مبداءِ فیاض نے ہمارے اکابر علمائے ہند کو وہ دور رس نگاہ اور ایمانی فراست عطا فرمائی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے انگریزوں کے ناپاک عزائم کو بھانپ لیا تھا اور آزادئ ہند کی خاطر انہوں نے پیچھا نہ چھوڑنے والے سائے کی طرح انگریزوں کا مقابلہ کیا نیز اس ملک کی حفاظت کے لیے اس قدر اپنی راحتوں کو قربان کر دیا گویا کہ ان کی زندگی کی تمام راحتیں ان کے وطن عزیز کی خاک میں دفن ہو چکی تھی۔تاریخِ آزادی ہند کے مطالعے سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ انگریزوں کو ملک بدر کرنے میں جہاں ہمارے اکابر کی غیر معمولی محنت و مشقت، حیرت انگیز قربانیوں، مختلف تحریکوں اور کامیاب منصوبہ بندیوں کا دخل ہے وہیں ان کی پاکیزہ زندگی، راتوں کی آہ و زاری،خدا ترسی، اخلاص اللہیت اور ترک معاصی جیسی روحانی صفات کا بھی اہم کردار رہا ہے۔
ماضی میں ہمارے اکابر و آباء نے محیر العقول قربانیاں پیش کی چنانچہ 1757 میں نواب سراج الدولہ کو قتل کیا گیا، 1799 میں ٹیپو سلطان شہید رح نے اس ملک کی آزادی کے لیے جامع شہادت نوش کیا 1857 میں انگنت علماء اور مسلم عوام کو پھانسی دی گئی مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی کو بے دردی سے شہید کیا گیا، شیخ الہند کو یورپ لے جا کر بحرِ روم کے جزیرہ مالٹا میں قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کرنے پر مجبور کیا گیا اور وہاں شیخ الہند نے راتوں کی آہ و زاری کے ذریعے اس ملک کی آزادی کے لیے دعائیں کی۔(ملخص از کتاب تاریخ ہند)
اسی طرح یہ حقیقت بھی کبھی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے کہ اس ملک پر حکومت کرنے والے مسلم حکمرانوں میں کئی ایسی نمایاں شخصیات گزری ہیں جن کی ذاتی زندگی کی پاکیزگی،طہارت نفس اخلاقی و معاشرتی اعتبار سے ان کا عمدہ کردار تاریخ ہند میں اہمیت کا حامل ہے جس کا اندازہ اس واقعے سے کیا جا سکتا ہے کہ سلطان ناصر الدین محمود بن التمش کے ایک مصاحب کا نام محمد تھا بادشاہ ہمیشہ اسی نام سے پکارا کرتا تھا ایک روز بادشاہ نے اسے "تاج الدین” کہہ کر پکارا اس مصاحب نے حکم کی تعمیل کی لیکن بعد میں اپنے گھر جا کر تین روز تک بادشاہ کے دربار میں حاضر نہیں ہوا بادشاہ نے اس کو طلب کیا اور غیر حاضر کا سبب پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ اپ ہمیشہ مجھے محمد کے نام سے پکارتے تھے لیکن اس دن آپ نے تاج الدین کہہ کر پکارا تو میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ شاید آپ کے دل میں میری طرف سے بدگمانی پیدا ہو گئی ہے اس وجہ سے میں تین روز اپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوا،یہ سن کر بادشاہ نے قسم کھا کر کہا کہ میں ہرگز ہرگز تم سے بدگمان نہیں ہوں لیکن میں نے جس وقت تم کو تاج الدین کے نام سے پکارا تھا اس وقت میں باوضو نہیں تھا مجھے یہ مناسب معلوم نہ ہوا کہ بغیر وضو محمد کا مقدس نام اپنی زبان پر لاؤں(تاریخ فرشتہ اول ص 277)
طہارت نفس کا یہ عالم اس وقت کے حکمرانوں میں ہوا کرتا تھا جس کی وجہ سے مسلمانوں کو اُس دور میں عروج و ترقی حاصل تھی اِس کے علاوہ دیگر حکمرانوں نے نہ صرف یہ کہ عدل و انصاف کے قائم کرنے میں ایک عمدہ کردار ادا کیا بلکہ دینی تعلیمات پرعمل اور شریعت کی پابندی کے اعتبار سے ایک تاریخ رقم کر دی۔
اس ملک میں ہر سال 15 اگست کی آمد پر جشن آزادی منایا جاتا ہے اور نسل نو کے سامنے اکابر علماء ہند کی بے مثال قربانیوں کو پیش کیا جاتا ہے اور پیش کرنا بھی چاہیے لیکن زمانۂ رواں میں ہمارے یہ مروجہ پروگرامس کا ظاہری پہلو جتنا شہد سے زیادہ میٹھا نظر آرہا ہے اتنا ہی اس کا باطنی پہلو حنظل سے زیادہ تلخ محسوس ہو رہا ہے،کیونکہ ہمارے ہر عمل کو رفتہ رفتہ رسمیت کی دیمک لکڑی کی طرح اپنا لقمہ بنا رہی ہے یہی وجہ ہے کہ آج ہم محض اکابر کی زندگیوں کو پیش تو کر رہے ہیں لیکن ان کے نقش قدم پر چلنا ہمارے لیے سوہان روح بنا ہوا ہے ہم اپنے شاندار ماضی کا ذکر کر کے مسرور تو ہو رہے ہیں لیکن حال و مستقبل کو روشن کرنے کے لیے کمربستہ نہیں ہو رہے ہیں۔ حضرت الاستاذ مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری قدس سرہ ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں کہ انسان کی زندگی ہمیشہ اس کے ماضی کے ساتھ جڑی رہتی ہے ماضی کا مطالعہ و مذاکرہ حال اور مستقبل کو بہتر بنانے میں بڑا مددگار ثابت ہوتا ہے جو لوگ ماضی کو فراموش کر کے یا محض ماضی کے کارناموں سے خوش ہو کر حال و مستقبل کو سازگار بنانا چاہتے ہیں تو ان کا خواب کبھی بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوتا۔( تقریظ تاریخ ہند ص 13) کچھ ایسا ہی حال ہمارا ہو گیا ہے کہ ہم ہر سال محض اس ملک کے شاندار ماضی کو ذکر کر کے خوش ہو جاتے ہیں لیکن حال و مستقبل کو سازگار بنانے کے لیے کوئی سعی نہیں کرتے ہیں،
آج سب سے بڑا المیہ ہمارے مسلم معاشرے کا یہی ہے کہ ہم اپنے شاندار ماضی میں اکابر علماء ہند کے ظاہری اور باطنی جدوجہد کو اپنا کر حال و مستقبل کے ناسازگار حالات کا مقابلہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ "پدر من سلطان بود” کام مصداق بنتے ہوئے اپنی ہمت و شوق کو دفن کر رہے ہیں، خدا کا قانون اٹل ہے ان الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بانفسهم الخ
خدا نے اج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت بدلنے کا
بہرحال دور حاضر میں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اس ملک میں ہمارے اکابر نے جہاں ظاہری جدوجہد کی ازادی ملک کی خاطر منصوبہ بندیاں کی وہیں اپنی روحانی ترقی اور تعلق مع اللہ میں رسوخ بھی حاصل کیا پھر اس ملک سے انگریز کیونکر نہ بھاگتے،جس طرح ایک پرندے کو اڑنے کے لیے دو بازوں کی ضرورت ہوتی ہے ایک پر سے پرندہ اڑ نہیں سکتا اسی طرح اس ملک میں ہم صرف ظاہری جدوجہد اور منصوبہ بندیوں سے کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک کہ ہم اپنے اکابر کی طرح روحانی ترقی اور تعلق مع اللہ میں اضافہ نہ کر لیں روحانیت کے پر اور ظاہری کوشش کے دوسرے پر کے ساتھ ہی ہم اس ملک میں ازادی سے رہ سکتے ہیں اور دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی کا سورج دیکھ سکیں گے
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر سال حدر من سلطان بغت کا نعرہ لگانے کے بجائے ظاہری وباطینی جدوجہد کے ذریعے سے اپنے اکابر کے نقش قدم پر چلیں اور بدلتے حالات کا رخ موڑ ڈالیں اور اس ملک کی حفاظت کے لیے اگے ائیں تاکہ ہماری یہ نسل حال کی مایوسیوں میں مستقبل کی امیدوں کا سہارا بنے اور دھڑکتے دلوں کے لیے تسلی کا کام کرے اگر ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر روشن مستقبل کا خواب دیکھیں گے تو پھر اس ملک میں مسلمان”ڈوبتے کو تنکے کا سہارا” کے مانند ہو جائیں گے علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے کہ
تھے تو آباء وہ تمھارے ہی مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو