علم و تدریس کی دنیا کی ایک عظیم شخصیت کی وفات .
مولانا سعید الرحمٰن اعظمی کی وفات پر مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی کا اظہارِ تعزیت
حیدرآباد،8اکٹوبر(پریس نوٹ ) مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ وناظم المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد نے حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی سانحہ ارتحال پر اپنے تعزیتی بیان میں کہا : حضرت مولانا سعید الرحمٰن اعظمی صرف ایک استاد نہیں؛ بلکہ استاذ الاساتذہ تھے، کئی نسلوں کو ان سے کسب فیض کا موقع ملا تھا، علم و ادب سے ان کا تعلق تو اپنی جگہ پوری دنیا میں تسلیم شدہ ہے ہی؛ لیکن ان کا بڑا اہم وصف قرآن مجید سے تعلق اور تکبیر اولیٰ کا اہتمام تھا، ہم لوگوں نے ان کو ندوہ آتے آتے جاتے بھی دیکھا، اکثر و بیشتر وہ تلاوت میں مشغول ہوتے، ہمیشہ تکبیر اولیٰ کا اہتمام فرماتے اور آخر کے چند سالوں کے سوا ایک زمانے تک جمعہ کا خطبہ بھی ان سے متعلق تھا، اور وہ صرف ایک روایتی خطبہ نہیں ہوتا؛ بلکہ اپنے وقت کی ضرورتوں سے ہم آہنگ اور بڑا اہم خطبہ ہوتا، مولانا کی ایک قابل رشک اور نئی نسلوں کے لئے اسوہ یہ بات تھی کہ وہ اپنے اوقات کے بے حد پابند تھے، تنظیم اوقات اور ہر کام کو اس کے مقررہ وقت پر انجام دینا ان کی ایسی خصوصیت تھی، جو بہت مشکل سے آج کل لوگوں میں ہوتی ہے، ان سے ملاقات کے لئے جوائن کے دفتر کے اوقات تھے، ان اوقات میں وہاں پہنچ جانا ہی کافی تھا؛ اسی لئے اُن کے کام میں بڑی برکت تھی، اللہ تعالیٰ نے انہیں بلند اخلاق سے نوازا تھا، دینی اداروں کے ساتھ ان کی محبت اور بالخصوص نوخیز دینی درسگاہوں کے ساتھ ان کی شفقت اپنی جگہ ایک مثال تھی، اس حقیر کا بھی ان سے طویل عرصے سے تعلق رہا اور حضرت مولانا کی خواہش پر اس نے ان کی دو کتابوں پر پیش لفظ لکھنے کی بھی جسارت کی، جب اس حقیر نے المعهد العالی الاسلامی حیدر آباد کی بنیاد رکھی تو اول دن سے انہوں نے اس کی بے حد حوصلہ افزائی کی اور اپنے قلم سے اور اپنے تعلقات سے اس کو تقویت پہنچائی، اور غائبانہ بھی اس کا ذکر خیر کرتے رہے، بعد میں ندوی فضلاء کو یہاں داخلہ لینے اور تخصیص کرنے پر متوجہ کیا، اس وقت میں مدینہ منورہ میں ہوں اور مسجد نبوی کے مقدس صحن میں ہوں تو حضرت کی وفات کی اطلاع ملی، فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ نماز جنازہ میں تو حاضر نہیں ہو سکتا تھا؛ لیکن یہیں سے دعاؤں اور ایصال ثواب کا اہتمام کیا گیا اور ابھی بھی اہتمام کر رہا ہوں، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مولانا کی بال بال مغفرت فرمائے اور ان کے فیض کو ان کے شاگردوں کے ذریعے جاری رکھے اور عام و تمام فرمائے، اور ان سب کو ان کے لئے صدقہ جاریہ بنائے۔