بسم اللہ
17 / ستمبر : حیدرآباد ۔کرناٹک کے زخم
اور 1948 کا پولیس ایکشن.!!!
ازقلم:شرف الدین سید
9342522346
تاریخ کے اوراق میں بعض دن جشن کے نہیں ، غور و فکر کے لیے ہوتے ہیں ۔ 17 ستمبر بھی حیدرآباد دکن کی تاریخ کا ایسا ہی ایک دن ہے۔برصغیر کی آزادی کی تاریخ صرف 15 اگست 1947 سے شروع ہو کر ختم نہیں ہوجاتی۔ ہندوستان کی آزادی کے وقت برطانوی ہندوستان کے ساتھ سیکڑوں شاہی ریاستیں بھی موجود تھیں ۔ Indian Independence Act 1947 کے تحت ان ریاستوں کے حکمرانوں کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ ہندوستان یا پاکستان سے الحاق کریں یا اپنی الگ حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش کریں ۔ حیدرآباد دکن بھی انہی ریاستوں میں سے ایک تھا۔ریاست حیدرآباد کے حکمران، ساتویں نظام میر عثمان علی خان آصف جاہ مسلمان تھے ، جبکہ ریاست کی آبادی کی اکثریت ہندو تھی۔ اسی طرح جوناگڑھ اور کشمیر(راجہ ہندو اور مسلم رعایا کثیر الآباد )کی صورت حال بھی مختلف نوعیت کی تھی۔ تقسیم ہند کے بعد ان ریاستوں کا مسئلہ برصغیر کی سیاست کا ایک نہایت پیچیدہ باب بن گیا۔حیدرآباد نے ہندوستان کے ساتھ فوری الحاق کے بجائے اپنی خودمختار حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ ہندوستان اور حیدرآباد کے درمیان ایک Standstill Agreement بھی ہوا، جس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ موجودہ انتظامی صورت حال کچھ عرصے تک برقرار رہے اور دونوں جانب سے مستقبل کے تعلقات کے بارے میں بات چیت جاری رہے۔لیکن تقسیم ہند کے ساتھ پورا خطہ پہلے ہی خونریزی، خوف اور بے یقینی کی لپیٹ میں تھا۔ ایسے ماحول میں حیدرآباد کے اندر بھی سیاسی کشمکش شدت اختیار کرتی گئی۔ ایک طرف ہندوستان کے ساتھ الحاق کی حامی تحریک تھی، جسے کانگریس کے مقامی رہنماؤں کی حمایت حاصل تھی، تو دوسری طرف نظام اپنی ریاست کی خودمختاری برقرار رکھنا چاہتے تھے۔اسی کشیدہ ماحول میں قاسم رضوی کی زیرقیادت رضاکاروں کی سرگرمیاں بھی بڑھیں ۔ یہ فیصلہ بعد کے واقعات میں انتہائی متنازع ثابت ہوا۔ سیاسی اختلاف جب طاقت اور تشدد کی زبان اختیار کرلے تو سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں ہی کو اٹھانا پڑتا ہے۔اور پھر ستمبر 1948 آیا۔ہندوستانی حکومت نے حیدرآباد کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی جسے سرکاری طور پر Operation Polo کہا گیا۔ یہ کارروائی چند ہی دن جاری رہی اور بالآخر نظام نے ہندوستان سے الحاق قبول کرلیا۔ 17 ستمبر 1948 کو حیدرآباد کی سابقہ خودمختار حیثیت کا عملی طور پر خاتمہ ہوگیا اور ریاست ہندوستانی یونین کا حصہ بن گئی۔لیکن تاریخ کا سوال صرف یہ نہیں کہ حیدرآباد ہندوستان میں شامل کیسے ہوا؟زیادہ اہم سوال یہ بھی ہے کہ اس عمل کے دوران عام انسانوں کے ساتھ کیا ہوا؟یہیں سے 17 ستمبر کی تاریخ کا سب سے دردناک باب شروع ہوتا ہے۔حیدرآباد اور اس کے اطراف میں پولیس ایکشن سے پہلے بھی فرقہ وارانہ کشیدگی اور تشدد موجود تھا، لیکن فوجی کارروائی کے بعد مختلف علاقوں میں مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر تشدد کے الزامات سامنے آئے۔ قتل، لوٹ مار، آتش زنی اور نقل مکانی کے واقعات نے ہزاروں خاندانوں کی زندگی اجاڑ دی۔ان واقعات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ خود ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے حالات کی تحقیقات کے لیے سندرلال بہوگنا کی قیادت میں ایک انکوائری کمیٹی قائم کی۔ اس کمیٹی سے متعلق روایات اور بعد کی تحقیقات میں متاثرہ علاقوں میں ہونے والے قتل و غارت اور انسانی المیے کا ذکر ملتا ہے۔تاہم اس کمیٹی کی رپورٹ کی مکمل دستیابی اور اس کے بعض نتائج پر آج بھی تاریخی بحث جاری ہے۔
نامور مصنف اور مورخ اے جے نورانی نے اپنی تصنیف HYDERABAD DESTRUCTION میں حیدرآباد کے مختلف علاقوں خصوصاً عثمان أباد ،لاتھور ،ناندیڑ، بیڑ ،گلبرگہ اور رائچور میں ہونے والے مبینہ قتل عام کا تفصیلی ذکر کیا ہے ۔ان کے مطابق پولس ایکشن کے بعد پیش آنے والے واقعات کو صرف فوجی کارروائی یا سیاسی انضمام کے عنوان سے دیکھنا اس دور کے انسانی المیے کو نظرانداز کرنا ہوگا ۔ اس پورے دور کو سمجھنے کے لیے صرف ایک کتاب یا ایک مورخ کی رائے پر انحصار کافی نہیں ۔ کے ایم منشی کی کتاب THE END OF ERA بھی اس زمانے کے حالات کو سمجھنے کے لیے اہم مآخذ ہے۔ حیدرآباد کا ہندوستانی وفاق میں انضمام محض ایک سادہ سیاسی واقعہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے پیچیدہ سیاسی ،سماجی اور انسانی عوامل کارفرما تھے ۔ حیدرآباد کے ان خونیں دنوں میں بڑی تعداد میں بے گناہ انسان مارے گئے اور ہزاروں خاندان متاثر ہوئے۔
یہاں ایک بنیادی اصول کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کسی علاقے میں ایک طبقے کے ہاتھوں دوسرے طبقے پر ظلم ہوا تو اس کی مذمت ضروری ہے۔ لیکن اگر ریاستی طاقت یا کسی مسلح گروہ کے ہاتھوں عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا دفاع کسی سیاسی دلیل سے نہیں کیا جاسکتا۔تاریخ کو فرقہ وارانہ عینک سے دیکھنے کے بجائے انسانی آنکھ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔حیدرآباد کے ان واقعات کے حوالے سے کئی محققین نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ سرکاری سطح پر ہونے والی تحقیقات کے باوجود اس سانحے کی مکمل تصویر عوام کے سامنے کیوں نہ آسکی؟ بعض رپورٹس اور بعد کی تحقیق میں ہلاکتوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ بتائی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ 1948 کا حیدرآباد آج بھی مورخین کے لیے تحقیق کا موضوع ہے۔مگر افسوس یہ ہے کہ تاریخ کے ایسے ابواب اکثر سیاسی ضرورتوں کے مطابق یاد کیے جاتے ہیں ۔ کہیں اسے ”آزادی“ کا دن کہا جاتا ہے ، کہیں ”انضمام“ کا، کہیں ”پولیس ایکشن“ کا اور کہیں ”فتح“ کا دن۔مگر جس گھر میں کسی کا بیٹا مارا گیا ہو، جس خاندان نے اپنا گھر چھوڑا ہو، جس عورت نے اپنے شوہر یا بچے کو کھویا ہو، اس کے لیے یہ دن کسی سیاسی اصطلاح کا نام نہیں ہوتا۔ وہ صرف ایک زخم ہوتا ہے۔
17 ستمبر کس کا جشن؟
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر 17ستمبر کو لبریشن ڈے قرار دیا جاتا ہے تو اس کے بعد کے سیاسی اور انتظامی واقعات کو بھی اسی تاریخی تسلسل میں کیوں نہ دیکھا جائے ؟اور اگر 17 ستمبر کو یاد کرنا ہے تو کس انداز میں یاد کیا جائے ؟
اگر اسے ہندوستانی اتحاد اور ریاستوں کے انضمام کے تناظر میں یاد کیا جائے تو اس تاریخی عمل کو سمجھنا ضروری ہے۔ لیکن اسے کسی مخصوص مذہبی طبقے کی شکست یا دوسرے طبقے کی فتح کے طور پر پیش کیا جائے تو یہ تاریخ کے ساتھ بھی ناانصافی ہے اور ان تمام مقتول انسانوں کے ساتھ بھی، جن کا کسی سیاسی فیصلے میں کوئی کردار نہیں تھا۔حیدرآباد کا انضمام ہندوستان کی سیاسی تاریخ کا حصہ ہے ؛ لیکن حیدرآباد کے عام لوگوں کا خون بھی اسی تاریخ کا حصہ ہے۔
ایک قوم اس وقت بالغ ہوتی ہے جب وہ اپنی تاریخ کے صرف روشن صفحات نہیں پڑھتی بلکہ اپنے تاریک ابواب کا سامنا کرنے کا حوصلہ بھی رکھتی ہے۔ہمیں 17 ستمبر کو جشن منانے سے پہلے ان قبروں کو بھی یاد کرنا چاہیے ، جن پر کسی سیاسی پرچم کا رنگ نہیں تھا ۔ حیدرآباد دکن کی تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ سیاسی فتح وقتی ہوسکتی ہے ، مگر انسانی المیہ نسلوں تک زندہ رہتا ہے۔ تاریخ کا کام کسی ایک فریق کو ہمیشہ کے لیے مجرم اور دوسرے کو ہمیشہ کے لیے بے گناہ ثابت کرنا نہیں ؛ تاریخ کا اصل فرض یہ ہے کہ وہ مقتول کی شناخت مذہب سے نہیں ، انسان ہونے سے کرے۔17 ستمبر کو اگر یاد کرنا ہے تو ضرورکریں —مگر جشن سے پہلے ماتم، سیاست سے پہلے انسانیت اور دعوے سے پہلے سچائی کو جگہ دیں ۔کیونکہ خون سے لکھی ہوئی تاریخ کو نعروں سے نہیں ، انصاف سے پڑھا جاتا ہے۔
ماضی کی کسی تاریخ کو یادگار بنانے کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم حال کا سامنا کریں ۔جیسے کلیان کرناٹک کو اب بھی بہتر تعلیم ، روزگار ، صحت کی دیکھ بھال ، صنعتی سرمایہ کاری ، آبپاشی ، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کی شدید صرورت ہے ۔یہ وہ مسائل ہیں جو براہِ راست کسانوں ، نوجوانوں اور عام خاندانوں کو متاثر کرتے ہیں ۔
یہیں پرنئے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار کی ذمہ داری اہم ہو جاتی ہے۔ اگر ان کی حکومت انتظامی
رفتار کو برقرار رکھ سکے اور اسے خطے کی دیرینہ ضروریات پر مرکوز کرسکے ، تو ستمبر کا ایک نیا مطلب اختیار کرسکتا ہے ۔ یہ سالانہ موقع صرف تاریخ یاد کرنے کا نہیں بلکہ ترقی کی پیمائش کا بھی بن سکتا ہے ۔
اصل امتحان تقریروں ، تقریبات یا اعلانات کا نہیں بلکہ نتائج کا ہوگا ۔کلیان کرناٹک نے نسلوں سے اپنے ماضی کا بوجھ اٹھایا ہے ۔اسے اب مزید نسلوں تک درد کا ، پسماندگی کا بوجھ نہیں اٹھانا چاہیے۔
اس لیے شیو کمار کے لیے ستمبر 17 صرف یادگاری تاریخ نہیں ہونا چاہیے ۔ یہ وہ تاریخ ہونی چاہیے جس کے خلاف ان کی حکومت کے کلیان کرناٹک کے تئیں عزم…اور خود ان کی کارکردگی .. کو ناپا جائے ۔