جمعرات. ستمبر 10th, 2026

ملی بینڈ کی ہاؤس آف کامنز میں اسرائیل کے خلاف تقریر، برطانیہ کی پالیسی میں تبدیلی

ملی بینڈ کی ہاؤس آف کامنز میں اسرائیل کے خلاف تقریر، برطانیہ کی پالیسی میں تبدیلی

ملی بینڈ کی ہاؤس آف کامنز میں اسرائیل کے خلاف تقریر، برطانیہ کی پالیسی میں تبدیلی

از شیخ سلیم،ممبئی

کچھ تقریریں محض معلومات فراہم کرتی ہیں، اور کچھ تقریریں ایسی ہوتی ہیں جو ہمیشہ یاد رکھی جانے کے لائق ہوتی ہیں۔ ایڈ ملی بینڈ کا 8 ستمبر کو ہاؤس آف کامنز میں ڈسپیچ باکس پر کھڑے ہو کر دیا گیا بیان یا تقریر برطانیہ کی فلسطین سے متعلق پالیسی میں ایک صاف تبدیلی سمجھی جائے گی اور ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) کی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی، برطانیہ میں آبادکاری جائیداد کی فروخت کی تشہیر پر پابندی، غیر قانونی بستیوں (یعنی فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضے کے بعد تعمیر کی جانے والی بستیوں) کی مالی معاونت کرنے والے افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں، اور اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا کہ برطانیہ اب باضابطہ طور پر اسرائیل کے مغربی کنارے پر قبضے کو غیر قانونی تصور کرتا ہے، اور یہ کہ آبادکاروں نے بعض فلسطینی علاقوں میں قتل و غارت گری کی ہے جسے نسلی امتیاز، یا انگریزی میں جنوسائڈ، کہا جا سکتا ہے۔

آپ کو یاد دلا دیں کہ اسرائیل نے ویسٹ بینک میں فلسطینیوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ اُن کی آدھی سے زیادہ زرعی زمینوں اور گھروں پر یہودی آبادکاروں نے قبضہ کر لیا ہے۔ فلسطینیوں کا قتل معمول کی بات ہو گئی ہے۔ ہزاروں فلسطینی مرد، عورتیں اور بچے اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں۔ 7 اکتوبر 2023 کے بعد ظلم و زیادتیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ہزاروں فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں۔ اسی تناظر میں ملی بینڈ، جو کیئر سٹارمر کے استعفے کے بعد جولائی 2026 میں نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم کی کابینہ میں ردوبدل کے نتیجے میں وزیر خارجہ بنے، نے اس تبدیلی کو ایک یادگار تقریر بنا دیا ہے۔ انہوں نے فخر سے خود کو "ایک برطانوی یہودی” کہا، اپنی دادی کے اسرائیل فرار ہونے کو یاد کیا جب وہ اپنے شوہر اور مزید ساٹھ رشتہ داروں کو نازیوں کے ہاتھوں کھو چکی تھیں، اور بچپن کی وہ یادیں بھی بیان کیں جب وہ خود چھوٹے بچے تھے اور اس جگہ پر جاتے تھے جہاں ان کے کزن رہتے تھے۔ یہ، کسی بھی طرح سے، اس صیہونی ریاست کے خلاف پابندیوں کے اعلان کا ایک غیر معمولی آغاز تھا جس نے کبھی ان کے خاندان کو پناہ دی تھی۔

لیکن ملی بینڈ اس الزام سے بھی خود کو محفوظ رکھنا چاہتے تھے کہ اسرائیلی پالیسی پر تنقید کسی گہری بدنیتی کی علامت ہے۔ اس کے بعد جو کچھ سامنے آیا وہ کچھ اس طرح ہے: مقبوضہ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی، برطانیہ میں مغربی سٹلرز کی جائیدادوں کی تشہیر پر پابندی، غیر قانونی بستیوں کی تعمیر اور بنیادی ڈھانچے یعنی انفراسٹرکچر کی مالی معاونت کرنے والے افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں، اور ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی۔ برطانیہ، ان کے بقول، اب باضابطہ طور پر اسرائیل کے مغربی کنارے پر قبضے کو غیر قانونی تصور کرتا ہے، ایک ایسا اعلان جس کی خاص سفارتی اہمیت ہے، یعنی اب برطانیہ نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کا اعلان کر دیا ہے، اگرچہ اس کا عملی نفاذ آہستہ آہستہ ہوگا، جسے ملی بینڈ نے چھ سے نو ماہ کے قانون سازی کے عمل کے طور پر بیان کیا۔ انہوں نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے اپنے لہجے کو دھیما اور معذرت خواہ نہیں کیا۔ آبادکاروں نے، ان کے بقول، بعض فلسطینیوں کے ساتھ وہ کچھ کیا جو نسلی صفائی یا جنوسائیڈ کے مترادف ہے، اور اسرائیلی حکام اکثر جبری بے دخلی کو روکنے میں ناکام رہے بلکہ اس کے مددگار ثابت ہوئے۔ انہوں نے اس اعلان کے ساتھ ساتھ تشدد کی حمایت یا اکسانے کے الزام میں انتہا پسند یہودی آبادکاروں کے ایک اور گروہ پر فوری پابندیاں بھی عائد کیں۔

برطانیہ نے اکیلے ہی یہ قدم نہیں اٹھایا ہے۔ کینیڈا، فرانس، ڈنمارک، فن لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین، اور سویڈن سب نے متوازی اقدامات کا اعلان کیا، یا غیر قانونی آبادکاری سے منسلک تجارت کو محدود کرنے کے ارادے کا اظہار کیا، جو ایک الگ تھلگ برطانوی اقدام کے بجائے ایک مربوط یورپی پالیسی میں خاطر خواہ تبدیلی کی نشاندہی کر رہا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس اقدام کو روکنے کی کوشش نہیں کی، حالانکہ اس نے واضح کر دیا کہ امریکہ خود اس میں شریک نہیں ہوگا۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 8 ستمبر کو یہی بات کہی تھی اور واشنگٹن کی عدم شرکت کو معمول کا اقدام قرار دیا۔ اسرائیل کی جانب سے ردعمل سامنے آیا، اگرچہ بالواسطہ۔ پابندیوں کا براہ راست جواب دینے کے بجائے، اسرائیل نے برطانیہ کو مطلع کیا کہ اسے مشرقی یروشلم میں اپنا قونصل خانہ تیس دن کے اندر بند کرنا ہوگا، ایک ایسا اقدام جسے بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، اگرچہ اسے کبھی باضابطہ طور پر اس طرح بیان نہیں کیا گیا۔ ملی بینڈ نے، آج بات کرتے ہوئے، اس فیصلے کو افسوسناک قرار دیا لیکن کہا کہ انہیں اس کی توقع تھی۔ ان کے ردعمل میں کوئی تشویش کا لہجہ نہیں تھا، بلکہ اس شخص کا لہجہ تھا جو اپنے اختیار کردہ موقف کی قیمت پہلے ہی سے ادا کرنے کے لیے تیار تھا۔

اس تقریر کو محض پالیسی کی تبدیلیوں کے بجائے وسیع تر تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ہتھیاروں کی پابندیوں اور یہودی آبادکاری کی پابندیوں پر برسوں سے مختلف صورتوں میں بحث ہوتی رہی ہے، بلکہ اصل چیز وہ لہجہ اور انداز ہے جس میں اسے پیش کیا گیا۔ ایک وزیر خارجہ کا، ایک ایسے یہودی کی حیثیت سے بات کرنا جس کا خاندان ہولوکاسٹ سے بچ نکلا، اور "نسلی صفائی” اور "غیر قانونی قبضے” جیسے الفاظ بغیر شرط کے استعمال کرنا، کوئی معمولی بات نہیں جو برطانوی سیاست میں پیش آئی ہو۔ کیا یہ صاف گوئی اس تنازعے پر مغربی حکومتوں کے انداز بیان میں ایک حقیقی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، یا محض یہ ظاہر کرتی ہے کہ حالات پہلے ہی ان سب سے کہیں آگے نکل چکے ہیں جو عام طور پر انہیں بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، یہی وہ سوال ہے کہ اس تقریر کے بعد آگے کیا ہونے والا ہے، یہ فیصلہ پڑھنے والوں پر ہی چھوڑ دینا چاہیے۔ در حقیقت اس سارے معاملے کو ایران کے خلاف جنگ سے الگ کر کے نہیں دیکھنا چاہیے۔ ایران کو امریکا اور اسرائیل شدید ترین حملوں کے باوجود شکست نہیں دے سکے۔ خلیج میں امریکا کے سبھی اڈے تقریباً تباہ ہو چکے ہیں۔ اسرائیل پر ایرانی حملوں نے اسرائیل کے ناقابلِ شکست ہونے کے بھرم کو توڑ دیا ہے۔ امریکی بحری بیڑے ایرانی میزائلوں کی رینج سے دور جانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ چھ ماہ سے زیادہ ہو چکے ہیں، امریکا آبنائے ہرمز کھلوانے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے بیچ مکہ مکرمہ میں ایک اہم معاہدہ طے ہو گیا ہے۔ علاقائی صورتِ حال تبدیل ہو گئی ہے، ناٹو کی حالت پتلی ہو گئی ہے۔ روس یوکرین میں پھنس گیا ہے، امریکا ایران میں پھنس گیا ہے۔ مغرب کو احساس ہو رہا ہے کہ اسرائیل کے ظلم و ستم کے خلاف امریکا اور یورپ میں ماحول بن گیا ہے۔ اسی لیے یورپی ممالک اور برطانیہ اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے