عربی زبان قرآن کی زبان ہے قیامت تک باقی رہے گی.
تین ماہی فری آن لائن عربی زبان وقرآن فہمی کورس کا اختتام ، مفتی سیدا ٓصف الدین ندوی کا خطاب
حیدرآباد،5ستمبر(الہلال میڈیا نیوز)
زبانیں اظہار خیال ورابطہ کا ذریعہ ہیں، اور دنیا میں بے شمار زبانیں تھیں ہیں اور رہیں گی لیکن عربی زبان کو اللہ تعالی نے جو نسبت عطا فرمائی اب اس کی بنیاد پر وہ قیامت تک باقی رہے گی، اس لئے کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید کی حفاظت کی ضمانت لی ہے۔ قرآن موجود ہو اور اس کی زبان زندہ نا ہو ایسا نہیں ہوسکتا، اور وہیں پر آج عربی زبان زندگی کے مختلف شعبوں میں ہماری ضرورت ہے، اس سے روزگار ومعا ش جڑا ہواہے ، عرب ممالک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں جہاں کہیں مسلمان موجود ہیں وہاں عربی کی تعلیم وتدریس اور افہام وتفہیم کی ضرورت ہے اور قیامت تک رہے گی، ان خیالات کا اظہار مفتی سیدآصف الدین ندوی قاسمی بانی انسٹی ٹیوٹ آف عربک حیدرآباد نے تین ماہی فری آن لائن عربی زبان کورس کے اختتامی کلاس میں خطاب کیا اور اپنے سلسلے خطاب میں کہا کہ پچھلے ۲۲ برس سے عربی زبان کی تعلیم وتدریس ، نشر واشاعت کا کام کلاسیس اور کورسیس اور کتابوں کے ذریعہ جدید ٹکنالوجی کےساتھ انجام دیا جارہاہے، وہیں مستقل کورسیز ہیں،اور آئندہ اس کو اور بھی آسان وسہل طریقہ سے قابل استفادہ بنانا ہے، انہوں نے کہا کہ کوئی بھی کام ہوخلوص ومحنت ، نیک نیتی او رجذبہ چاہتا ہے، قربانی کے بغیر اس میں جان نہیں آتی،تین ماہی کورس میں ۶۰۰ سے زائد افراد نے دنیا بھر سے داخلہ لیا ۔ اس موقعہ پر نمایاں وممتاز طلبہ وطالبات کو انعام وسند کا مستحق قرار دیا گیا ، جن میں سید کریم اللہ حسینی قطر، فیصل مجلد سعودی عرب،محمد فرید گولکنڈہ، فوزیہ سلطانہ سنتوش نگر،روحینہ رین بازار،فرزین تبسیہ وجئے نگر کرناٹک، ثنائ فاطمہ وشیخ عبد الرحمن ،شیخ ارمان ومحمد خواجہ مقبول احمد صدیقی،محمد ابراہیم، رضیہ بیگم ،مدنی محمدی بیگم، ڈاکٹر بی آر شاہین،محمد وجیہ الدین، صفیہ بیگم،ڈاکٹر عبد السمیع قریشی قابل ذکر ہیں، میمونہ عشرت، ذکیہ بیگم۔حافظ محمد مصباح الدین ، سیدعدنان حسین ،وسیم اقبال, الحاج محمد عبد القدیر، الحاج غلام حفیظ الدین اور تمام کوآرڈینٹر س کا شکریہ ادا کیا گیا،شرکائ کورس نے اپنے تاثرات واحساسات کا اظہار کرتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ آف عربک اورمفتی سیدآصف الدین ندوی کے اس کورس کو شعور وفکر بیدا رکرنے کا کام اور ملت کے لئے ایک ضروری ومفید مشن قراردیا،اور اس سے اپنے علم وعمل، جذبہ وزندگی میں موثر ومحرک ہونے کا اعتراف کیا،مولانا محترم نے اپنی والدہ ماجدہ کے انتقال پر اپنے جذبات واحساسات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس کورس کےآغاز کے وقت وہ با حیات تھیں آج اختتام کے وقت وہ مرحوم ہوچکی ہیں تو انہوں نے اس کورس کو اپنی والدہ ماجدہ کے ثواب جاریہ قراردیا اوراپنی نئی تصنیف ۱۰۰۰ الفاظ قرآن کے نئے ایڈیشن کو بھی ان سے منسوب کرکے ایک یادگار وتاریخی حیثیت دی، ان شائ اللہ عنقریب شرکائ کو اسناد کی تقیم کا پروگرام منعقد ہوگا او ر جس کی تفصیلات کا متعاقت اعلان کیا جائے گا۔