Breaking
بدھ. اکتوبر 7th, 2026

مصر نے اسرائیل پر حملہ کیا تو ’’سینا‘‘ باقی نہیں رہے گا: اسرائیلی وزیر خزانہ اسموٹریچ

مصر نے اسرائیل پر حملہ کیا تو ’’سینا‘‘ باقی نہیں رہے گا: اسرائیلی وزیر خزانہ اسموٹریچ

دبئی،6اکٹوبر(ایجنسیز)اسرائیلی وزیر خزانہ اسموٹریچ کے ان بیانات کے بعد مصر میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، جن میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر مصر نے اسرائیل پر حملہ کیا تو ’’سینا‘‘ باقی نہیں رہے گا۔
اسرائیلی وزیر نے یہ دھمکیاں ایک ویڈیو انٹرویو کے دوران دیں، جو انہوں نے اپنے گھر سے اسرائیل میں ہونے والے متوقع پارلیمانی انتخابات سے قبل دیا۔ ان کے اس اقدام کو سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے مصری معاملے کو انتخابی مہم میں استعمال کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی ناپختگی

سخت ردعمل میں مصری فوجی حکام اور دفاعی امور کے ماہرین نے کہا ہے کہ اسموٹریچ کے بیانات سیاسی ناپختگی اور مصری ریاست کی نوعیت اور خطے میں طاقت کے توازن سے مکمل لاعلمی کی عکاسی کرتے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ اسموٹریچ کو یہ جاننا چاہیے کہ آج منگل 6 اکتوبر ہے۔انہوں نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ اور ’’الحدث ڈاٹ نیٹ‘‘ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ جزیرہ نما سینا پر مصر کی خودمختاری ایک ناقابلِ سمجھوتہ سرخ لکیر ہے، جسے انتخابی مقاصد کے لیے سیاسی مہم جوئی کا موضوع نہیں بنایا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ مصری مسلح افواج اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے مکمل صلاحیت اور تیاری رکھتی ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت کو خبردار کیا کہ اس نوعیت کی بیان بازی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ امن معاہدے کو بھی کمزور کرتی ہے۔

اسی تناظر میں عسکری اور اسٹریٹجک امور کے ماہر میجر جنرل ڈاکٹر محمد الدسوقی نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ اور ’’الحدث ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسموٹریچ کے بیان کی بنیاد ہی میں موجود مفروضے کو مسترد کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ مصر ایک ادارہ جاتی ریاست ہے ،جو اپنے قومی مفادات اور خطے کے امن و سلامتی سے متعلق ذمہ داریوں کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے۔ مصر کی پالیسی جذباتی ردعمل یا اشتعال انگیزی کا جواب دینے کے اصول پر نہیں چلتی۔

ان کے مطابق مصر کی جانب سے اسرائیل پر حملے کی بات کرنا، مصری سرزمین کے خلاف دھمکیاں دینے یا امن کو خوف کا نتیجہ قرار دینے کا کوئی جواز فراہم نہیں کرتا۔

ریاستوں کی خودمختاری کی توہین

میجر جنرل الدسوقی نے مزید کہا کہ سینا مصر کی سرزمین ہے اور اس کی خودمختاری نہ تو سودے بازی کا موضوع ہے اور نہ ہی سیاسی تشہیر کا ذریعہ۔ انہوں نے کہا کہ سینا کے ’’غائب ہو جانے‘‘ کی بات ریاستوں کی خودمختاری اور وہاں آباد لوگوں کی زندگیوں کو انتہائی خطرناک انداز میں نظرانداز کرنے کے مترادف ہے، جس پر اسرائیلی حکومت کو ان بیانات کے حوالے سے واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔

مصری عسکری ماہر نے خبردار کیا کہ تحمل کو کمزوری یا بے بسی سے اور امن کے انتخاب کو وطن کے دفاع کی صلاحیت نہ ہونے سے خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مصر امن کا خواہاں ہے کیونکہ وہ استحکام کی اہمیت اور جنگوں کی بھاری قیمت سے بخوبی آگاہ ہے، تاہم اسی کے ساتھ وہ اپنی سرزمین، سرحدوں اور عوام کی سلامتی کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھتا ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کی غفلت یا سمجھوتہ قبول نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اسٹریٹجک اعتبار سے مصر کے فیصلوں کو صرف دھمکیوں کے خوف سے جوڑ دینا مصری ریاست کی نوعیت کے بارے میں محدود سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ بڑی ریاستیں اپنے فیصلے صورتحال کے جامع جائزے کی بنیاد پر کرتی ہیں، طاقت اور سفارت کاری کے ذرائع میں توازن قائم کرتی ہیں اور خود طے کرتی ہیں کہ اپنے مفادات کا تحفظ کب اور کیسے کرنا ہے۔ انہیں اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے کسی کی اجازت کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔

الدسوقی نے مطالبہ کیا کہ کسی بھی حکومتی عہدیدار کی جانب سے دی جانے والی دھمکی کو سیاسی سنجیدگی سے لیا جائے، تاہم اس کے ذاتی بیانات اور ریاست کے سرکاری فیصلوں میں فرق رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کو اپنا مؤقف واضح کرنا اور ایسے بیانات کی ذمہ داری قبول کرنا چاہیے جو ہمسایہ ممالک کی سلامتی کو متاثر کرتے اور باہمی اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

میجر جنرل الدسوقی نے اپنی گفتگو کا اختتام ایک دوٹوک پیغام پر کرتے ہوئے کہا: ہمارا پیغام واضح ہے، مصر امن چاہتا بھی ہے اور اس کا تحفظ بھی کرتا ہے، لیکن وہ اپنی سرزمین اور اپنی عزت کا بھی تحفظ کرتا ہے۔ سینا کسی انتخابی خطاب میں استعمال ہونے والا سیاسی کارڈ نہیں بلکہ وطن کا ایک لازمی حصہ ہے اور اس کا دفاع ایک مستقل ذمہ داری ہے۔ جو شخص سینا کے بارے میں اس قدر غیر سنجیدگی سے بات کرتا ہے، اسے تاریخ کے اسباق کا اچھی طرح مطالعہ کرنا چاہیے اور مصر جیسی طاقتور ریاست کو دھمکی دینے کے نتائج کا درست اندازہ لگانا چاہیے۔

انتہاپسندانہ بیان

عسکری اور اسٹریٹجک امور کے ماہر میجر جنرل ایمن عبدالمحسن نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ اور ’’الحدث ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو میں کہا کہ اسموٹریچ کے بیانات مکمل طور پر انتہاپسندانہ اور غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کے زمرے میں آتے ہیں، جو سیاسی ناپختگی اور مشرق وسطیٰ میں حقیقی طاقت کے توازن سے لاعلمی کی ایک غیر معمولی کیفیت کی عکاسی کرتے ہیں۔

میجر جنرل عبدالمحسن نے کہا کہ اسرائیلی وزیر کو 1973 کی اکتوبر جنگ میں مصری فوج کی کامیابیوں کی یاد دلانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مصر کے خلاف کسی بھی اسرائیلی عجلت پسندی یا سوچے سمجھے بغیر مہم جوئی سے سینا کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا بلکہ خود اسرائیل کے وجود کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

عبدالمحسن نے وضاحت کی کہ مصری مسلح افواج ایک ذمہ دار علاقائی طاقت کی حیثیت رکھتی ہیں، جو مکمل عسکری صلاحیت، جنگی تیاری اور اپنی سرحدوں اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مستقل آمادگی رکھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کے وزرا کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات مصر کے عزم کو متاثر نہیں کر سکتے، بلکہ صرف ان قیادتوں کی عدم آگاہی اور ذہنی انتشار کو ظاہر کرتے ہیں۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے