للن اودھی نے کلن فیض آبادی سے کہا یار کاروبار کیسا چل رہا ہے؟
کلن بولا سارا دھندا چوپٹ ہے ایودھیا ویران پڑی ہے ۔
ارے یہ کیسے ہوگیا ؟
کلن بولا کیا بتاوں اس چندہ چوری نے رام مندر سے ہندووں کی آستھا پر بہت بڑی چوٹ کردی ہے۔
یہ نہیں ہوسکتا ۔ سنا تنی ہندووں کا پیسہ اگر ہندتوانواز کھا جائیں تو اس میں کیا غلط ہے۔ کسی اورکو اس پر اعتراض کرنے کا کیا حق ہے؟
بھیا کوئی اور اعتراض کرہی کہاں رہا ہے پپو یادو اور اکھلیش مسلمان یا عیسائی تھوڑی نہ ہیں ؟
للن نے کہا ارے بھائی وہ جعلی ہندو ہیں اصلی ہندو ہمیشہ رام مندر اور ہم پر بھروسا کرتے رہیں گے۔ کیا سمجھے ؟
بھائی یہ تمہاری خوش فہمی ہے ۔ ابھی تازہ اعدادو شمار کے مطابق ہندو زائرین کی تعداد پچھلے سال کی پہلی ششماہی کے مقابلے ستّر فیصد کم ہوگئی ہے۔
یہ کیسے پتہ چلا؟ مجھے تو لگتا ہے کہ تم دشمنوں کے پروپگنڈے کا شکار ہوگئے ہو۔
جی نہیں پچھلے سال جہاں دوکروڈ اڑتیس لاکھ عقیدتمند آئے تھے اس کے مقابلےامسال پہلے ۶ ؍ ماہ میں صرف بہّتر لاکھ سیاحوں کی آمد ہوئی ہے۔
اچھا اب سمجھ میں آیا کہ ہمارے سر سنگھ چالک موہن بھاگوت نے اچانک کینیڈا جانے کا منصوبہ کیوں بنالیا ؟
کلن نے پوچھا، اچھا تو کیا وہ کینیڈا میں رام مندر بنوائیں گے؟
بن جائے تو اچھا ہے اور نہ بنے تب بھی وہاں کی گرو دکشنا ڈالر میں ہوگی یعنی سو روپئے مل جائیں تو دس ہزار کے برابر ۔ کیا سمجھے؟
کلن بولا لیکن پنڈت جی اس رنگ میں بھی بھنگ پڑگیا ہے۔
للن نے پوچھا وہ کیسے؟
ارے بھائی وہاں پر دو کینیڈین ارکانِ پارلیمنٹ نے موہن بھاگوت کے دورے کی مخالفت کرنے والوں کا ساتھ دے دیا ۔
اچھا سمجھ گیا وہ بھی ظہران ہمدانی کی طرح ہندو مخالف مسلمان ہوں گے ؟
جی نہیں بھیا آر ایس ایس پر پابندی کا مطالبہ کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ ہیدر میک فیرسن اور جینی عیسائی ہیں۔
اچھا مگر ان کو ہمارے سنگھ چالک سے کیا تکلیف ہے؟
وہ بھاگوت کی کینیڈا میں موجودگی کو مقامی شہریوں کے لیے خطرہ کہتے ہیں اور آر ایس ایس سمیت اس کے ارکان پر پابندی کا مطالبہ کررہے ہیں۔
للن بولا یا رسمجھ میں نہیں آتا ملک کے اندر پرینک کھڑگے ہمارے پیچھے پڑا ہوا ہے اور باہر فیر سن اور جینی۔ اسی لیے میں کہہ رہا تھا ستاروں نکشتر دیکھو۔
بھیا یہ بتاو کہ اچانک ہمارے بھاگوت جی کو پہلی بار امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ کا دورہ کرنے کی کیا سوجھی؟
بھائی مجھے تو لگتا ہے کہ موہن بھاگوت جی کو بھی پردھان جی کی مانند سیر سپاٹے کی عادت لگ گئی ہے۔
نہیں بھائی وہ تو آر ایس ایس کے صد سالہ سالگرہ کے حوالے سے رابطہ پروگرام کے تحت جانے والے ہیں اب پتہ نہیں ممکن ہوگا یا نہیں؟
لیکن ان انگریزوں کو ہماری حقیقت کا علم کیسے ہوگیا جبکہ بہت سارے ہندوستانی بھی اپنی لاعلمی کے سبب ہمیں بہت نیک اور شریف سمجھتے ہیں۔
بھیا یہ دونوں کینیڈین ارکانِ پارلیمنٹ نیو ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن ہیں، جس کی قیادت حال ہی تک جگمیت سنگھ کر رہے تھے۔
تب تو اور بھی اچھی بات ہے کم از کم پردیس کی حد تک تو ہم ہندوستانی ایک دوسرے سے لڑنے کے بجائے خیال رکھتے ہیں ۔
ارے بھیا ہم نے خود جگمیت کا لحاظ نہیں رکھا تو دوسروں سے اس کی توقع کیسے کی جائے ؟
میں نہیں سمجھا ۔ تم کہنا کیا چاہتے ہو؟ ہم اپنے ہی آدمی کو ویزا نہ دیں یہ کیونکر ممکن ہے؟
بھائی 2013 میں 1984 کے مخالفِ سکھ فسادات اور خالصتانی سرگرمیوں سے وابستگی کی وجہ سے جگمیت کو ہندوستان کا ویزا نہیں دیا گیا۔ اب تم بولو۔
ارے بھیا اس وقت تو منموہن سنگھ کی حکومت تھی۔ اس میں ہماری کیا غلطی ؟
ہم لوگ اس غلطی کو سدھار سکتے تھے مگر ہم نے بھی تو ایسا نہیں کیا۔
لیکن دو ارکان پارلیمان سے کیا ہوتا ہے۔ ہم لوگ تو ڈیڑھ سو کو نکال کر آئینی ترمیم کی منظوری لے لیتے ہیں۔
اوہو سمجھتے کیوں نہیں۔ ان ارکان کے ساتھ انسانی حقوق کی وکالت کرنے والی تنظیم جسٹس فار آل کینیڈا بھی موجود ہے۔
ارے بھائی ہمارے پردھان جی ایسی چھوٹی موٹی تنظیموں کو کب خاطر میں لاتے ہیں ۔ وہ سب ٹھیک کردیں گے ۔
بھائی ان کے ساتھ 267 کینیڈین سول سوسائٹی تنظیموں، انسانی حقوق کے علمبرداروں نے بھی وزیر اعظم کارنی اور دیگر وزرا کو احتجاجی خط لکھا ہے۔
اچھا تو ان سب کو کیادقت ہے؟
بھائی وہ سب اپنی حکومت پر بھاگوت کی کینیڈا میں داخلے کی اہلیت کا جائزہ لےکر انہیں کینیڈا میں داخل ہونے سے روکنے پر زور دے رہے ہیں ۔
ارے بھائی یہ دنیا بھر کے سکھ عیسائی اور مسلمان آخر ہندووں کے خلاف کیوں ہوگئے؟
ان کا دعویٰ ہے کہ یہ مہم، ہندو مت یا ہندو کینیڈینوں کے خلاف نہیں بلکہ آر ایس ایس اور ہندوتوا کی سیاست کے خلاف ہے۔
اچھا تو کیا وہ ہمیں ایک ثقافتی اور سماجی تنظیم کے طور پر تسلیم نہیں کرتے؟
جی نہیں ہماری نظریاتی بنیادوں اور موجودہ طریقۂ کار میں انہیں مذہبی اکثریت پسندی، اخراج اور اقلیتوں کے خلاف دشمنی نظر آتی ہے۔
یار یہ تو سچائی ہے مگر اس کو وہ لوگ اتنی اہمیت دیں گےاس کا اندازہ نہیں تھا اس موقف نے تو بھرے بازار میں ہمارا پول کھول کر رکھ دیا۔
یار ایک بات بتاو پچھلے سال یعنی 2025 میں ہم نے اسکوئر پیٹن نامی لابنگ فرم کو جو 330,000 ڈالر دئیے تھے کیا وہ سب مٹی میں مل گئے ؟
ارے بھائی وہ تو امریکہ کے لیے تھے لیکن یہ قضیہ تو کینیڈا کا ہے ۔ سمجھتے کیوں نہیں؟
تو کچھ روپیہ کینیڈا کے لیے بھی خرچ کردیتے ۔ کیا مسئلہ ہے؟
بھائی یہ معاملہ روپیہ پیسے سے حل نہیں ہوگا ۔ جب تک منی پور اور گجرات ہوتا رہے گا ۔ مساجد اور گرجا گھروں پر حملے ہوں گے مسئلہ رہے گا۔
لیکن اس کے بغیر تو ہم اقتدار میں نہیں رہ سکیں گے ۔ اس لیے کریں تو کریں کیا ؟
بھائی ہم لوگ پھنس چکے ہیں۔ ہمارے ایک طرف رسوائی اور دوسری جانب اقتدار ہے ایک کو پکڑو تو دوسرا اپنے آپ چلا آتا ہے۔
اچھا یا ریہ بتاو کہ امریکہ کے اندر تو بھاگوت جی کو کوئی مشکل نہیں آئے گی ؟
بھائی وہاں بھی کچھ ٹھیک نہیں ہے کیونکہ امریکی کی بین الاقوامی مذہبی آزادی کے کمیشن نے بھی ہم پر پابندی لگانے کی سفارش کی ہے۔
وہ تو ٹھیک ہے مگر ٹرمپ کی پردھان جی سے دوستی کب کام آئے گی؟
ارے بھائی ٹرمپ تو پردھان جی کا دشمن بناہوا ہے ۔ اس نے ہمارے شہریوں کو بیڑیاں ڈال کر بھیجا اور پاکستان سے جنگ رکوانے کا دعویٰ کرتا رہا ۔
ہاں یار سمجھ میں نہیں آتا کہ پردھان جی اس کو سب مان لیتے پھر بھی وہ عاصم منیر کو قصر ابیض میں بلا کر اپنے ساتھ کھانا کھلاتا ہے۔
جی ہاں ہمارے پردھان جی امریکہ کے بغل بچہ اسرائیل سے مل کر آئے مگر اس نے پاکستان کو ایران کے معاملے میں ثالث بنادیا ۔
جی ہاں میں بھی سوچ رہا تھا کہ برکس کی صدارت کے سبب یہ اعزاز ہمیں حاصل ہوگا مگر سب بیکار ہوگیا ۔
بھیا ٹرمپ کی برکس سے بڑی لڑائی ہے اس کے نزدیک برکس کا صدر ہونا خوبی نہیں عیب ہے۔
جی ہاں شاید اسی لیے اس نے پردھان جی کو جی ۷ کے اجلاس میں فرشتہ نما قاتل تک کہہ دیا ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ چاہتا کیا ہے؟
وہ دراصل پردھان جی سے کملا ہیرس کی حمایت کا انتقام لینا چاہتا ہے۔ پردھان جی کو اس کی حمایت نہیں کرنی چاہیے تھی ۔
بھیا اس وقت تو سب کو لگ رہا تھا کہ ٹرمپ ہار جائے گا اسی لیے پردھان جی نے ہندوستانی نژاد کملا کی حمایت کی ۔
پردھان جی کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ امریکی رائے دہندگان نہ تو ماضی میں کسی عورت کو سربراہَ مملکت بنایا اور نہ آگے بنائیں گے ۔
اچھا بھیا ٹرمپ کو چھوڑو اور یار یہ بتاو کہ ان سو سالوں میں ہم نے 2,831 ذیلی تنظیمیں بنائیں اور انہیں 40 سے زیادہ ممالک میں پھیلا دیا تو کیا فائدہ ہوا؟
صحیح بات ہے۔ دیکھو ہم نے امریکہ میں ہندو سویم سیوک سنگھ بناکر ۳۳ صوبوں میں 1,600شاکھائیں قائم کیں مگر وہ ہمارے کسی کام نہیں آئیں ۔
یار کیا بتاوں ہم نے امریکی انتخابات کو متاثر کرنے کے لیے 2012 سے2020 تک 172,000 ڈالر خرچ کیے وہ بھی ڈوب گئے۔
بھیا سچ بتاوں مجھے تو لگتا ہے ہمارے ستارے گردش میں آچکے ہیں اس لیے کوئی ہوون شوون کرنا چاہیے ۔
بھیا امریکہ میں ہوون نہیں چلتا ۔ ٹرمپ کے لیے جب کیا گیا تو وہ ہار گیا اور نہیں کیا گیا تو وہ جیت گیا ۔
ۃان یار ہم لوگوں نے تو نیتن یاہو کی جیت کے لیے ہوون کیا مگر ایران نے مار مار کر اس کا بھرکس نکال دیا ۔
بھائی مجھے تو لگتا ہے اب نیتن یاہو والی ذلت و رسوائی ہمارا مقدر بن چکی ہے اور ہم اس سے کبھی نہیں نکل سکیں گے ۔
مجھے بھی یہی لگتا ہے۔ خدا خیر کرے ۔میرے خیال میں تو سر سنگھ چالک کو باہر جانے کے بجائے ملک کے اندر ہی توجہ دینی چاہیے ۔
جی مجھے بھی یہی لگتا ہے۔ چلو چلتے ہیں ۔