ہندوستانی مسلم معاشرے میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران شادی کے معیار میں نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ والدین اپنی بیٹی کے بہتر مستقبل اور معاشی تحفظ کی خواہش رکھتے ہیں، جو ایک فطری امر ہے، لیکن بعض علاقوں میں ملازمت، تنخواہ اور معاشی حیثیت رشتہ طے کرنے کا سب سے اہم معیار بنتی جا رہی ہے، جبکہ دینداری، حسنِ اخلاق، کردار، ذمہ داری اور خاندانی مزاج کو ثانوی حیثیت مل رہی ہے۔
فیملی کاؤنسلنگ کے مشاہدات سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے دیندار، تعلیم یافتہ، باکردار اور محنتی نوجوان صرف اس وجہ سے مناسب رشتوں سے محروم رہ جاتے ہیں کہ ان کی آمدنی والدین کی توقعات کے مطابق نہیں ہوتی۔ بعض خاندان سرکاری ملازمت کو غیر معمولی ترجیح دیتے ہیں، جبکہ نجی ملازمت، تجارت، ہنر اور خود روزگار کو کم اہم سمجھتے ہیں۔ اس سوچ کے نتیجے میں بہت سے نوجوان بہتر ملازمت کے انتظار میں نکاح مؤخر کرتے ہیں، جس سے Marriage Delay (تاخیرِ نکاح)، ذہنی دباؤ اور احساسِ محرومی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات نے دوہری آمدنی کی خواہش کو بھی بڑھایا ہے، اسی لیے بعض علاقوں میں لڑکی کی ملازمت بھی ایک غیر اعلانیہ شرط بنتی جا رہی ہے۔ اگرچہ معاشی منصوبہ بندی ضروری ہے، لیکن جب Financial Status (معاشی حیثیت) کو کردار، دیانت اور ذمہ داری سے زیادہ اہمیت دی جائے تو نکاح کا اصل مقصد متاثر ہونے لگتا ہے۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق نکاح کا بنیادی معیار دین داری، حسنِ اخلاق، امانت داری، ذمہ داری اور باہمی موافقت ہے۔ معاشی استطاعت اہم ضرور ہے، لیکن غیر ضروری معاشی شرائط کے ذریعے نکاح کو مشکل بنانا اسلامی مزاج کے مطابق نہیں۔ اسلام محنت، کسبِ حلال، خود کفالت اور تدریجی ترقی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم سماج شادی کے معیار میں Balance (اعتدال) پیدا کرے اور موجودہ آمدنی کے ساتھ نوجوان کے کردار، محنت، ترقی کی صلاحیت اور خاندانی ذمہ داری کے احساس کو بھی اہمیت دے۔ Premarital Counseling (قبل از نکاح کاؤنسلنگ)، حقیقت پسندانہ توقعات اور اعتدال پسند معاشرتی رویّے نکاح کو آسان، خاندان کو مضبوط اور معاشرے کو زیادہ متوازن بنا سکتے ہیں۔