انسان کو بولنے کی صلاحیت عطا کی گئی ہے، مگر ہر لفظ کی ایک ذمہ داری بھی ہے۔ سوشل میڈیا نے اس ذمہ داری کو پہلے سے کہیں زیادہ وسیع کر دیا ہے۔ آج چند لمحوں میں لکھا جانے والا ایک کمنٹ ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اس لیے اب صرف یہ اہم نہیں رہا کہ ہم کیا لکھتے ہیں، بلکہ یہ بھی کہ کس شعور ، کتنی معلومات ،زمہ داری اور کس اخلاق کے ساتھ لکھتے ہیں ۔
صاحبِ علم کا پہلا وصف یہ ہے کہ وہ سمجھنے کو بولنے پر مقدم رکھتا ہے۔ وہ کسی تحریر، تقریر یا تحقیق کو اس کے مکمل تناظر میں دیکھتا ہے، پھر اپنی رائے قائم کرتا ہے۔ اس کے لیے اظہارِ رائے اپنی معلومات کا اظہار نہیں بلکہ حقیقت کی تلاش کا ایک ذریعہ ہوتا ہے۔
تعمیری تنقید دراصل علم سے محبت کا دوسرا نام ہے۔ اس میں احترام بھی ہوتا ہے، انصاف بھی، دلیل بھی اور خیرخواہی بھی۔ ایسی گفتگو اختلاف کو فاصلے میں نہیں بدلتی بلکہ فہم کو وسعت دیتی ہے۔ اسی لیے اہلِ علم ہمیشہ سوال اٹھاتے ہیں، دلیل پیش کرتے ہیں، متبادل زاویہ دکھاتے ہیں اور مکالمے کے دروازے کھلے رکھتے ہیں۔
ہر فن اپنی زبان، اپنے اصول اور اپنی روایت رکھتا ہے۔ جب انسان کسی موضوع پر اظہارِ رائے سے پہلے اس کے بنیادی مباحث سے واقفیت حاصل کرتا ہے تو اس کے الفاظ میں وزن، گفتگو میں وقار اور رائے میں اعتماد پیدا ہو جاتا ہے۔ یہی علمی دیانت ہے، اور یہی شخصیت کی پختگی کا پہلا نشان ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر کمنٹ صرف ایک جملہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ قاری کے سامنے لکھنے والے کے مطالعے، فکر، اخلاق، برداشت اور شخصیت کا تعارف بھی پیش کرتا ہے۔ اس لیے صاحبِ بصیرت انسان ہر لفظ کو اپنی شخصیت کا نمائندہ سمجھ کر لکھتا ہے۔
اگر ہم ایک معمول اپنا لے کہ ہر تبصرے سے پہلے چند لمحے سوچے، بات کو سمجھے، دلیل کو پرکھے اور مناسب الفاظ کا انتخاب کرے (الفاظ گھائل،مائل ،قائل کرنے کے ساتھ دانت بھی رکھتے ہیں) ۔تو سوشل میڈیا صرف معلومات کی دنیا نہیں رہے گا بلکہ علم ، حکمت اور باوقار مکالمے کا خوبصورت پلیٹ فارم بن جائے گا۔
اظہارِ رائے سے پہلے اپنے آپ سے یہ دس سوال ضرور پوچھیے:
1. کیا میں نے پوری بات کو اس کے اصل تناظر میں سمجھا ہے؟
2. کیا میری رائے علم اور مطالعے کی بنیاد پر قائم ہے؟
3. کیا میری گفتگو احترام اور حسنِ اخلاق کی آئینہ دار ہے؟
4. کیا میرے الفاظ موضوع کو واضح کریں گے؟
5. کیا میری بات پڑھنے والوں کے علم میں اضافہ کرے گی؟
6. کیا میں نے مصنف یا مقرر کے نقطۂ نظر کو پدیانت داری سے سمجھا ہے؟
7. کیا میری رائے مکالمے کو آگے بڑھانے میں مدد دے گی؟
8. کیا میں اپنے مؤقف کو دلیل کے ساتھ بیان کر سکتا ہوں؟
9. کیا میرے الفاظ باہمی احترام، تحمل اور فکری وسعت کی نمائندگی کرتے ہیں؟
10. اگر یہ کمنٹ میرے نام کے ساتھ ہمیشہ کے لیے محفوظ رہ جائے تو کیا مجھے اس پر اطمینان ہوگا؟
یاد رکھیے!
* علم انسان کو معلومات دیتا ہے •• مطالعہ اسے گہرائی دیتا ہے، •• بصیرت اسے توازن عطا کرتی ہے اور
* حسنِ اخلاق اس کے علم کو قبولیت بخشتا ہے۔
* یہی چار اوصاف کسی بھی کمنٹ کو محض ایک رائے سے اٹھا کر ایک علمی اور تعمیری سرمایہ بنا دیتے ہیں۔