کیا ترنمول کانگریس بحران سے نکل پائے گی؟

کیا ترنمول کانگریس بحران سے نکل پائے گی؟

کیا ترنمول کانگریس بحران سے نکل پائے گی؟

ازقلم: (حافظ)افتخاراحمدقادری

آل انڈیا ترنمول کانگریس اس وقت اپنی اٹھائیس سالہ سیاسی تاریخ کے ایک ایسے دوراہے پر کھڑی نظر آ رہی ہے جہاں سے آگے کا راستہ نہایت دشوار اور غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔ پارٹی کے وجود، اس کی تنظیمی طاقت، قیادت کی ساکھ اور سیاسی مستقبل سے متعلق ایسے سوالات پیدا ہو چکے ہیں جن کا سامنا اسے شاید اپنی پوری تاریخ میں کبھی نہیں کرنا پڑا۔ مغربی بنگال کی سیاست میں کئی دہائیوں تک اثر و رسوخ رکھنے والی اس جماعت کے اندر اس وقت جو صورتحال پیدا ہو چکی ہے وہ محض معمولی اختلافات یا وقتی ناراضگیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ایسے بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے جس نے پارٹی کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
دو ہزار چھبیس کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس کو جس بڑے سیاسی دھچکے کا سامنا کرنا پڑا اس کے اثرات انتخابی نتائج تک محدود نہیں رہے بلکہ اس شکست نے پارٹی کے اندر موجود اختلافات کو کھل کر سامنے آنے کا موقع فراہم کر دیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے دو سو سات نشستیں حاصل کر کے حکومت قائم کرنا اور ترنمول کانگریس کا اقتدار سے محروم ہو جانا ایک ایسا واقعہ ثابت ہوا جس نے پارٹی کے اندرونی توازن کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔ اقتدار کے خاتمے کے بعد وہ تمام آوازیں جو شاید پہلے دب کر رہ جاتی تھیں اب کھل کر سامنے آنے لگیں اور بالآخر یہ اختلافات بغاوت کی شکل اختیار کرتے گئے۔ سب سے زیادہ تشویش ناک صورتحال لوک سبھا میں سامنے آئی جہاں پارٹی کے تقریباً اٹھائیس سے انتیس اراکینِ پارلیمان میں سے انیس اراکین نے قیادت کے خلاف بغاوت کا راستہ اختیار کر لیا۔ یہ محض چند افراد کی ناراضگی نہیں بلکہ پارلیمانی سطح پر ایک بڑے گروپ کی منظم ناراضگی کی علامت ہے۔ اس باغی دھڑے کی قیادت کاکولی گھوش دستیدار کے ہاتھ میں بتائی جا رہی ہے اور اطلاعات کے مطابق یہ گروپ نہ صرف قیادت سے الگ ہو چکا ہے بلکہ ایک الگ پارلیمانی دھڑے کی تشکیل کی سمت بھی آگے بڑھ رہا ہے۔ اس صورتحال نے ترنمول کانگریس کے لیے ایک نئے بحران کو جنم دیا ہے کیونکہ کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے پارلیمانی سطح پر اتنی بڑی تعداد میں اراکین کا قیادت سے بغاوت کرنا انتہائی سنگین معاملہ سمجھا جاتا ہے۔
باغی اراکین کی جانب سے لوک سبھا اسپیکر کو خط لکھ کر الگ پارلیمانی بلاک بنانے کی خواہش ظاہر کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ اختلافات اب محض اندرونی مشاورت یا مذاکرات کے مرحلے سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ جب کسی جماعت کے منتخب نمائندے باقاعدہ طور پر ایک الگ شناخت حاصل کرنے کی کوشش کریں تو یہ صورتحال پارٹی کے لیے نہایت پریشان کن بن جاتی ہے۔ مزید یہ کہ باغی گروپ کی جانب سے این ڈی اے کی حمایت کا اشارہ دیا جانا سیاسی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اس بغاوت میں شامل اراکینِ پارلیمان کی فہرست بھی اس بحران کی شدت کو واضح کرتی ہے۔ سایونی گھوش، یوسف پٹھان، شترگھن سنہا، کاکولی گھوش دستیدار، ابو طاہر خان، پارٹھ بھومیک، باپی ہلدار، جگدیش چندر بسونیا، مالا رائے، متالی باغ، دیپک ادھیکاری، کالی پد سورین، جون مالیہ، اروپ چکرورتی، ڈاکٹر شرمیلہ سرکار، خلیل الرحمان، اسیت کمار مال، شتابدی رائے اور رچنا بنرجی جیسے ناموں کا ایک ساتھ قیادت کے خلاف کھڑا ہونا اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ مسئلہ چند مخصوص حلقوں تک محدود نہیں بلکہ پارٹی کے مختلف علاقوں اور مختلف سیاسی طبقات تک پھیل چکا ہے۔ پارلیمنٹ میں پیدا ہونے والا بحران اپنی جگہ اہم ہے لیکن اسمبلی کے اندر سامنے آنے والی صورتحال کو اس سے بھی زیادہ سنگین قرار دیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ترنمول کانگریس کے اسی منتخب اراکینِ اسمبلی میں سے چونسٹھ اراکین باغی دھڑے کے ساتھ جا چکے ہیں۔ اگر یہ صورتحال درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پارٹی کے اندر اکثریت ہی قیادت سے دور ہوچکی ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے اس سے بڑا دھچکا شاید ہی کوئی اور ہو سکتا ہے کہ اس کے اپنے منتخب نمائندوں کی اکثریت اس کے ساتھ کھڑی نہ رہے۔ ان اراکین کی جانب سے ریتبرت بنرجی کو اسمبلی میں اپنا قائد منتخب کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ باغی گروپ صرف احتجاج یا ناراضگی تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ وہ ایک متبادل سیاسی ڈھانچہ بھی قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کا درجہ حاصل کرنے کا مطالبہ بھی اسی سمت ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اختلافات اب وقتی نوعیت کے نہیں رہے بلکہ ان کی بنیاد پر ایک نئی سیاسی صف بندی وجود میں آتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس درمیان سب سے زیادہ سوالات پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے گرد گھوم رہے ہیں۔ ممتا بنرجی طویل عرصے تک ترنمول کانگریس کی سب سے مضبوط سیاسی شناخت رہی ہیں۔ پارٹی کی کامیابیوں، انتخابی فتوحات اور عوامی مقبولیت میں ان کے کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن موجودہ بحران نے ان کی قیادت کو بھی سخت امتحان میں ڈال دیا ہے۔ پارٹی سربراہ کی حیثیت سے ان کے طلب کردہ اجلاس میں محدود شرکت اس بات کی واضح علامت سمجھی جا رہی ہے کہ ناراضگی چند افراد تک محدود نہیں رہی۔ جب کسی جماعت کی سربراہ اپنے اراکین کو ایک اجلاس میں مدعو کرے اور بڑی تعداد میں لوگ اس میں شریک نہ ہوں تو یہ محض ایک تنظیمی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ اعتماد کے بحران کی نشان دہی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ صورتحال کو صرف سیاسی اختلافات نہیں بلکہ قیادت کے خلاف عدم اطمینان کے اظہار کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ باغی اراکین اسمبلی کی جانب سے ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی کی قیادت پر کھل کر تنقید کیے جانے کی اطلاعات نے اس بحران کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ پارٹی کے اندر اب جو ماحول دکھائی دے رہا ہے اس میں قیادت اور کارکنوں کے درمیان فاصلے کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ انتخابات میں شکست کے بعد عام طور پر سیاسی جماعتیں اپنی حکمت عملی، تنظیمی کمزوریوں اور عوامی رابطوں کا جائزہ لیتی ہیں لیکن یہاں صورتحال اس مرحلے سے آگے بڑھ کر باقاعدہ سیاسی بغاوت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترنمول کانگریس اس وقت صرف انتخابی شکست سے نہیں بلکہ تنظیمی انتشار سے بھی نبرد آزما ہے۔
دو ہزار چھبیس کے اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مغربی بنگال کی سیاست کا رخ بدل دیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے دو سو سات نشستوں کا حصول ایک بڑی کامیابی کے طور پر سامنے آیا جبکہ ترنمول کانگریس کو اپنی تاریخ کی ایک بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس شکست نے پارٹی کے اندر موجود اختلافات کو مزید گہرا کر دیا۔ جو اختلافات پہلے پس پردہ تھے، وہ آہستہ آہستہ منظر عام پر آنے لگے اور بالآخر کھلی بغاوت میں تبدیل ہو گئے۔ موجودہ بحران کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے پارٹی کے مستقبل سے متعلق سنگین سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ جب پارلیمنٹ اور اسمبلی دونوں سطحوں پر بڑی تعداد میں منتخب نمائندے قیادت سے دور ہو جائیں تو سیاسی جماعت کے لیے اپنے وجود اور اپنی شناخت کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ ترنمول کانگریس اس وقت اسی چیلنج کا سامنا کر رہی ہے۔ پارٹی کے اندر پیدا ہونے والی یہ تقسیم اگر برقرار رہتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایک جماعت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مغربی بنگال کے سیاسی منظرنامے پر مرتب ہوں گے۔ گزشتہ کئی برسوں سے ریاستی سیاست میں ترنمول کانگریس ایک مرکزی قوت کے طور پر موجود رہی ہے، لیکن موجودہ بحران نے اس کی اس حیثیت کو بھی سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ باغی اراکین کی بڑھتی ہوئی تعداد، الگ پارلیمانی بلاک کی کوششیں، اسمبلی میں نئی صف بندی اور قیادت پر کھل کر ہونے والی تنقید اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ بحران محض وقتی نہیں بلکہ گہرا اور ہمہ گیر نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ اس وقت سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا ترنمول کانگریس اس بحران سے نکلنے میں کامیاب ہو پائے گی یا نہیں؟ لیکن اس سوال کا جواب فی الحال مستقبل کے پردے میں پوشیدہ ہے۔ البتہ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ پارٹی اپنی تاریخ کے سب سے کڑے امتحان سے گزر رہی ہے۔ اگر اختلافات اسی طرح برقرار رہے اور باغی دھڑے کی سرگرمیاں اسی انداز میں جاری رہیں تو مغربی بنگال کی سیاست میں ایک نئی ترتیب جنم لے سکتی ہے۔ دوسری جانب اگر پارٹی کے اندر کسی سطح پر مفاہمت کی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو صورتحال مختلف رخ بھی اختیار کر سکتی ہے۔ فی الحال حقیقت یہی ہے کہ ترنمول کانگریس شدید داخلی بحران، قیادت پر اٹھتے سوالات، پارلیمانی بغاوت اور اسمبلی کے اندر پیدا ہونے والی تقسیم کے باعث ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں اس کے سیاسی مستقبل پر بڑے سوالیہ نشان ثبت ہو چکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ بحران کس سمت جاتا ہے، اس کا فیصلہ وقت کرے گا، لیکن موجودہ منظرنامہ یہ بتا رہا ہے کہ مغربی بنگال کی سیاست ایک غیر معمولی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے اور ترنمول کانگریس اس تبدیلی کے مرکز میں کھڑی ہے۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت یوپی
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے