بی جے پی کے ’ترنمول کرن‘ پر آر ایس ایس کو تشویش
’’اگر ایسا ہوا تو بھاجپا منہ دکھانے کے لائق نہیں رہے گی‘‘
ازقلم:عبدالعزیز
آر ایس ایس کا ہفتہ وار بنگلہ میگزین ’’سواستیکا‘‘ کے اداریے میں خبردار کیا گیا ہے کہ ’’جس تیز رفتاری سے بی جے پی مغربی بنگال میں ’’ترنمول کرن‘‘ یعنی ترنمول کانگریس کے ممبران کی شمولیت ہورہی ہے اس سے بی جے پی کا چہرہ بدلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ بی جے پی کے ممبرانِ اسمبلی نے ترنمول کانگریس کی مخالفت کرکے جیت حاصل کی ہے، اس کے باوجود ترنمول کے لوگوں سے ہی اگر بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھر دیا جاتا ہے تو بی جے پی کا چہرہ مسخ ہوکر رہ جائے گا اور پھر وہ عوام و خواص کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہ جائے گی۔ ‘‘
آر ایس ایس بھارتیہ جنتا پارٹی کی ماں ہے ، ماں کو اپنے بچے کے بارے میں اچھی طرح معلوم ہے کہ اس کے بچے کا کردار کس طرح کا ہے اور وہ کیا کچھ کرسکتا ہے؟ بھارتیہ جنتا پارٹی میں ایسے لوگوں کا مقام و مرتبہ کچھ زیادہ ہی ہے جن کی تعلیم و تربیت آر ایس ایس نے دی ہے۔ جہاں تک مغربی بنگال کی بی جے پی کی شکل و صورت اور کردار اطوار کا سوال ہے تو جس کو مودی اور شاہ نے مغربی بنگال کا وزیر اعلیٰ بنایا ہے وہ بھی کانگریس اور ترنمول کانگریس سے ہوتا ہوا بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہوا ہے۔ 2021ء کے اسمبلی الیکشن کے موقع پر نریندر مودی نے سوبھندو ادھیکاری کی رشوت خوری کا منظر مزے مزے لے کر پیش کیا تھا اور کچھ ہی دنوں بعد ترنمول کانگریس کے اس رشوت خور کو نہ صرف شامل کیا بلکہ اسے ’لیڈر آف دی اپوزیشن‘ کے عہدے پر بھی مقرر کیا۔ 2026ء میں مودی- شاہ کے تکڑم اور چال بازی سے مغربی بنگال کے اسمبلی الیکشن میں جیتنے کے بعد اسی رشوت خور کو وزیر اعلیٰ کا عہدہ بھی سونپ دیا گیا۔ آر ایس ایس نے یا اس کے ترجمان نے سوبھندو ادھیکاری کے وزیر اعلیٰ بنانے پر کسی قسم کا اعتراض نہیں کیا۔
بھاجپا اور آر ایس ایس دونوں ایک دوسرے کا عکس ہے۔ آر ایس ایس کا کردار اور چہرہ دونوں دہرا (Double face)ہے۔ اندر کچھ ہے باہر کچھ ہے۔ آر ایس ایس یا بی جے پی حقیقت میں نہ کوئی کلچرل پارٹی ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی جماعت ہے۔ دونوں کے کردار کا اگر جائزہ لیا جائے تو حقیقت میں دونوں دہشت گرد گروہ ہے جو نہ جمہوریت پر یقین رکھتی ہے، نہ دستور ہند پر اس کا یقین ہے۔ بی جے پی ملک میں’ہندو راشٹر‘ قائم کرنا چاہتی ہے، اس کے لئے ہر طرح کے حربے اور ہتھکنڈے استعمال کرنے میں اسے کوئی عار محسوس نہیں ہوتا۔ ترنمول کانگریس کے 20 باغی ایم پی کہنے کو تو وہ ’این سی پی آئی‘میں شامل ہوئے ہیں لیکن حقیقت میں ان کی شمولیت بی جے پی اور این ڈی اے میں ہوئی ہے۔ ان ممبرانِ پارلیمنٹ کی بغاوت کو تین مہینے سے زائد ہوگئے لیکن لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا ان کی نشستوں کو لوک سبھا میں الگ تو کردیا، لیکن ان کی نام نہاد پارٹی این سی پی آئی کو تسلیم نہیں کیا ہے اور نہ ہی نا اہل قرار دیا ہے۔ حالانکہ ترنمول کانگریس کے ایم پی اور جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے اوم برلا کو قانون کی روشنی میں نا اہل قرار دینے کی درخواست پیش کئے ہوئے بھی کئی مہینے ہوگئے۔ ترنمول کانگریس کو مجبوراً سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔ سپریم کورٹ نے باغی ممبران کو ایک ہفتہ کے اندر جواب دینے کا نوٹس دیا ہے۔ اوم برلا کو بھی انھیں نوٹس دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ معلوم ہوا ہے کہ ان ممبران نے فوری طور پر جواب دینے سے معذرت کی ہے اور تین ہفتے کا مزید وقت مانگا ہے۔ اوم برلا بار بار ان باغیوں اور بے وفاداروں کو وقت دیتے رہے۔ امید یہی ہے کہ وہ باغیوں کی درخواست کو رد نہیں کریں گے۔ سپریم کورٹ میں کیا ہوگا کہا نہیں جاسکتا۔ سپریم کورٹ باغیوں کو مہلت دے گی یا نہیں یہ کہنا مشکل ہے۔
بی جے پی کا چہرہ نہ صرف مغربی بنگال میں مناقفانہ ہے بلکہ ہر ریاست میں منافقت کی علامت ہے۔ لوک سبھا کے گزشتہ الیکشن کے موقع پر انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے ایسے 25 سیاست دانوں کی ایک فہرست صفحۂ اول پر شائع کی تھی جو رشوت خوری اور اسکینڈل میں ملوث تھے، جن کو مودی اور شاہ جیل بھیجنے کی دھمکی دے رہے تھے اور بار بار کہہ رہے تھے کہ یہ ایسے سیاست داں ہیں جن کو جیل میں چکی پیسنا پڑے گا۔ ان کو چکی تو نہیں پیسنا پڑا بلکہ بی جے پی نے اپنی واشنگ مشین میں صاف ستھرا کرکے شامل کرلیا اور ان کے خلاف سارے مقدمات واپس لے لئے۔ ان میں سے کسی کو نائب وزیر اعلیٰ بنادیا تو کسی کو وزیر اعلیٰ اور کسی کو وزارت کا عہدہ سونپ دیا۔ آر ایس ایس یا بی جے پی ایسی پارٹی ہے یا ایسا گروہ ہے جس میں سنگین جرم کرنے والے بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ جنتر منتر کے دھرنے میں یہ نعرہ تھا کہ ’’بدکردار، بدعنوان ، بدمعاش کہاں ملیں گے؟ بی جے پی کے دفتر میں‘‘۔ بی جے پی کو جواب دینا چاہئے تھا کہ یہ نعرہ غلط ہے مگر بی جے پی جواب دینے سے قاصر رہی۔
آر ایس ایس کے مکھیا موہن بھاگوت نے امریکہ جاکر اپنی تقریر میں اتحاد، انسانیت، انصاف، اخوت اور بھائی چارہ پر زور دیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ ایسے لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو ہندستان میں رہنے نہیں دیا جائے وہ ہندو نہیں ہیں۔ آر ایس ایس کا مکھیا موہن بھاگوت کا قول و عمل یکساں نہیں ہے۔ ان کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح ہاتھی کا دانت دکھانے کے لئے کچھ ہوتا ہے اور کھانے کے لئے کچھ اور ہوتا ہے۔ اسی طرح موہن بھاگوت کا بھی چہرہ بیرون ملک کچھ ہے اور اندرونِ ملک کچھ اور ہے۔ آر ایس ایس کی کئی ایسی ضمنی تنظیمیں مثلاً ’وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل، اے بی وی پی‘ یہ سب نیم فوجی جماعتیں ہیں جو ہر جگہ دہشت گردی میں بدنام زمانہ ہیں۔ پورے ملک میں نہ صرف مسلمانوں کا یہ تنظیمیں جینا حرام کر رہی ہیں بلکہ مسجدوں، مدرسوں اور درگاہوںکو بلڈوز کرنے میں مصروفِ عمل ہیں۔ آر ایس ایس کے مکھیا جو امریکہ، کنیڈا اور کچھ دنوں بعد برطانیہ میں اچھی اچھی باتیں کر رہے ہیں یا کرنے والے ہیں ہندستان میں مسلمانوں، عیسائیوں اور دَلتوں کے خلاف جو شرارت ، بدمعاشی اور غنڈہ گردی مذکورہ تنظیموں کے ذریعے ہو رہی ہے اس کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولتے بلکہ اندر اندر آر ایس ایس کے مکھیا ہوں یا دیگر ذمہ داران ہوں فسادیوں اور بلوائیوں کی ہمت افزائی کرتے ہوں گے۔ ایسی پارٹی جو عصمت دری کرنے والوں کا استقبال کرے، ان کو پھولوں کا ہار پہنائے کیا وہ عام پارٹی ہوسکتی ہے؟ وہی لوگ اسے عام پارٹی کہہ سکتے ہیں جو انسانیت کے دشمن ہیں ۔
ہندستان میں صورت حال بدلنے والی ہے۔ آر ایس ایس کے بنگلہ ترجمان نے بی جے پی کے بارے میں کہا ہے کہ ایک دن آئے گا جب اس کے لوگ منہ دکھانے کے لائق نہیں ہوں گے۔ آر ایس ایس کا بھی یہی حال دیر سویر ہوگا۔ اس کے لوگ بھی اپنے سیاہ کارناموں کی وجہ سے ایک دن معتوب اور مغضوب ہوں گے۔ وہ بھی منہ دکھانے کے لائق نہیں ہوں گے۔ آر ایس ایس کو اپنی بھی فکر کرنی چاہئے اور اپنی ضمنی تنظیموں کے بارے میں بھی فکر مند ہونا چاہئے۔ راہل گاندھی یا ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی طرف سے بی جے پی اور آر ایس ایس کے چہرے کو اجاگر کیا جارہا ہے۔ رام مندر میں چندہ چوری یا چڑھاوے کی ڈکیتی کے کارنامے میں بھی آر ایس ایس کے ہی زیادہ لوگ ملوث ہیں۔ اندھ بھکتوں کی آنکھیں بھی کھل رہی ہیں۔ وہ بھی بی جے پی اور آر ایس ایس کے کردار سے نالاں ہونے لگے ہیں۔ بی جے پی اور آر ایس ایس دونوں کو اپنے کردار اور اطوار میں تبدیلی لانی ہوگی جب ہی وہ عوام و خواص میں اپنے چہرے دکھانے کے لائق ہوں گے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068