حجۃ الوداع: انسانی حقوق، معاشرتی عدل اور فلاحِ انسانیت کا جامع منشور

حجۃ الوداع: انسانی حقوق، معاشرتی عدل اور فلاحِ انسانیت کا جامع منشور

حجۃ الوداع: انسانی حقوق، معاشرتی عدل اور فلاحِ انسانیت کا جامع منشور

از قلم: محمد طارق اطہر حسین
جامعہ دارالہدیٰ اسلامیہ، کیرالا

رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ ربُّ العزت کی جانب سے تمام جہانوں کے لیے رسول و نبی بنا کر مبعوث فرمائے گئے۔ آپ ﷺ کی بعثتِ مبارکہ کا مقصد انسانیت کو گمراہی کی تاریکیوں سے نکال کر ہدایت و فلاح کی روشن شاہراہ پر گامزن کرنا تھا۔ آپ ﷺ نے اپنی پوری حیاتِ طیبہ میں وحیِ الٰہی پہنچانے، قرآنِ کریم کی تعلیم دینے، احکامِ شریعت کی عملی تربیت فرمانے، لوگوں کے سوالات کے جوابات ارشاد فرمانے اور مختلف مواقع پر خطبات کے ذریعے امت کی رہنمائی کا اہتمام فرمایا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس میں رسولِ اکرم ﷺ نے انسانیت کو خیر، بھلائی اور اصلاح کا راستہ نہ دکھایا ہو۔
آپ ﷺ کے انہی اصلاحی و تربیتی اقدامات میں خطبات کو نہایت اہم مقام حاصل ہے۔ غزوات و سرایا، وفود کی آمد، جمعہ و عیدین اور دیگر مواقع کے علاوہ حج کے موقع پر بھی آپ ﷺ نے متعدد خطبات ارشاد فرمائے۔ ان میں خطبۂ حجۃ الوداع کو منفرد حیثیت حاصل ہے۔ یہ محض ایک مذہبی اجتماع سے خطاب نہ تھا بلکہ انسانی مساوات، معاشرتی عدل، حقوق و فرائض، باہمی اخوت، جان و مال کی حرمت اور اخلاقی ذمہ داریوں سے متعلق جامع تعلیمات کا مجموعہ تھا۔ اسی لیے اسے حقوقِ انسانی، عدل و امن اور فلاحِ انسانیت کا عظیم منشور قرار دیا جاتا ہے۔
حجۃ الوداع رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا آخری حج تھا جو آپ ﷺ نے ۱۰ ہجری میں ادا فرمایا۔ ہجرت کے بعد آپ ﷺ نے صرف یہی ایک حج ادا فرمایا، اسی لیے اسے ’’حجۃ الوداع‘‘ یعنی وداع کا حج کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر آپ ﷺ نے امتِ مسلمہ کو ایسی جامع ہدایات عطا فرمائیں جن میں اسلامی معاشرے کے بنیادی اخلاقی، معاشرتی اور انسانی اصول واضح کیے گئے۔ آپ ﷺ نے جاہلیت کے باطل تصورات اور ظالمانہ معاشرتی رویوں کا خاتمہ فرماتے ہوئے عدل، مساوات، اخوت، امانت، انسانی حرمت اور باہمی حقوق کی پاس داری کو اسلامی معاشرے کی بنیاد قرار دیا۔
حجۃ الوداع کے آخری حج ہونے کی طرف خود رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں مختلف مواقع پر اشارہ فرمایا تھا۔ چنانچہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو جب یمن کی طرف گورنر بنا کر روانہ فرمایا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «يَا مُعَاذُ، إِنَّكَ عَسَىٰ أَنْ لَا تَلْقَانِي بَعْدَ عَامِي هَذَا» یعنی: ’’اے معاذ! غالباً تم اس سال کے بعد مجھ سے ملاقات نہ کر سکو گے۔‘‘ (مسند احمد، 36 / 376، حدیث: 22052) اس ارشادِ نبوی ﷺ سے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ پر جدائی کا غم طاری ہوگیا۔ چونکہ حجۃ الوداع کے کچھ ہی عرصے بعد رسولِ اکرم ﷺ اس دنیا سے پردہ فرما گئے، اس لیے آپ ﷺ کے اس آخری حج کو ’’حجۃ الوداع‘‘ اور اس موقع پر ارشاد فرمائے گئے خطبات کو ’’خطبۂ حجۃ الوداع‘‘ کہا جاتا ہے۔
خطبۂ حجۃ الوداع کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کے مضامین مختلف صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی احادیث کی صورت میں کتبِ حدیث، سیرت اور تاریخ میں محفوظ ہیں۔ آپ ﷺ نے حج کے مختلف ایام اور مقامات پر متعدد اہم ارشادات فرمائے، اس لیے خطبۂ حجۃ الوداع کا مکمل مضمون کسی ایک روایت تک محدود نہیں بلکہ اس کے مختلف اجزا متعدد روایات میں منقول ہیں۔ بعد کے اہلِ علم نے ان روایات کو جمع کرکے اس خطبے کے جامع مضامین کو مرتب کیا اور یوں یہ امت کے لیے ایک عظیم علمی، اخلاقی، دینی اور معاشرتی سرمایہ بن گیا۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ-فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍۙ-فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴾ ترجمہ: ’’آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا تو جو بھوک پیاس کی شدت میں مجبور ہو اس حال میں کہ گناہ کی طرف مائل نہ ہو (تو وہ کھا سکتا ہے۔) تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ (کنز العرفان، المائدہ: 3) یہ آیتِ کریمہ دینِ اسلام کی تکمیل اور اس کے جامع نظام کی طرف رہنمائی کرتی ہے، جس کا عملی اظہار حجۃ الوداع کے موقع پر رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔
حجۃ الوداع کے موقع پر رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جہاں انسانی حقوق، معاشرتی عدل اور باہمی تعلقات کی اصلاح پر توجہ دلائی، وہیں حقوقُ اللہ کی ادائیگی کو بھی بنیادی اہمیت عطا فرمائی۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خطبۂ حجۃ الوداع میں ارشاد فرمایا: ’’اپنے رب سے ڈرو، پانچوں نمازیں ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرو اور اپنے اہلِ امر کی اطاعت کرو، تو اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔‘‘ (ترمذی، 2 / 119، حدیث: 616) اس ارشادِ نبوی ﷺ میں ایک مسلمان کی دینی زندگی کے بنیادی فرائض کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ تقویٰ انسان کو نیکی اختیار کرنے اور گناہوں سے بچنے کی ترغیب دیتا ہے، نماز بندے کا اپنے رب سے تعلق مضبوط کرتی ہے، روزہ نفس کی تربیت اور تقویٰ پیدا کرتا ہے، جبکہ زکوٰۃ مال کو پاک کرنے کے ساتھ ضرورت مندوں کی مدد کا ذریعہ بنتی ہے۔ اہلِ امر کی اطاعت سے اجتماعی نظم و ضبط اور معاشرتی استحکام پیدا ہوتا ہے۔ گویا اس مختصر ارشاد میں عبادت، تزکیۂ نفس، مالی ذمہ داری اور اجتماعی نظم سب کو یکجا کردیا گیا ہے۔
خطبۂ حجۃ الوداع کا ایک نمایاں پہلو انسانی مساوات کا درس ہے۔ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے واضح فرمایا کہ انسانوں کے درمیان فضیلت کا معیار رنگ، نسل، زبان، قوم یا خاندان نہیں بلکہ تقویٰ ہے۔ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بیان فرمایا کہ انسانوں کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا گیا اور مختلف شاخوں اور قبیلوں میں اس لیے تقسیم کیا گیا کہ وہ ایک دوسرے کو پہچانیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک حقیقی عزت و فضیلت کا معیار تقویٰ ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾ ترجمہ: ’’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنایا تاکہ تم آپس میں پہچان رکھو، بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے، بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔‘‘ (کنز العرفان، الحجرات: 13) اسی اصول کی مزید وضاحت کرتے ہوئے حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی کالے کو گورے پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ کے۔ حضور کا ارشاد ہے کہ کسی عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ ہی کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت ہے اور نہ کسی کالے کو گورے پر اور نہ کسی گورے کو کالے پر برتری ہے، سوائے تقویٰ کے۔ (معجم کبیر، 18 / 12، حدیث: 16) اس ارشادِ نبوی ﷺ نے انسانی مساوات کو اسلامی معاشرت کا بنیادی اصول قرار دیا۔
اسلام نے انسانی جان، مال اور عزت و آبرو کو غیر معمولی حرمت عطا کی ہے۔ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یوم النحر کے خطبے میں فرمایا کہ انسانوں کے خون، اموال اور عزتیں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح محترم ہیں جس طرح مکہ مکرمہ میں ذوالحجہ کے اس مقدس دن کی حرمت ہے۔ (بخاری، 3 / 141، حدیث: 4406) اس تعلیم میں معاشرتی امن و استحکام کی بنیادی ضمانت موجود ہے۔ جب انسان کی جان محفوظ، مال مامون اور عزت و آبرو محترم ہوگی تو معاشرہ ظلم، تعدی اور انتشار سے محفوظ رہ سکے گا۔ مزید برآں ہر شخص کو اپنے رب کے حضور اپنے اعمال کا جواب دینا ہے، اس لیے کسی کے حقوق پامال کرنا دنیاوی جرم کے ساتھ آخرت کی جواب دہی کا بھی سبب ہے۔
خطبۂ حجۃ الوداع میں رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خاندانی نظام کی مضبوطی کے لیے میاں بیوی کے باہمی حقوق اور ذمہ داریوں کو بھی واضح فرمایا۔ حضرت عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’آگاہ رہو! بے شک تمہاری عورتوں پر تمہارے کچھ حقوق ہیں اور تمہاری عورتوں کے بھی تم پر کچھ حقوق ہیں۔ پس تمہارا اپنی عورتوں پر یہ حق ہے کہ وہ اپنی عزت کی حفاظت کریں اور جو تمہیں پسند نہیں اسے گھر میں نہ آنے دیں، آگاہ رہو کہ تمہاری عورتوں کا تم پر حق ہے کہ تم انہیں اچھا کھلاؤ اور اچھا پہناؤ۔‘‘ (ترمذی، 3 / 387، حدیث: 1166) اس تعلیم سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی خاندانی نظام باہمی حقوق، ذمہ داری، حسنِ معاشرت اور احترام کی بنیاد پر قائم ہے۔
رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے امت کو گمراہی سے محفوظ رہنے اور صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رہنے کے لیے قرآنِ کریم اور اہلِ بیتِ اطہار سے وابستگی کی تعلیم عطا فرمائی۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے عرفہ کے دن اپنی اونٹنی قصواء پر تشریف فرما ہو کر خطبہ دیا اور فرمایا: ’’اے لوگو! بے شک میں تمہارے درمیان وہ چھوڑے جارہا ہوں کہ تم اسے تھامے رکھو تو کبھی گمراہ نہ ہوگے: اللہ کی کتاب اور میرے اہلِ بیت۔‘‘ (ترمذی، 5 / 433، حدیث: 3811) اس ارشادِ نبوی ﷺ سے قرآنِ کریم سے مضبوط تعلق اور اہلِ بیتِ اطہار کی محبت و احترام کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ قرآنِ کریم ہدایت کا بنیادی سرچشمہ ہے، جبکہ اہلِ بیتِ اطہار رسولِ اکرم ﷺ کے پاکیزہ گھرانے سے تعلق کی علامت ہیں۔ امت کی دینی زندگی میں قرآن سے وابستگی، سنتِ رسول ﷺ کی پیروی اور اہلِ بیتِ اطہار سے محبت و ادب ایک اہم روحانی و اخلاقی سرمایہ ہے۔
خطبۂ حجۃ الوداع کا ایک اہم پہلو پیغامِ رسالت کو آگے پہنچانے کی ذمہ داری ہے۔ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یوم النحر کے خطبے کے اختتام پر حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ یہ پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں، کیونکہ بعض اوقات جس شخص تک بات پہنچائی جاتی ہے، وہ اسے سننے والے سے بھی زیادہ محفوظ رکھنے والا ہوتا ہے۔ اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی تعلیم صرف ذاتی اصلاح تک محدود نہیں بلکہ اسے صحیح علم، دیانت اور حکمت کے ساتھ دوسروں تک پہنچانا بھی امت کی ذمہ داری ہے۔ اسی موقع پر آپ ﷺ نے امت کو باہمی اتحاد، امن اور استقامت کی بھی خصوصی تلقین فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ میرے بعد دوبارہ کفر اور جاہلیت کے اعمال کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ اس ارشاد کا بنیادی مقصد امت کو باہمی نزاع، خون ریزی، نفرت اور انتشار سے محفوظ رکھنا تھا۔ اسلام نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دے کر اتحاد و اخوت کی بنیاد قائم کی ہے، اس لیے باہمی ظلم و زیادتی اسلامی اخوت کے بنیادی تقاضوں کے منافی ہے۔
خطبۂ حجۃ الوداع کے اختتام پر رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حاضرین سے ایک ایسا سوال فرمایا جو آپ ﷺ کی رسالت کی تکمیل اور امت کی ذمہ داری کو نمایاں کرتا ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ خطبہ کے بعد رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: ’’اے لوگو! تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو تم کیا کہو گے؟‘‘ لوگوں نے عرض کیا: ’’ہم گواہی دیں گے کہ بے شک آپ نے پیغام پہنچا دیا، حق ادا کردیا اور نصیحت فرمادی۔‘‘ تو رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف بلند فرمائی اور لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’اے اللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو گواہ رہ۔‘‘ یہ منظر اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی ذمہ داریِ رسالت کو کامل طور پر ادا فرمایا اور امت کے سامنے دینِ حق کو واضح کرکے پہنچا دیا۔ حجۃ الوداع اسی تکمیلِ رسالت، اتمامِ حجت اور امت کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کا عظیم مظہر ہے۔
حجۃ الوداع کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو یہ محض ایک تاریخی سفر یا مذہبی اجتماع نہیں، بلکہ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پوری دعوتی، تعلیمی، اخلاقی اور اصلاحی جدوجہد کا ایک جامع خلاصہ اور امتِ مسلمہ کے لیے ایک ہمہ گیر دستورِ حیات نظر آتا ہے۔ اس میں حقوقُ اللہ کی ادائیگی، تقویٰ، نماز، روزہ اور زکوٰۃ کے ساتھ انسانی جان، مال اور عزت کی حرمت، انسانی مساوات، خاندانی نظام کی مضبوطی، میاں بیوی کے باہمی حقوق، قرآنِ کریم سے وابستگی، اہلِ بیتِ اطہار کی محبت، پیغامِ دین کو آگے پہنچانے کی ذمہ داری اور باہمی اتحاد و اخوت جیسے بنیادی اصول نہایت جامع انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ اس خطبے کا پیغام کسی خاص زمانے، قوم یا خطے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے ہدایت اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ آج بھی اگر انسانیت ان نبوی تعلیمات کی روشنی میں عدل و انصاف، مساوات، امن، احترامِ انسانیت اور باہمی ذمہ داری کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، فرد اپنے رب کے حقوق ادا کرے اور بندوں کے حقوق کی پاس داری کرے تو نہ صرف فرد کی اصلاح ممکن ہے بلکہ ایک صالح، پُرامن، عادل اور بااخلاق معاشرے کی تشکیل بھی عمل میں آسکتی ہے۔ یہی حجۃ الوداع کا وہ جامع اور آفاقی پیغام ہے جو چودہ صدیوں کا سفر طے کرنے کے باوجود آج بھی اپنی معنویت، تاثیر اور رہنمائی کی قوت کے ساتھ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ بنا ہوا ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے