ارشادِ ربانی ہے:’’اہلِ ایمان وہ جانباز بھی ہیں ، جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کر دکھایا ۔ سو ان میں سے بعض تو اپنا عہد پورا کرچکے اور بعض منتظر ہیں اور انہوں نے ذرا بھی تبدیلی نہیں کی ہے ‘‘۔رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی شہادت کا اعلان اس آیت کے ساتھ ہوا تھا مگر ان کی تعزیت کے لیے حماس کا وفدآیا تو اس مسلسل مزاحمت، عزت و استقامت اور شہادت کی آرزووالے کلمات سے اس کا استقبال کیا گیا ۔ اسرائیل سے برسرِ پیکار حزب اللہ کا حوصلہ بڑھانے کی خاطر یہ آیت سنائی گئی: ’’اور تم ہمت نہ ہارو اور نہ غم کرو اور تم ہی غالب آؤ گے اگر تم ( کامل ) ایمان رکھتے ہو‘‘۔ایرانی محورِ مزاحمت کے حوثیوں کی آمد پر قاری نے پڑھا: ’’محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں ، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں‘‘ ۔ آیت کایہ ٹکڑا حوثیوں کے ایران اور اسرائیل سے تعلقات کا مکمل ترجمان ہے ۔
ایران کے اسرائیل و امریکہ کی جنگ میں پاکستان کے غیر معمولی کردار نبھانے والے پاکستانی وفد کا استقبال ہجرت کی اس دعا سے کیا گیا :’’ اے میرے پروردگار ! جہاں بھی تو مجھے لے جائے سچائی کے ساتھ لے جا، اور جہاں سے نکالے تو سچائی کے ساتھ نکال اور اپنے ہاں سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنا دے‘‘۔یہ آزمائش کی گھڑی میں پاکستانی اقتدارکی یکجہتی کو خراجِ تحسین تھا۔ امن معاہدےمیں قطرکی خدمات کو اس طرح سراہا گیا کہ:’’(اے نبی !) ہم نے آپ کو واضح فتح عطا کردی۔تاکہ اللہ آپ کی سب اگلی اور پچھلی لغزشیں معاف کردے اور آپ پر اپنی نعمت پوری کردے اور آپ کو سیدھی راہ پر چلائے‘‘۔ یعنی یہ فتحمندی نصرت خداوندی سے ملنے والی نعمت ہےنیز مستقبل میں تکمیل نعمت اور صراط مستقیم کی توفیق طلب کی گئی ۔ایران کے ہم سایہ عراق کا غمزدہ وفد آیا تو اس کی ڈھارس بندھانے کے لیےشہادت کی عظمت بیان کی گئی:’’اور جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوجائیں انہیں مردہ نہ کہو۔ کیونکہ وہ (حقیقتاً) زندہ ہیں مگر تم (ان کی زندگی کی کیفیت کو)۔ سمجھ نہیں سکتے‘‘۔
سعودی عرب کے خیر مقدم میں پڑھا گیا :’’تمہارے لیے ان دو گروہوں میں ایک نشان عبرت تھا ، جو (بدر میں) ایک دوسرے سے نبرد آزما ہو ئے ۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافر تھا ۔ دیکھنے والے بچشمِ سر دیکھ رہے تھے کہ کافر گروہ مومن گروہ سے دو چند ہے مگر (نتیجے نے ثابت کر دیا کہ) اللہ اپنی فتح و نصرت سے جس کی چاہتا ہے ، مدد کر دیتا ہے ۔ دیدۂ بینا رکھنے والوں کے لیے اس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے ‘‘۔ یہاں سعودی عرب کی حمایت کا اعتراف میں کہا گیا حق و باطل معرکے میں مادی قوت نہیں بلکہ نصرتِ خداوندی فیصلہ کن ہے۔ ترکیہ نے زبانی حمایت سے آگے بڑھ کر عملی کردار نہیں ادا کرسکاجس کی تذکر ہ یوں کی گیا کہ: ’’مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو کسی معذوری کے بغیر گھر بیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرتے ہیں ، دونوں کی حیثیت یکساں نہیں ہے ۔ اللہ نے بیٹھنے والوں کی بہ نسبت جان و مال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ بڑا رکھا ہے ۔ اگرچہ ہر ایک کے لیے اللہ نے بھلائی ہی کا وعدہ فرمایا ہے ، مگر اس کے ہاں مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بیٹھنے والوں سےبہت زیادہ ہے ‘‘۔ یہاں عملی جدجہد کی فضیلت اور اس کی ترغیب دی گئی ہے۔
مصر کی آمد پر پڑھا گیا :’’بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہی لوگ ساری مخلوق سے بہتر ہیں۔ان کی جزا ان کے رب کے ہاں دائمی قیام کی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی ، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ‘‘ ۔ یعنی ایمان اوع عملِ صالح ہی دائمی جنت کی ضمانت ہے۔حکومتِ ہند کومنفی کردار کے باوجود خصوصی دعوت دے کر اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا گیا اور وفد کی آمد کے وقت پڑھا گیا:’’ یہ وہ لوگ ہیں جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوگئی ہیں پس ان سے ڈرو ! تو اس بات نے ان کے ایمان میں اور زیادہ اضافہ کردیا اور انہوں نے کہا اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے آخر کار وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل کے ساتھ پلٹ آئے ، ان کو کسی قسم کا ضرر بھی نہ پہنچا اور اللہ کی رضا پر چلنے کا شرف بھی انھیں حاصل ہوگیا ، اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے‘‘ ۔ یہاں منافقین کا خوف اور اہل ایمان کےتوکل و حوصلے کا فرق واضح کیا گیا ہے۔
چین کی خاموش حمایت کا اعتراف اس طرح کیا گیا :’’اور اﷲ ( تعالیٰ ) نے اس امداد کو محض خوشخبری بنایا اور تاکہ تمہارے دل مطمئن ہو جائیں اور مدد تو صرف اﷲ ( تعالیٰ ) ہی کی طرف سے ہے بیشک اﷲتعالیٰ غلبے والے حکمت والے ہیں ۔یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے ، تو اس نے تمہاری فریاد کا جواب دیا کہ میں تمہاری مدد کے لیے ایک ہزار فرشتوں کی کمک بھیجے والا ہوں جو لگاتار آئیں گے‘‘ ۔ یعنی اصل کامیابی دنیوی وسائل پر نہیں بلکہ اللہ کی مدد پر منحصر ہوتی ہے۔رفیق ِکارروس کے وفد کی آمدپر یہ آیت تلاوت کی گئی:’’ آخرت کا گھر تو ہم ان لوگوں کے لئے مخصوص کردیتے ہیں جو زمین میں بڑائی یا فساد نہیں چاہتے اور (بہتر) انجام تو پرہیزگاروں کے لئے ہے‘‘۔افغانی وفدکی آمد پر وہی قطر والی آیات :’’بیشک ہم نے آپ کو کھلی ہوئی فتح عطا کی ہےتاکہ خدا آپ کے اگلے پچھلے تمام الزامات کو ختم کردے اور آپ پر اپنی نعمت کو تمام کردے اور آپ کو سیدھے راستہ کی ہدایت دے د ے اور زبردست طریقہ سے آپ کی مدد کرے ‘‘ پڑھ کر امریکہ کو یاد دلایا گیا کہ افغانستان کی مانند ایران بھی اس کا قبرستان بن جائے گا۔ امام خانہ ای کی تدفین اپنے آپ میں جشن فتح تھی مگراس میں قرآنی آیات کے انتخاب کی منفرد سفارتکاری نے سونے پر سہاگے کا کام کیا ۔ قرآن مجید کی آیات ہر موقع پر رہنمائی کرتی ہیں مگر استفادے کی شرطِ اول ہے؎
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب
گرہ کُشا ہے نہ رازی نہ صاحبِ کشّاف