جَیسا دیس وَیسا بھیس …

جَیسا دیس وَیسا بھیس …

جَیسا دیس وَیسا بھیس …

✍️ افتخاراحمدقادری

آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کا نیویارک میں مذہبی رہنماؤں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان میں مذہبی ہم آہنگی، انسانی وحدت اور باہمی احترام پر زور دینا بظاہر ایک خوش آئند اور قابلِ تحسین پیغام ہے۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ جو ہندو یہ تصور رکھتا ہے کہ ہندوستان سے مسلمانوں کو نکال دینا چاہیے وہ ہندو نہیں رہ سکتا کیونکہ ہندو روایت تمام انسانوں کی عزت، مذہبی تنوع اور باہمی احترام کو تسلیم کرتی ہے۔ یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہندوستان کی سیاست میں مذہب، شناخت اور اکثریتی و اقلیتی حقوق کے سوالات مسلسل بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔
موہن بھاگوت کا یہ بیان رسمی گفتگو سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا بلکہ اسے ہندوستان کی سماجی ساخت اور کثرت پسند تہذیبی مزاج کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان صدیوں سے مختلف مذاہب، تہذیبوں، زبانوں اور ثقافتوں کا مسکن رہا ہے۔ یہاں کی گوناگوں شناختیں باہم متصادم ہونے کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ رہتی آئی ہیں۔ یہی تنوع ہندوستان کی اصل قوت اور اس کی تہذیبی شناخت کا نمایاں وصف ہے۔ مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالنے کی سوچ کو ہندو روایت کے منافی قرار دینا یقیناً ایک اہم فکری نکتہ ہے کیونکہ کسی بھی مذہب کی تعلیمات کو نفرت، تعصب اور انسانوں کی تحقیر کے ذریعے مسخ نہیں کیا جاسکتا۔ مذہب اگر انسان کو اخلاق، انصاف، رحم، احترام اور شرافت کا درس دیتا ہے تو اس کے نام پر کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کو دشمن سمجھنا نہ صرف سماجی انتشار کو جنم دیتا ہے بلکہ مذہبی اقدار کی روح کو بھی مجروح کرتا ہے۔
ہندوستان میں مسلمانوں کی موجودگی کوئی عارضی یا بیرونی حقیقت نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تاریخی، تہذیبی اور معاشرتی تسلسل کا حصہ ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں نے اس ملک کی تعمیر و ترقی، ادب و ثقافت، علم و فن، آزادی کی جد وجہد اور قومی زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس لیے ہندوستان کو مسلمانوں سے پاک کرنے کا تصور نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ بلکہ ملک کی تاریخی حقیقتوں سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مذہبی ہم آہنگی کے ایسے بیانات محض عالمی اجتماعات تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کا عملی انعکاس ہندوستان کی گلیوں، محلوں، تعلیمی اداروں، سیاسی میدانوں اور سماجی رویوں میں بھی دکھائی دے۔ اگر واقعی ہندوستان کی کثرت میں وحدت کو مستحکم کرنا ہے تو پھر مذہب کے نام پر ہونے والی نفرت انگیز بیان بازی، فرقہ وارانہ صف بندی اور باہمی بدگمانی کے خلاف واضح اور غیر مبہم موقف اختیار کرنا ہوگا۔ سیاسی مفادات کے لیے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنا آسان ہوتا ہے، مگر اس کے نتائج معاشرے کے لیے نہایت تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ نفرت کا ایک جملہ برسوں کی معاشرتی ہم آہنگی کو تہہ و بالا کرسکتا ہے، جبکہ اعتماد کی بحالی میں نسلیں گزر جاتی ہیں۔ اس لیے مذہبی رہنماؤں اور سیاسی قیادت پر غیر معمولی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام کے جذبات کو بھڑکانے کے بجائے انہیں جوڑنے کا فریضہ انجام دیں۔
موہن بھاگوت کا یہ کہنا کہ مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالنے کی خواہش رکھنے والا شخص ہندو نہیں رہ سکتا، دراصل اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کسی بھی مذہبی شناخت کا حقیقی حسن دوسروں کی تذلیل میں نہیں بلکہ اپنے عقیدے پر قائم رہتے ہوئے دوسرے انسان کے وجود اور حقوق کا احترام کرنے میں ہے۔ یہی اصول کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔ ہندوستان کو اگر مضبوط، مستحکم اور پُرامن ملک بنانا ہے تو اکثریت اور اقلیت کے درمیان مصنوعی خلیج پیدا کرنے کے بجائے شہری مساوات، آئینی حقوق اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہوگا۔ کسی مسلمان کو محض اس کے مذہب کی بنیاد پر مشکوک سمجھنا یا کسی ہندو کو محض اس کی اکثریتی شناخت کی بنیاد پر موردِ الزام ٹھہرانا دونوں رویے یکساں طور پر معاشرتی زہر پھیلاتے ہیں۔
آج ہندوستان کو ایسے نعروں کی نہیں جو دلوں میں دیواریں کھڑی کریں، بلکہ ایسے پیغامات کی ضرورت ہے جو دلوں کے درمیان پل تعمیر کریں۔ مذہبی آزادی، انسانی وقار اور باہمی احترام کسی ایک طبقے کا خصوصی حق نہیں بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ اگر ہندوستان اپنی تہذیبی عظمت، جمہوری شناخت اور کثرت پسند روایت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے نفرت کے بجائے ہم آہنگی، تصادم کے بجائے مکالمے اور تفریق کے بجائے انسانی وحدت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ آخرکار اصل امتحان الفاظ کا نہیں کردار کا ہے۔ دنیا کے سامنے رواداری، انسانی وحدت اور مذہبی احترام کی بات کرنا یقیناً اچھی بات ہے مگر اس کی حقیقی معنویت اسی وقت ثابت ہوگی جب یہی اصول عملی زندگی میں بھی نظر آئیں۔ جَیسا دیس وَیسا بھیس کا تقاضا یہی ہے کہ ہندوستان کی کثیر مذہبی اور کثیر تہذیبی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے ہر شہری کے وقار، آزادی اور حقوق کی حفاظت کی جائے، کیونکہ مضبوط ہندوستان نفرت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اعتماد، انصاف اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہی تعمیر ہوسکتا ہے۔
(مضمون معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے