’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا 6؍جون کو زمینی مظاہرہ
کیا اس کے بانی ابھجیت دیپک کو ایئرپورٹ پر اترتے ہی گرفتار کرلیا جائے گا؟
ازقلم:عبدالعزیز
6جون 2026ء کو جنتر منتر میں کاکروچ جنتا پارٹی کی طرف سے احتجاج اور مظاہرے کا اعلان کیا گیا ہے۔ احتجاج کے بارے میں کہا گیا ہے کہ پیپر لیک کے جو واقعے پے در پے ہورہے ہیں وہ اب ناقابل برداشت ہوگئے ہیں۔ اس کے خلاف مظاہرہ ہورہا ہے اور مطالبہ یہ ہے کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان پیپر لیک کے ذمہ دارہیں اور اپنے عہدے کے لئے انتہائی نااہل ہیں، لہٰذا انھیں اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینا چاہئے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہئے۔
دہلی کے کنسٹیٹیوشن کلب میں پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے تین تعلیم یافتہ اور دانشور نوجوانوں نے 6جون کے احتجاج کے مقصد کی وضاحت کی ہے اور میڈیا کے لوگوں کے سوالات کا ایک ایک کرکے پُرمغز انداز سے جواب دیئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان میں سے ایک نوجوان نے کہاکہ اس کا امکان تو ہے کہ ابھجیت دیپک جو پارٹی کے بانی ہیں ان کو گرفتار کرکے تہاڑ جیل بھیج دیا گیا، لیکن اس ڈر سے یا خائف ہوکر نوجوان اپنے مطالبے سے باز آجائیں۔ ایسے وقت میں جبکہ 80 لاکھ طالب علموں کا مستقبل اندھیرے میں ہوگیا ہے اور پیپر لیک کی وجہ سے پانچ طالب علم خودکشی کر چکے ہیں اور پورا نظام تعلیم Collapase (منہدم) ہوگیا ہے تو کیا نوجوانوں کی خاموشی خودی کے مترادف نہیں ہوگی؟
پریس کو خطاب کرنے والے پارٹی کے ارکان نے امید ظاہر کی ہے کہ دہلی پولس ان کے ساتھ تصادم کے بجائے تعاون کا رویہ اپنائے گی، کیونکہ محکمۂ پولس کے بچے اور بچیاں لیک پیپر سے متاثر ہیں۔ میڈیا کے کارکنوں کے بھی بیٹے اور بیٹیاں بھی متاثر ہیں۔ کسی بھی شعبۂ حیات کے لڑکے، لڑکیاں ہوں سب کی محنتیں اور کوششیں رائیگاں جا رہی ہیں، لہٰذا کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرے میں طالب علموں کے سرپرستوں اور گارجینوں کو بھی شامل ہونا چاہئے۔ پریس کانفرنس کے ذریعے تینوں نوجواں نے تمام سیاسی اور غیر سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اگر چہ آن لائن پارٹی ہے، ڈیجیٹل پارٹی ہے، اب گراؤنڈ پر اُترنے کا فیصلہ کیاہے۔ اس کے دوکروڑ سے زائد انسٹا گرام پر حمایت ہوگئے ہیں۔ اس طرح ہندستان کی سب سے بڑی پارٹی ہوگئی ہے۔ لداخ کے سماجی کارکن اور سائنسداں سونم وانچوک اور بہار کے خان سر نے کاکروچ جنتا پارٹی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ کچھ اور نمایاں لوگوں نے بھی اس پارٹی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال نے دبے لفظوں میں اس پارٹی کی حمایت کی ہے لیکن ان کا کہنا یہ ہے کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان ہی ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی ذمہ دار ہیں کیونکہ وہ خاموش ہیں اور پارٹی اور حکومت کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں، اس لئے مظاہرے میں ان کا بھی نام آنا چاہئے۔
دیکھنا یہ ہے کہ 6 جون کو کیا ہوتا ہے۔ اگر پارٹی کے بانی ابھجیت دیپک کو گرفتار کرکے جیل بھیجا جاتا ہے تو مظاہرہ ختم نہیں ہوگا بلکہ مظاہرے اور پارٹی میں جان پیدا ہوجائے گی۔ کانگریس نے اپنے زمانے میں اننا ہزارے کے مظاہرے کو ختم کرنے کے لئے ان کو گرفتار کرلیا تھا جس کی وجہ سے مظاہرہ زیادہ جاندار ہوگیا تھا اور کانگریس کا زوال شروع ہوگیا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ مودی-شاہ یقینا کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی کو گرفتار کئے بغیر نہیں رہیں گے۔ یہ گرفتاری ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے زوال کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لئے کہ ابھجیت دیپک اکیلے ہے مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ کروڑوں لوگ ان کے ساتھ ہیں اور ہزاروں نوجوان جیل جانے کے لئے تیار ہیں۔ پڑوسی ملکوں میں نوجوانوں نے ہی انقلاب لایا ہے۔ ممکن ہے کہ ہندستان میں بھی نوجوان ہی انقلاب کے روح رواں بنیں۔
بعض لوگوں کو یہ سمجھ میں آرہا ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے ارکان وزیر اعظم نریندر مودی کا استعفیٰ مانگنے کے بجائے چھوٹی مچھلی دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں۔ میرے خیال سے پارٹی کے سمجھ دار لوگوں نے صحیح فیصلہ کیا ہے ، کیونکہ یہ ان کا پہلا قدم ہے۔ ہزار میل کا سفر بھی طے کرنے کے لئے پہلا قدم سے شروع ہوتا ہے۔ اگر وزیر تعلیم کا استعفیٰ ہوجاتا ہے جس کا امکان بہت کم ہے ، کیونکہ ایک ایسی بے حیا سرکار ہے جو اپنا قصور اور اپنی غلطی ماننے سے ہمیشہ انکار کرتی رہی ہے۔ لیکن اگر استعفیٰ ہوجاتا ہے تو اس سے پورے ملک میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور تعلیمی نظام کے انہدام کے خلاف تحریک زور پکڑے گی اور ملک میں پڑوسی ملکوں کی طرح انقلاب بھی برپا ہوسکتا ہے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068