موہن بھاگوت: شیر کی طرح گئے بھیگی بلی بن کر لوٹے

موہن بھاگوت: شیر کی طرح گئے بھیگی بلی بن کر لوٹے

موہن بھاگوت:

شیر کی طرح گئے بھیگی بلی بن کر لوٹے

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

سنگھ پریوار کی بزدلی دن بہ دن بے نقاب ہورہی ہے۔ پہلے تو خود ساختہ چانکیہ امیت شاہ اور نام نہاد سُپر مین نریندر مودی جنتر منترمیں تشدد کرکے ایسے ڈرے کہ ایوان پارلیمان میں آکر بھی مانسون اجلاس کے اندر قدم رکھنے کی ہمت نہیں جٹا پائے ۔ اجلاس کے آخری دن وزیر اعظم کے ساتھ وزیر داخلہ منہ لٹکا کر آئے اور دومنٹ بعد سر جھکا کر چلے گئے۔ یہی حال سر سنگھ چالک کا ہوا۔ وہ شیر کی مانند دہاڑنے کے لیے امریکہ گئے اور مخالفت سے گھبرا کر میڈیسن اسکوائر پر بھیگی بلی بن گئے ۔ انہوں نے ایسا بزدلانہ خطاب کیا کہ نرم مزاج کانگریسی کوبھی شرمندہ کردیا۔ اگر یہی سب کہہ کر سنگھ کی سو سالہ محنت پر پانی پھیرنا تھا تو جانے کی زحمت ہی کیوں کی ؟ یہی بیٹھے بیٹھے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ اپنی منافقت اجاگر کر دیتے ۔ موہن بھاگوت یہ توقع کررہے تھے کہ بارہ سال قبل جس طرح مودی جی کو امریکہ میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا تھا ویسی ہی پذیرائی ان کی بھی ہوگی لیکن سچائی تو یہ ہے اس عرصے میں خود مودی جی کی عالمی سطح پر جو رسوائی ہوئی ہے اس کے چلتے وہ خود پھر سے ویسی امید نہیں کرسکتے۔ ابھی حال میں جین زی نے ان کا ایسا برا حال کردیا ہے کہ ان کے پاس ازبکستان میں جاکر رقص و سرود کی محفل سجانے کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں رہا۔
سر سنگھ چالک موہن بھاگوت کی مخالفت شروع ہوئی تو اچانک چھپ گئے(یعنی انڈر گراونڈ ہوگئے۔ ان کے حوار یوں نے یہ بہانہ بناکر صحافیوں کو ملاقات کرنے سےمنع کر دیا کہ صحت ٹھیک نہیں ہے مگر اسکان مندر کی زیارت نے اس جھوٹ کاپول کھول دیا ۔ آگے چل کر خطاب عام کے دوران بھی ان پر بیماری کے آثار نہیں دکھائی دئیے۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ وہ خوف کو چھپانے کا محض ایک بہانہ تھا۔ امریکہ میں اپنا پروچن سنا نے سے قبل بھاگوت نے بیماری کا بہانہ بناکر صحافیوں کو ملاقات کرنے سے منع تو کردیا لیکن اگر موصوف کی طبیعت اتنی ہی خراب تھی تو اتنے طویل سفر کی زحمت ہی کیوں کی گئی؟ اس منطق کے مطابق تو وزیر اعظم مودی پچھلے بارہ سالوں سے بیمار چل رہے ہیں کیونکہ انہوں نے کوئی پریس کانفرنس نہیں کی ۔ سچ تو یہ ہے ان بزدلوں نے پورے ملک کو بیمار کررکھا ہے۔ ان کے اپنے کرتوت انہیں عوام میں جاکر ان کے سوالات کا جواب دینے سے روک رہی۔ان لوگوں کا مسئلہ خارجی کم اور داخلی سے زیادہ ہے۔ یہ اندر ہی اندر کھوکھلے ہوگئے ہیں۔

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے رکشا بندھن کے روز میڈیسن اسکوائر گارڈن ( نیویارک ) میں کہا کہ ‘کثرت میں وحدت’ ہندوستان کے ‘ڈی این اے’ میں بسا ہواہے لیکن چونکہ سنگھیوں کے اندر اس کا زبردست فقدان پایا جاتا ہے اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یا تو سنگھ کے لوگ ہندوستانی نہیں ہیں یا یہ دعویٰ ہی جھوٹا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک کا مقصد دنیا کو یہ احساس دلانا ہے کہ تنوع اور اتحاد ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔ یہ حقیقت تو ہے مگر جب سے بی جے پی برسرِ اقتدار آئی ہے اس نے یہی ثابت کیا کہ جب تک کمل کھلا رہے گا کم از کم ہندوستان کی حد تک کثرت میں وحدت ناممکن ہے اور اقلیت و اکثریت کا ساتھ رہنا ناممکن ہے۔ اس ملک میں ای ٹوینٹی پٹرول سے بہت پہلے انتخاب میں 80؍20 کا فارمولاکسی اور نے نہیں سنگھ کے وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ نے ہی لگایا تھا اور پھر الیکشن میں اس کا بھرپور فائدہ اٹھا یااور پھر ایک بار نفرت پھیلا کر انتخاب جیتنے کے فراق میں ہیں ۔
سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے ‘یونیورسل ون نیس سیلیبریشن’ (عالمی یگانگت کی تقریب) سے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں سے بھی اپنائیت جتائی اور کہا کہ جو ہندو اپنے ملک کے دشمن کو نکال باہر کرنا چاہتا ہے وہ حقیقت میں ہندو ہی نہیں ہے۔اس طرح تو سنگھ کا بہت بڑا حصہ ہندو مت کے دائرہ سے باہر ہوگیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہندوستان کے اندر اس طرح کی تقریب کیوں منعقد نہیں کی جاتی؟ یہاں تو دن رات ہندو مسلم کارڈ کھیلا جاتا ہے۔ ایک دماغی پیدل وزیر اعظم ملک کے سوچنے سمجھنے والوں کو دماغی نکسل کہہ کرنفرت انگیزی کرتا ہے۔ آر ایس ایس کے سربراہ یکجہتی کا جشن منانے ناگپور سے گجرات تو جاتے ہیں مگر دہلی میں آکر زبان نہیں کھولتے۔بھاگوت نے ‘تنوع میں اتحاد’ کو ہندوستان کی پہچان بتایا لیکن یہ تو پنڈت نہرو کا نعرہ تھا جن کو دن رات ہدف تنقید بنایا جاتا ہے ۔ بھاگوت خود اس تصورِ خیال کے خلاف یہ اعلان کرچکے ہیں کہ ہندوستان کے رہنے والے سارے لوگ ہندو ہیں یعنی ان میں نہ کوئی عیسائی اور نہ مسلمان ہے۔ ایسے میں تنوع کہاں مرگیا؟

وزیر اعظم بننے کے بعد ستمبر 2014 میں مودی جی نے بھی نیویارک کے میڈیسن سکوائر گارڈن میں جاکر تقریباً 18,000 افراد سے خطاب کرتے ہوئے ایسی ہی چکنی چپڑی باتیں کی تھیں ۔ انہوں نے نہایت پُرجوش انداز میں اعلان کیا تھا کہ ’میں آپ کے خوابوں کا انڈیا بناؤں گا۔‘12؍ سال کے بعد مودی نےخوابوں کا ایسا ہندوستان بنایا کہ اسی میڈیسن اسکوائر پر آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک کے خطاب عام کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ مودی جی کےخواب و خیال میں یہ نہیں رہا ہوگا کہ مجاز و حقیقت میں ایسا زمین و آسمان کا فرق ہوگا مگر یہ اس لیے ہوا کیونکہ اس وقت وہ ’سب کا ساتھ سب کا وکاس(ترقی)‘ کی بات کرتے تھے مگر اب پتہ چلا کہ وہ سب ’ہم دو ہمارے دو‘ ہیں یعنی مودی و شاہ کے اڈانی و امبانی اور اتفاق سے چاروں گجراتی ۔ ان چاروں نے دن دونی اور رات چوگنی ترقی کی نیز ہندو عوام کو بہلانے کےلیے مسلم دشمنی کا جھن ُجُھنا پکڑایا گیا۔ کبھی تین طلاق سے بہلایا گیا تو کبھی دفع 370ختم کرکے پھسلایا گیا۔ کبھی سی اے اے اور این آر سی کے تفریق و امتیاز کی مدد سےہندووں کو خوش کیا گیا تو کبھی وقف کے خلاف قانون بنا کر ان کی ناز برداری کی گئی۔ رام مندر کے حق میں عدالت عظمیٰ سے فیصلہ کرواکر رام مندر کی تعمیر ہوئی مگر چندہ چوری نے اس پر کلنک لگادیا ۔

ملک کے اندر چندہ چوری سے لے کر ووٹ چوری کا معاملہ جب سارے حدود و قیود کو پار کرگیا تو ان پر مشیت الٰہی نے ان پرکاکروچ کا عذاب مسلط کردیا۔ ملک کے پڑھے لکھے طلبا اورنوجوانوں نے جب پیپر لیک کا نعرہ لگایا تو برسوں کا غصہ آتش فشاں کی مانند پھوٹ پڑا۔ اس سے نکلنے والے گرم لاوہ نے ہندو مسلم سیاست کی دیوار گرادی ۔ سنگھ کے خوف و ہراس کے ماحول کی بیخ کنی کردی اور سرکار کو اٹھا کر پٹخ دیا ۔ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ لے کر سی جے پی مودی حکومت کو گھٹنے پر لے آئی۔ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو ملک تو دور اپنی ایوان پارلیمان میں منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑا۔ اس تناظر میں موہن بھاگوت امریکہ میں ڈنکا پیٹنے نکلے مگر ان کی لنکا لگ گئی ۔ سنگھ کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر اس کے سربراہ کا دنیا بھر میں زعفرانی پرچم لہرانے کا خواب جس طرح ٹوٹ کر بکھرگیا۔ پہلے تو مخالفت نے انہیں بیک فُٹ پر ڈھکیلا اور پھر بزدلانہ تقریر نے تو گرگٹ کو بھی شرمندہ کردیا ۔ اس خطاب کا جب اس تقریر سےو موازنہ کرتے ہوں گے تو انہیں غالب کا یہ شعر یاد آتا ہے؎

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

29؍ اگست کو نیویارک کے میڈیسن سکوائر گارڈن کی تقریب کا اہتمام امریکن ہندوؤز فار انگیجمنٹ اینڈ ڈائیلاگ کی جانب سے کیا گیا تھا۔ اس میں تقریباً 5,000 ہندوستانی نژاد امریکیوں کی شرکت کی تھی ۔گودی میڈیا کو ہندو مسلم کارڈ کھیلنے کے لیے نیویارک کے میئر ظہران ممدانی اور امریکہ کے بین الاقوامی مذہبی آزادی کمیشن کے چیئرمین آصف محمود مل گئے ہیں جبکہ ان کے علاوہ بہت سارے ہند نژاد ہندو بھی مخالفت کررہے ہیں یا خاموش تماشائی بنے رہے۔ امریکہ کے اندر فی الحال مودی جی کے بہترین دوست ڈونلڈ ٹرمپ برسرِ اقتدار ہیں ۔ ان کے علاوہ کش پٹیل ایف بی آئی کے ڈائرکٹر ہیں جو موہن بھاگوت کی حمایت میں آگے نہیں آئے۔ نائب صدر جی ڈی وینس کی زوجہ اوشا وینس بھی ہندوستانی ہیں۔انہوں نے بھی موہن بھاگوت کی اظہار رائے کا دفاع نہیں کیا۔ نکی ہیلی وہاں کی کانگریس یعنی پارلیمان کی رکن ہیں مگر پھر بھی دوری بنائےر ہیں ۔ سری رام کرشنا اور وویک رام جیسے سرمایہ دارساحل سے تماشا دیکھتے رہے۔ گوگل کے دیپک پچائی کابھی دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ موہن بھاگوت کی امریکہ میں جو مخالفت ہوئی اس کے تناظر میں یہ کہنا پڑے گا کہ موہن بھاگوت نے امریکہ جاکر ’کھایا پیا کچھ نہیں گلاس پھوڑا بارہ آنہ‘۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے