ارشادِ ربانی ہے:’’ کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت کا داخلہ تمھیں مل جائے گا، حالانکہ ابھی تم پر وہ سب نہیں گزرا ، جو پہلے ایمان لانے والوں پر گزر چکا ہے؟‘‘ پچھلی قوموں کے حوالے سے اہل ایمان کو ہجرت کے بعد پیش آنے والے مشکل حالات کی خوفناکی سے آگاہ کردیا گیا :’’ ان پر سختیاں گزریں، مصیبتیں آئیں، ہلا مارے گئے، حتیٰ کہ وقت کا رسولؐ اور اس کے ساتھی اہل ایمان چیخ اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟‘‘مگر اختتام پر اس بشارت کے ذریعہ تسلی دی گئی کہ :’’ ہاں، اللہ کی مدد قریب ہے‘‘۔ غزوۂ احزاب سےقبل صحابہ کرام ؓاس کیفیت سے ایسےدوچار ہوئے کہ:’’جب دشمن اُوپر سے اور نیچے سے چڑھ آئے، جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں، کلیجے منہ کو آگئے، اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے، اُس وقت ایمان لانے والے خوب آزمائے گئے اور بُری طرح ہلامارے گئے‘‘اس کے باوجوددشمن فوجیں بیل نیل و مرام لوٹ گئیں اور صلح حدیبیہ سے شروع ہونے والا سلسلہ فتح مکہ پر منتج ہوگیا۔
طوفان الاقصیٰ کے بعد امت مسلمہ آزمائش میں مبتلا ہوئی تو اہلیانِ غزہ نے بے مثال صبر و استقامت سے اس کا مقابلہ کیا ۔ اس کے بعد ایران پر حملہ اور رہبر معظم کے ساتھ پوری فوجی قیادت کی شہادت نےامت کو ہلا کر رکھ دیا مگر ان مشکل ترین حالات کے بطن سے ’مکہ اعلامیہ‘ نمودار ہوا جس نے دنیا میں طاقت کا توازن بدل کر رکھ دیا۔ ایران کے ہاتھوں اسرائیل کی رسوا کن شکست اور امریکہ کی زبردست پسپائی کے بعد طے پانے والے معاہدنے نئی تاریخ رقم کردی ۔پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیہ کے اتحاد نے ان دشمنانِ اسلام کی نیند حرام کردی جن کی ساری سفارتکاری کا دارومدار امت کو بانٹنے اور کاٹنے پر تھا ۔ 1932؍ سے قبل ترکیہ اور مملکتِ حجاز و نجد(یعنی سعودی عرب) خلافت عثمانیہ کا حصہ تھے ۔ وطنیت کی بنیاد پر انہیں اس طرح دور کیا گیا کہ دونوں ممالک کا پھر سے شیرو شکر ہوجانا ناممکن لگتا تھا۔فی الحال انہیں ملانے والے پاکستان کا تو اس وقت وجود ہی نہیں تھا ۔ عالمی افق پر وقوع پذیر ہونے والی یہ تبدیلی چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے :’’ ہاں زحمت کے ساتھ آسانی بھی ہے بے شک تکلیف کے ساتھ سہولت بھی ہے‘‘۔
سعودی عرب ، پاکستان اور ترکیہ کا یہ مثلث میں شامل تین ممالک مختلف اور نمایاں صفات کا حامل ہیں ۔ سعودی عرب کو خادمین حرمین شریفین کی حیثیت امت کے اندر دینی تقدس حاصل ہے۔ تیل کی دولت سے مالا مال اس ملک نے امریکہ سے بے شمار اسلحہ خرید رکھا ہے اور اب وہ اس کا استعمال ہر دشمن اسلام کے خلاف استعمال کرنے کے لیے آزاد ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان جو نفرت کا بیج مغربی ممالک نے بویا تھا اسے چین نے اکھاڑ کر پھینک دیا۔ حالیہ جنگ میں سعودی عرب اور ایران نے دشمنانِ اسلام کے لاکھ اکسانے کے باوجود باہمی مفاہمت کا عملی ثبوت دے کر ثابت کردیا کہ اب امت کو آپس میں لڑا کر سیاست چمکانے کے دن لد گئے۔ ایٹمی اسلحہ سے لیس پاکستان اپنی سفارتی صلاحیت کا لوہا بھی منوا چکا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی بات چیت میں وہ سب سے بڑا ثالث بن کر ابھرا۔ چین ، روس اور امریکہ کے قریبی تعلقات ہیں ۔ ایشیا اور یوروپ کو جوڑنے والا ترکی ناٹو میں شامل ایسا ملک ہے جو یوروپ کے تمام ممالک سے آگے نکل گیاہے۔ اس کے پاس ناٹو میں امریکہ کے بعد سب سے طاقتور فوج ہے۔ وہ اپنی 80 فیصد اسلحہ کی ضرورت پوری کرکے ڈرونز و میزائل برآمد بھی کرتا ہے۔
ٹرمپ ترکی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں اس لیے انہوں نے اسرائیل کو ناراض کرکے ایف 35جنگی جہاز کی ٹیکنالوجی دینے کا اعلان کردیا ہے۔اس تناظر میں ان تین ممالک کا یکجا ہوجانے سے ’عظیم اسرائیل‘ کا خواب دیکھنے والوں کی نیند حرام ہوگئی ہے۔ غزوۂ بدرپر قرآنی تبصرہ موجودہ حالات کی تفسیر بن گیا ہے۔ ارشادِ فرقانی ہے:’’منکرینِ حق اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ وہ بازی لے گئے، یقیناً وہ ہم کو ہرا نہیں سکتے‘‘۔ ان تمہیدی کلمات کے بعد حکم دیا گیا کہ:’’اور تم لوگ، جہاں تک تمہارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلہ کے لیے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دُوسرے اعداء کو خوف زدہ کرو جنہیں تم نہیں جانتے‘‘۔ ان ممالک کی مشترکہ حربی تیاری سے دہشت زدہ اسرائیل کے سابق وزیر اعظم بینیٹ نفتالی اپنی شدید بے چینی اور تشویش کا اظہار کرچکے ہیں لیکن اب وقت کا یہ پہیہ پیچھے نہیں مڑے گا بلکہ صہیونیت کو کچل کر آگے بڑھ جائے گا۔ قرآن کریم اس معاہدے میں وسائل صرف کرنے کی ترغیب اس طرح دیتا ہے کہ:’’ اللہ جانتا ہے اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف پلٹایا جائے گا اور تمہارے ساتھ ہرگز ظلم نہ ہوگا ‘‘۔
مکہ معاہدے کا مقصد مشترکہ مدافعت کا نظام قائم کرنا ہےمگریہ دشمنان اسلام کومرعوب بھی کر سکتاہے۔ ایسے میں فرمانِ خداوندی ہے: ’’اے نبیؐ، اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو آپ بھی اس کے لیے آمادہ ہو جائیں اور اللہ پر بھروسہ کریں ، یقیناً وہی سننے اور جاننے والا ہے‘‘لیکن اگر ان کی نیت میں کھوٹ بھی ہوتو یہ تاکید ہے کہ:’’ اگر وہ دھوکے کی نیت رکھتے ہوں تو تمہارے لیے اللہ کافی ہے وہی تو ہے جس نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعہ سے تمہاری تائید کی‘‘۔ مکہ اعلامیہ کس قدر عظیم نعمتِ خداوندی ہے اس کا اندازہ آگے والی آیت سے کیا جاسکتا ہے:’’ مگر وہ اللہ ہے جس نے مومنوں کے دل ایک دُوسرے کے ساتھ جوڑ دیے تم روئے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر ڈالتے تو اِن لوگوں کے دل نہ جوڑ سکتے تھے ، یقیناً وہ بڑا زبردست اور دانا ہے‘‘۔ اس معاہدے میں فی الحال صرف تین ممالک شامل ہیں لیکن ایران سمیت دیگر ممالک سے رابطہ کیا جارہا ہے اور بہت جلد وہ بھی اس میں شامل ہوسکتے ہیں ۔ مکہ اعلامیہ اشارہ کررہا ہے کہ؎
کتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا