سناتن دھرمی سنگھیوں کے بہت بڑے جگن ناتھ دھام راس منڈل کے تینوں بڑے بھگوان بیمار ہیں

سناتن دھرمی سنگھیوں کے بہت بڑے جگن ناتھ دھام راس منڈل کے تینوں بڑے بھگوان بیمار ہیں

سناتن دھرمی سنگھیوں کے بہت بڑے جگن ناتھ دھام راس منڈل کے تینوں بڑے بھگوان بیمار ہیں

ازقلم:نقاش نائطی
+919448000010

جونپور کے شریک جگن ناتھ دھام راس منڈل میں, منگل کو شریک جگناتھ,شری بل بھدری, اور دیوی سبھدرا کی مورتیوں کا ضلع کے سینئر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے طبی معائنہ کیا اور بتایا کہ بہت زیادہ اشنان غسل دئیے جانے کی وجہ سے تینوں بھگوان بیمار پڑچکے ہیں۔ کوئی بتائے یہ ایسے کیسے بھگوان ہیں جو خود بیمار چل رہے ہیں اور انسانی ڈاکٹر انکا علاج کررہے ہیں؟ سناتن دھرم کو خود سناتن دھرمی بدنام و رسوا کروانے کے مواقع دے رہے ہیں۔
یہ تو ایسا ہی ہوا آسمانی دھرم یہودی عیسائی اور اسلام کے ماننے والوں کے جد امجد آج سے 4ہزار سال پرانے حضرت ابراھیم علیہ السلام نے جو حکومتی سنگتراش آذر کے گھر پیدا ہوئے تھے تو ہوش سنبھالتے ہوئے انہوں نے اپنے ابا حضور کے ہاتھوں تراشی مورتیوں کو, ان کی قوم کے ہاتھوں پوجے جاتے اور انہیں بھگوان سمجھے ان سے اپنی اور اپنی اولاد کی منو کامنائیں, اچھائی بھلائی مانگتے دیکھ, انہیں صدا تعجب ہوتا تھا کہ جن پھتر کی مورتیوں کو انکا باپ آذر ہزاروں بار ہتھوڑا چینی سے مارمار اسے توڑے پھوڑے کائے, انہیں سنوار, خوبصورت بے جان مورتی بناتا تھا وہ اپنے اوپر بیٹھی گندھی مکھیوں کو خود پر سے اڑا نہ سکنے کے باوجود,اور انکے سامنے رکھے پرساد کو کھانے کی بات تو دور, اس پر بھنبھاتی گندی مکھیوں تک کو اڑا نہیں پاتے ہوں, وہ کیسے ہزاروں لوگوں کی منو کامنائیں پوری کرنے لائق بھگوان ایشور بن سکتے ہیں؟ آخر ایک دن صبح صبح کسی کے مندر میں آنے سے پہلے, تمام چھوٹی بڑی پھتر کی مورتیوں کو کلہاڑی سے مار توڑ اس کلہاڑی کو بڑی مورتی کے گلے میں ٹانگ,چپکے سے مندر سے باہر چلے گئے تھے۔ اور جب لوگوں نے ٹوٹی ہوئی مورتیوں کو دیکھ یہ پوچھنا شروع کیا کہ کس نے یہ مورتی توڑنے پاپ کا کام کیا ہے؟ انہوں نے پیچھے سے آ چپکے سے کہہ دیا کہ دیگر مورتیوں کو توڑنے کے لئے استعمال کلہاڑی چونکہ بھگوان کی بڑی مورتی کے گلے میں ہی ہے, اس لئے بڑے بھگوان سے ہی پوچھا جائے کہ آخر کس نے دیگر مورتیوں کو توڑا ہے یقینا” بڑے بھگوان نے دوسری مورتیوں کو توڑنے والے آدھرمی کو ضرور دیکھا ہوگا۔ تمام شردھالو انسان خوب اچھی طرح جانتےسمجھتے اور اس کا ادراک رکھتے تھے کہ یقینا” ان کے بڑے بھگوان کی بے جان پھتر کی مورتی, کوئی جواب دینے لائق نہیں ہے, اس لئے انہوں نے یہودیوں عیسائیوں کے سب سے بڑی ایشور کے نبی یعنی رشی منی حضرت ابراھیم علیہ السلام پر دیگر مورتیوں کو توڑنے کا الزام لگا اپنے راجہ نمرود سے ابراھیم علیہ السلام کو سزا دینے کی مانگ کی اور راجہ نمرود نے ابراھیم کو زندہ جلانے کے لئے جنگل میں بہت بڑا آگ کا آلاؤ تیار کروایا اور پاس کی پہاڑی چٹان پر سے بہت بڑے لکڑی کے منجنیق میں حضرت ابراھیم کو بٹھاکر, آگ کے الاؤ کے درمیان پھینکوا دیا تھا
یہ کہانی رامائن جیسی تصوراتی کہانی نہیں ہے, یہ یہودی عیسائی اور ہم مسلمانوں میں,نہ صرف پشت درپشت چلی آئی ہے بالکہ یہودیت عیسائیت کے ساتھ اسلام کے آسمانی کتاب قرآن مجید میں بھی تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔ کہ کس طرح راجہ نمرود نے حضرت ابراھیم علیہ السلام کو بہت بڑے آک کے الاؤ میں پھینکوا دیا دیا تھا اور یہودی عیسائی اور نہ صرف ہم مسلمانوں کے خالق کائینات نے,بالکہ ہزاروں سال قبل والے آسمانی ویدک سناتن دھرمیوں کے ایشور اللہ نے, رشی منی حضرت ابراھیم علیہ السلام کے لئے اس بڑے آگ کے آلاؤ کو, تھنڈے پانی کی نہر کے ساتھ جنت یا بہشت کے باغ کے ایک حصہ میں تبدیل کردیا تھا۔ یہ کوئی تلسی داس کی لکھی تخیلاتی کہانی نہیں ہے بالکہ ایشور اللہ نےاس ابراھیم والے واقعہ کو تاقیامت تک کے آدھرمی انسانون کے لئے,ایک کھلا سبق بنائے,اس جلے ہوئے جنگل سے گزرتے چشمے والے گلستان کو جنوب مشرقی ترکی میں واقع Şanlıurfa (تاریخی طور پر عرفہ کے نام سے جانا جاتا ہے) میں واقع ہے۔ Balıklıgöl (ابراہیم کا تالاب) کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ افسانوی مقام آج بھی موجود ہے۔ روایت کے مطابق، جب بادشاہ نمرود نے ابراہیم کو زندہ جلاکر مارنےکی کوشش کی، تو ایشور اللہ نے آگ کے شعلوں کو پانی میں اور جلتی ہوئی لکڑیوں کو مقدس کارپ کی جھیل میں بدل دیا۔ اس سائٹ میں دو عکاسی کرنے والے تالاب، ایک پارک، اور ملحقہ Mevlid-i Halil Cave ہے، جس کے بارے میں بڑے پیمانے پر خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پیغمبر کی جائے پیدائش ہے۔ اگر آپ دورہ کےے خود اپنی انکھوں سے ان حقائق کا مشاہدہ کرنے کا ارادہ کر رہے ہیں، تو آپ کو ترکی کے بڑے شہروں سے Şanlıurfa کا سفر کرنے کے طریقے کے بارے میں مزید معلومات دے سکتے ہیں۔ قریب کے دیگر اہم پیغمبرانہ مقامات اور اس تاریخی تجربے کو قریب سے دیکھتے ہوئے اپنے ایشور اللہ کی قربت حاصل کرنے کا یہ بہترین وقت ہے
https://www.google.com/search?q=Prophhet+Abraham+tried+to+be+creminnated+fire+place+is+in+which+part+of+Turki+it+is+yet+there&oq=
عالم انسانیت کےسب سےبڑی سیکیولر جمہوریت بھارت میں ہزاروں سال قبل والے آسمانی ویدک سناتن دھرم, یعنےایک ایشور اللہ کی پوجا ارچنا کرتے وحدانیت والے سناتن دھرم بھارت میں, سناتن ویدک دھرمی تعلیمات کے خلاف کیسے معصوم مذہبی لوگوں کی آستھا سے کھلواڑ کئے,بان ویدک سناتن دھرمیوں کی مذہبی تعلیمات رشی منی منو(حضرت نوح علیہ السلام) سے پہلے والے رشی منی آدم علیہ السلام تک کے تمام انبیاء کی تعلیمات سے پرے, انکے سناتن دھرمی ویدک تعلیمات سے پرے, انہیں بے جان مورتیوں کی پوجا ارچنا کرنے مجبور کیا جاتا ہے اور کروڑوں بھارت واسی ویدک سناتن دھرمیوں کے پوجا ارچنا کے ساتھ دان پیٹیوں میں ڈالی بھگوان کے نام کی دکشنا یا بھکشہ کی بھی چوری ڈکیٹی کئے,ہڑپے, اپنی اولادوں کی عیاشیوں کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ یہ یقینا” سناتن دھرمی ھندوؤں کا اپنا ذاتی معاملہ ہے لیکن آج کے اس سائنٹیفک ترقی پزیر دور میں, جب ہر چیز کا پرمان پترپوچھا جارہا ہے۔اس بھارت ماتا دیاس میں جنمے کئی کئی سو ہزار سالوان سے اس پوتر دھرتی پر رہتے آئے ہم مسلمانوں سےاس پوتر دھرتی کا واسی ہونے کے کاغذ پتر مانگے جارہے ہیں۔ ایشور بھگوان کی پوجا ارچنا بھی ان بے جان پھتروں کی پوجا سے کیا پوری ہوتی بھی ہے یہ دیکھنے یا ثبوت تلاش کرنے کا ادھیکار سناتن دھرمیوں کو کیوں کر نہیں ہے؟ بیسیوں کروڑ سناتن دھرمی ھندو,کیا چند لاکھ بریمنی اہنکار اور انکے دربار اپیوگ کا شکار بنے اپنی گاڑھی کمائی ان گجراتی برہمنوں کے چرنوں میں ارپن کرتے رہینگے؟
بے جان پھتر کی مورتی پوجا کے سلسلے میں ہزاروں سال قبل والے ویدک تعلیمات,کیا کہتی ہیں اسے جاننے کا بھی کروڑوں سناتن دھرمیوں کو کیا حق نہیں ہے؟اسی لئے ہم اپنے بھارت واسی وحدانیت والے سناتن دھرمی بھائی بہنوں سے درخواست التجا کرتے ہیں کہ وہ اپنے رگ وید اتھر وید کے اشلوکوں کے واسطے سے ایشور پرماتما کے دئیے پوجا ارچنا کی ہدایت کے بارے میں خوب اچھی طرح جانیں اپنے ہی رشی منی منو کے سناتن دھرم تعلیمات کوخوب اچھی طرح معلوم کرائیں اور پھرچاہے تو اصلی سناتن دھرمیوں کی طرح مورتی پوجا سے ونچت رہیں یا مورتی پوجا ہی کرتے رہیں یہ انکا اپنا ذاتی دھرمی معاملا ہے۔
رگ وید اتھر وید میں مورتی پوجا سے ونچت رہنے والے اشلوک مندرجہ ذیل ہیں ویدک ادب اور ویدوں کی تعلیمات میں مورتی پوجا (شریک یا مجسم خدا کی پوجا) کی ممانعت یا عدم موجودگی کے حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ آریہ سماج کے بانی سوامی دیانند سرسوتی کے مطابق، ویدوں میں مورتی پوجا کا کوئی ذکر نہیں ہے۔مختلف ویدوں (جیسے کہ یجروید اور اتھروید) کے وہ اشلوک جو اکثر ویدک اسکالرز (خصوصاً آریہ سماج) کی جانب سے خدا کو بے شکل (نراکار) ماننے اور مورتی پوجا کی نفی کے لئے پیش کیے جاتے ہیں، درج ذیل ہیں۔اتھروید اور دیگر ویدوں کے حوالے:-
1۔ یجروید (باب 32، اشلوک 3):-اس اشلوک میں کہا گیا ہے کہ: "خدا کا کوئی عکس یا مجسم صورت نہیں ہے”۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ قادرِ مطلق بے نہ شکل ہے اور اس کی کوئی مادی شکل یا مورت نہیں بنائی جا سکتی۔
2.یجروید (باب 4، اشلوک 9):-یہ اشلوک نراکار (بے شکل) اور ساکار (مادی شکل) دونوں کی تفریق کو واضح کرتا ہے۔ اکثر اس کا حوالہ دے کر سمجھایا جاتا ہے کہ صرف غیر حقیقی، مادی یا بنائی ہوئی چیزوں کی پوجا کرنا انسان کو روحانی تاریکی یا ضلالت گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔
3.اتھروید (کانڈ 10، سوکت 7، منترا 38):اس اشلوک کے ذریعے اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ خدا کی کوئی مماثلت یا شکل نہیں ہے اور وہ تمام کائنات میں ہر جگہ موجود ہے، اس لیے اسے کسی محدود شکل میں قید نہیں کیا جا سکتا۔
4.سویتاسواترا اپنیشد (باب 4، اشلوک 19 تا 20):-یہ ویدانت اور اپنیشد کا حصہ ہے جو ویدوں کے فلسفے کی تشریح کرتے ہیں۔ اس میں واضح درج ہے: "اس (ایشور, پرماتما) کی کوئی مماثلت نہیں ہے، اس کی کوئی مادی شکل نہیں ہے، اور آنکھیں اسے دیکھ نہیں سکتیں۔ "مذکورہ بالا اشلوک اور حوالوں کو ویدک فلسفے کے ماننے والے اس بات کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ اصل ویدک دھرم میں مورت پوجا نہیں، بلکہ واحد اور نراکار خدا کی عبادت شامل ہے۔ تاہم، اس موضوع پر مختلف مکاتبِ فکر کے نظریات میں واضح اختلاف موجود ہے۔ تفصیلی معلومات کے لیے آپ آریہ سماج کے عقائد کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔
چونکہ عالم انسانیت کی سابقہ چار تا پانچ ہزار سال والی تاریخ ,ایک حد تک محفوظ ہے اس اعتبار عیسائیت, یہودیت اور اسلام دھرم کی تاریخ ہم انسانوں کے سامنے ہے اور چونکہ پانچ ہزار سال کی کوئی تاریخ بنو نوع انسانوں کے پاس نہیں ہے اس لئے ہمیں اس سمت مقدس آسمانی کتب توریت انجیل زبور اور قرآن مجید میں دئیے گئے اشاروں کنایوں سے حقائق کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔ قرآن میں پانچ ہزار سال پہلے انسانیت کی رہنمائی کرنے ایشور پرماتما اللہ کی طرف سےدھرتی پر بھیجے گئے ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کے بارے میں بتایا گیا ہے اور تورات انجیل زبور و قرآن مجید کے علاوہ پہلی قوموں پر آسمان سے اتارے گئے مختلف صحوف اولی اور زبر الاولین آسمانی کتب ہدایت و رشد کے بارے میں بتایا گیا ہے اس لئے آج کے ہم مسلمانوں کا فرض اولین ہے کہ ہم حضرت آدم علیہ السلام حضرت نوح علیہ السلام تک کے انبیاء پر ایشور پرماتما اللہ کی طرف سے بھیجے گئے آسمانی مقدس کتب ,صحوف اولی اور زبرالاولین کتابوں کو تلاش کرنے, گر ناکام ہوتے ہوں تو, حضرت آدم علیہ السلام کا نزول سری لنکا کی پہاڑی, ادم الیہ پر ہوا تھا اور آدم ثانی مشہور حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں مشہور جو ہے کہ ھندو قوم کے رشی منی "منو”, پرلئے یا سب سے بڑے سیلاب والے نبی کےامتی ہیں اس لئے ان کے پاس موجود آسمانی مختلف وید گرنتھوں منو اسمرتیوں پر تحقیق کریں اور انکا موازنہ ایشور اللہ کے اپنے حفاظت میں لئے گئے قرآن مجید آیات سے ان اشلوکوں کا موازنہ کریں اور جو مشترک اشلوک قرآنی آیات سے مماثلت پائے جاتے ہیں انہی کو ھندو مسلمانوں کے درمیان مشترک تصور کئے, یہودی مسیحی مسلم امریکی اشتراک "ایبراھیمی ایکورڈ” کی طرح سناتن دھرمی ھندو اور آسمانی قرآنی مسلمان مابین افہام و تفہیم کا مناسب بندوبست کریں تاکہ دونوں مسلمان و سناتن دھرمی مل کر اصلی ایشور پرماتما اللہ کے حقیقی پیغام ہدایت و رشد پر اتفاق کئے, اپنے اپنے ایشور پرماتما اللہ کو راضی کرنے اور اسکے نارجہم سے نجات اور بہشت و جنت کے طلبگار پائے جائیں۔ اس اعتبار آج کے ہم مسلمانوں میں سے مولانا جرجیس جیسےجو علماء کرام سناتن دھرمیوں کے وید گرنتھوں پر خصوصی نظر رکھتے ہیں وہ ھندوؤں کے بھگوان سمجھے جانے والے رام شنکر منو یا نوح علیہ السلام کی طرح ایشور پرماتما اللہ کی طرف سے سناتن دھرمیوں پر آسمان سے بھیجے گئے مقدس نبی ہم تصور کرتے ہیں اور انکی دل سے عزت بھی کرتے ہیں۔ ایشور کے خود ساختہ اوتار مودی مہان کے رام للہ کی مورتی کو چھوٹے بچے کی طرح نئے بھویہ رام مندر میں لے گئے اور اسکی بھویہ مندر میں استھاپنا کئےپران پرسٹھا کئے,جیسا ہم بھگوان رام کی بے توقیری ہتک نہیں کیا کرتے ہیں۔ مولانا جرجیس کی طرف سے بھگوان شنکر و رام کو ایشور پرماتما اللہ کے رشی منی یا نبی پیغمبر تصور کئے انہیں سناتن دھرمی وحدانیت والے مسلمان تصور کرتے ہیں تو اس میں سناتن دھرمیوں کی کوئی بے عزتی یا شرمندگی والا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ اج کے, پندرہ سو سال پرانے تازہ ترین دین اسلام میں آسمانی کتاب قرآن مجید کی حفاظت خود ایشور پرماتما اللہ کے اپنے ذمہ لئے جانے کے باوجود,اور آحادیث مبارکہ پر قرون اولی کے مسلمانوں کی طرف سے, محنت کئے, تمام احادیث کی بہتر سے بہتر درجہ بندی کئے, کمزور و موضوع احادیث کو کھول کھول بتائے تمام احادیث کو محفوظ ترین کئے جانے کے باوجود, کیا دیڑھ ہزار سال کے اندر ہم مسلمانوں میں سے ایک بہت بڑے گروہ نے, اہل سنہ و الھدایا کے نام نامی سے, دین اسلام میں کھلے منع کئے گئے قبر پرستی کو, ھندو بریمنوں کی طرح پیٹ پوجا کا دین اسلام کو ذریعہ کیا نہیں بنایا ہے؟سناتن وحدانیت والا دھرم تو پتہ نہیں کتنے ہزار لاکھ سال پرانا دھرم ہے اگر اس میں ویدک تعلیمات کے خلاف مورتی پوجا شروع کی گئی ہے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟ سناتن دھرمیوں میں مورتی پوجا کی ابتدا کب شروع ہوئی؟ اسکی کوئی تاریخ تو نہیں ہے لیکن سناتن دھرمیوں کے ایشور اللہ کے بھیجے گئے رشی منی منو نے بھی پورے نو سو سال تک سناتن دھرمی ھندوؤں کو مورتی پوجا سے ونچت رکھے "ایک وحدہ و لاشریک” "خدا کا کوئی عکس یا مجسم صورت نہیں ہے” والے ایشور پرماتما کی وحدانیت پوجا کی تعلیمات عام کی تھیں۔ اور جب رشی منی منو کے زمانے میں آئے دھرتی کے سب سے بڑے پرلئے کے بعد مورتی پوجا ختم ہوگئی تھی تب پھر یہودیوں کے رشی منی یا نبی حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے میں سامری نے سونے کا بچھڑا بنا کس طرح بنو اسرائیل میں مورتی پوجا شروع کی تھی اس پر قرآن کریم کی سورۃ طہٰ (آیت 85 سے 88) کے مطابق، جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے گئے، تو اس موقع پر سامری نے زیورات پگھلا کر ایک بچھڑا تیار کیا اور لوگوں سے کہا کہ یہی تمہارا اور موسیٰ کا خدا ہے۔ اس نے اس بچھڑے میں سے بیل کی آواز جیسی آواز بھی نکالی تھی۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام واپس تشریف لائے اور قوم کی اس گمراہی کو دیکھا، تو انہوں نے سامری کو کڑی سرزنش کی، اس کا بچھڑا جلا کر دریا میں بہا دیا، اور اسے معاشرے سے نکال دیا گیا۔اس کے بعد اسی بنو اسرائیل کے ایک طبقہ میں مورتی پوجا جو باقی رہ گئی تھی وہ شاہ نمرود کے زمانے میں اس وقت کے سب سے بڑے بادشاہی بت ساز آذر کے بیٹے حضرت ابراھیم نے 3800 سے 4000 ہزار سال پہلے سناتن دھرمیوں کو مورتی پوجا سے ونچت رکھنے کی کوشش کیا نہیں کی تھیں؟ یہ تو اوصول دنیا ہے زمانے کے تھپیڑوں کو سہتے سہتے, ہر اوصول و ضوابط پر اندھکار کی مٹی دھول جمع ہوئے,صالح معاشرے میں شرک و بدعات و خرافات شروع ہوتی ہی رہتی ہیں اور ہر زمانے میں صراط مستقیم یعنے سیدھے راستے پر چلنے والی دعوت دی جاتی رہی ہے اور جو کوئی بھی ان سے ھدایت پالیتا ہے وہی ایشور اللہ کا پسندیدہ بھگت بن جاتا ہے اور باقی سب ضالين والی گمراہی کے شکار رہ جاتے ہیں۔ بحیثیت ایشور اللہ کے آخری نبی خاتم الانبیاء رحمت اللعالمین محمدمصطفیﷺ کے امتی ہونے کے واسطے سے انکے تفویض کی ہوئی ذمہ داری انسانیت کو نار جہنم سے بچانے کی ہم مسلمانوں میں کوئی مولانا جرجیس جیسے کرتے ہیں تو انکے انداز تخاطب سے ادھرمیوں کو وحدانیت والے سناتن دھرمیوں کو بھڑکانے کا موقع بھلے ہی مل جاتا ہو اور اگر مولانا جرجیس کی کسی بات سے انکے مذہبی جذبات مجروح بھی ہوتے ہوں تو انکئ زبان کاٹنے والے آدھرمیوں کے ہٹلری نازی فرمان سے,حق باتوں سے کب تک سناتن دھرمیوں کو ونچت رکھا جاسکتا ہے؟ چاہئیے تو یہ تھا کہ سناتن دھرمیوں والے سوامی وید گرنتھوں سے،ویدوں اشلوکوں کو سامنے رکھے, مولانا جرجیش کی باتوں کو غلط ٹہرائے، انہیں اپنی غلطی تسلیم کرواتے تو یہ سناتن دھرمیوں کی اصلی جیت ہوتی,وما التوفیق الا باللہ

اس رام راجیہ کے اوصول و ضوابط ہی نرالے

اس سنگھی رام راجیہ میں مذہب کے نام پر ان کی لوٹ کھسوٹ جاری رکھنے کے لئے, کسی معتبر شخص کی کہی ہوئی بات پر تحقیق کرنے کے بجائے, حق گو کی زبان کاٹنے کی دھمکی دی جارہی ہے

مولانا جرجیس انصاری کی جانب سے مبینہ طور پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ بھگوان کرشن ایک مسلمان تھے اور دن میں پانچ بار نماز ادا کرتے تھے، اتر پردیش میں ایک تازہ مذہبی تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ وائرل ریمارکس کی وجہ سے لکھنؤ میں ایف آئی آر درج ہوئی، پولیس نے تحقیقات شروع کی۔

تنازعہ اس وقت بڑھ گیا جب مہامنڈلیشور وشنو داس نے اس ریمارکس کو بھگوان کرشنا کی توہین قرار دیتے ہوئے، مولوی کی زبان "کاٹنے” والے کے لئے ₹ 10 لاکھ انعام کا اعلان کیا۔ حکام اب ممکنہ قانونی کارروائی کے لئے مولوی کے تبصرے اور دیکھنے والے کے بیان دونوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ابن بھٹکلی
https://www.facebook.com/share/p/1B8d41e41g/

https://www.facebook.com/share/p/1Eq4jqAzrN/

https://www.facebook.com/share/p/1EbxuTbJJZ/

Best Regards,

ڈاکٹر محمد فاروق شاہ بندری
المعروف نقاش نائطی/ابن بھٹکلی
Dr. Mohammed Farooque Shahbandri
Well known as Naqash Naity / Ibn e bhatkali
+966 562677707

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے