قتل کے بڑھتے واقعات اور معاشرے پر اس کے سنگین اثرات!
از قلم: مفتی احسان شاہ قاسمی نرمل
انسانی زندگی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے۔ یہ زندگی کسی انسان کی ذاتی ملکیت نہیں کہ جب چاہے اسے ختم کردے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ جس طرح انسان اپنے مال، زمین اور جائیداد کے بارے میں دوسرے کے حق پر دست درازی نہیں کرسکتا، اسی طرح کسی بے گناہ انسان کی جان لینے کا بھی اسے کوئی اختیار نہیں۔ اسلام نے انسانی جان کو غیر معمولی تقدس عطا کیا ہے۔ قرآنِ کریم نے فرمایا: وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللّٰهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ’’اور اس جان کو جسے اللہ نے قابل حرمت قرار دیا ہے، ناحق قتل نہ کرو۔‘‘ ( الانعام: 151) اور ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دے دیا۔ قرآنِ کریم کا اعلان ہے: مِنْ أَجْلِ ذٰلِكَ كَتَبْنَا عَلَىٰ بَنِيْ إِسْرَائِيْلَ أَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا ۖ وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيْعًا. (المائدہ: 32) ترجمہ از بیان القرآن : "اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر (تورات میں) یہ بات لکھ دی تھی کہ جس کسی نے کسی انسان کو قتل کیا بغیر کسی قتل کے قصاص کے یا بغیر زمین میں فساد پھیلانے (کے جرم کی سزا) کے گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے اس (کسی ایک انسان) کی جان بچائی تو گویا اس نے پوری نوع انسانی کو زندہ کردیا ” یہ آیت انسانی جان کی عظمت کا ایسا عالمگیر منشور ہے جس کی نظیر انسانی معاشرتی تاریخ میں مشکل سے ملتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قتل صرف ایک انسان کا خاتمہ نہیں؛ یہ کئی زندگیوں کو زخمی کردینے کا نام ہے۔ دیکھنے میں تو ایک شخص مرتا ہے، مگر اُس کے ساتھ ممتا کی ایک دنیا ویران ہوجاتی ہے، اُس کی بیوی کی امیدیں مرجاتی ہیں، اُس کے بچوں کا اطمینان مرجاتا ہے، اُس کے والد کا بڑھاپا اجڑ جاتا ہے، اُس کے بہن بھائیوں کی زندگی میں ایک ایسا خلا پیدا ہوجاتا ہے جو کسی دولت سے پُر نہیں ہوسکتا، اس طرح کسی خاندان کی معاشی بنیاد لرز جاتی ہے،جس کے نتیجے میں بچوں کی تعلیم رک سکتی ہے، گھر کے مستقبل کے منصوبے بکھر سکتے ہیں۔ اور دوسری طرف قاتل بھی کسی خاندان کا فرد ہوتا ہے تو ایک لمحے کی بے قابو کیفیت اس کے اپنے گھر کو بھی مقدمات، قید، غربت، رسوائی، انتقام اور عمر بھر کے پچھتاوے میں دھکیل سکتی ہے۔ قرآن نے باہمی قتل کے دروازے بند کردیے، اسلام نے مسلمانوں کو باہمی خونریزی سے سختی سے روکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهٗ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهٗ وَأَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيمًا۔(النساء: 93) ’’اور جو کسی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے، وہ اس میں ہمیشہ رہے گا، اللہ اس پر غضب ناک ہوگا، اس پر لعنت کرے گا اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘ یہ وعید انسان کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہے۔ جس جرم کے بارے میں اللہ تعالیٰ جہنم، غضب، لعنت اور عذابِ عظیم جیسے الفاظ استعمال فرمائے، اس جرم کی سنگینی کا اندازہ کون نہیں کرسکتا؟ اگر یہ آیت دل پر نقش ہوجائے تو ہاتھ میں اٹھا ہوا ہتھیار نیچے آسکتا ہے، غصے میں اٹھا ہوا ہاتھ رک سکتا ہے اور زبان سے نکلنے والی دھمکی واپس لی جاسکتی ہے
جان لینا آسان، واپس لانا ناممکن
دنیا میں بعض چیزیں ایسی ہیں جو چھن جائیں تو دوبارہ حاصل ہوسکتی ہیں۔ مال چلا جائے تو دوبارہ کمایا جاسکتا ہے۔کاروبار ختم ہوجائے تو دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے۔ گھر تباہ ہوجائے تو دوبارہ تعمیر ہوسکتا ہے۔ رشتہ ٹوٹ جائے تو کبھی کبھی دوبارہ جوڑا جاسکتا ہے؛مگر انسان کی جان؟ وہ ایک مرتبہ جسم سے نکل جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے واپس نہیں لاسکتی؛ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے انسانی جان کی حرمت کو انتہائی مؤثر انداز میں واضح فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ» (ترمزی، حديث نمبر:1395) یعنی ایک مسلمان کی ناحق جان لینے کے مقابلے میں پوری دنیا کا ختم ہوجانا اللہ تعالیٰ کے نزدیک معمولی ہے۔ یہ نبوی فرمان اس حقیقت کا اعلان ہے کہ مسلمان کی نگاہ میں انسانی جان دنیا کے مال و متاع سے کہیں زیادہ قیمتی ہونی چاہیے۔
قیامت میں سب سے پہلے خون کا فیصلہ
قتلِ ناحق کی سنگینی کا اندازہ اس حدیث سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فِي الدِّمَاءِ» ’’قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون کے معاملات کا فیصلہ کیا جائے گا۔‘‘(صحیح بخاری 6875) ذرا تصور کیجیے! قیامت کا دن ہے، دنیا کے تمام جھگڑے ختم ہوچکے ہیں، دولت، منصب، طاقت، تعلقات اور سفارشیں بے معنی ہوچکی ہیں، ہر شخص اپنے اعمال کی فکر میں ہے، اور قتل کرنے والے سے کہا جارہا ہے کہ مقتول جس کو قتل کیا ہے اس کی جان کا عوض پیش کرو تو سوچیے قاتل کے لیے یہ مطالبہ اور یہ منظر کس قدر خوفناک ہوگا؟؟ لہّٰذا اے بے رحم انسان! تو دنیا میں کسی انسان کی جان لیتے وقت اس دن کو کیوں بھلا دیتا ہے؟ جب ہاتھ نہیں، اعمال بولیں گے؛ جب دنیا کی دلیلیں ختم ہوجائیں گی؛ جب مقتول کا خون ایک سوال بن کر سامنے آئے گا ؛ اور جب دولت، منصب، تعلقات اور طاقت سب بے حیثیت ہوجائیں گے۔نیز اسلام صرف قتل کے انجام سے نہیں ڈراتا بلکہ اس ذہنیت کی بھی اصلاح کرتا ہے جو قتل تک پہنچاتی ہے، چنانچہ اس حوالے سے رسول اللہ ﷺ کا اس فرمان پر غورکیجیے آپ نے ارشاد فرمایا: «إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ» (صحیح البخاري، حديث نمبر:6533) یعنی جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے کے مقابل ہوں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں ہیں، صحابہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! قاتل تو سمجھ میں آتا ہے، مقتول کیوں؟آپ ﷺ نے فرمایا:«إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ» ’’اس لیے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا خواہش مند تھا۔‘‘
قتل کے اسباب: ایک گہرا معاشرتی تجزیہ!
قتل عموماً ایک لمحے میں واقع ہوتا ہے، لیکن اس کے اسباب اکثر ایک لمحے میں پیدا نہیں ہوتے۔، بات چند الفاظ سے شروع ہوتی ہے، انا اسے بڑھاتی ہے، غصہ اسے بھڑکاتا ہے، دوست یا رشتہ دار کبھی کبھی مزید اشتعال دلاتے ہیں، پھر ہاتھا پائی ہوتی ہے، کوئی ہتھیار اٹھتا ہے، اور چند سیکنڈ میں ایک زندہ انسان بے جان جسم بن جاتا ہے، قابلِ غور بات ہے کہ ایک انسان کے ہاتھ میں ہتھیار اچانک آجاتا ہے، مگر اس ہتھیار کو اٹھانے سے پہلے اس کے دل و دماغ میں کئی جذبات، حالات اور محرکات جمع ہوچکے ہوتے ہیں۔ کبھی غصہ آخری چنگاری بنتا ہے، کبھی مال و جائیداد کا تنازع، کبھی انتقام، کبھی ناجائز تعلقات کا پیچیدہ معاملہ، کبھی نشہ، اور کبھی برسوں سے پلتی ہوئی دشمنی!! بڑے افسوس کا مقام ہے کہ وہ مسلم معاشرہ جہاں کبھی ایک انسان کی تکلیف پوری بستی کی تکلیف سمجھی جاتی تھی، وہاں آج چند روپے، چند گز زمین، معمولی تلخ کلامی، ٹوٹی ہوئی انا، خاندانی رنجش یا جذباتی اشتعال یا کسی ناجائز تعلق کی پاداش میں ایک انسان کی زندگی کا چراغ بجھ جاتا ہے۔بالآخر حقیر دنیا کے مفادات کے مقابلے انسانی جان اتنی سستی کیوں ہوگئی ہے؟ دراصل آج کے مشینی دور میں انسان نے مال کی قیمت پہچان لی، مگر انسانیت کی قیمت بھول گیا؛ جائیداد کے کاغذ سنبھال لیے، مگر رشتوں کی حرمت کھو دی؛ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا سیکھ لیا، مگر دوسرے کی زندگی کے حق کو بھلا دیا، یہی وہ مقام ہے جہاں معاشرہ صرف قانون کی خلاف ورزی کا نہیں بلکہ اخلاقی زوال کا شکار ہوتا ہے۔ آج کے انسان نے جب مال کو مقصدِ زندگی بنالیاہے توزمین کے چند گز، دکان کے چند فٹ، وراثت کا ایک حصہ، لین دین کی معمولی رقم، کاروباری شراکت کا اختلاف، اور کبھی صرف چند سخت جملے! یہ سب چیزیں بعض اوقات انسان کو اس مقام تک پہنچا دیتی ہیں جہاں سامنے کھڑا انسان اسے انسان نہیں بلکہ رکاوٹ دکھائی دینے لگتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں ضمیر مرنے لگتا ہے۔ اور جب ضمیر مرجائے تو انسان کی جان بھی سستی ہوجاتی ہے۔یاد رکھیے! مال انسان کے لیے ہے، انسان مال کے لیے نہیں، جس مال کے لیے بھائی بھائی کا دشمن بن جائے، باپ بیٹے سے لڑنے لگے، پڑوسی پڑوسی کا خون کرنے پر آمادہ ہوجائے، وہ مال نعمت نہیں بلکہ آزمائش بن چکا ہے۔
خوفِ خدا: خونریزی سے بچنے کی سب سے بڑی ضمانت
یہ بات اچھی ذہن نشین کرلیجیے کہ قانون کا خوف انسان کو جرم سے تو روک سکتا ہے، مگر ہر جگہ پولیس موجود نہیں ہوتی، عدالت کا خوف روک سکتا ہے،؛ مگر ہر جرم کے وقت کوئی عدالت موجود نہیں ہوتی، لوگوں کا خوف روک سکتا ہے؛ مگر انسان تنہائی میں بھی جرم کرسکتا ہے۔اصل روکنے والی قوت خوفِ خدا ہے، اس بات کا احساس کہ میرے ہاتھ کا ہر وار، میری زبان کا ہر لفظ اور میرے دل کا ہر ارادہ اس کے علم میں ہے، ایسا یقین کہ اگر دنیا کی عدالت سے بچ بھی گیا تو آخرت کی عدالت سے نہیں بچ سکتا۔ اس لیے اس حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ قتل کی روک تھام صرف قتل کے بعد سزا دینے سے نہیں ہوگی؛ قتل تک پہنچانے والے راستوں کو بھی بند کرنا ہوگا۔ آئیے اپنے گھروں سے اس اصلاح کا آغاز کریں، اپنے بچوں کو سکھائیں کہ غصہ بہادری نہیں؛ ضبط بہادری ہے۔ انہیں بتائیں کہ دولت نعمت ہے، معبود نہیں۔انہیں سمجھائیں کہ ناجائَز تعلقات خواہ کتنے ہی دلکش کیوں نہ ہوں، اس کے پیچھے گھروں کی بربادی اور فتنوں کے دروازے کھل سکتے ہیں۔انہیں یہ بھی سکھائیں کہ جس مسئلے کا حل صلح سے نکل سکتا ہو، اسے خونریزی تک پہنچانا عقل نہیں؛ جس حق کے لیے عدالت کا دروازہ کھلا ہو، اس کے لیے ہتھیار اٹھانا انصاف نہیں؛ اور جس غصے کو چند لمحوں کے صبر سے ٹالا جاسکتا ہو، اس کے ہاتھوں کسی انسان کی جان لے لینا ایسی قیمت ہے جسے کوئی دنیاوی فائدہ پورا نہیں کرسکتا۔اور خود بھی یہ عہد کریں کہ کسی اشتعال انگیز لمحے میں ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس کا ماتم پوری زندگی کرنا پڑے؛ کیونکہ زندگی بہت مختصر ہے، مگر ایک قتل کا دکھ بہت طویل۔ لہٰذا اپنے دل میں خوفِ خدا پیدا کیجیے، اپنی زبان کو قابو میں رکھیے، اپنے غصے کو شکست دیجیے، اپنے معاملات میں عدل اختیار کیجیے، اختلاف ہو تو صلح کیجیے، حق تلفی ہو تو قانونی راستہ اپنائیے، اور جہاں ممکن ہو معاف کردیجیے۔شاید آپ کا ایک قدم پیچھے ہٹنا کسی انسان کی جان بچا دے، شاید آپ کی ایک معافی دو خاندانوں کو دشمنی سے بچا دے، شاید آپ کا ایک صبر کسی بچے کو یتیمی سے محفوظ کر دے، اور شاید کسی انسان کی جان بچانے کا یہی عمل قیامت کے دن آپ کے لیے نجات کا سبب بن جائے۔تو آئیے ایسے معاشرے کی تعمیر کریں جہاں انسان کی جان مال سے زیادہ قیمتی، رشتہ انا سے زیادہ محترم، معافی انتقام سے زیادہ محبوب، اور خوفِ خدا ہر غصے سے زیادہ طاقتور ہو۔قتل کے خاتمے کا آغاز دنیا کی عدالت سے پہلے ضمیر کی عدالت سے ہوتا ہے؛ جب انسان کے اندر یہ شعور زندہ ہوجائے کہ ’’ یہ قتل میں نہیں کرسکتا، میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے‘‘ تو شاید وہ آخری لمحہ آنے سے پہلے ہی رک جائےاور ایک جان، ایک خاندان اور شاید کئی نسلیں برباد ہونے سے بچ جائیں۔