ارشادِ ربانی ہے:’’کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کی کیا مثال دی ہے؟‘‘کلمہ طیبہ کے اصطلاحی معنیٰ کلمہ توحید ہے۔ عقیدہ و عمل کے طور پر یہ کلمہ تمام بھلائیوں کی بنیاد بن کر ہر برائی کی جڑ کاٹ دیتا ہے ۔ آگے کلمہ طیبہ کوشجرہ طیبہ کی مثال دے کر فرمایا :’’ اس کی تمثیل ایسی ہے جیسے ایک اچھی ذات کا درخت، جس کی جڑ زمین میں گہری جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ اِن سے سبق لیں‘‘۔شجرہ طیبہ کی صفات میں چار اسباق ہیں ۔ اول تووہ طیب اور پاکیزہ درخت ہے۔ یہ شکل و صورت یعنی پھل پھول کے اعتبار سے خوش ذائقہ، شیریں اور خوشبودار ہوتاہے۔دوم اس کی جڑیں زمین میں خوب مستحکم اور گہرائی تک پیوست ہوتی ہیں اس لیے مخالفت کا طوفان اسے اکھاڑ نہیں سکتا ۔ سوم اس کی شاخیں یعنی اس کی بنیاد پر کیے جانے والے اعمالِ صالحہ آسمانوں کی بلندی پر جنت کے باغوں میں بھی ثمر دار ہوتے ہیں اور چوتھے بہار و خزاں سے بے نیاز یہ سدا بہار درخت ہمیشہ برگ و بار لاتا رہتا ہے۔
کلمہ طیبہ کے لغوی معنیٰ ’اچھی بات ‘یعنی توحید پر مبنی عقائد و نظریات یا دعوتِ حق ہے لیکن افسوس کہ فی زمانہ بھلائی کی اس بات کے خلاف میڈیا کے ذریعہ حقیر سیاسی مفاد کی خاطر اسے بدنام کرنے کی مہم چھیڑ دی گئی تاکہ لوگ اس کی حقانیت کا اعتراف کرکے راہِ راست پر نہ آسکیں ۔ قرآن حکیم میں دین حق کے خلاف پھیلائے جانے والے پرپگنڈہ کو کلمۂ خبیثہ کی تشبیہ دے کر فرمایا گیا :’’ اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایک بد ذات درخت کی سی ہے جو زمین کی سطح سے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے، اُس کے لیے کوئی استحکام نہیں ہے‘‘۔ وطن عزیز میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بہتان طرازی کا طوفان کھڑا کرکے عوام کے دل میں جعلی خوف پیدا کیا گیا۔ ماضی کے من گھڑنت قصوں کی مدد سے لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا کرکے انتقام کی آگ بھڑکائی گئی۔ ان شعلوں پر اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے والوں نے سوچا کہ اس طرح ان کی ساری کمیاں، کوتاہیاں اور ناکامیاں چھپ جائیں گی مگر ایسا نہیں ہوا ۔ کاکروچ پارٹی کی آندھی نے اس شجر خبیثہ کو بے نقاب کرکے ظالموں کا کریہہ چہراان لوگوں کے سامنے کھول کر پیش کردیا جنھیں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ورغلایا جارہا ہے۔ اس طرح نفرت کا رخ طیب سے خبیث کی جانب مڑگیا۔
فرمانِ قرآنی ہے:’’ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قول ثابت کی بنیاد پر دنیا اور آخرت، دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے، اور ظالموں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے اللہ کو اختیار ہے جو چاہے کرے۔تم نے دیکھا اُن لوگوں کو جنہوں نے اللہ کی نعمت پائی اور اُسے کفران نعمت سے بدل ڈالا اور (اپنے ساتھ) اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گھر میں جھونک دیا ‘‘۔ حکومتِ وقت کو اقتدار کی نعمت سے نوازہ گیا تو پہلے اس نے مسلمانوں اور دیگر مظلوم طبقات کو کچلنے کے لیے اس کا بیچا استعمال کیا مگر اب وہ ان لوگوں پر مظالم ڈھارہے ہیں جن کی مدد سے کرسیٔ اقتدار پر فائز ہوئے تھے۔ دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والا تعلیم یافتہ اور خوشحال طبقہ ہی زعفرانیوں کے ریڑھ کی ہڈی تھا ۔ اب یہ خود اپنےاہلکاروں کی مدد سے اسے توڑ کر خود کو مفلوج کررہے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بابت ارشادِ فرقانی ہے: ’’اِن سے پہلے بھی بہت سے لوگ (حق کو نیچا دکھانے کے لیے) ایسی ہی مکاریاں کر چکے ہیں، تو دیکھ لو کہ اللہ نے اُن کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی اور اس کی چھت اوپر سے ان کے سر پر آ رہی‘‘۔
وطن عزیز میں فسطائیت کی جڑ رام مندر اور چھت تعلیم یافتہ متوسط شہری آبادی ہے۔ چندہ چوری کے الزامات نے ان کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا اور کاکروچ کے طوفان سے ان کی چھٹ ٹپکنے لگی ہے۔ اس آیت کے اگلے حصے میں فرمانِ خداوندی ہے :’’ ان پر عذاب ایسے رخ سے آیا جدھر سے اس کے آنے کا اُن کو گمان تک نہ تھا‘‘۔ ان کی ساری توجہات مسلمانوں اور دیگر مظلوم طبقات پر مرکوز تھی ۔ وہ کبھی عبدل کی چوڑی ٹائٹ کرتے تو کبھی اپنے سیاسی مخالفین کو شہری نکسل کہہ کر پابندِ سلاسل کردیتے مگر حالیہ مظاہرین کی کثیر تعداد توخود انہیں میں سے نکل کر آ جائےگی یہ ان کے تصورِ خیال میں نہیں تھا۔ قرآن پاک میں اس صورتحال کی منظر کشی دیکھیں :’’ پھر کیا وہ لوگ جوبدتر سے بدتر چالیں چل رہے ہیں اِس بات سے بالکل ہی بے خوف ہو گئے ہیں کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے، یا ایسے گوشے میں ان پر عذاب لے آئے جدھر سے اس کے آنے کا ان کو وہم و گمان تک نہ ہو یا اچانک چلتے پھرتے ان کو پکڑ لے، یا ایسی حالت میں انہیں پکڑے جبکہ انہیں خود آنے والی مصیبت کا کھٹکا لگا ہوا ہو اور وہ اس سے بچنے کی فکر میں چوکنے ہوں؟ وہ جو کچھ بھی کرنا چاہے یہ لوگ اس کو عاجز کرنے کی طاقت نہیں رکھتے حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب بڑا ہی نرم خو اور رحیم ہے‘‘۔
دہلی کے مظاہرے کی تصاویر اور ویڈیوزنیز حکومتِ وقت سمیت عدلیہ کی بوکھلاہٹ مندرجہ بالا آیت کی چلتی پھرتی تفسیر بن گئی ہے ۔ یہ لوگ جس طرح خود اپنے ہاتھوں سے اپنے ووٹ بنک کو تباہ و تاراج کررہے ہیں اسے دیکھ کر قرآن پاک کی یہ تمثیل نگاہوں کے سامنے آجاتی ہے ۔ ارشادِ قرآنی ہے: ’’ تمہاری حالت اُس عورت کی سی نہ ہو جائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا تم اپنی قسموں کو آپس کے معاملات میں مکر و فریب کا ہتھیار بناتے ہو تاکہ ایک قوم دوسری قوم سے بڑھ کر فائدے حاصل کرے حالاں کہ اللہ اس عہد و پیمان کے ذریعہ سے تم کو آزمائش میں ڈالتا ہے، اور ضرور وہ قیامت کے روز تمہارے تمام اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا‘‘۔یہ لوگ دوکروڈ نوکریاں اور اچھے دن کا وعدہ کرکے آئے تھے لیکن جب نوجوان پیپر لیک کے خلاف میدان میں آئے تو دوسروں کو ڈرانے والے حکمراں خوف و ہراس کا شکار ہوکر اپنی ہی تیار کردہ فصل کو اپنے ہاتھوں سے نذرِ آتش کرنےمیں جٹ گئے ۔ ان عبرتناک واقعات کا انجام وقت بتائے گا ۔
ان شاءاللہ آمین ثم آمین
جزاک اللہ خیرا کثیرا کثیرا کثیرا