نئی دہلی۔ تیس ہزاری کورٹ کے باہر ایک حالیہ منظر نے وہاں موجود سبھی کو جذباتی کر دیا۔ میاں بیوی کے درمیان چل رہے گھریلو تشدد کے کیس، جہیز کے الزامات، لاکھوں روپے کے اخراجات اور تلخیوں کے درمیان جو کچھ عدالتیں مہینوں سے نہیں کر پا رہی تھیں، وہ چند لمحوں میں ایک ‘جادو کی جھپی’ نے کردیا۔
شوہر کے خلاف مقدمہ، پھر بھی عدالت کے باہر لگایا گلے
یہ معاملہ دہلی کی رہنے والی شیکھا سنگھ اور اس کے شوہر سوربھ سنگھ کا بتایا جارہا ہے۔ جوڑے کی شادی 2020 میں ہوئی تھی (کچھ دستاویزات میں 15 فروری 2021 کو بتایا گیا ہے) ہندو رسومات کے مطابق۔ لڑکی کے گھر والوں نے شادی پر اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کیا، سونے چاندی کے زیورات اور مہنگے تحائف دیے لیکن شادی کے بعد رشتوں میں دراڑیں پڑنے لگیں۔
شیکھا کا کیا الزام تھا؟
الزام ہے کہ اس کے سسرال والوں نے جہیز کے مطالبے پر شیکھا کو ذہنی اور جذباتی طور پر تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ وہ انہیں اس کی شکل و صورت اور شخصیت پر طعنے دیتے تھے، کم جہیز لانے پر اس کی توہین کرتے تھے، اور یہاں تک کہ اس کے شوہر کو دوبارہ شادی کرنے پر مجبور کرنے کی دھمکی دیتے تھے۔ شیکھا نے دعویٰ کیا کہ اس کے سسرال والوں نے اس کے زیورات اور قیمتی سامان کو “محفوظ رکھنے” کے بہانے اپنے قبضے میں لے لیا، اور اپنی آمدنی اور بچت کے حوالے سے اس پر مسلسل دباؤ ڈالا۔
ان کے شوہر سوربھ پر کیا الزامات تھے؟
اس تلخی کے درمیان شیکھا نے اپنے شوہر سوربھ کے خلاف جہیز کی مانگ، گھریلو تشدد اور ذہنی طور پر ہراساں کرنے کے سنگین الزامات لگاتے ہوئے مقدمہ درج کرایا۔ کیس عدالت میں پہنچا اور کیس کی سماعت کئی تاریخوں تک ملتوی کردی گئی۔ دونوں فریقین نے وکلاء کی فیسوں اور عدالتی کارروائی پر لاکھوں روپے خرچ کئے۔ اپنی بیٹی کا مقدمہ لڑتے ہوئے، شیکھا کے والد کی مالی حالت اس حد تک بگڑ گئی کہ وہ خود اپنا علاج بھی نہیں کروا سکے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ تقریباً مقدمات کے بوجھ تلے سڑکوں پر آگئے۔
والد کو اٹیک : پھربدل گیا پورا ماحول
اس کشیدگی کے درمیان شیکھا کے والد پر تقریباً 10 دن پہلے اچانک اٹیک آیا تھا۔ انہیں تشویشناک حالت میں سرکاری اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ جیسے ہی شیکھا کے شوہر سوربھ کو خبر ملی، وہ فوراً اسپتال پہنچے۔ صورت حال کو دیکھ کر سوربھ نے اپنے سسر کو سرکاری اسپتال سے نکال کر گڑگاؤں کے ایک معروف پرائیویٹ اسپتال میدانتا میں داخل کرایا۔ بہتر علاج کے بعد شیکھا کے والد اب مکمل طور پر صحت مند بتائے جا رہے ہیں۔
یہیں سے کہانی نے ایک ایسا موڑ لیا جس کی کسی کو توقع نہیں تھی۔ سوربھ کی پہل نے شکھا کے دل کو چھو لیا۔ اپنے شوہر کے ساتھ جاری قانونی جنگ، غصے اور شکایات کے درمیان، انہوں نے پہلی بار انسانی ہمدردی کا تجربہ کیا جس کی شاید انہیں برسوں سے تلاش تھی ۔
عدالت میں تاریخ، لیکن فیصلہ باہر
دہلی کی تیس ہزاری عدالت میں سماعت اسی کیس کی تھی جس میں شیکھا نے گھریلو تشدد ایکٹ 2005 کے سیکشن 12 کے تحت شکایت درج کرائی تھی۔ انہوں نے سیکشن 23 کے تحت اپنے لیے عبوری مینٹےننس کی بھی مانگی تھی۔ 31 اگست 2024 کے اپنے حکم میں، ٹرائل کورٹ نے عبوری مینٹ ننس کی منظوری دی تھی۔ جوڑے کے نابالغ بیٹے کے لیے ماہانہ 20,000، لیکن شیکھا کو یہ راحت دینے سے انکار کردیا۔ شیکھا نے اس حکم کے خلاف اپیل دائر کی تھی جس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ابھیشیک گوئل کی عدالت میں چل رہی تھی ۔
طلاق کے کاغذات پھاڑ دیے، شوہر کو گلے لگا لیا
مبینہ طور پر شیکھا نے عدالت کے باہر جاری عدالتی کیس، طلاق کی کارروائی اور باہمی تنازعات سے متعلق تمام کاغذات پھاڑ ڈالے۔ پھر بغیر کسی ہچکچاہٹ کے انہوں ے اپنے شوہر سوربھ کو گلے لگا لیا۔ یہ “جادو کی جھپی ” صرف دو لوگوں کے درمیان ایک گلے نہیں تھا، بلکہ کئی مہینوں کی تلخی، غصے، الزامات اور قانونی جنگ کا مکمل ا سٹاپ تھا۔ تیس ہزاری کورٹ کے باہر کسی نے یہ سارا منظر اپنے موبائل فون پر ریکارڈ کر لیا۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ ویڈیو میں نظر آنے والے شخص کی شناخت سوربھ اور خاتون کی شیکھا سنگھ کے نام سے ہوئی ہے۔