانے کے لیے نیتن یاہو نے خون آلود لباس میں ایک اسرائیلی مسافر سے معانقہ کیا۔ اس کا نام ‘یانک‘ ہے اور پیشے سے وہ پلمبر ہے۔ اس کے بارے میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اس نے حملہ آور کو قابو کرنے میں مدد دی۔سوال یہ ہے کہ ایک معمولی پلمبر دبئی میں سیرو تفریح کرنے کے لیے کیسے پہنچ گیا؟ اپنے چہیتے دوست نیتن یاہو کے ذریعہ سومیت مچھار کی تعریف و توصیف کے بعد وزیراعظم نریندر مودی کے لیے خاموش رہنا ناممکن تھا ۔ انہوں نے سوشل میڈیا پرمچھر کو ”ہیرو‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ان کی بہادری نے سینکڑوں جانیں بچانے میں مدد کی۔‘‘ اس واقعہ سے کس طرح سیاسی فائدہ اٹھایا جارہا ہے اس کا اندازہ کرنے کے لیے یہ معلومات کافی ہے کہ خود نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے ویڈیو جاری کرکے طرح طرح کا بھرم پھیلایا جاتا ہے۔
اسرائیلی تشہیری ویڈیوز میں سے ایک میں میریام شیرا اوہیون نامی مسافر بتاتا ہے کہ اردن کی فضائی حدود میں واقعے کے دوران طیارہ ”تقریباً مکمل طور پر قابو سے باہر‘‘ ہو گیا تھا۔ یہاں تک تو بات سمجھ میں آتی ہے مگر آگے وہ بولتا ہے، ”شریک پائلٹ نے پائلٹ کو قتل کرنے اور بنیادی طور پر طیارے پر خودکش حملہ کرنے کی کوشش کی۔‘‘ اس بات کا علم اس کو کیسے ہوگیا؟ یہکیونکہ کاک پٹ میں کیا ہورہا ہے اس کا اندازہ باہر والوں کو نہیں ہوسکتا ۔ اس لیے جھوٹ بھی سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے ورنہ کذب گو اوندھے منہ گر جاتا ہے۔ یہ جھوٹ کس کو فائدہ پہنچانے کی خاطر بولا جا رہا یہ سبھی جانتے ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے تو اپنے وزیر اعظم سے دو قدم آگے بڑھ کر یقین کے ساتھ اس واقعے کو ”جہادی دہشت گردانہ حملے کی کوشش‘‘ قرار دےدیا، تاہم وہ بیچارہ اس دعوے کے لیے کسی ذریعہ کا حوالہ نہیں دے سکا یعنی سب کچھ ہوا ہوائی ہی رہا ہے۔ ایک عالمی بیانیہ یہ ہے کہ یہودی یا اسرائیلی نہایت ذہین لوگ ہیں ۔ اس انتخاب میں ان لوگوں کا پھر ایک بار امتحان ہے کہ کیا وہ نیتن یاہو کے جھانسے میں آ جائیں گے یا اپنی عقل کا استعمال کرکے اس کو سبق سکھائیں گے۔ ویسے ہندوتوانواز اندھے بھگت یا صہیونی انتہا پسندوں سے عقل کے استعمال کی توقع کم ہی ہے۔ یہ بیچارے تو کسی خیالی دشمن کے خوف سے بھی تھر تھر کانپنے لگتے ہیں اور اسی لیے مودی یا نیتن یاہو ان پر مسلط ہیں۔