Breaking
جمعرات. اکتوبر 1st, 2026

ایس آئی آر کے دوران آر ایس ایس کا این آر سی کا مطالبہ: محض اتفاق یا کسی بڑے منصوبے کی شروعات؟

ایس آئی آر کے دوران آر ایس ایس کا این آر سی کا مطالبہ: محض اتفاق یا کسی بڑے منصوبے کی شروعات؟

ایس آئی آر کے دوران آر ایس ایس کا این آر سی کا مطالبہ: محض اتفاق یا کسی بڑے منصوبے کی شروعات؟

ازقلم:شیخ سلیم،ممبئی

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی جانب سے ملک گیر نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC / این آر سی) کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ مطالبے کا وقت خاص طور پر توجہ طلب ہے، کیونکہ انہی دنوں الیکشن کمیشن آف انڈیا ملک بھر میں ووٹر لسٹوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR / ایس آئی آر) یعنی خصوصی گہری نظرثانی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے ذریعے کروڑوں لوگوں کے نام حذف کیے جا رہے ہیں۔
آر ایس ایس کے آل انڈیا پرچار پرمکھ سنیل امبیکر نے ملک گیر NRC (این آر سی) کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ طے ہونا ضروری ہے کہ کون ہندوستانی شہری ہے اور کون نہیں۔ ان کے مطابق ایسے لوگوں کی نشاندہی بھی ہونی چاہیے جو مبینہ طور پر غلط طریقے سے ووٹر لسٹوں میں شامل ہو گئے ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب الیکشن کمیشن کروڑوں ووٹروں کے ریکارڈ کی جانچ اور تصدیق کا ایک وسیع عمل چلا رہا ہے۔ اس لیے اس وقت کو نظرانداز کرنا آسان نہیں۔

ووٹر کی تصدیق سے شہری کی تصدیق تک؟

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ایس آئی آر (SIR) اور این آر سی (NRC) قانونی طور پر ایک ہی چیز نہیں ہیں۔

ایس آئی آر (SIR) کا بنیادی مقصد انتخابی فہرستوں کی جانچ، تصحیح اور نظرثانی ہے، تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ کون ووٹر کے طور پر رجسٹرڈ رہنے کا اہل ہے۔ اس کے برعکس این آر سی (NRC) شہریت سے ہے، یعنی اس کا سوال یہ ہے کہ کون ہندوستانی شہری ہے۔

لیکن دونوں عمل میں ایک واضح مماثلت نظر آ رہی ہے۔ دونوں میں ووٹروں کی شناخت، دستاویزات اور ریکارڈ کی تصدیق شامل ہوتی ہے۔
اسی وجہ سے موجودہ حالات میں آر ایس ایس کا تازہ این آر سی (NRC) مطالبہ متنازع بن گیا ہے۔ ایک طرف الیکشن کمیشن بڑے پیمانے پر ووٹروں کی جانچ کر رہا ہے، اور دوسری طرف آر ایس ایس ان افراد کی شناخت کا مطالبہ کر رہا ہے جو اس کے مطابق غلط طور پر ووٹر لسٹوں میں شامل ہیں، اور ساتھ ہی ملک گیر این آر سی (NRC) کی بات بھی کر رہا ہے۔

یہ صورتحال کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
لوگ سوچ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر (SIR) کا عمل این آر سی (NRC) کی تیاری کے طور پر شروع کیا ہے، یا یہ عمل آر ایس ایس کی ہدایت پر ہو رہا ہے۔ ایسے کسی دعوے کے لیے ٹھوس شواہد درکار ہوں گے۔
سیاسی طور پر دونوں معاملات کے درمیان ہم آہنگی اور وقت شکوک و شبہات پیدا کر رہی ہے۔

اصل تشویش صرف یہ نہیں کہ کتنے نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے غائب ہوئے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ آگے کیا ہوگا۔ کیا ان کے نام راشن کارڈ سے نکال دیے جائیں گے؟ کیا انہیں پاسپورٹ نہیں ملے گا؟

ہندوستان میں کروڑوں لوگ اپنی زندگی میں ایک شہر سے دوسرے شہر، یا ایک ریاست سے دوسری ریاست منتقل ہوتے رہے ہیں۔ کئی خاندانوں کے پرانے ریکارڈ مکمل نہیں ہوتے۔ نام اور والد کے نام میں معمولی فرق، پرانے پتے، دستاویزات کی کمی اور سرکاری ریکارڈ میں غلطیاں بھی عام باتیں ہیں۔
ایسے میں اگر کوئی حقیقی ہندوستانی شہری صرف دستاویزات یا انتظامی غلطی کی وجہ سے ووٹر لسٹ سے باہر ہو جائے تو اس کے جمہوری حق پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
اسی لیے دعوے اور اعتراضات کا عمل آسان، شفاف اور ہر شخص کی پہنچ میں ہونا انتہائی ضروری ہے۔
ابھی این آر سی (NRC) کا مطالبہ کیوں کیا جارہا ہے؟
آر ایس ایس اس سے پہلے بھی این آر سی (NRC) کا مطالبہ کر چکا ہے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں اس مطالبے کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی ہے کہ یہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں ووٹر لسٹوں کی بہت بڑے پیمانے پر جانچ پڑتال جاری ہے۔ کیا یہ الیکشن کمیشن کی مصیبت کے وقت مدد ہے؟
اس وقت تین اہم پیش رفت ایک ساتھ نظر آ رہی ہیں:
1۔ ایس آئی آر (SIR): ووٹر لسٹوں کی جانچ اور تصدیق۔
2۔ مردم شماری (Census): ملک کی آبادی اور دیگر معلومات کا اندراج۔
3۔ این آر سی (NRC) کا مطالبہ: ہندوستانی شہریوں کی شناخت اور تصدیق کا مطالبہ۔

یہ تینوں قانونی طور پر ایک دوسرے سے مختلف عمل ہیں، مگر ان سب میں شناخت، دستاویزات اور ریکارڈ کی اہمیت مشترک ہے۔
اسی لیے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا آج ووٹر لسٹوں کی جو وسیع پیمانے پر تصدیق کی جا رہی ہے، مستقبل میں یہی معلومات کسی بڑے شہریت کی تصدیقی نظام کا حصہ بن سکتی ہیں؟
اس سوال کا جواب صرف سیاسی بیانات سے نہیں مل سکتا۔ حکومت اور الیکشن کمیشن کو واضح کرنا ہوگا کہ ایس آئی آر (SIR) کے دوران کون سی معلومات جمع کی جا رہی ہیں، ان کا مقصد کیا ہے، یہ معلومات کہاں محفوظ ہوں گی، انہیں کون استعمال کر سکتا ہے، اور کیا قانون کے تحت انہیں انتخابی عمل کے علاوہ کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
آخرکار اس پورے معاملے کو ایک بنیادی اصول کی روشنی میں دیکھنا ہوگا: کسی حقیقی ہندوستانی شہری کا ووٹ کا حق محض انتظامی غلطی یا غیر ضروری دستاویزاتی مشکلات کی وجہ سے ختم نہیں ہونا چاہیے۔

اصل چیلنج یہ ہے کہ تصدیق کا عمل اخراج کا ذریعہ نہ بن جائے۔
ایس آئی آر (SIR) کے دوران آر ایس ایس کا دوبارہ ملک گیر این آر سی (NRC) کا مطالبہ اس بحث کو مزید اہم بنا دیتا ہے۔ کیا ایس آئی آر (SIR) اور این آر سی (NRC) مستقبل میں بالکل الگ الگ رہیں گے، یا کسی مرحلے پر دونوں کے درمیان انتظامی یا قانونی تعلق قائم ہوگا؟ اس کی وضاحت حکومت، الیکشن کمیشن اور ضرورت پڑنے پر عدالتوں کو کرنی ہوگی۔
فی الحال دو باتیں واضح ہیں۔ ایک طرف الیکشن کمیشن ملک بھر میں ووٹر لسٹوں کی بڑے پیمانے پر نظرثانی کر رہا ہے، اور دوسری طرف آر ایس ایس ملک گیر این آر سی (NRC) کا مطالبہ کر رہا ہے۔یہ محض اتفاق ہے، یا مستقبل میں کسی بڑے شہریت کی تصدیقی نظام کی بنیاد بن سکتا ہے؟
اس سوال کا جواب ابھی واضح نہیں ہے۔ لیکن موجودہ حالات میں اس پر سنجیدہ، شفاف اور عوامی سطح پر بحث ضرور ہونی چاہیے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے