اللہ تبارک و تعالی نے اس وسیع وعریض کائنات کو بے شمار مخلوقات سے آباد فرمایا اور ان تمام مخلوقات میں بنی نوع آدم کو ایک خاص شرف و مقام عطا فرمایا اور تمام مخلوقات میں انسانوں کو اشرف المخلوقات سے سرفراز فرمایا۔
انسانیت کی تخلیق محض اتفاق نہیں، بلکہ ایک عظیم مقصد کے تحت ہوئی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسے عقل و شعور، علم و معرفت، فہم و ادراک اور ارادہ و اختیار جیسی عظیم نعمتوں سے نوازا۔ اسے بولنے، سوچنے، سمجھنے اور حق و باطل میں امتیاز کرنے کی صلاحیت عطا فرمائی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے انسان کے مقام کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ﴾
’’اور یقیناً ہم نے اولادِ آدم کو عزت بخشی۔‘‘
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کردہ تکریم اور عزت کا حامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایسی صلاحیتیں عطاء فرمائیں ہیں جن کے ذریعے وہ کائنات میں غور و فکر کرکے وہ اپنے خالق ومالک کو پہچان سکتا ہے، اور اپنی زندگی کو مقصد کے مطابق گزار سکتا ہے۔
مزید اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی نوع آدم پر یہ احسان عظیم فرمایا کہ ان کی رشد و ہدایت کے لیے انبیاءِ کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے بعثت کا مبارک سلسلہ جاری فرمایا، انہوں نے لوگوں کو توحید کی دعوت دی، کفرو شرک سے روکا، اخلاق و کردار سنوارا، حلال و حرام کا شعور پیدا کیااور آخرت کی جواب دہی کا احساس پیدا کیا۔اور آخر میں پوری انسانیت کی رہنمائی کے لیے خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مبعوث فرمایا اور آپ پر نبوت و رسالت کے سلسلے کو ختم کر دیا گیا ، اب قیامت تک کوئی نبی اور رسول نہیں آسکتے۔ لیکن اللہ تبارک و تعالی نے اپنے پیارے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے طفیل میں امت کی صحیح رہبری و رہنمائی کے لیے اور ان کی ظاہری وہ باطنی اصلاح کے لئے جہاں علماء کرام کو وراثت انبیاء اور نیابت رسول کے بلند مقام پر فائز فرمایا وہیں امت کی اصلاح کے لئے مومنین میں سے ایسے متقین اور صالحین اور برگزیدہ بندوں کی جماعت کو منتخب فرمایا جنہیں اولیاء اللہ کہا جاتا ہے ، جو اللہ تبارک و تعالی کی بندگی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع اور گناہوں کے اجتناب کی وجہ سے اللہ تبارک و تعالی کے یہاں انتہائ مقرب بن جاتے ہیں ، اور اللہ تبارک و تعالی ان سے خلق خدا کی دینی رہبری اور اصلاح کا کام لیتے ہیں۔
اولیاء، ولی کی جمع ہے۔ عربی میں ولی کے معنی آتے ہیں: قریب، دوست، مددگار اور اللہ کا مقرب بندہ ، اللہ تبارک و تعالی کے قرب و محبت کا ایک عام درجہ تو ایسا ہے جس سے کوئی مخلوق مستثنی نہیں ، مگر اس کے علاوہ ایک قرب و محبت اور ولایت کا ایک مخصوص درجہ ایسا ہے جو اللہ کے مخصوص بندوں کے ساتھ خاص ہے ، یہ قرب محبت کہلاتا ہے۔ جن لوگوں کو یہ قرب حاصل ہو وہ اولیاء اللہ کہلاتے ہیں ، قرآن و حدیث میں اولیاء اللہ کے بڑے فضائل وارد ہوئے ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالی نے اولیاء کرام رحمہم اللہ کے مخصوص فضائل اور ان کی تعریف پہچان اور دنیا وآخرت میں ان کے لیے مختلف بشارتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ (٦٢)
الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ کَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ(٦٣) لَہُمُ الۡبُشۡرٰی فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ ؕ لَا تَبۡدِیۡلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ (یونس:٦٤)
ترجمہ:
یا درکھو کہ جو اللہ کے دوست ہیں ان کو نہ کوئی خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے، اور تقوی اختیار کیے رہے۔ان کے لیے خوشخبری ہے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، یہی زبردست کامیابی ہے۔
آیت مبارکہ میں فرمایا گیا کہ اولیاء اللہ وہ لوگ ہیں جو ایمان اور تقوی کی صفات رکھتے ہوں ان کی خاص صفت ہوگی کہ انہیں نہ آئندہ کا کوئی خوف ہوگا، اور نہ ماضی کی کسی بات کا کوئی غم ہوگا۔ کہنے کو یہ مختصر سی بات ہے، لیکن دیکھا جائے تو یہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ دنیا میں اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ دنیا میں ہر انسان کو، خواہ وہ کتنا خوشحال ہو، ہر وقت مستقبل کا کوئی نہ کوئی خوف اور ماضی کا کوئی نہ کوئی رنج پریشان کرتا ہی رہتا ہے۔ یہ نعمت صرف جنت ہی میں حاصل ہوگی کہ انسان ہر طرح کے خوف اور صدمے سے بالکل آزاد ہوجائے گا (توضیح القرآن)
اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے اور بھی مطالب بیان فرمائے ہیں کہ :
اولیاء کی یہ شان ہوگی کہ مستقبل میں انہیں عذاب کا خوف نہ ہو گا اور نہ موت کے وقت وہ غمگین ہوں گے ۔
قیامت کے دن ان پر نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ اس دن یہ غمگین ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ولیوں کو دنیا میں ان چیزوں سے محفوظ فرما دیا ہے کہ جو آخرت میں خوف اور غم کا باعث بنتی ہیں ۔ (تفسیر جلالین )
اسی طرح اس آیت مبارکہ میں اولیاء اللہ کی کی دو خاص علامتیں بیان کی گئی ہیں۔
پہلی علامت ولی کی یہ بتائ گئ کہ : ولی وہ ہے جو ایمان کے ساتھ مُتَّصِف ہو۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ صحیح اعتقاد رکھتا ہوجو قَطعی دلائل پر مبنی ہے ۔
ولی کی دوسری علامت یہ ہے کہ :ولی متقی ہو۔ تقویٰ کا معنی یہ ہے کہ جن کاموں کو کرنے کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا انہیں بجالائے اور جن کاموں سے منع کیا ہے ان سے اِجتناب کرے۔
(تفسیر جلالین)
ان دو صفات کے بغیر کوئی بھی شخص
ولی نہیں بن سکتا ہے۔اگر کوئی شخص مؤمن نہیں ہے تو وہ ہرگز ولی نہیں ہے اور اگر کوئی شخص مؤمن ہے لیکن اس کے اندر تقوى نہیں ہے تو وہ بھی ولی نہیں ہے ۔ ولی کے لیے دونوں صفات کا ایک ساتھ پایا جانا ضروری ہے ۔ یہی ولایت کی نشانیاں اور علامات ہیں ۔
انبیاء کرام و اولیاء عظام وہ مبارک و برگزیدہ شخصیات ہیں جن کے نقشِ قدم پر چلنے کو ہدایت کا راستہ بتایا گیا ، جن کے راستے کو صراط مستقیم کے لقب سے سرفراز کیا گیا ، اور ان پر اللہ تبارک و تعالی نے انعام فرمایا۔ قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالی نے ایک جامع اور اہم ترین دعا جو انسانوں کو سکھلائی جس سے کوئی فرد بے نیاز نہیں ہو سکتا، دین اور دنیا دونوں میں صراط مستقیم کے بغیر کامیابی نہیں مل سکتی، وہ دعاء یہ ہے اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ (الفاتحہ:۵)
اے اللہ ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرما ۔
اور وہ راستہ کونسا ہے اس کی نشاندہی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ (الفاتحہ:٧)
ان لوگوں کے راستے کی ہدایت جن پر تو نے انعام کیا۔
جن لوگوں پر اللہ تعالی کا انعام ہوا اس کی تفصیل ایک دوسری آیت میں اس طرح آئی ہے
فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیۡقِیۡنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا (النساء:٦٩)
یعنی وہ لوگ جن پر اللہ تعالی کا انعام ہوا ۔ وہ انبیاء، صدیقین،شہداء اور صالحین ہیں۔ مقبولان بارگاہ الہی کے چار درجات ہیں ، جن میں سب سے اعلی انبیاء علیہم السلام کا ہے اور صدیقین وہ لوگ ہیں جو انبیاء کی امت میں سب سے زیادہ رتبے کے حامل ہیں ، جن میں کمالات باطنی بھی ہوتے ہیں ، عرف میں ان کو اولیاء کہا جاتا ہے ۔ شہدا وہ ہیں جنہوں نے دین کی محبت میں اپنی جان تک دے دی، اور صلحاء وہ ہیں جو شریعت کے مکمل متبع ہوتے ہیں واجبات میں بھی مستحبات میں بھی جن کو عرف میں نیک دیندار کہا جاتا ہے۔( معارف القرآن)
احادیث مبارکہ میں بھی اولیاء کرام کی عظمت بیان کی گئ ہے۔ چنانچہ ایک حدیث قدسی میں اولیا اللہ کی شان اور ان کے ساتھ اللہ تبارک و تعالی کی خاص مدد اور نصرت کا تذکرہ کیا گیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
إِنَّ اللهَ تَعَالَى قَالَ: مَنْ عَادَى لِي وَلِيَّاً فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالحَرْبِ. وَمَا تَقَرَّبَ إِلِيَّ عَبْدِيْ بِشَيءٍ أَحَبَّ إِلِيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُهُ عَلَيْهِ. ولايَزَالُ عَبْدِيْ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِيْ يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِيْ يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِيْ بِهَا. وَلَئِنْ سَأَلَنِيْ لأُعطِيَنَّهُ، وَلَئِنْ اسْتَعَاذَنِيْ لأُعِيْذَنَّهُ (رَوَاهُ اْلبُخَارِيّ)
”اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی اسے میری طرف سے اعلان جنگ ہے اور میرا بندہ جن جن عبادتوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے اور کوئی عبادت مجھ کو اس سے زیادہ پسند نہیں ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے (یعنی فرائض مجھ کو بہت پسند ہیں جیسے نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ) اور میرا بندہ فرض ادا کرنے کے بعد نفل عبادتیں کر کے مجھ سے اتنا نزدیک ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔ پھر جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں، اگر وہ کسی دشمن یا شیطان سے میری پناہ مانگتا ہے تو میں اسے محفوظ رکھتا ہوں۔
مذکورہ بالا قرآنی آیات اور احادیث سے اولیاء کرام کی عظمت اور ان کی شان ظاہر ہوتی ہے کہ اولیاء کرام اللہ تبارک وتعالیٰ کے مقرب اور نیک بندے ہیں۔ ان کی پہچان ایمان تقویٰ اطاعت عبادت اخلاص اور اتباع سنت ہےاور اللہ تبارک و تعالی محض اپنے فضل و کرم سے اور ا اپنی قدرت و عطاء سے ایسے نیک بندوں کے ہاتھ پر خلاف عادت غیر معمولی امور کا اظہار فرماتے ہیں جسے کرامات اولیاء کہا جاتا ہے
کرامات اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ان کے ہاتھ پر ظاہر ہونے والے غیر معمولی واقعات ہیں، مگر ولی کی اصل عظمت کرامت نہیں بلکہ تقویٰ اور شریعت کی پابندی ہے۔
چنانچہ اولیاء اللہ کےاس قافلے کے سرخیل آسمان ولایت کے آفتاب و مہتاب میں ایک اہم نام پیران پیر سیدنا حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ علیہ کا بھی ہے
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کی حیات وتعلیمات
پیران پیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ جیلانی رحمہ اللہ کی جلیل القدر، عظیم المرتبت شخصیت سے لاکھوں مسلمان والہانہ عقیدت رکھتے ہیں، دعوت و اصلاح، تجدید و احیائے دین کے سلسلے میں آپ نے جو عظیم الشان خدمات انجام دی ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں ۔آپ کی سیرت و زندگی کو پڑھنے سے نہ صرف ایمانی کیفیت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اتباع سنت کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے۔
پیران پیرحضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت بغداد کے ایک علاقے گیلان میں 470/ہجری میں ہوئ ،اور آپ کا نسب دس واسطوں سے والدہ ماجدہ کی جانب سے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے ملتا ہےاور والدبزرگوار حضرت ابو صالح موسی کی نسبت سے حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے، آپ کا پورانام عبدالقادر بن ابو صالح عبداللہ جیلانی ہے، آپؒ مسلکا حنبلی مسلک کے پیروکار تھے اور اعتقادا اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھتے تھے ، آپ بچپن میں ہی یتیم ہو گئے تھے ، آپ نے اپنی والدہ ماجدہ، عالمہ، فاضلہ، زاہدہ، ولیہ کی آغوش میں تربیت پائ اوراٹھارہ برس کی عمر میں تحصیل علوم کی غرض سے بغداد تشریف لے گئے اور عالی ہمتی وبلند حوصلگی کے ساتھ تحصیل علم میں مشغول ہوگئے، ہر علم و فن کو اس کے باکمال اساتذہ کرام سے حاصل کیا، آپ کے اساتذہ میں ابولوفاء ابن عقیل محمد بن الحسن الباقلانی اور ابو زکریا تبریزی جیسے نامور علماء واصحاب فن کا نام نظرآتاہے ۔طریقت کی تعلیم بغداد کے اجلہ مشائخ شیخ ابو الخیر حماد بن مسلم الدباس سے حاصل کی اور قاضی ابو سعید مخرمی سے تکمیل کی اور اجازت حاصل کی۔ (تذکرہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی)
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے بچپن کا ایک مشہور واقعہ
آپ چودہ برس کی عمر میں اعلیٰ تعلیم کے لیے ایک قافلہ کے ساتھ بغداد کو روانہ ہوئے ، والدہ محترمہ نے آپ کے بغل کے نیچے گدڑ ی میں چالیس اشرفیاں رکھ کر سی دیں، تاکہ حفاظت بھی ہوسکے اور بوقت ضرورت کام آ سکیں، راستے میں اچانک ڈاکوؤں کا حملہ ہوا ،جو چیز جس کے ہاتھ آئی ڈاکوئوں نے اس سے بڑی بے دردی سے چھین لیا، اس کے بعد داکوئوں نے آپ سے پوچھا تمہارے پاس کیا ہے؟ آپ نے کہا چالیس اشرفیاں ہیں۔ ڈاکو سمجھے کہ آپ مذاق کررہے ہیں، چنانچہ آپ کو اپنے سردار کے پاس لے گئے اور سارا واقعہ سنایا سردار نے بھی آپ سے یہی پوچھا اور آپ نے اسے بھی یہی جواب دیا۔ اس نے کہا اچھا لاؤ دکھاؤ تو سہی وہ چالیس اشرفیاں کہاں ہیں۔ آپ نے وہ اشرفیاں نکال کے ان کے سامنے رکھ دیں۔ ڈاکو بہت حیران ہوئے۔ سردار نے کہا اے لڑکے تو نے ایسی چھپی ہوئی چیز جو ہزار کوششوں کے باوجود بھی ہمارے ہاتھ نہ آ سکتی تھی کیوں ظاہر کر دی آپ نے جواب دیا میں تعلیم کی غرض سے بغداد جا رہا ہوں یہ اشرفیاں میری والدہ نے سفر کے خرچ کے لیے میری گدڑی میں رکھی تھیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس بات کی بڑی شدت سے تاکید کی کہ بیٹا : ہمیشہ سچ کہنا ، ہمیشہ سچ بولنا ، پھر میں ان چالیس دینار کے لیے کیسے جھوٹ بولتا؟ یہ سن کر سردار اور ڈاکو اس قددر متاثر ہوے کہ ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا:افسوس!تم نے اپنی ماں کا عہد نہیں توڑا اور میں اتنی مدت سے اپنے اللہ کا عہد توڑ رہا ہوں ۔یہ کہہ کر وہ میرے قدموں پر گر پڑے اور توبہ کی ۔ یہاں تک کہ یہ لوگ چوروں اور ڈاکوئوں کی صف سے نکل کر اللہ کے دوستوں میں شمار ہوگئے۔(غنیۃ الطالبین)
حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب تاریخ دعوت و عزیمت میں شیخ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
شیخ کی کرامات حد تواتر کو پہنچ گئی ہیں ، ان میں سب سے بڑی کرامت مردہ دلوں کی مسیحائی تھی ، اللہ تبارک و تعالی نے آپ کے قلب کی توجہ اور زبان کی تاثیر سے لاکھوں مسلمانوں کو نئی زندگی عطا فرمائی۔ آپ کا وجود اسلام کے لیے ایک باد بہاری تھا جنہوں نے دلوں کی قبرستان میں نئی جان ڈال دی اور عالم اسلام میں روحانیت و نورانیت کی ایک نئی لہر پیدا کی۔ (تاریخ دعوت وعزیمت)
حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت اور آپ کی حیات سے توحیدِ خالص، شریعت کی سختی سے پابندی، اخلاص اور باطن کی پاکیزگی کا پیغام ملتا ہے ۔
آپ کی بنیادی تعلیمات میں توحیدِ خالص کا یہ سبق ملتا ہے کہ تمام مخلوق عاجز ہے؛ کوئی کسی کو نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتا، بلکہ سب کچھ اللہ کے حکم اور تصرف سے ہوتا ہے۔
آپ کی تعلیمات میں شریعت و سنت کی پیروی کا یہ سبق ملتا ہے کہ آپ کے نزدیک حقیقی بزرگی اور ولایت کا راستہ کتاب و سنت کی مکمل پیروی، تقویٰ اور حلال روزی کے حصول کے بغیر ناممکن ہے۔
آپ کی تعلیمات میں اخلاص وللہیت کا یہ سبق ملتا ہےکہ آپ نے باطنی امراض اور ریاکاری کی شدید مذمت فرمائی اور نصیحت کی کہ ہر عمل خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے۔
آپ سکھاتے تھے کہ علم کی معراج یہ ہے کہ انسان اپنے علم پر غرور نہ کرے بلکہ اللہ کی معرفت کے سامنے خود کو عاجز اور لاعلم سمجھے۔
اسی طرح آپ نے انسانیت کی خدمت، غریبوں کی دستگیری اور معاشرے کے ہر فرد کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنے کو دین کا اہم حصہ قرار دیا۔
گیارھویں شریف کی حقیقت
یہ ان بزرگوں کی اہم تعلیمات ہیں لیکن آج کے نام نہاد مسلمان ان اولیاء اللہ کے نام پر اور خصوصا حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے طرف نسبت کرتے ہوئے کئی من گھڑت رسومات اور بے جا خرافات کو دین سمجھ کر اور تعلیمات شیخ عبدالقادر جیلانی سمجھ کر انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں اور توحید کے منافی مشرکانہ اعمال کو انجام دیتے ہیں جن کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں خصوصاہر قمری مہینے کی گیارہویں تاریخ کو چھوٹی گیاہویں اور ماہ ربیع الثانی کی گیارہ تاریخ کو سالانہ بڑی گیاہویں کے نام پر حضرت شیخ عبد القادرجیلانی رحمہ اللہ کی نیاز کے نام سے دعوتیں کی جاتی ہیں اور لوگوں بلاکر کھانا کھلایا جاتا چراغاں روشن کئے جاتے ہیں۔
اگر ہم اس سلسلے میں شریعت اسلامیہ پر نظر ڈالیں اور ایک منصفانہ و تحقیقانہ جائزہ لیں، تو یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ چھٹی صدی میں پیدا ہوئے۔ ظاہر ہے کہ اس سے پہلے اسلام کی پانچ صدیوں میں ”گیارہویں شریف“ کی رسم یا تقریب کا کہیں نام و نشان نہیں تھا، آپ کے بعد یہ تقریب کب جاری ہوئی؟ اس سلسلے میں تحقیق کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ تیرہویں صدی کے نصف اول تک اہل السنة والجماعة میں گیارھویں کے نام سے کوئی دینی تقریب یا مذہبی رسم کا کوئ نام ونشاں نہیں تھا، بعد کے لوگوں نے اسے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے یوم وفات سے منسوب کر کے منانا شروع کیا تو اس سلسلے میں بھی ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ یقینا حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ ایک بڑے جلیل القدر بزرگ ہیں، لیکن اہل السنة والجماعة کا عقیدہ ہے کہ تمام مخلوق میں انبیاء علیہم السلام کا مرتبہ سب سے بڑا ہے، اور انبیاء میں سب سے افضل حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، پھر خلفاءِ راشدین ہیں اور ان کے بعد عشرہٴ مبشرہ وباقی ماندہ صحابہٴ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا درجہ بدرجہ مقام ہے ہمیں غور کرنا چاہیے کہ انبیاء اور صحابہ جیسی مقدس ہستیوں کا ’یومِ وفات‘ منانے کا شریعت نے کوئ حکم نہیں دیا تو شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ جیسے ایک ولی کا یومِ وفات منانے کا کیا مطلب؟
ویسے بھی دن منانا ہر ایک کے لیے ممکن نہیں؛ کیوں کہ مراتب ودرجات کا لحاظ کرکے سب سے پہلے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین-ہزاروں کی تعداد میں ہیں اور سال کے کل ایام تین سو ساٹھ ہیں، تو سب کے ایام وفات منانے کے لیے مزید دن کہاں سے لائیں گے؟ اور انبیاء کرام علیھم السلام وصحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو چھوڑ کر ان سے کم اور نیچے کے درجے والے بزرگوں کے دن منائے جائیں تو یہ انبیا علیہم السلام و صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مراتب میں رخنہ اندازی ہے (ملخص ماہنامہ دارالعلوم دیوبند)
اس سلسلے میں حضرات علماء کرام نے امت کی بہترین رہنمائی فرمائی ہے جن میں سے ایک فتوی حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ کا یہ ہے کہ:
گیارہویں کی نیاز سے اگر مقصود ایصال ِ ثواب ہے تو، اس کے لیے گیارہویں تاریخ کی تعیین شرعی نہیں ۔ نیز حضرت غوث الاعظم رحمہ اللہ کی(کوئی) تخصیص نہیں۔تمام اولیاء ِکرام رحمہم اللہ اور صحابہٴ عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کے مستحق ہیں ۔ سال کے جن دنوں میں میسر ہو اور جو کچھ میسر ہو، اور جو کچھ صدقہ کر دیا جائے ، اور اس کا ثواب بزرگان ِ دین اور اموات ِ مسلمین کو بخش دیا جائے ۔ فقراء اس کھانے کو کھا سکتے ہیں ، امراء اور صاحب ِ نصاب نہیں کھا سکتے؛ کیوں کہ یہ ایصال ِ ثواب کے لیے بطور ِ صدقہ ہے ۔( کفایت المفتی : ۱ / ۱۶۶)
(مستفاد ماہنامہ دارالعلوم دیوبند)
اللہ تعالی ہم سب کو اور تمام امت مسلمہ کو ان بزرگوں کی صحیح تعلیمات پر عمل کرنے اور بدعات و خرافات سے بچنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین یا رب العالمین