جدید مسلم الٰہیات اور سائنس کے درمیان اجتہادی مکالمے کی ضرورت. انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز میں مشہور اسلامی اسکالر اور معاصر افکار و نظریات کے ماہر پروفیسر ابراہیم موسیٰ کا خطبہ، طلبہ، اساتذہ اور دانشوروں کی کثیر تعداد میں شرکت
جدید مسلم الٰہیات اور سائنس کے درمیان اجتہادی مکالمے کی ضرورت.
انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز میں مشہور اسلامی اسکالر اور معاصر افکار و نظریات کے ماہر پروفیسر ابراہیم موسیٰ کا خطبہ، طلبہ، اساتذہ اور دانشوروں کی کثیر تعداد میں شرکت
نئی دہلی، 23 جون(پریس ریلیز): معروف اسلامی مفکر، دانشور، معاصر مسلم افکار و نظریات کے ماہر اور یونیورسٹی آف نوٹریڈم (امریکہ) کے پروفیسر ابراہیم موسیٰ نے یہاں انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز (آئی او ایس) میں ”جدید مسلم الٰہیات اور سائنس” کے موضوع پر ایک فکر انگیز خطبہ پیش کیا۔ اس پروگرام میں اساتذہ، محققین، طلبہ اور مختلف علمی و فکری حلقوں سے وابستہ افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ آئی او ایس کے سکریٹری جنرل محمدعالم کی دعوت پر تشریف لائے مہمان خطیب نے آئی او ایس سے اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے اس بروقت قدم پر ان کا شکریہ ادا کیا- یاد رہے کہ اس موضوع پر حال ہی میں ان کی کتاب منظر عام پر آئی ہے اور علمی حلقوں میں زیر بحث ہے۔
اپنے خطبہ میں پروفیسر ابراہیم موسیٰ نے جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں مسلم الٰہیات کو درپیش چیلنجز اور مواقع پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم علماء اور دانشوروں کو جدید سائنسی علوم کے ساتھ مثبت اور تعمیری انداز میں مکالمہ قائم کرنا چاہیے، جبکہ اسلامی روایت کی اخلاقی اور روحانی بنیادوں سے مضبوط وابستگی بھی برقرار رکھنی چاہیے۔ ان کے مطابق مسلم الٰہیات کو صرف کلاسیکی مباحث تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے سائنس، ٹیکنالوجی اور انسانی علم میں ہونے والی نئی پیش رفت سے پیدا ہونے والے سوالات کا جواب دینے کے قابل ہونا چاہیے۔ پروفیسر ابراہیم موسیٰ نے اپنے لیکچر میں اس سوال کو مرکزی حیثیت دی کہ جدید مسلم الٰہیات (Modern Muslim Theology) سائنس کے ساتھ ایک تخلیقی اور نتیجہ خیز مکالمہ قائم کرنے میں کیوں دشواری محسوس کرتی ہے۔
ان کے نزدیک یہ مسئلہ محض مذہب اور سائنس کے درمیان تضاد کا نہیں بلکہ مسلم فکری روایت کی تاریخی تشکیل اور جدید دور کے چیلنجز سے متعلق ہے۔ انہوں نے اس عام تصور پر تنقید کی کہ اسلام کا ایک ”سنہری دور” تھا جسے امام غزالی نے تباہ کر دیا۔ ان کے مطابق یہ بیانیہ مستشرقین اور بعض جدید مفکرین کا پیدا کردہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم علمی روایت غزالی کے بعد بھی مختلف صورتوں میں جاری رہی اور فلسفہ، منطق، فقہ، کلام اور تصوف کے میدانوں میں علمی سرگرمیاں جاری رہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ ”غزالی نے اسلامی سائنس کو تباہ کر دیا” ایک حد سے زیادہ سادہ اور تاریخی طور پر غیر علمی دعویٰ ہے۔اسی طرح انہوں نے اس خیال پر بھی سوال اٹھایا کہ ”اسلام نے سائنس دریافت نہیں کی”۔ ان کے مطابق مسلم تہذیب کا اصل کارنامہ سائنس ایجاد کرنا نہیں بلکہ علم کے مختلف سرچشموں—وحی، عقل اور تجربہ—کو ایک وسیع فکری نظام میں یکجا کرنا تھا۔
اس سوال کے جواب میں کہ جدید مسلم الٰہیات کو سائنس کے ساتھ مشکل کیوں پیش آتی ہے؟پروفیسر موسیٰ نے تین بنیادی وجوہات بیان کیں:(1) استعماریت (2) نصوصیت (3) فرسودہ فکری نمونے-
انہوں نے کہا کہ استعماری دور (کلونیل ازم) نے مسلم معاشروں کے سیاسی، تعلیمی اور فکری ڈھانچوں کو شدید متاثر کیا۔ مغربی طاقتوں کی برتری نے مسلمانوں میں احساسِ شکست پیدا کیا اور علمی اعتماد کو مجروح کیا۔ نتیجتاً مسلم فکر کا بڑا حصہ اجتہاد کے بجائے دفاعی ردعمل (Defensive Response) میں تبدیل ہوگیا۔ اسی طرح جدید دور میں مسلم دنیا کے بعض حلقوں میں ایسا رجحان پیدا ہوا جس میں مذہبی نصوص کو ان کے تاریخی، سماجی اور علمی سیاق سے الگ کرکے پڑھا جانے لگا۔ اس نصوص پرستی نے عقل، فلسفہ اور تنقیدی فکر کی ان روایتوں کو کمزور کیا جو اسلامی تہذیب کا اہم حصہ تھیں۔ نتیجتاً سائنس اور مذہب کے درمیان مکالمے کی گنجائش محدود ہوگئی۔ جبکہ بہت سے مسلم ادارے اور مذہبی مکاتب فکر آج بھی ان علمی نمونوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں جو جدید سائنسی اور فلسفیانہ مباحث سے پہلے کے زمانے میں تشکیل پائے تھے۔ جب نئے سوالات پر پرانے سانچوں سے جواب دینے کی کوشش کی جاتی ہے تو فکری کشمکش پیدا ہوتی ہے.
پروفیسر موسیٰ نے یہ بھی واضح کیا کہ جدید سائنس اور مغربی جدیدیت کے دباؤ کا جواب تمام مسلم علماء نے یکساں انداز میں نہیں دیا۔ انہوں نے اس سلسلے میں چار نمایاں مثالوں کا ذکر کیا. ایک، مولوی محمدذکاء اللہ دہلوی (متوفی 1910) نے جدید سائنس اور مغربی علوم کے حصول کو مسلمانوں کی ترقی کے لیے ضروری سمجھا۔ وہ جدید تعلیم اور سائنسی شعور کے حامی تھے اور دونوں علمی روایتوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ دوسرے علامہ حسین الجسر(متوفی 1909) جنھوں نے اپنی معروف کتاب ”الرسالۃ الحمیدیۃ” میں ڈارون ازم اور جدید سائنس کے بعض نظریات کو اسلامی عقائد کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔ ان کا نقطہ نظر مفاہمتی (Accommodationist) تھا۔ تیسرے علامہ انور شاہ کشمیری (متوفی 1933) نے حدیث اور روایتی علوم کی بنیاد پر جدید سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی۔ ان کے ہاں جدیدیت کے ساتھ مکالمہ موجود ہے لیکن بنیادی اعتماد کلاسیکی علمی روایت پر قائم رہتا ہے۔ جبکہ مولانا اشرف علی تھانوی(متوفی 1943) نے روحانی اور اخلاقی اصلاح کو بنیادی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک جدید سائنس مفید ہو سکتی ہے، لیکن انسانی فلاح کا اصل سرچشمہ وحی اور اخلاقی تربیت ہے۔
اس لیے انہوں نے سائنسی ترقی کو مذہبی و اخلاقی رہنمائی کے تابع رکھنے پر زور دیا۔پروفیسر ابراہیم موسیٰ کے مطابق جدید مسلم الٰہیات کا اصل مسئلہ سائنس سے دشمنی نہیں بلکہ ایک ایسے فکری سانچے کی تلاش ہے جو وحی، عقل اور سائنسی علم کے درمیان بامعنی تعلق قائم کرسکے۔ ان کے نزدیک مسلم دنیا کو ماضی کی تقلید یا مغرب کی نقالی کے بجائے ایک نئی فکری جرات اور تخلیقی اجتہاد کی ضرورت ہے، تاکہ جدید سائنس کے چیلنجز کا سامنا اعتماد اور بصیرت کے ساتھ کیا جا سکے۔انہوں نے اسلامی تہذیب کی علمی روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں مسلم علماء نے وحی اور عقل کے درمیان ایک متوازن اور فعال تعلق قائم کیا تھا، جس کے نتیجے میں علم و تحقیق کے مختلف میدانوں میں نمایاں ترقی ہوئی۔ پروفیسر موسیٰ نے اس روایت کی تجدید کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تنقیدی فکر، علمی کشادگی اور بین العلومی مکالمہ عصر حاضر میں مسلم فکری احیاء کے لیے ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق سائنس اور الٰہیات کے درمیان بامعنی مکالمہ انسان اور کائنات کے بارے میں زیادہ جامع اور متوازن فہم پیدا کر سکتا ہے۔
پروگرام کا آغاز جناب نسیم احسن نے آیات قرآن کی تلاوت و ترجمہ سے کیا، اجلاس کی صدارت انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز کے چیئرمین پروفیسر افضل وانی نے کی۔ اپنے صدارتی کلمات میں انہوں نے پروفیسر ابراہیم موسیٰ کے خطاب کو نہایت بصیرت افروز اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس لیکچر نے مسلم فکری روایت کے مستقبل اور جدید سائنسی ترقیات کے تناظر میں کئی اہم سوالات کو اجاگر کیا ہے۔ پروفیسر وانی نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اور تحقیقی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے علمی مباحث کو فروغ دیں جو معاشرے اور اکیڈمیا دونوں کے لیے مفید ثابت ہوں۔اس سے قبل سوال و جواب کا ایک دلچسپ اور معلوماتی سیشن منعقد ہوا جس میں ڈاکٹر ناز خیر، محمد علی، ڈاکٹر تالیف حیدر وغیرہ کے سوالات کا جواب خطیب نے دیا جبکہ خطیب محترم کا تعارف ڈاکٹر جاوید اختر اور خطبے پر تبصرہ پروفیسر محمد اسحاق نے پیش کیا۔ پروگرام کی نظامت شیخ محمد نظام الدین کررہے تھے. پروگرام کے اختتام پر پروفیسر حَسینہ ہاشیہ نے شکریہ کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے پروفیسر ابراہیم موسیٰ، صدرِ مجلس، شرکاء اور منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس علمی نشست کو کامیاب بنانے پر سب کو مبارکباد دی۔یہ لیکچر انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز کی اس مسلسل کوشش کا حصہ تھا جس کا مقصد مذہب، معاشرہ اور علم کے باہمی تعلقات سے متعلق معاصر موضوعات پر سنجیدہ علمی مکالمے کو فروغ دینا ہے۔