ارشادِ ربانی ہے:’’لوگو ، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا‘‘۔ مساوات انسانی کو منو سمرتی تخلیق کی بنیاد پر بھی تباہ و تاراج کرتی ہے ۔ برہمنوں کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اسے برہما نے سر سے اور شودروں کو پیر سے بنایا۔ شتری بازووں اور ویش شکم سے تخلیق کیے گئے ۔ اس بنیاد پر کاموں کی تقسیم اس طرح ہوئی کہ علم تعلیمّ کا شعبہ برہمنوں کے لیے مخصوص اور دیگر ذاتوں کی دست رس سے باہر ہوگیا ۔ بازووں سے تخلیق پانے والے جنگ و جدال کر اور حکومت و اقتدار حقدار بنادئیے گئے۔ پیٹ سے بننے والوں کےلیے تجارت اور زراعت کے کام ریزرو کردئیے گئے اور پیر سے بنائے جانے والوں کا مقصدِ حیات اوپر والوں کا بوجھ ڈھونا یعنی صرف اور صرف خدمت تک محدود کردیا گیا۔ ان پر علم و ہنر کے دروازے بزور قوت بند کرکے ان سےعزت و وقار چھین لیا گیا ۔اسلامی عقیدہ اس باطل نظریہ کی بیخ کنی کرکے تمام انسانوں کو تخلیق کی بنیاد پر مساوی قرار دیتا ہے۔ رنگ و نسل کے علاوہ دولت و اقتدار کی بنیاد پر کیے جانے والے تفریق و امتیاز کا خاتمہ کرکے یہ منظر پیش کرتا ہے؎
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
دنیائےفانی میں مختلف نسلوں ،قوموں اور قبیلوں کی موجودگی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے۔ خالق کائنات اس فرق کو اپنی جانب منسوب کرکے فرماتا ہے:’’ اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو‘‘ ۔ یعنی رنگ و نسل کی بنیادپر کوئی اعلیٰ و ارفع یا رذیل و حقیر نہیں ہوتا بلکہ یہ محض شناخت کا سامان ہے۔ اس کا مقصد اونچ نیچ کرکے حق تلفی و بدسلوکی کرنا نہیں بلکہ ایک دوسرے کےمنفرد تشخص سے متعارف ہونا ہے ۔ تخلیق کی بنیاد پر تفریق و امتیاز کرنا تو شیطان کا شیوہ ہے۔ ارشادِ قرآنی ہے:’’ہم نے تمہاری تخلیق کی ابتدا کی، پھر تمہاری صورت بنائی، پھر فرشتوں سے کہا آدمؑ کو سجدہ کرو اس حکم پر سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا‘‘۔شیطانِ لعین کی نافرمانی کا جواز ہی یہ تھا کہ:’’ جب اس سے رب کائنات نے پوچھا :’’تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جب کہ میں نے تجھ کو حکم دیا تھا؟” (تو وہ) بولا، "میں اُس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اُسے مٹی سے‘‘۔ابلیس اپنے غرور و تکبر کے سبب راندۂ درگاہ ٹھہرا ۔
ابتدائے آفرینش میں ہی رب ذوالجلال نے ابلیس کے جواب فرمادیا:’’اچھا تو یہاں سے نیچے اتر تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں بڑائی کا گھمنڈ کرے نکل جا کہ در حقیقت تو ان لوگوں میں سے ہے جو خود اپنی ذلت چاہتے ہیں‘‘ ۔ اس حکم میں یہ لطیف نکتہ پوشیدہ ہے کہ بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا لوگ دراصل خود اپنی رسوائی کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں مگر اپنی روش سے باز نہیں آتے ۔ ارشادِ خداوندی ہے:’’(ابلیس ) بولا، "مجھے اُس دن تک مہلت دے جب کہ یہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے” فرمایا، "تجھے مہلت ہے”۔ابلیس کے پیروکار بھی مہلتِ عمل پا جانے کے بعد اپنی غلط روش پر اڑ جاتے ہیں اور اس کے لیے نعوذ باللہ خدائے یکتا کو ہی ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہتے ہیں:’’اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر اِن انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا، آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں، ہر طرف سے اِن کو گھیروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا” فرمایا، ” نکل جا یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا یقین رکھ کہ اِن میں سے جو تیری پیروی کریں گے، تجھ سمیت ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا ‘‘۔
فطرت انسانی و شیطانی کا فرق واضح کرنےوالی آزمائش بھی ملاحظہ فرمائیں:’’ اور اے آدمؑ، تو اور تیری بیوی، دونوں اس جنت میں رہو، جہاں جس چیز کو تمہارا جی چاہے کھاؤ، مگر اس درخت کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔ پھر شیطان نے اُن کو بہکایا ۰۰۰اور قسم کھا کر کہا کہ میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں ۔ اس طرح دھو کا دے کر وہ ان دونوں کو رفتہ رفتہ اپنے ڈھب پرلے آیا آخرکار جب انہوں نے اس درخت کا مزا چکھا تو ان کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے اور اپنے جسموں کو جنت کے پتوں سے ڈھانکنے لگے تب ان کے رب نے انہیں پکارا، ” کیا میں نے تمہیں اس درخت سے نہ روکا تھا اور نہ کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے؟دونوں بول اٹھے، "اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے” ۔ اس طرح آدم و حواؑ نےتوبہ و استغفار کےذریعہ اپنی نجات کا سامان کرکے خود کوابدی تباہی سے بچالیا ۔ اول الذکر آیت میں اسی تقویٰ کو عزت و تکریم کی بنیاد قرار دیتے ہوئے فرمایا:’’ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے ۔ یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے‘‘۔
تقویٰ و پر ہیزگاری کو بالائے طاق رکھ کر رنگ و نسل کی بنیاد پر تفریق و امتیاز کرنے والوں نےدارالحکومت دہلی میں درج ذیل قبائل سے تعلق رکھنے والی صدر مملکت دروپدی مرمو تک کو جگناتھ مندر کے اندونی حصے میں جانے سے روک دیا ۔ ہلدوانی میں کانگریس کے صدر ملک ارجن کھڑگے کی تقریر کے بعد اسٹیج کو اس لیے پاک صاف کیا گیا کیونکہ وہ دلت(شودر) ہیں۔ اسی لیے ملک بھر میں منو سمرتی کو جلایا جارہا ہے۔سچ تو یہ ہےکہ عقیدۂ تو حید اوروحدت بنی آدم ؑ کے بغیر انسانی سماج نبیٔ کرم ﷺ کے اس فرمان کا پیکرنہیں بن سکتا جس میں فرمایاگیا :’’لوگ کنگھی کے دانتوں کی طرح برابر ہیں۔‘‘ وطن عزیز میں نسلی منافرت و مظالم کے سدباب کا خاتمہ نبیٔ پاکﷺ کی اس ہدایت سے ہی ممکن ہےکہ:’’ تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اورآدم مٹی سے بنے تھے کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی برتری وفضیلت حاصل نہیں اگر فضیلت ہے تو تقویٰ وپرہیزگاری سے‘‘۔