دہلی پولس کی انتہا پسندی:
آج جنتر منتر کے اندر ایک ماں اپنے دو لڑکوں کو لے کر آئی، روتے ہوئے پولس سے کہا کہ میرے ان دونوں بچوں کو مارو، کل آپ لوگوں نے بہت سی ماؤں کے بچوں کو مار مار کر بیہوش کردیا، زخمی کر دیا، ہاتھ پاؤں کو لہو لہان کر دیا۔ لڑکیوں کے کپڑے پھاڑ دیئے۔ ظالم پولس اپنے آقا ؤں کے اشارے پر ظلم و ستم کرتی ہے۔ اس سے پولس سے لوگوں میں نفرت پیدا ہو تی ہے۔ ظالم پولس کے بھی بیٹے بیٹیاں ہوتے ہیں۔ شاید انگریزوں کے زمانے کے کرایہ کے پولس اسی طرح رہے ہوں گے۔ منشی پریم چند نے اپنی ایک کہا نی میں ایک ظالم دروغہ کی کہانی کچھ اس طرح لکھی ہے کہ ’’دورانِ ملازمت وہ بے قصور لوگوں پر ظلم ڈھا تا تھا لیکن جب وہ ریٹائر ہوگیا تو گاؤں والوں نے اس کو انتقامی جذبے سے پیٹ پیٹ کر سر راہ مار ڈالا‘‘۔ مغربی بنگال میں جب نیکسلائٹ کا عروج تھا تو پولس کو بھی نہیں بخشتے تھے۔ اس میں کالج کا طالب علم تھا۔ نیکسلائٹ کی اس سوچ اور کاروائی کو دیکھ کر انتہا پسند وں نے اس لیے غلط سمجھا تھا کہ وہ تو سرکار ی ملازم ہے مگر 20 جولائی کو جب طلبا و طالبات اور نوجوانوں یہاں تک کہ ضعیف عورتوں اور مردوں پر پولس کو بے رحمی کے ساتھ لاٹھی برساتے دیکھا تو سمجھ میں آگیا کہ کیوں کچھ لوگوں میں انتہا پسندی پیدا ہوئی تھی، حالانکہ انتہا پسندی سے مسائل بڑھتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی آمرانہ اور تشدد پسند حکومت کی پولس اور فوج دونوں متشدد ہوگئے۔ چودہ پندرہ سو نوجوانوں کو گولیوں سے بھون دیا۔ ایک جوان جذبات میں آکر فوجیوں کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ اس نے اپناسینہ تان کر کہا کہ مارو گولی۔ ایک بد بخت فوجی نے بندوق کی کئی گولیاں اس کے سینے میں اتار دیں۔ نوجوان شہید ہوگیا ، فوجی لعنتی ہوگیا۔ انتہا پسند حکومت کے سربراہ کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ کاش! بیٹی باپ کے انجام سے بہت کچھ سیکھا ہوتا تو سمجھ میں آجاتا کہ انتہا پسندی اور ناانصافی مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ راہ اعتدال اور انصاف ہی مسئلے کا حل ہے۔دہلی کے شاہ اور شہنشاہ کو جتنی جلدی یہ بات سمجھ میں آجائے تو اتنی جلدی ملک وقوم کا بھلا ہوجائے ۔
٭…٭…٭
گستاخی معاف:
بات کل کی ہے۔ میں سڑک کے ایک کنارے کھڑا ایک شخص کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک ایک تیس پینتیس سالہ شخص میرے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔ ہاتھ بڑھا یا اور مصافحہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ آپ نے مجھے پہچانا؟ اس کے چہرے کی طرف غور سے دیکھا اور کہا کچھ کچھ پہچانا چہرہ معلوم ہورہا ہے۔ پھر اس نے خود ہی کہا کہ’’گستاخی معاف! آج سے سترہ اٹھارہ سال پہلے میں آپ کے یہاں ڈرائیو ر تھا۔ مجھ سے ایک بڑی غلطی ہوگئی تھی، بھول ہوگئی تھی۔ میں آپ کے یہاں آکر معافی مانگنے والا تھا مگر میں آپ کے پاس آ نہیں سکا‘‘۔اس کا ا تنا کہنا تھا کہ میں نے اسے اچھی طرح سے پہچان لیا ’’پوچھا اب کیا کرتے ہو‘‘؟ ’’ میری ایک گاڑی ہے جسے میں خود چلاتا ہوں‘‘ اس نے جواب دیا۔پھر میں اسے ایک چائے کی دکان میں لے گیا، اسے چائے پلائی اور اس سے کہا’’ پہلی خوشی ہوئی کہ تم سے ملاقات ہوگئی اور دوسری خوشی یہ ہوئی کہ تم کو بروقت اپنی غلطی کا احساس نہیں ہوا مگر ’دیر آید درست آید‘ تمہارا احساس جاگا اور تم نے صحیح راستہ اپنایا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج تم ڈرائیو ر ہی نہیں ہو بلکہ ایک گاڑی کے مالک ہو۔ اللہ تمہیں معاف فرما ئے، تمہیں مزید ترقی سے نوازے۔ میں بھی تمہاری حرکت پر غصہ ہوگیا تھا، اس لیے مجھے تم معاف کر دینا‘‘۔ پھر اسے میں نے بتایا کہ’’ تم نے حرام کمائی کے لئے بہت بڑا جھوٹ بولا تھا اس لیے مجھے غصہ آیا تھا۔ تم نے اپنی غلطی کا جواز پیش کیا تھا۔ اگر تم اپنی غلطی تسلیم کر لیتے تو مجھے غصہ نہیں آتا‘‘۔ پھر اس کا حال احوال پوچھا۔ وہ بہت خوش ہوا، سلام کر کے رخصت ہوا۔
معاملہ: ڈرائیو ر نے پوچھنے پر اپنا نام افروز عالم بتایا۔ افروز عالم کو دورانِ ملازمت ایک دوست کے پاس گاڑی لے کر بھیجا۔ دوست اپنے ایک مریض رشتے دار کو گووند و پور کے ایک اسپتال میں دکھانے کے لئے لے گیا، شام تک واپس آگیا۔ دوسرے روز افروز عالم نے کہا صاحب! گاڑی میں جو پٹرول تھا وہ آتے جاتے ختم ہو گیا۔
اسے میں نے پٹرول لینے کے لیے پیسے دیئے۔ وہ پٹرول لے کر آیا تو میرے دوست کے ملازم نے مجھے فون کر کے بتایا کہ کل گو وندو پور سے واپسی پر ہمارے صاحب نے چودہ لیٹر آپ کی گاڑی میں پٹرول بھرا دیا تھا۔ یہ بات جب میں نے ڈرائیو ر افروز عالم کو بتائی تو اس نے کہا کہ میں بھول گیا تھا۔ میں نے کہا ’’تم نے تو کہا کہ گاڑی میں پٹرول نہیں ہے اور پھر پیسے لیکر پٹرول بھرانے گئے‘‘۔ اس پر اس نے کہا کہ ’’میں نے سوچا کہ ٹنکی میں پٹرول ریزرو رہے گا‘‘۔افروز اپنی غلطی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوا۔ میں نے جب گاڑی کی چابی مانگی تو دینے سے انکار کر دیا، کہا کہ ’’پہلے میرا حساب کر دیجئے‘‘۔اس پر مجھے بیحد غصہ آیا۔ کسی طرح بلڈنگ کے ڈرائیور وں کی مدد سے اس سے چابی ملی۔ ڈرائیو ر وں میں اکثر یہ کمزوری ہوتی ہے۔
میرے چچا کلکتہ ٹیلیفون میں ڈرائیور تھے۔ صادق حسین نام تھا۔ اسم با مسمّٰی تھے۔ کبھی بھی پٹرول بیچنے کی حرکت نہیں اور نہ ہی اوور ٹائم ایک منٹ زیادہ نہیں لکھا ۔ صوم وصلوٰۃ کے بیحد پابند تھے۔ ڈیوٹی میں بھی پابندی کے ساتھ نماز ادا کرتے تھے۔ غیر مسلم افسران بھی نماز کی انہیں سہولت دیتے تھے۔ ان کو ہر افسر پسند کرتا تھا۔ افسروں کی مدد سے اپنے گاؤں کے تقریباً چالیس پچاس افراد کو نوکریاں دلائیں۔ یہاں تک کہ ہمارے یہاں جو گاؤں میں ہل چلا تا تھا اس کے لڑکے بدھ رام کو بھی ملازمت دلائی۔ آج تقریباً پچیس ہزار روپے پنشن پاتا ہے۔ اپنے بچوں کو بدھ رام نے لکھایا پڑھا یا۔ اسی طرح سبھی پنشن پارہے ہیں۔
چچا نے اپنے بیٹے اور مجھے کلکتہ میں لکھایا پڑھا یا۔ آج اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمارے دونوں خاندانوں میں سب پڑھے لکھے ہیں۔ ہم سب کے پوتے پوتیاں بھی تعلیم سے آراستہ ہورہے ہیں۔ کئی انجینئر ہیں ۔ایک پوتی میڈیکل میں زیر تعلیم ہے۔ میرا ایک پوتا بیرون ملک میں پڑھ رہا ہے۔ یہ پودا میرے مرحوم چچا کا ہی لگایا ہوا ہے جوا تناور درخت ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ پیارے چچا کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین۔
میرے چچا نے اپنی بہن کے ایک لڑکے کو ڈرائیور ی سکھائی اور ٹیلیفون میں ملازمت دلادی۔ وہ میرے چچا کے بالکل برعکس نکلا، اسے حرام حلال کی ذرا بھی تمیز نہیں تھی۔ پٹرول اور او ورٹایم سب سے کماتا تھا۔ کسی لڑکے کو ٹھیک سے نہیں پڑھا سکا۔ بیوی بھی اس سے نالاں رہتی تھی۔ گھر میں سکون نام کی چیز نہیں تھی۔ ایک دفعہ رمضان المبارک کے مہینے میں ایک شخص اس کے پاس آیا۔ اسے نیا ٹیلیفون کنکشن لگوانا تھا۔ اس نے کہا کہ آپ بھی مسلمان ہیں ہم بھی مسلمان ہیں، کچھ رعایت کیجئے گا۔ میری پھوپھی کے لڑکے نے کہا کہ رمضان میں آپ بھی روزہ نہیں ہیں میں بھی روزہ نہیں ہوں۔ آپ بھی سگریٹ نوش فرما رہے ہیں میں بھی سگریٹ پی رہا ہوں تو مسلمان ہو نے کی بات کہاں سے آگئی ؟