زہر کا کام انسانی جان کو ختم کرنے کا تو ہوتا ہے مگر۔۔۔ زہر صرف وہ زہر نہیں ہوتا جو آپ کو دکھائی دیتا ہے بلکہ زہر انسانی رویوں میں، انسانی لہجوں میں، انسانی حرکات و سکنات میں، انسانی چہروں میں اور خاص طور پر انسانی آنکھوں میں بھی پایا جاسکتا ہے۔ آپ نے اکثر مشاہدہ کیا ہوگا، کبھی نہ کبھی محسوس کیا ہوگا، کوئی وقت آپ پر ایسا بھی گزرا ہوگا جب آپ کو یہ احساس ہوا ہوگا کہ زہر صرف وہ زہر نہیں جو انسانی جان لے لے بلکہ زہر کئی صورتوں میں ہمارے لیے نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے جب لہجوں سے زہر ٹپکتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ کہیں کوئی ٹوٹ پھوٹ ہوئی ہے جب کسی کے انداز یہ بتادیں کہ اب اپنائیت صرف لفظ ہے ، جب آنکھیں اجنبی ہوجائیں اور زہر اُگلنے لگیں تو پھر سمجھ جانا کہ زہر اپنا اثر دِکھا رہا ہے، زہر میں بھی اتنا زہر نہیں ہوتا جو انسانی رویوں میں ہوتا ہے ایسا لگتا ہے کہ کبھی کوئی اپنا تھا ہی نہیں جسے اپنا سمجھ بیٹھے تھے، وہ اپنا نہیں تھا۔ زہریلے لفظ ہماری پوری زندگی کو بدل دیتے ہیں ، ہماری روح کو زخمی کردیتے ہیں، ہمارے احساس کو کرچی کرچی کردیتے ہیں کیونکہ زہر تو زہر ہی ہوتا ہے ناں۔ لہجوں سے ٹپکتا زہر ہمیں یہ احساس دلا دیتا ہے کہ اب فاصلے بڑھا لینے کا وقت ہے کیونکہ زہر نے اپنا کام کردیا ہے۔ رشتوں کو ختم کردیا ہے، دوستی کی چاشنی کو کڑواہٹ میں بدل دیا ہے، رشتوں کو راکھ بنادیا ہے اور وہ راکھ بھی اب فضا میں گم ہوچکی ہے جب کسی کو کسی کی ضرورت نہیں ہوتی، جب ضرورت پوری ہوچکی ہوتی ہے مطلب نکل چکا ہوتا ہے پھر کون سا خلوص اور کون سا رشتہ اب تو صرف زہریلے لفظ ہی باقی رہ جاتے ہیں جو تمہیں ہر روز یہ احساس دلاتے ہیں کہ زہر کو زہر سمجھا تھا مگر وہ بھی اتنا زود اثر نہیں تھا جتنا زہر اُگلتے ہوئے لوگوں کو دیکھا ہم نے ۔۔۔ کیا کیا نہ کہہ گئے لوگ اپنی زہریلی آنکھوں سے ، جیسے ایک زہر کا سمندر تھا اُن کی آنکھوں میں۔۔۔ پھر یہ جانا کہ زہر سے کیا ڈرنا ،زہریلے لوگوں سے ڈرنا چاہیئے جو ہماری پوری زندگی کو اس طرح زہریلا بنادیتے ہیں کہ سب کچھ ختم ہوجاتا ہے بس باقی رہ جاتا ہے تو صرف زہر جو لوگوں کی رگوں میں ا س طرح دوڑتا ہے کہ اُن کا پورا شجرئہ نسب بیان کردیتا ہے ہر چیز اب صاف صاف دکھائی دینے لگتی ہے ہر چیز پر سے پردہ ہٹ جاتا ہے، سارے نقاب اُتر جاتے ہیں۔ جن لوگوں کی رَگ رَگ میں زہر گردِش کررہا ہوتا ہے وہ جب بات کرتے ہیں تو صرف طنزیہ جُملے ہی کستے ہیں، وہ ہر کسی کے بارے میں صرف اور صرف منفی سوچ ہی رکھتے ہیں، غیبت اور چغلی اُن کا شیوہ ہوتا ہے۔ معاشرے میں افراتفری اور منافرت پھیلانا اُن کا محبوب مشغلہ ہوتا ہے۔ ایسے لوگ معاشرے میں انتشار برپا کرتے ہیں اور پھر معصوم بھی بن جاتے ہیں وہ لوگوں کو کوئی نفع نہیں پہنچاسکتے۔ ایسے لوگ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ہر شخص سے تعلق نہیں رکھا جاتا ، نہ ہی ہر کسی پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ زہریلے لوگوں کی زہریلی باتیں جس کسی نے برداشت کی ہیں اُن کی پوری کی پوری زندگی بس اماوس کی رات بن کر رہ گئی ہے ،زہر ،زہر ہی ہوتا ہے ناں۔۔۔ اُس کا تو کام ہی جسم کی رَگ رَگ میں پھیل جانا ہے وہ تو اپنا کام کرے گا ہی۔ کانٹوں بھرے راستے پر چلو گے تو کانٹے چبھیں گے ہی۔ راستوں کا انتخاب بھی تو سوچ سمجھ کر کرنا چاہئیے ہم کانٹوں کو دوش نہیں دے سکتے ہم کسی کو بھی دوش نہیں دے سکتے۔ ہمارا انتخاب ہی غلط ہو تو کسی سے کیا شکایت کیا گِلہ ۔۔۔ ہم رشتے بناتے ہیں تو آنکھیں بند کرکے۔ دوستوں کا انتخاب بھی اپنی نا سمجھی اور لاپرواہی کے تحت ہی کرتے ہیں۔ جب ہماری روح تک زخمی ہوجاتی ہے سہتے سہتے تو پھر ہوش میں آتے ہیں اس لیے زہر کے پھیلنے کا انتظار مت کرو، سنبھل جائو، سنبھل کر چلو، جو دکھائی دے رہا ہے وہ ضروری نہیں کہ سچ ہو، سراب کو سمندر سمجھنے کی غلطی مت کرو۔ تمہاری تنہائی بہترین ساتھی ہے۔ اپنی تنہائی میں خوش رہو بجائے اس کے کہ جھوٹے رشتوں میں خلوص تلاش کرو۔
اپنی انا کی تسکین کے لیے ، کسی سے دشمنی نبھانے کے لیے نجانے کیوں لوگ زہر بھردیتے ہیں دوسروں کی زندگیوں میں وہ زہر ۔۔۔ بھر دیتے ہیں جو اُن میں بھرا ہوتا ہے جب چھلک جانے کو ہوتا ہے زہر۔۔۔وہ لوگ دوسروں کی زندگی میں بھردیتے ہیں زہر۔۔۔ چند لمحوں کی خوشی کے لیے ، حسد کی آگ کو کچھ اور بھڑکا کر زہریلی بنادیتے ہیں زندگی، دوسروں کی زندگی۔ زہر اپنا اثر دِکھا دیتا ہے اور پھر اندھیر ہوجاتی ہے زندگی اور پھر بالکل ہی خاموش ہوجاتی ہے زندگی، وہ زندگی تو نہیں ہوتی ہاں! وہ زندگی تو نہیں ہوتی۔ دل کی بستیاںشبنمی شبنمی سی ہوجاتی ہیں اور پھر سارے چراغ بجھ جاتے ہیں، آندھیاں دُکھوں کی جو اتنی تیز چلتی ہیں ، آندھیاں دُکھوں کی جو اتنی تیز چلتی ہیں۔