سازش اور یہودیت لازم و ملزوم ہیں

سازش اور یہودیت لازم و ملزوم ہیں

سازش اور یہودیت لازم و ملزوم ہیں

ازقلم:عبدالعزیز

جس طرح شیطان اور شرارت لازم اور ملزوم ہیں اسی طرح سازش اور یہودیت دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ یہودیوں نے اپنی قوم کو محفوظ رکھتے ہوئے دنیا بھر کے لوگوں کے خلاف جو منصوبہ بند نقشہ بنایا ہے اس کا نام صیہونی پروٹوکول ہے۔ اس کو خفیہ رکھنے کی بہت کوششوں کے باوجود ان کو پہلے ہی قدم پر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا یعنی انہی کے اندر کی ایک خاتون نے اس کی بھنک پاکر ان کے منصوبے کو باہر فاش کردیا اور یہ اس لئے وہ یہودی النسل نہیں تھی؛ چنانچہ اس کے اندر ضمیر موجود تھا اور انسانیت سے محبت بھی تھی۔صیہونی پروٹوکول کا کسی غیر یہودی کے پاس ہونا اس کے قتل کے لئے کافی تھا، لیکن اللہ کی مرضی اب یہ چیز بازار میں موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ کافروں کی مثال گردن میں طوق پڑے ہوئے انسان کی طرح دیتا ہے جو ان کی ٹھوڑی تک ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے قدم کے پاس نہیں دیکھ سکتے ہیں اور ان کے آگے اور پیچھے دیوار کھڑی کردی گئی ہے جس کی وجہ سے یہ دور کی چیز بھی نہیں دیکھ سکتے؛ چنانچہ ان کے شان و گمان میں بھی نہ ہونے پر ان کے راز ظاہر ہوگئے اور دور تک دیکھنے کی بات صرف کلکولیشن پر مبنی ہے جو دھیرے دھیرے غلط ثابت ہوتے جارہے ہیں مگر جہاں تک اللہ نے ان کو ڈھیل دی ہے وہاں تک ان کو کچھ کامیابی بھی مل رہی ہے۔
ان کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ ان کے عقیدے کے مطابق دنیا کے سارے انسان ان کی غلامی کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور یہ سارے انسان در اصل انسان کی شکل میں جانور ہیں۔ایک حد تک یہ بات درست بھی ہے، کیونکہ انھوں نے انسانی نفسیات کا جو مطالعہ کیا ہے وہ انہی لوگوں کو سامنے رکھ کر کیا ہے جن کے بارے میں خود اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ چوپایوں کے جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں اور ان میں خود یہودی بھی شامل ہیں؛ چنانچہ یہ سارے انسان بلکہ Sub Human Psycology ہے۔ ابھی تک ان کو Human Psycologyسے واسطہ ہی نہیں پڑا ہے۔ اسی لئے وہ اپنے Calculation پر اتنا اعتماد رکھتے ہیں جیسے 2 اور 2 چار ہوتا ہے، لیکن جب ان کا مقابلہ Human Psycologyسے ہوگا تو دنیا دیکھے گی کہ ان کے سارے منصوبوں کی عمارت یکایک اس طرح ڈھیگی جیسے تاش کے پتوں سے بنا گھروندہ اور ان کی ہزاروں سالہ منصوبہ بندی چند دنوں میں خاک میں مل جائے گی۔
سلسلہ پیغمبری میں حضرت ابراہیم علیہ السلام پہلی کڑی ہیں جن کو اقوام عالم کا امام بنایا گیا۔ اس طرح دین اسلام یعنی فطری نظام زندگی کا بین الاقوامی ایڈیشن پہلی بار آنجناب کے ذریعہ سے دنیا والوں کو عطا کیا گیا۔ آپ نے اس مشن کی تکمیل کے لئے اپنا پیغام پہنچانے کی غرض سے تین مراکز پر تین نائبوں کو مقرر کیا۔ فلسطین میں اپنے صاحبزادے اسحق علیہ السلام کو مکہ میں بڑے صاحبزادے حضرت اسمٰعیل کو اور سدوم میں اپنے بھتیجے حضرت لوطؑ کو اور خود باری باری تینوں جگہ پہنچ کر ضروری رہنمائی فرماتے رہے، پھر اللہ کی مشیت نے اس بین الاقوامی مشن کے ابتدائی مراحل کی خدمت کے لئے حضرت اسحاقؑ کی نسل کو اختیار کرلیا اور اس طرح اہل حق کے لئے مسجد حرام یعنی خانہ کعبہ کی حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسمٰعیلؑ کے ذریعہ تعمیر نو کے چالیس سال بعد دوسرا قبلہ بیت المقدس تعمیر کیا گیا، جس کے نتیجے میں فلسطین کو اس کی جغرافیائی لحاظ سے بین الاقوامی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی و مذہبی Politico Religious) یعنی دینی اعتبار سے بھی بین الاقوامی مرکز کی حیثیت حاصل ہوگئی۔
یہودیوں کی قومی خصوصیات: اسرائیل حضرت یعقوبؑ کا لقب تھا جو حضرت اسحقؑ کے صاحبزادے تھے۔ یعقوبؑ کی اولاد بنی یعقوب کے بجائے ’بنی اسرائیل‘ کہلاتی ہے، انھیں ہی یہودی کہا جاتا ہے۔ دنیا کی تمام قوموں میں ابتدائً یہ کم شریر تھی، اس لئے اس کی تمام شرارتوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اس کو منصب امامت کے لئے اختیار کیا تھا، مگر جب اقتدار کا مزہ چکھنے کے بعد شرارت میں یہ دوسری قوموں سے آگے نمبر لے گئی تو بار بار سزا اور تنبیہ کے بعد بالآخر یہ ملعون قرار دے دی گئی۔ اس قوم کی شرارتوں کی فہرست خواہ کتنی ہی لمبی ہو سبھی کی جڑ اصل ایک ہے جو اس کی نسلی خصوصیات بن گئی ہے، وہ ہے ’سازش‘۔
چنانچہ جس وقت یہ نسل وجود میں آرہی تھی اسی وقت اس نے کسی غیر کے مقابلے میں نہیں بلکہ اپنے شفیق باپ اور معصوم بھائی کے خلاف زبردست سازش کی اور اس طرح سازش اس کی گھٹی میں پڑی اور سازش ہی اس کا خمیر ہوگیا۔ ساڑھے چار ہزار سال سے اپنی نسلی خصوصیت کی اس قوم نے نہ صرف حفاظت کی ہے بلکہ نسلاً بعد نسل اس کو پروان چڑھا کر حیرت انگیز حد تک اس میں مہارت حاصل کرلی ہے۔ اس نے سازش حضرت سلیمانؑ کے خلاف۔ اس نے سازش کی حضرت عیسیٰؑ کے خلاف۔ اس نے سازش کی رسولؐ اللہ کے خلاف۔ اور دور نبوت ختم ہوجانے کے بعد اس کی سازش کا ہدف مذہب کا اقتدار بن گیا، لیکن جب اقتدار مذہب کے ہاتھ سے نکل گیا اور لا مذہبیت (Secularism) نے اس کی جگہ لے لی تو اب یہ ہر نئی سیاسی، معاشرتی اور معاشی تحریک میں گھس کر اپنی نسلی امنگوں اور مفادات کے لئے پانچویں کالم کا کام کرنے لگے۔ اس غرض کے لئے کہیں یہ فکری انتشار پیدا کرتے ہیں اور کہیں اخلاقی بگاڑ۔ کہیں ایک قوم میں اندر سے پھوٹ ڈال کر اس کو طبقوں اور جتھوں میں منظم کرتے ہیں اور کہیں قوموں کے درمیان عداوت پیدا کرکے ان کو ایک دوسرے ٹکرا دیتے ہیں اور بالآخر جب ان کی سازش کا بھانڈا پھوٹتا ہے تو پھر مارے اور کھدیڑے جاتے ہیں جس پر ان کی تاریخ گواہ ہے۔ یہود ہر جگہ الگ تھلگ رہتے بستے ہیں، اس کو اصطلاح میں گیٹو (Getto) بنا کر رہنا کہتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ جہاں ان کوو سارے حقوق دیئے گئے ہیں وہاں بھی یہ گیٹو کی زندگی ہی بسر کرتے ہیں۔ حاخام ڈاکٹر سولا بول کہتا ہے ’گیٹو کی زندگی اختیار کرنا یہودیوں کا فطری فریضہ ہے۔ یہاں انھیں اپنے قومی عزائم کی پرورش کرنے اور دنیا پر غلبہ پانے کی تدبیریں سوچنے اور ان پر عمل کرنے کے طریقے تلاش کرنے میں مدد ملتی ہے‘۔ یہودی ہمیشہ یہودی ہی رہتا ہے خواہ وہ اپنا مذہب ہی کیوں نہ بدل ڈالے۔ امریکہ اور یورپ کے بے شمار یہودیوں نے عیسائیت قبول کرلی مگر وہ ہمیشہ یہودی مقاصد کے علمبردار اور اغیار پر یہودیوں کے غلبہ پانے کی جدوجہد کرتے رہے ہیں۔
انھوں نے اپنی نسلی خصوصیت مزید مستحکم کرنے کے لئے اپنی مذہبی کتاب کو اسی رنگ میں رنگ ڈالا۔ جیسا کہ ذیل کے اقتباسات سے اندازہ ہوگا، تلمود میں ہے:
٭ اللہ یہود پر بدبختی مسلط کرنے پر ہر روز نادم ہوتا ہے، یہاں تک کہ اپنے رخساروں کو پیٹتا ہے اور روتا ہے اور اس کی دونوں آنکھوں سے آنسو کے دو قطرے سمندر میں گرتے ہیں جس کی گونج دنیا میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک سنائی دیتی ہے۔پانی میں طوفان آجاتا ہے۔ کبھی کبھی زمین ہل جاتی ہے جس کی وجہ سے زلزلے آتے ہیں۔
٭ اغیار کے ساتھ فریب اور غیر معمولی سود کے ذریعہ ان کے مال و دولت پر قبضہ کرنا جائز ہے۔
٭ ایک بہت بڑے حاخام ربی سموئیل کے خیال میں غیروں کے مال کی چوری مباح ہے اور اس نے ایک غیر یہودی سے سونے کا برتن خریدا جس کو بیچنے والا تانبا سمجھتا تھا۔ اس کو صرف چار درہم کی معمولی قیمت ادا کی اور اس میں ایک درہم چرالیا۔
٭ کوئی یہودی کسی غیر کا گمشدہ سامان اس تک پہنچادے تو اللہ اس کا کوئی گناہ معاف نہیں کرے گا۔
٭ کسی یہود کے لئے قطعی جائز نہیں کہ کسی غیر کو بغیر سود کے قرض دے۔
٭ غیر اسرائیلی افراد کے بہترین افراد کو قتل کردو۔ یہودی کے لئے حرام ہے کہ غیر قوم کے کسی فرد کو ہلاکت سے بچائے یا کسی گڑے میں گرا ہو تو اسے نکال دے۔
٭ کوئی بت پرست اگر گڑھے میں گرجائے تو تمہارا فرض ہے کہ نکلنے کا رستہ پتھر سے بند کردو۔
٭ اگر کسی یہودی کو ایک پیسہ بھی امیدفائدہ کی ہو تو ہر بنیاد پر منہدم کردو۔ ہر پاکیزہ چیز کو گندہ کردو۔ ہرے بھرے باغات اور کھیتوں کو نذر آتش کردو۔ انسانی بستیوں کے ہر مرد، عورت، بچے، بوڑھے یہاں تک کہ گایوں، بکریوں اور گدھوں تک کو تہ تیغ کردو۔
٭ یہودی کے علاوہ تمام مذہبی پیشواؤں پر دن میں تین مرتبہ لعنت بھیجو۔
٭ ان کی مذہبی کتابیں نئے سال پر یہ دعا سکھاتی ہیں:
’’اے اسرائیل کے معبود! جس طرح تونے جانے والے سال میں ان گفتگو کی طاقت رکھنے والے حیوانوں کو ایذائیں پہنچانے میں میری مدد فرمائی ہے اسی طرح آنے والے سال میں بھی مجھے اپنی نعمت سے نواز اور ان کو اذیت دینے کی توفیق عطا فرما! ‘‘
٭ انہی کتابوں میں ہے کہ اسرائیل نے اللہ سے سوال کیا کہ تو نے اپنی محبوب قوم کے علاوہ دوسروں کو کیوں پیدا کیا، تو اللہ نے جواب دیا:
’صرف اس لئے کہ تم ان کی پشت پر سوار ہو۔ ان کا خون چوسو۔ ان کی پاکیزہ چیزوں کو آلودہ کرو اور ان کی آبادیوں کو منہدم کردو‘۔
چنانچہ یورپ میں جتنی تحریکیں (سیکولرزم، سوشلزم اور کمیونزم) اٹھیں ان سب کے بانی یہودی تھے۔ ریڈیکل سوشلزم کے مرکزی دماغ بھی صیہون تھے۔ روس میں انقلاب کا طویل المیعاد منصوبہ عالمی یہودی صحافت اور زعماء نے تیار کیا تھا۔ اور اس لئے کیا تھا کہ امریکہ اور روس میں سے جو ملک بھی کبھی اسرائیل کے مفاد کے خلاف جائے تو دوسرے ملک کے ذریعہ اس کی کاٹ کرسکیں۔ اشتراکی روس کے پہلے پولٹ بیورو کے سات ارکان یہودی تھے۔ کاہال اور جیوئش ایجنسی دونوں نے روس کے اندر انقلاب برپا کرنے میں حصہ لیا۔ روسی کمیونسٹوں کو ملنے والی امداد میں غالب حصہ امریکی سونے کا تھا۔
روس کے اشتراکی انقلاب کا یہ پس منظر اور اس کے ذرائع کا انکشاف کئی خفیہ تحریروں سے ہوتا ہے۔ ان میں صیہونی پروٹوکول (Protocols of the learned elders of Zion) ایک اہم دستاویز ہے جن کا کسی کے پاس ہونا روس میں سزائے موت کے لئے کافی تھا۔ ان کتابوں پر یورپ کے دوسرے کمیونسٹ ممالک میں بھی سخت پابندی تھی۔ مبادا اشتراکیت اور اس کے پروپیگنڈے کا سارا پول کھل جائے۔ یہودی خود بھی نہیں چاہتے کہ یہ تحریر کسی غیر صیہونی کے پاس رہیں۔ یہودیوں کی اس سازشی تحریک کی قوت اور وسعت کا حال یہ ہے کہ یورپ اور امریکہ میں کوئی راز افشا کرنے والا ایڈیشن نکلتے ہی بازار سے اس طرح ناپید ہوجاتا ہے کہ اس کی ایک کاپی بھی نہیں مل سکتی، چنانچہ امریکہ میں ورلڈ جیوئش نامی کتاب بار بار شائع کی گئی اور ہر بار یہودی اس کے شائع ہوتے ہی تمام نسخوں کو خرید کر ضائع کرتے رہے اور دنیا کو پتہ بھی نہیں چلنے دیا کہ اس نام کی کوئی کتاب شائع بھی ہوئی ہے۔ بسا اوقات ایک ایک نسخہ آٹھ آٹھ سو ڈالر میں خرید کر دریابرد کردیا گیا، لیکن ان کی تمام کوششوں کے باوجود اب حالات دھیرے دھیرے بدل رہے ہیں اور کچھ چیزیں جستہ جستہ سامنے آرہی ہیں۔ (جاری)
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے