Breaking
جمعہ. جون 5th, 2026

"یوپی بھگوا دھاری یوگی مہا راج, رام راجیہ حکومت کی اسٹیٹ حکومتی دہشت گردی”

"یوپی بھگوا دھاری یوگی مہا راج, رام راجیہ حکومت کی اسٹیٹ حکومتی دہشت گردی”

"یوپی بھگوا دھاری یوگی مہا راج, رام راجیہ حکومت کی اسٹیٹ حکومتی دہشت گردی”

"یوپی حکومتی 5بلڈؤزر نے,شب کی تاریکی میں  فقط 22 منٹ میں  تقریبا” 42 فٹ اونچی انگریزوں کے وقت تعمیر 200 سال قدیم ازغیب شہید مسجد کو مسمار کر دیا”

وارانسی، 3/ جون (ایجنسی) وارانسی میں گزشتہ شب انتظامیہ نے 200 سال قدیم ازغیب شہید مسجد کو مسمار کر دیا، اور ساتھ ہی وہاں موجود مزار اور قبرستان کے کچھ حصہ کو بھی منہدم کر دیا گیا۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ مسجد کو منہدم کرنے کی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی۔ یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جس کو مسمار کیے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ یعنی بدھ کی صبح جب لوگ اس جگہ سے گزرے تو مسجد اور مزار کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔اسے بھگوا دھاری یوگی مہاراج کے ڈبل انجن رام راجیہ سرکار کی صوبائی حکومتی اسٹیٹ دہشت گردی نہیں ہے تو اور کیا ہے

ہندی نیوز پورٹل ’پربھات خبر‘ نے اپنی ایک پورٹ میں بتایا ہے کہ منگل کی دیر شب تقریباً 12 بجے انتظامیہ کے اعلیٰ افسران 1000 سے زائد جوانوں کے ساتھ ازغیب مسجد کے پاس پہنچے اور علاقہ کا معائنہ کیا۔ ڈی سی پی کاشی گورو بنسوال اور اے ڈی سی پی ویبھو بانگر نے مسجد کے چاروں طرف بیریکیڈنگ کروائی اور لوگوں کی آمد و رفت پر روک لگا دی گئی۔ حتیٰ کہ میڈیا اہلکاروں کو بھی اس جگہ پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ رات کی تاریکی میں خاموشی کے ساتھ یہ کام ہوا، اور جب تک مسجد منہدم ہونے کی خبر لوگوں تک پہنچی، ملبہ بھی وہاں سے ہٹایا جا چکا تھا۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مسجد ریلوے کی زمین پر بنی تھی۔ یہاں کاشی ماڈل ریلوے اسٹیشن بنایا جانا ہے، اسی وجہ سے یہ انہدامی کارروائی انجام دی گئی۔ جو مسجد 200 سو سال قبل انگریزوں کے زمانے میں تعمیر ہوئی تھی تو اب آزادی کے بعد اس زمین کو ریلوے کی زمیں قرار دینا ھندو شدت پسندانہ دہشت گردی نہیں ہے تو اور کیا ہے؟

حالانکہ انتظامیہ نے مسجد منہدم کرنے کے لئے رات کی تاریکی کا انتخاب کرنے کی کوئی آفیشیل وجہ نہیں بتائی۔ پولیس اہلکاروں نے یہ ضرور کہا کہ ٹریفک سے بچنے کے لیے رات میں کارروائی کی گئی۔ راج گھاٹ واقع کاشی ریلوے اسٹیشن کے احاطہ میں موجود اس مسجد کو منہدم کرنے سے پہلے اے سی پی شیوہری مینا نے افسروں کے ساتھ پہنچ کر جائزہ لیا تھا۔ بعد ازاں سخت سیکورٹی میں مزار اور اس کے قریب بنی مسجد کو مسمار کر دیا گیا۔

موصولہ اطلاع کے مطابق بھدؤ چنگی واقع قلعہ کوہنا علاقہ میں ازغیب شہید کی مسجد اور قبرستان کئی سالوں سے تنازعہ کا شکار رہا۔ مسلم فریق کا دعویٰ ہے کہ مسجد 200 سال قدیم تھی۔ مسجد کے متولی شمیم استاد تھے، جن کا 2 ماہ قبل انتقال ہو چکا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ریلوے کی پرانی زمین ہے، جس پر کچھ لوگوں نے ناجائز قبضہ کر پہلے مزار بنائی، اور بعد میں مسجد و قبرستان کی تعمیر کی گئی۔ 2024 میں کاشی ماڈل ریلوے اسٹیشن کا منصوبہ سامنے آیا، جس کے بعد زمین کی پیمائش کرائی گئی اور مسجد کی تعمیر ناجائز قبضہ والی زمین پر ہونے کا پتہ چلا۔ انتظامیہ نے یہ بھی بتایا کہ ریلوے نے زمین خالی کرنے کے لیے کہا، جس کے بعد معاملہ عدالت میں پہنچ گیا۔ حال ہی میں متولی کیس ہار گئے، جس کے بعد ریلوے نے زمین خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا۔ حالانکہ زمین خالی نہیں کی گئی، اور پھر یہ کارروائی کرنی پڑی۔

بعد آزادی طہ شدہ قانون مطابق  جو مذہبی مساجد ومنادر جس جگہ پہلے سے ہے وہ اسی حالت برقرار رہیں گے۔ یہاں تک پاکستان نقل مکانی کر جاتے مسلم علاقوں کی بہت ساری مساجد جو ویران پڑی رہ گئی تھیں اور پنجابی اور  ھندو وہاں بس گئے تھے ان پنجابیوں اور ھندوؤں نے بھی ان مساجد کو بحال رکھا اور انہیں بتدریج مسلمانون کوبیچ دیاہےیا علاقے کے مسلمانوں کےاجتماعی  پاکستان نقل مکانی بعد وہ ھندو خود مساجد کی دیکھ بھال کرتے پائے گئے ہیں ایسے ہی بہار نالندہ  نالندہ ضلع کے گاؤں ماڑی (اسماعیل پور) میں، مقامی ہندو باشندے 200 سال پرانی مسجد کا مکمل انتظام اور حفاظت کر رہے ہیں۔ 1981 میں فسادات کے بعد علاقے کے مسلم خاندانوں کی نقل مکانی کے بعد، ہندو برادری نے ڈھانچے کو برقرار رکھنے، ٹیپ ریکارڈرز کے ذریعے روزانہ اذان (نماز کی اذان) بجانے اور اس جگہ کو ایک مقدس جگہ کے طور پر پیش کرنے کے لیے قدم بڑھایا ہے۔ مقامی ہندو دیہاتیوں کی مسجد کی سرپرستی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک قابل ذکر علامت ہے، جس کی خصوصیت مقامی طور پر ہندو برادری کی کئی مخصوص روایات میں ہوتی ہے۔ مسجد، اس کی ساختی مرمت کے لیے فنڈز فراہم کرتی ہے، اور الیکٹرانک آلات کا استعمال کرتے ہوئے روزانہ پانچ وقت کی اذان دی جاتی ہے۔

ازغیب شہید مسجد وہاں مسلم آبادی رہتے باقاعدہ مسجد مسلمانون کے تصرف میں رہنے کے باوجود,یوگی مہاراج والی رام راجیہ سرکار کی طرف سے اسٹیٹ دہشت گردی کا شکار اس ارغیب شہید مسجد کی  انہدامی کارروائی سے متعلق رپورٹ ’این ڈی ٹی وی‘ پر بھی شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس جگہ ایک ہنومان مندر بھی تھا، اسے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ ’آج تک‘ کی رپورٹ میں بھی مندر منہدم کیے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔۔ اب بھارت مسلمانوں اپنے آپسی شفا اختلافات کو پس پشت رکھے باہم یکجٹ ہوئے یہ سوچنا ہے کہ اگر 200سال قبل تعمیر ارغیب مسجد  ہزار حیلوں بہانوں سے ایسے رام راجیہ یوگی سرکار اسٹیٹ دہشت گردی شہید کی جاسکتی  ہے تو دہلی کی جامعہ مسجد کو بھی اپنا مند بتا اور جتا کل مسلممخالف  سنگھی دہلی حکومت کی طرف سے ہزاروں اردھ سینک بل تعینات کئے اسٹیٹ دہشت کے طور شہید کی جاسکتی ہے کیا ایسے سنگھ رام راجیہ سرکار اسٹیٹ دہشت  سے ڈیڈ کئے جانے والی مساجد پر اب بروقت کوئی مناسب کاروائی نہیں کی گئی تو مستقبل میں ہم 400ملین امن پسند مسلمانوں انکے خلاف سب کچھ کئے جاتے خاموش تماشائی بنے دیکھنا پڑے گا۔ وما علینا الا البلاغ ۔  کچھ معمولی اضافے کے ساتھ ابن بھٹکلی

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے