مقاصدِ رسالتؐ کا قرآنی منشور

مقاصدِ رسالتؐ کا قرآنی منشور

مقاصدِ رسالتؐ کا قرآنی منشور

تحریر: ڈاکٹر ارشاد الرحمن-
ترتیب: عبدالعزیز

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اللہ کی رحمت اور نعمت ہے۔ یہ اس ہادی کا میلاد ہے جس کے ذریعے اللہ نے انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف، مخلوق کی غلامی سے نکال کر خالق کی عبادت کی طرف، اور گمراہی سے نکال کر ہدایت و استحکام کی شاہراہ پر گامزن کیا:
’’وہ اللہ ہی تو ہے جو اپنے بندے پر صاف صاف آیتیں نازل کر رہا ہے تاکہ تمھیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تم پر نہایت شفیق اور مہربان ہے۔‘‘(الحدید57 :9)
آپؐ کی ولادت اللہ تعالیٰ کے ایک قدیم وعدے کی تکمیل تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کی بنیادیں اٹھاتے وقت دعا کی تھی:
’’اور اے ربّ، ان لوگوں میں خود انھی کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیو جو انھیں تیری آیات سنائے، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے،تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے۔‘‘(البقرہ2:129)
اسی طرح آپ ؐکی ولادت کے تذکرے سابقہ کتابوں میں بھی موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
(آج یہ رحمت ان لوگوں کا حصہ ہے) جو اِس پیغمبر، نبی اُمّی کی پیروی اختیار کریں جس کا ذکر انھیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے۔(الاعراف7:157 )
آپؐ کی ولادت محض ایک وقتی خوشخبری نہیں تھی، بلکہ یہ وہ کلمات تھے جو وحی کی صورت میں انبیائؑ کی زبانوں پر جاری رہے اور ولادت سے یہ جاں فزا خوشخبری پوری ہوئی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے زمانے میں پیدا ہوئے جو ظلم، جہالت اور انتشار سے چُور تھا، جہاں دنیا من مانیوں کی غلام اور خواہشات کی اسیر تھی۔ ایسے مایوس کن اور تاریک دور میں آپؐ کی ولادت انسانیت کے لیے ایک نئی زندگی ثابت ہوئی اور عزت و آزادی کے دور کا آغاز ہوا۔ اس عہد نے انسانیت کو پتھروں کے سامنے سجدہ ریز ہونے اور انسانی جبر و استبداد کے سامنے جھکنے کے بجائے صرف اللہ کی بندگی پر قائم رہنے کا پیغام دیا:
’’اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے۔ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اس نے تمھارے دل جوڑ دیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے۔ تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے، اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا۔‘‘ (اٰل عمران 3 :103)
آپؐ کی ولادت محض گوشت پوست کے ایک جسم کی پیدائش نہیں تھی جو عام انسانوں کی طرح آئے اور رخصت ہو جائے بلکہ یہ اس آخری پیغام کا آغاز تھا جسے اللہ نے تمام انسانوں کی رہنمائی کے لیے پسند فرمایا:
’’ اور (اے نبیؐ) ہم نے تم کو تمام انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔‘‘( السبا 34:28)
’’ نہایت متبرک ہے وہ جس نے یہ فرقان اپنے بندے پر نازل کیا تاکہ سارے جہان والوں کے لیے نذیر ہو‘‘۔(الفرقان 25: 1)
یہ پیغام اپنے اندر آزادی اور ہدایت کی خوشخبریاں رکھتا اور انسانی ضمیر میں رحمت، عدل اور حق کی اقدار راسخ کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا تہذیبی و تمدنی منصوبہ تھا جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔ انسانیت کی گم شدہ شناخت کو بحال کیا اور انسان کو زندگی کے مقصد سے از سر نو روشناس کرایا۔ رشتۂ وحی کے ذریعے اس کا تعلق آسمان سے جوڑا اور اس کی زندگی کو حق و انصاف کے ساتھ زمین میں تعمیر و ترقی کا پابند بنایا:
’’درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انھی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا جو اس کی آیات انھیں سناتا ہے، ان کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔ ‘‘(اٰل عمران 3:164)
وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود انھی میں سے اٹھایا، جو انھیں اس کی آیات سناتا ہے، ان کی زندگی سنوارتا ہے، اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے؛ حالانکہ اِس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔اور (اس رسول کی بعثت) ان دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے جو ابھی ان سے نہیں ملے ہیں۔ اللہ زبردست اور حکیم ہے۔ یہ اس کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اور وہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔(الجمعۃ62: 2-4)
لوگ ان عظیم انسانوں کا جشن مناتے ہیں جنھوں نے انسانی تاریخ میں کوئی ایک کارنامہ انجام دیا اور پھر ان کا اثر ختم ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت دنیا کا واحد واقعہ ہے جس کے اثرات صدیوں پر پھیلے ہوئے ہیں اور جب تک زندگی باقی ہے، اس کی گونج سنائی دیتی رہے گی۔ یہ نبیِ خاتمؐ کی ولادت ہے، رحمتِ عامہ کی ولادت ہے، اور ایک ایسے پیغام کا آغاز ہے جس کی روشنی کبھی ماند نہیں پڑے گی، اور جس کے اثرات کبھی کم نہیں ہوں گے۔ اس کا تذکرہ کبھی مٹ نہیں سکتا کیونکہ یہ زمین پر اللہ کا آخری کلمہ ہے جسے ہمیشہ باقی رہنا ہے:
’’ (لوگو) محمدؐ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النّبیین ہیں۔‘‘(الاحزاب،33:40 )
’’ اے محمدؐ، ہم نے جو تم کو بھیجا ہے، تو یہ دراصل دنیا والوں کے حق میں ہماری رحمت ہے۔‘‘(الانبیاء،21 :107)
نجات دہندۂ انسانیت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے حیات بخش اور حریت نواز اس پیغام کی درج ذیل بنیادیں قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں:
آزادی ، پیغامِ نبوت کی روح:اللہ کا یہ آخری پیغام انسان کے پاو?ں میں بیڑیاں ڈالنے کے لیے نہیں آیا، اور نہ اس لیے آیا ہے کہ دین کو ظالموں اور جابروں کے ہاتھ میں تھمایا ہوا ایک کوڑا بنا دیا جائے، بلکہ یہ معزز و مکرم مخلوق انسان کو اللہ کی بندگی کے سوا، ہر قسم کی غلامی سے نجات دلانے آیا ہے۔ یہی حقیقی آزادی ہے، کیونکہ یہ حق کے سوا ہر جھوٹے تسلط کو پامال کر دیتی ہے، اور عقل و ضمیر کو توہم پرستی اور نفسانی خواہشات کی قید سے چھڑا دیتی ہے۔ قرآنِ مجید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بنیادی مشن یہ بیان کرتا ہے کہ آپؐ لوگوں کے بوجھ اتارنے اور ان کی گردنوں میں کسے ہوئے طوق کاٹنے کے لیے آئے ہیں:
’’وہ انھیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال او ر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔‘‘ (الاعراف7:157 )
یہ وہ آزادی ہے جو مادی دنیا کا ظاہری نظام بننے سے پہلے انسان کے باطن اور روح سے جنم لیتی ہے۔ یہ ضمیر کو پوشیدہ بتوں سے پاک کرتی ہے، نسل در نسل منتقل ہونے والے توہمات سے فکر کو آزاد کرتی ہے، اور زندگی کو عدل و قسط کے میزان پر استوار کرتی ہے:
’’ ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔‘‘(الحدید57 :25)
’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کردے کہ انصاف سے پھر جاؤ۔ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔‘‘(المائدہ5 :8)
عقیدے کی آزادی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کو خالص توحید کی طرف دعوت دی، تو یہاں نہ پادریوں کی طرح کسی مذہبی اشرافیہ کی اجارہ داری قائم ہوئی اور نہ کسی انسانی واسطے کی گنجائش رہی۔ یہاں صرف ایک ربّ کی عبادت کی جاتی ہے۔ ایک کتاب سے ہدایت لی جاتی ہے، اور ایک رسولؐ کی پیروی کی جاتی ہے۔ آپؐ نے حق کو واضح کر دیا اور ایمان لانے یا نہ لانے کو قیامت تک کے لیے انسان کے اپنے اختیار پر چھوڑ دیا:
’’ فرما دیجیے کہ (یہ) حق تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کفر کرے۔‘‘ (الکہف، 18:29)
قرآنِ کریم نے عقیدے کے معاملے میں کسی بھی قسم کے جبر و اکراہ کی قطعی نفی کرتے ہوئے فرمایا:
’’ دین میں کوئی زبردستی نہیں۔‘‘(البقرہ2:256)
آپؐ نے ان تمام لوگوں کے نظریے کو مسترد کر دیا جو ہدایت کو زبردستی اور طاقت کے بل پر مسلط کرنا چاہتے تھے۔ آپ کو ہدایت کی گئی کہ:
’’تو کیا آپ لوگوں پر زبردستی کریں گے یہاں تک کہ وہ مومن ہو جائیں؟‘‘(یونس10:99)
’’ اچھا تو (اے نبیؐ) نصیحت کیے جاؤ، تم بس نصیحت ہی کرنے والے ہو۔کچھ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو؛ البتہ جو شخص منہ موڑے گا اور انکار کرے گا، تو اللہ اس کو بھاری سزا دے گا۔ اِن لوگوں کو پلٹنا ہماری طرف ہی ہے۔ پھر اِن کا حساب لینا ہمارے ہی ذمہ ہے۔‘‘(الغاشیۃ88:21-26)
چنانچہ اسلام کی دعوت اپنے جوہر میں ایک ایسی کھلی دلیل ہے جو دلوں کو روشن کرتی ہے۔ اس میں تلوار کا کوئی خوف ہوتا ہے، نہ کسی طاقت کے آگے سر جھکانے کا جبر۔
عقل کی آزادی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی عقل کو دلیل کے اصولوں پر قائم کیا اور وحی کے مسلسل سوالات کے ذریعے اسے غفلت سے بیدار کیا:’’کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟‘‘ ،’’کیا تم غور و فکر نہیں کرتے؟‘‘ ،’’کہیے کہ اپنی دلیل پیش کرو!‘‘ تاکہ عقل کسی خرافات اور اندھی تقلید کے آگے ہتھیار نہ ڈالے۔ آپؐ نے علم کے حصول کو ایک مقدس فریضہ قرار دیا اور علم کو حکمت اور تزکیۂ نفس کے ساتھ یوں جوڑ دیا کہ علم انسان کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے، نہ کہ علم کے نام پر انسان سرکشی اور بغاوت کا شکار ہو جائے۔
ضمیر اور کردار کی آزادی:آپؐ نے اچھائی (معروف) کی حدود اور اس کی بلندیوں کو واضح فرما کر، اور برائی (منکر) اور اس کے راستوں سے خبردار کر کے انسانی ضمیر اور رویوں کو مکمل آزادی عطا کی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ انسان اپنی اندھی خواہشات کا غلام بن کر نہ رہ جائے، بلکہ وہ اپنے فیصلوں کا خود مالک اور مختار ہو۔ آپؐ نے انسان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال کیا، خبیث و ناپاک چیزوں کو حرام ٹھیرایا، تاکہ انسان کے عز ّو شرف کو آلودگیوں اور گراوٹوں سے بچانے کے لیے ایک اخلاقی میزان قائم ہو سکے۔ نیز انسان اپنی انسانیت کو خواہشات، رسوم و رواج اور فیشن کی غلامی سے بچا سکے۔ یہ ذمہ دارانہ آزادی ہے۔ یہ بے لگام آزادی نہیں جو تباہ کر دیتی ہے۔ یہ جبر نہیں ہے جو انسان کو انسان نہیں سمجھتا، بلکہ یہ بلندیوں کی طرف وہ پرواز ہے جہاں حق اور جمال، اور عدل اور رحمت یکجا ہوجاتے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت کو عوامی سطح پر بھی اس وقت آزادی سے ہمکنار کردیا جب عہد و پیمان کی بنیاد پر مدینہ کی ریاست قائم کی، جو جانوں اور حقوق کی محافظ تھی، اور جس کی بنیاد شراکت اور مشاورت پر تھی۔ اس ریاست میں قانون کے سامنے سب برابر ٹھیرے، اور مخالف کو بھی عہد، امان، ذمہ اور عزت عطا کی گئی۔ چنانچہ جب مکہ حق کے سامنے سر نِگوں ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عام معافی کا اعلان فرمایا، جس نے جاہلیت کی نسل در نسل چلی آنے والی انتقامی روایت کو مٹا دیا اور آزادی و درگزر کی تاریخ کے ایک نئے باب کی بنیاد رکھی۔ بلاشبہ آزادی اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک مظالم کا خاتمہ نہ ہو جائے اور زخموں پر رحمت کا مرہم نہ رکھ دیا جائے۔
یوں رسالت کی اصل حقیقت آشکار ہوئی، یعنی ایک دوسرے کو مکمل کرتے دائروں کی آزادی۔ توحید کا ایسا عقیدہ جو دل کو آزادی عطا کرتا ہے، ایسی دلیل جو عقل و شعور پر مسلط ناروا پابندیوں کو توڑتی ہے، اور ایسا اخلاق جو رویے اور کردار کو آزادی بخشتا ہے۔ ایک ایسا جامع نظام جو معاشرے کو استبداد اور تفریق و امتیاز سے نجات دلاتا ہے۔ یہ اسی معاشرے کا کمال اور خصوصیات ہیں کہ جس نے صرف اللہ کی عبادت کی، وہ اللہ کے سوا ہر چیز کی غلامی سے آزاد ہو گیا۔ اور جو حق کے سامنے جھک گیا، وہ کسی انسان کے رعب و دبدبے کے تابع نہ رہا۔ جو سائبانِ وحی کے سائے میں آگیا، اس کی زندگی آزاد اور باوقار ہو گئی، اور یہی وہ شخص ہے جو زمین کی تعمیر و ترقی کے لیے ہدایتِ الٰہی پر عمل پیرا ہونے کا اہل ٹھیرا۔ (جاری)
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے