کافر ہمیشہ جہنم میں کیوں؟ شبہ کا علمی و عقلی ازالہ
از قلم:مفتی محمد سلمان قاسمی
استاذ ادارہ اشرف العلوم، حیدرآباد
کسی بھی مملکت و سلطنت یا ادارے و محکمے کا نظام اس کے منتظم کی صواب دید پر موقوف ہوتا ہے۔ وہ اپنی منشا کے مطابق جس بات کو مناسبِ حال سمجھتا ہے، اسے اپنے نظام اور سسٹم کا حصہ بناتا ہے۔ کسی دوسرے شخص یا بیرونی فرد (Outsider) کو اس نظام پر انگشت نمائی یا اس کے تجویز کردہ قوانین میں مداخلت کا حق حاصل نہیں ہوتا، بلکہ عرفِ عام میں بھی کسی کے قائم کردہ نظام پر بے جا اعتراض اور مداخلت کو ناپسندیدہ عمل سمجھا جاتا ہے۔
اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد یہ بات ملحوظ رہے کہ ملحدین کے علاوہ دنیا کے تقریباً تمام مذاہب میں آخرت کا تصور مشترک (مابہ الاشتراک) ہے۔ جنت و جہنم، یا دوسرے الفاظ میں Heaven اور Hell، نرک و سورگ، تقریباً تمام مذاہب کسی نہ کسی درجے میں تسلیم کرتے ہیں، اور ان سب کا یہ اعتقاد ہے کہ اعمالِ صالحہ پر انسان جنت یا بہشت کا مستحق ہوگا اور اعمالِ سیئہ، یعنی خدا تعالیٰ کو ناراض کرنے والے افعال پر سزا اور عذاب کا مستوجب قرار پائے گا۔
ہم مسلمانوں کا ایمان و ایقان ہے کہ روزِ قیامت تمام باطل مذاہب ﴿هَبَاءً مَنْثُورًا﴾ کی مانند بے حقیقت ثابت ہوں گے، اور فیصلۂ ایزدی إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ(آل عمران) کے مطابق صرف دینِ اسلام ہی نجات و فلاح کا ضامن ہوگا۔ اس کے بعد اللہ رب العزت مسلمانوں کو ان کے اعمال کے مطابق یا تو دائمی جنت عطا فرمائیں گے، یا بعض گناہ گار مسلمانوں کو وقتی عذاب کے بعد جنت میں داخل فرمایا جائے گا۔ البتہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے باغی، اس کے رسولوں کے منکر، اور شریعتِ اسلامیہ سے منحرف ہو کر اسی حالت میں مر جائیں گے، انہیں ابد الآباد تک جہنم میں رکھا جائے گا، جیسا کہ قرآن کریم کی متعدد آیات اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں۔
اسی مسئلے کو بنیاد بنا کر معاندینِ اسلام اور بعض مستشرقین اللہ تعالیٰ کے نظامِ عدل پر اعتراض کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنی محدود اور مختصر زندگی میں کفر و شرک کا ارتکاب کرتا ہے تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی سزا بھی محدود اور وقتی ہونی چاہیے۔ ان کے بقول چند سال یا چند دہائیوں تک کفر کرنے والے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رکھنا عدل و انصاف کے خلاف اور خالقِ کائنات کی شانِ رحمت کے منافی ہے۔
اس شبہے کا بنیادی جواب یہ ہے کہ بندہ، جو سراپا مخلوق اور سراپا محتاج ہے، اپنے خالق و مالک کے فیصلوں پر اعتراض کرنے کا قطعاً حق نہیں رکھتا۔ بندگی کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اپنے آقا کے ہر حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے۔ مزید برآں انسانی عقل نہایت محدود اور اس کا علم و ادراک انتہائی مختصر ہے۔ خود اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا.(سورہ بنی اسرائیل)
تمہیں بہت ہی تھوڑا علم دیا گیا ہے۔
لہٰذا اس محدود عقل کے ذریعے حکیمِ مطلق کی تمام حکمتوں کا احاطہ کرنا اسی طرح ناممکن ہے جیسے ایک چھوٹے سے گلاس میں پورے سمندر کو سمو دینا ناممکن ہے۔
یہ اس شبہے کا اجمالی اور عقلی جواب ہے، تاہم ائمۂ اسلام اور علماءِ امت نے اس اعتراض کے متعدد علمی اور نقلی جوابات بھی بیان فرمائے ہیں، جن میں سے چند اہم دلائل درج ذیل ہیں۔
پہلا جواب:
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو پہلے ہی واضح طور پر خبردار کر دیا تھا کہ قیامت کے دن کفر و شرک کی کوئی معافی نہیں ہوگی۔ مزید برآں انبیائے کرامؑ آسمانی کتابوں اور علماءِ حق کے ذریعے ہر دور میں انسانوں کو ہدایت اور راہِ راست کی دعوت دی جاتی رہی۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص پوری زندگی کفر و شرک پر اصرار کرتا رہے اور اسی حالت میں دنیا سے رخصت ہو جائے تو گویا اس نے انتہائی درجے کی سرکشی، تکبر اور اپنے رب کے مقابل بے باکی کا مظاہرہ کیا۔ اسی بنا پر وہ ہمیشہ کے لیے جہنم کا مستحق قرار پاتا ہے۔
اسی حقیقت کو قرآن کریم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهَا ۚ إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنْتَقِمُونَ(سورہ سجدہ)
ترجمہ: اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعے نصیحت کی گئی، پھر بھی اس نے ان سے منہ موڑ لیا؟ یقیناً ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں۔
درحقیقت اصل چیز اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی توحید کو قبول کرنا ہے۔ اعمال تو اس کے بعد ایک فطری ترتیب کے تحت آتے ہیں۔ چنانچہ اگر کوئی شخص کفر سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لے اور اسی کے فوراً بعد اس کی وفات ہو جائے تو وہ ہمیشہ کے لیے جنت کا مستحق بن جاتا ہے، حالانکہ اس نے نہ کوئی عبادت انجام دی اور نہ ہی کوئی نیک عمل کرنے کا موقع پایا۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ اس نے اپنے رب کی وحدانیت کو قبول کر لیا۔ اس کے برعکس کافر پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور الوہیت کا انکار کرتا رہتا ہے، اسی لیے وہ دائمی عذاب کا مستحق قرار پاتا ہے۔
دوسرا جواب: نیت، ارادہ اور دوامِ عذاب:
ایک حکمت یہ بھی ہے کہ شریعتِ اسلامیہ کی رو سے انسان کی نیت، ارادہ اور پختہ عزم بھی آخرت کے اجر و سزا میں مؤثر ہوتے ہیں۔ چنانچہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے مقابل آجائیں تو قاتل بھی جہنم میں ہوگا اور مقتول بھی۔
عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! قاتل کا جہنم میں جانا تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن مقتول کیوں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:اس لیے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا پورا ارادہ رکھتا تھا۔(متفق علیہ)
امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:یہ حدیث اس صحیح مذہب کی دلیل ہے جس پر جمہور علماء کا اتفاق ہے کہ جو شخص کسی گناہ کا پختہ ارادہ کر لے اور اسی نیت پر قائم رہے، وہ گناہ کا مرتکب شمار ہوگا، اگرچہ اسے عملی طور پر انجام نہ دے اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی بات کہے۔(شرح صحیح مسلم، کتاب الايمان)
اسی اصول کی بنیاد پر بہت سے اہلِ علم نے اس اشکال کا جواب دیا ہے کہ کفار دنیا میں محدود مدت تک کفر کرتے ہیں، پھر ہمیشہ کے لیے جہنم میں کیوں رہیں گے؟
علامہ ابو بکر الحصنی ؒفرماتے ہیں:عذاب اس وقت تک باقی رہتا ہے جب تک اس کا سبب باقی رہے۔ کفر کے معاملے میں اس کا سبب کفر پر قائم رہنے کا پختہ ارادہ اور عزم ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ایسے لوگ ہمیشہ دنیا میں زندہ رہتے تو ہمیشہ کفر ہی پر قائم رہتے۔ اسی طرح مومن بھی اپنے ایمان کی بنا پر ہمیشہ کی نعمتوں کا مستحق بنتا ہے، اور اسی حقیقت کی طرف اس قول میں اشارہ ہے کہ: ’’مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہوتی ہے‘‘۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے بھی جہنم کے فنا نہ ہونے کے قائلین کے دلائل بیان کرتے ہوئے اسی علت کا ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:’’عذاب اسی وقت ختم ہوتا ہے جب اس کا سبب ختم ہو جائے۔ اگر سبب عارضی ہو، جیسے موحد گناہ گاروں کے گناہ، تو عذاب بھی ایک وقت کے بعد ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر سبب دائمی ہو، جیسے کفر اور شرک، تو اس کا اثر بھی دائمی رہتا ہے۔‘‘
پھر اس پر قرآنِ کریم کی متعدد آیات سے استدلال کرتے ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْه (سورۃ الانعام)
ترجمہ:اگر انہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تو پھر وہی کام کریں گے جن سے انہیں روکا گیا تھا۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی فطرت اور باطنی کیفیت ایسی ہو چکی تھی کہ وہ ایمان قبول کرنے کے لیے آمادہ ہی نہ تھی، بلکہ اگر انہیں دوبارہ موقع بھی دیا جاتا تو وہ پھر اسی کفر و سرکشی کی طرف لوٹ جاتے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:وَمَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِيلًا.(سورۃ بنی اسرائیل)
یعنی جو شخص دنیا میں حق سے اندھا رہا، وہ آخرت میں بھی اندھا اور راہِ حق سے زیادہ دور ہوگا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی گمراہی اور حق سے اندھا پن وقتی نہیں، بلکہ ان کی مستقل کیفیت ہے، اس لیے اس کے نتائج بھی دائمی ہیں۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:وَلَوْ عَلِمَ اللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًا لَأَسْمَعَهُمْ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَهُمْ مُعْرِضُونَ.(سورۃ الانفال)
ترجمہ:اگر اللہ ان میں کوئی بھلائی جانتا تو ضرور انہیں سننے کی توفیق دیتا، اور اگر انہیں سنا بھی دیتا تو بھی وہ منہ پھیر کر اعراض ہی کرتے۔
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے اندر ایسی کوئی خیر موجود نہیں جو رحمتِ الٰہی کی مستحق بن سکے۔ اسی حقیقت کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ:جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان یا خیر موجود ہوگی۔
لہٰذا اگر ان کفار کے دلوں میں ذرہ برابر بھی خیر ہوتی تو وہ بھی جہنم سے نکال لیے جاتے۔
اس کے بعد علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:اللہ کی قسم! اس مسئلے میں یہ دلیل نہایت مضبوط ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ عذاب اپنے سبب کے باقی رہنے تک باقی رہتا ہے۔ جس طرح وہ دنیا میں گمراہی اور باطنی خباثت پر قائم تھے، آخرت میں بھی اسی کیفیت پر رہیں گے، اس لیے ان پر عذاب بھی برابر جاری رہے گا۔
تیسرا جواب: جرم کی سنگینی اور نیت کا دوام
اسی جواب کو حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے قدرے تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ آپ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
یہ بات تو مسلم ہے کہ سزا جرم کے مناسب ہونی چاہیے، مگر کیا مناسبت کا مطلب یہ ہے کہ جرم اور سزا دونوں کا زمانہ بھی ایک دوسرے کے برابر ہو؟ اگر یہی معیار ہو تو جس جگہ دو گھنٹے تک ڈکیتی پڑی ہو اور ڈاکو گرفتار ہو کر عدالت میں پیش کیے جائیں، وہاں حاکم کو صرف دو گھنٹے کی سزا دینی چاہیے۔ حالانکہ اگر کوئی ایسا کرے تو ہر شخص اسے انصاف کے خلاف سمجھے گا۔
اس سے معلوم ہوا کہ جرم اور سزا میں مناسبت کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں کی مدت برابر ہو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سزا کی شدت جرم کی سنگینی کے مطابق ہو۔
اب غور کیجیے کہ کفر و شرک جیسا جرم، جو بندے کو اپنے خالق و مالک کے مقابل لا کھڑا کرتا ہے، جو ربِ کائنات کی الوہیت، ربوبیت اور حاکمیت کا انکار ہے، کیا معمولی جرم قرار دیا جا سکتا ہے؟ یقیناً نہیں۔ اس لیے شریعت نے اس کی جو سزا بیان کی ہے، وہ جرم کی سنگینی کے اعتبار سے عین عدل اور حکمت کے مطابق ہے۔
اگر کوئی یہ کہے کہ جرم شدید تو ہے، لیکن اتنا شدید نہیں کہ اس کی سزا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم ہو، تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اشکال محض جرم کی ظاہری صورت کو دیکھنے سے پیدا ہوتا ہے، جبکہ شریعت میں ثواب و عقاب کا مدار صرف ظاہری عمل پر نہیں بلکہ نیت، ارادہ اور باطنی کیفیت پر بھی ہوتا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اصل مدار نیت ہی پر ہے۔
چنانچہ اگر کوئی شخص دھوکے سے شراب پی لے تو اس پر گناہ نہیں ہوگا، اگرچہ صورتِ فعل موجود ہے، کیونکہ اس نے شراب پینے کی نیت نہیں کی تھی۔ اور اگر کوئی شخص شراب پینے کی نیت سے جائے اور کسی وجہ سے اسے شراب کے بجائے کوئی اور مشروب پلا دیا جائے، تو اگرچہ حقیقتاً شراب نہیں پی، لیکن اس کی نیت چونکہ معصیت کی تھی، اس لیے وہ گناہ کا مستحق ہوگا۔
اسی بنا پر فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے ہم بستری کرے، لیکن اندھیرے یا کسی غلط فہمی کی بنا پر یہ سمجھ رہا ہو کہ یہ اس کی بیوی نہیں بلکہ کوئی اجنبی عورت ہے، تو اس کے اس فاسد ارادے کی وجہ سے وہ گناہگار ہوگا۔ اسی طرح اگر اپنی بیوی سے تعلق کے وقت کسی اجنبی عورت کا تصور قائم کرکے اس سے لذت حاصل کرے تو بھی گناہ کا مستحق ہوگا۔ اس کے برعکس اگر شبِ زفاف میں غلطی سے کسی دوسری عورت کو اس کے پاس بھیج دیا گیا اور وہ اسے اپنی بیوی سمجھ کر اس سے تعلق قائم کر بیٹھا، تو اس پر گناہ نہیں ہوگا، کیونکہ اس کی نیت معصیت کی نہ تھی۔
ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ شریعت میں محض ظاہری عمل ہی نہیں بلکہ نیت اور ارادہ بھی جزا و سزا کے تعین میں بنیادی کردار رکھتے ہیں۔
لہٰذا اگرچہ ظاہری اعتبار سے کافر کا کفر محدود اور متناہی مدت پر مشتمل ہے، لیکن اس کے باطن میں یہ عزم موجود ہوتا ہے کہ اگر وہ ہمیشہ زندہ رہے تو ہمیشہ اپنے کفر پر قائم رہے گا۔ اسی دائمی ارادے اور مسلسل سرکشی کی بنا پر اس کا عذاب بھی دائمی قرار دیا گیا۔
اس کے برعکس مومن کا ایمان اگرچہ دنیاوی زندگی کے اعتبار سے محدود ہے، لیکن اس کی نیت یہ ہوتی ہے کہ اگر اسے ہمیشہ زندگی مل جائے تو وہ ہمیشہ اپنے رب کی اطاعت اور ایمان پر قائم رہے گا۔ اسی لیے وہ ابدی نعمتوں اور دائمی جنت کا مستحق بنتا ہے۔(ماخوذ از: اشرف الجواب، ص:۱۶،۱۷)
خلاصۂ بحث
مذکورہ تفصیل سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ کفار کے دائمی عذاب پر کیا جانے والا اعتراض درحقیقت اسلامی تصورِ جزا و سزا کو مکمل طور پر سمجھے بغیر پیدا ہوتا ہے۔
قرآنِ کریم، احادیثِ نبویہ ﷺ اور ائمۂ امت کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ دائمی عذاب کی بنیاد محض چند سالہ ظاہری کفر نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے مقابل مسلسل بغاوت، حق کے انکار، اتمامِ حجت کے بعد اعراض، اور اس باطنی ارادے پر ہے جس کے تحت کافر ہمیشہ کفر پر قائم رہنا چاہتا ہے۔
اسی طرح شریعت کا مسلم اصول ہے کہ جزا و سزا کا تعلق صرف ظاہری اعمال سے نہیں بلکہ نیتوں، ارادوں اور قلبی کیفیات سے بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ جس شخص کی نیت ہمیشہ کفر پر باقی رہنے کی ہو، اس کے لیے دائمی عذاب کا فیصلہ عقل، نقل اور عدل؛ تینوں کے اعتبار سے قابلِ فہم اور حکمت کے مطابق ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ مسئلۂ تخلیدِ کفار فی النار محض فلسفیانہ بحث نہیں، بلکہ یہ عقیدۂ آخرت، عدلِ الٰہی، حکمتِ ربانی اور اسلامی اصولوں سے متعلق ایک نہایت اہم مسئلہ ہے۔
اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات سراپا عدل بھی ہے اور سراپا رحمت بھی۔ اس کا کوئی فیصلہ ظلم، ناانصافی یا بے حکمت نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ جس طرح اس نے اہلِ ایمان کے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول رکھے ہیں، اسی طرح اس نے سرکشوں، متکبروں اور حق کے جان بوجھ کر انکار کرنے والوں کے لیے اپنے عدل کے تقاضوں کو بھی بیان فرما دیا ہے۔
کفار کے دائمی عذاب کا مسئلہ دراصل اسی عدلِ الٰہی کا مظہر ہے۔ یہ سزا کسی عارضی لغزش یا وقتی خطا پر نہیں، بلکہ اس مسلسل اور دائمی بغاوت پر ہے جو بندے کو اپنے خالق کے مقابل لا کھڑا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم بار بار اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اگر ایسے لوگوں کو دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تو وہ پھر وہی روش اختیار کریں گے جس پر پہلے قائم تھے۔
لہٰذا جب قرآن، سنت اور اقوالِ ائمہ کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ حقیقت پوری طرح آشکار ہو جاتی ہے کہ کفار کا دائمی عذاب نہ عدلِ الٰہی کے خلاف ہے، نہ رحمت ِ الٰہی کے منافی اور نہ ہی عقلِ سلیم کے لیے ناقابلِ فہم؛ بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے کامل علم، کامل عدل اور کامل حکمت کا عین تقاضا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھنے، اس پر ثابت قدم رہنے، اور ہر قسم کے شبہات و فتنوں سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔