نانا پاٹیکر نے ایک ایسے وقت میں دنیا کو خیر باد کہا جب اس کا کرانتی ویر ملک کے کونے کونے سے دہلی کے جنتر منتر کی جانب نکل کھڑا ہواہے۔ اپنے آپ کو ناقابلِ تسخیر سمجھنے والا اقتدار ِ وقت اس کے خوف سے تھر تھر کانپ رہا ہے۔ اس نے دہلی کو اس طرح ایک فوجی چھاونی میں تبدیل کردیا گویا کوئی غیر ملکی فوج حملہ آور ہے۔ اپنے ہی ان بچوں نے مودی و شاہ کے راتوں کی نیند حرام کردی ہے جن کوحقارت سے کاکروچ کہا جاتا تھا۔ انہیں مناظر کو دیکھنے کے لیے نانا آنکھیں ترس گئی تھیں ۔ اسی لیے نانا پاٹیکر نے کرانتی ویر کے کلائمکس میں تختۂ دار پر کھڑے ہوکر کہا تھا :’’ آ گئے میری موت کا تماشہ دیکھنے؟یہ تم لوگ کیا دھرم دھرم چلاتے رہتے ہو؟ دھرم تو انسان کو انسان بناتا ہے، تم لوگوں نے تو اسے دھندہ بنا لیا ہے‘‘۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاست کی اس سے بہتر عکاسی نہیں ہوسکتی۔ اس کے بعد عوام کو للکارتا ہے:’’تمہاری یہ نامَردی اور بُزدلی اس دیس کی موت کا تماشہ دیکھے گی۔ غلامی کرنے کی عادت پڑی ہے تم کو… کُتّے کی طرح جینے کی عادت پڑی ہے تم کو‘‘ اس طاقتور مکالمہ سے نانا پاٹیکر جو عوامی بیداری پیدا کرنا چاہتا تھا اس کے نظارے دہلی کی سڑکوں پر دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔
نانا پاٹیکر گلوکار نہیں تھا مگر 1996 کی یشونت نامی فلم میں اس نے ایک نغمہ گایا اور نغمہ نگار سمیر کے مطابق وہ انہیں کی ترغیب پر لکھا بھی گیا ۔ آج کے سیاسی ماحول پر اس نغمے کا ہر مصرع صادق آتا ہے۔گیت کی شروعات اس طرح ہوتی ہے :’’ایک مچھر ، ایک مچھر سالا آدمی کو ہیجڑا بنا دیتا ہے‘ ‘۔ اس مصرع میں اگر مچھر کی جگہ گیانیش کمار کا تصور کرلیا جائے تو وہ آدمی کون ہے جس کو اس نے مخنس بنادیا چھپنّ انچ وا لا سینہ ٹھونکتا ہوا سامنے آجاتاہے۔ طلباء اور نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر توہین کرنے والے اور انہیں کچل یامسل کر صفحۂ ہستی سے مٹا دینے کی دھمکی دینے والے دُم سادھے بیٹھے ہیں اور ان پر نغمے کا دوسرا مصرع ’ایک کھٹمل پوری رات کو اپاہج بنا دیتا ہے‘ صادق آتا ہے۔ ایسی صورتحال میں پر امید نانا آگے گاتا ہے ’ کبھی نہ کبھی تو جھوٹ کا گلا گھونٹے گی سچائی‘ ، لیکن فی الحال تو وزیر اعظم نریندر مودی کی 76؍ ویں سالگرہ کا ماہ چل رہا ہے ۔ ایک دن نہیں پورا مہینہ جو ابھی ختم بھی نہیں ہوا کہ ان کے اقتدار کی سلور جوبلی آگئی اور پھر ایک بار زعفرانی ٹولا خوشی سے جھوم اٹھا ۔
گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ نےایک زمانے میں کیکئی کی طرح مودی جی کو ریاست سے بن باس پر دہلی روانہ کردیا تھا لیکن جب بھج زلزلہ کے بعد کیشو بھائی انتہائی غیر مقبول ہو جانے پر بی جے پی نے نریندر مودی پر داوں لگایا ۔ اس طرح 7؍ اکتوبر 2001کو موصوف نےگجرات کےوزیر اعلیٰ کی حیثیت سے جس آئین پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھایا اسے پچھلی ایک چوتھائی صدی سے اسے پامال کر رہے ہیں ۔گجرات میں اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں گودھرا ٹرین حادثے کو بہانہ بناکر ریاست کو بدترین نسل کشی کی آگ میں جھونک دیا ۔ اس کے باوجودا نہیں 2014 میں پہلی بار بھارت کے وزیر اعظم بنا دیا گیا اور وہ ہنوز اس پر فیویکول لگا کر چپکے ہوئے ہیں۔اقتدار کی سلور جوبلی پر مرکزی کابینہ نے مودی کے لیے مبارکبادی کی قرارداد منظور کی تو انہوں نے اپنے پیغام میں 2024 تک ‘وِکسِت بھارت’ (ترقی یافتہ ہندوستان) کے ہدف کا اعادہ کیا۔ اس کا مطلب ہے’ سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘ کا جو خواب 5 سالوں میں شرمندہ تعبیر ہونا تھا اس کی مدت کار 34؍برس کردی گئی اور وہ 97 سال کی عمر تک اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں ۔ اس طویل عرصے میں ترقی کے نام پر ملک جو کچھ ہوا اس کا نمونہ مچھر والے نغمے میں ملاحظہ فرمائیں؎
اونچی دوکان پھیکا پکوان ، کھدر کی لنگوٹی چاندی کا پیکدان
سو میں اسیّ بے ایمان پھر بھی میرا دیش مہان
ٹوپی لگائے مچھر کہتا ہے
دیش کے لوگوں میں سمتاکی بھاونا(مساوات کاجذبہ) آرہی ہے
اس لیے بڑی مچھلی چھوٹی کو کھا رہی ہے
ہمارے چنے ہوئے کتے ہمیں کاٹتے ہیں
ہمارے حصے کی روٹیاں آپس میں بانٹتے ہیں
بی جے پی کے پاس دنیا بھر کی دولت جمع ہوگئی ہے اس لیےاس کی دوکان ضرور اونچی ہے مگر اس سے نکلنے والا پکوان عوام کی خاطر پھیکا ہے۔ چائے بیچنے کی بات کرنے والا وزیر اعظم جب ۸؍ ہزار کروڈ کے جہاز میں چڑھتا ہےتو اس پر کھدر کی لنگوٹی اور چاندی کا پیکدان والا محاورہ ثبت ہوجاتا ہے۔ تیس سال قبل جب یہ نغمہ لکھا گیا تھا تو ملک میں کم ازکم بیس فیصد ایمانداری تھی لیکن اب سنگھیوں کے اندر دو فیصد ایماندار بھی نہیں بچے ۔ بی جے پی نے پہلے تو ہندو مسلمان کے درمیان تفریق و امتیاز سے آغاز کیا مگر پھر یوجی سی قانون کے بعد وہ نام نہاداونچی ذات والوں اور پسماندہ طبقات کے بیچ تفاوت پیدا کردی ۔ اب تو یہ جنگ براہمنوں اور ٹھاکروں کے درمیان چھڑ گئی جس کو اتر پردیش میں صاف صاف دیکھا جارہا ہے۔ بابا کا بلڈوزر اپنے سب سے قابلِ اعتماد بنیا ووٹر س کی دوکانوں کو ڈھاکر امبانی و اڈانی جیسے سرمایہ داروں کے لیے مال کا راستہ صاف کررہا ہے۔ بڑے مندروں کی تعمیر کے لیے چھوٹے مندروں کو مسمار کرکے ان کے پجاریوں کو بیروزگار کردیا گیا ہے۔ یہی تو بڑی مچھلی کا چھوٹی مچھلی کو کھانا ہے۔ وزیر اعظم کے حلقۂ انتخاب وارانسی سے ایودھیا تک یہ تماشا زور و شور سے کیا گیا ۔ مندروں کو اپنے لیے اےٹی ایم بناکر چندہ تک چوری کرلیا گیا ۔ اب ووٹ چوری کرکے مستقل اقتدار میں رہنے کی سازش جاری ہےتاکہ اس نغمے کے مطابق ’’عوام کے چنندہ نمائندے ان کے حصے کی روٹی آپس میں بانٹ کر کھا جائیں‘ اور اندھے بھگت اپنی فاقہ مستی کا جشن منائیں ۔ فلم یشونت کے نغمے میں نانا آگے گاتا ہے:
گرو سالو ، گرو لیکن گرو تو اس جھرنے کی طرح
جو پربت کی اونچائی سے گرکے بھی اپنی سندرتا (خوبصورت) کھونے نہیں دیتا
زمین کی تہہ سے مل کے بھی اپنے استتوا(وجود) کو نشٹ (برباد) ہونے نہیں دیتا
لیکن اتنا سوچنے کے لیے وقت ہے کس کے پاس
کیونکہ سالا ایک مچھر آدمی کو ہیجڑا بنا دیتا ہے
نانا پاٹیکر کی یہ بات درست ہے چونکہ سنگھ پریوار کو ایک مچھر نے نامرد بنادیا ہے اس لیے وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوچکا ہے مگر ملک کی نئی نسل یعنی جین زی کا معاملہ مختلف ہے ۔ اس کے اندر سوچنے سمجھنے زبردست صلاحیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ وہ نڈر ہے اسی لیے بے خوف ہوکر چھپنّ انچ کا چھوٹا بندر جیسا ندرت بھرا نعرہ لگاتا ہے۔ اس پر تشدد کرکے اسے کچلنے کی کوشش کی جائے تو وہ نہ مایوس ہوتا ہے اور جھکتا یا دبتا بھی نہیں ہے۔ وہ پربت کی انچائی سے گرنے کے باوجود اپنی خوبصورتی نہیں گنواتا۔ حزب اختلاف سڑکوں پر اترا ہوا ہے۔ اسے زمین کی تہوں میں دفنانے کی کوشش کی جاتی ہے مگر وہ اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔ جین زی کے نوجوان اپنے اوپر تشدد کرنے والوں کو پھول دے کرعار دلاتے ہوئے کہتے ہیں دہلی کی اپنی وردی بدل کر سنگھ کی نیکر پہن لو۔ پرینکا گاندھی زمین پر لیٹ کر اٹھتی ہیں اور اپنے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کا ذکر کرنے کے بعد وہاں تعینات پولیس والیوں کو اپنی بیٹیاں کہتی ہیں۔ یہ پربت سے گرنے کے باوجود اپنی خوبصورتی اور وجودکو برقرار رکھنا ۔ یشونت فلم کے نغمے میں سمیر انجان نے اسی حوصلہ مندی کی ترغیب دی ہے ۔ اپنے آخری بند کے اندر یہ گیت آئندہ نسلوں کو خبردار کرتا ہے کیچڑ میں کھلنے والا (گیانیش ) کمل کیا کیا کرسکتا ہے ؎
یہ مچھر ، یہ مچھر جس کاکیچڑ میں گھر ہے، نالیوں میں بسیرا ہے
اس کی پہچان ہے کہ یہ تیرا ہے نہ میرا ہے
(اسی لیے جب راہل گاندھی کی گیانیش کمار کو سرکاری گواہ بننے کی پیشکش سے بی جے پی والے ڈر جاتے ہیں کیونکہ یہ ابن الوقت افسر کسی کے نہیں)
یہ مچھر ہیجڑا بنادے ، ہیجڑا بنا دے گا
کبھی شیطان آئیں گے میرے دروازے پر دستک دیں گے(سی بی آئی ، ای ڈی ، ایس آئی ٹی بن کر)
ذہن کی تلاشی لیں گے پھر جل اٹھیں گے،(یہ جارج اورویل کے ناول 1984میں مائنڈ کنٹرول کی جانب اشارہ ہے)
اس وقت میں ڈروں گا نہیں
اپنےشریر(جسم) کو ڈھال اورہاتھ کو تلوار بناوں گا
ایک نہ ایک دن تو تم میرا ہاتھ چوموگے
کرو آج مجھے بدنام کرو نیلام کرو(سرکار اور آئی ٹی سیل کی خوشنودی کے لیے گودی میڈیا یہی تو کہہ رہا ہے)
نیلامی کے لیے کیا ہے میرے پاس، بس جلتے ہوئے آنسووں کا احساس
مگر میں تم سے بدلہ لوں گا (راہل گاندھی جب کہتے ہیں کہ کسی بخشا نہیں جائے گا تو اس میں یہی دھمکی پوشیدہ ہے)
تمہاری آخری بولی پر
میرے دو سانسوں کے بیچ کا ٹھہراو
تمہیں پھوکٹ(مفت) میں دوں گا
کیونکہ سالا ایک مچھر نے تمہیں ہیجڑا بنا دیا ہے۔
نانا پاٹیکر کوایک ایسے وقت میں جہانِ فانی سے کوچ کرنا پڑاجب اس کے خواب شرمندۂ تعبیر ہورہے تھےمگر ’موت پر کس کو رستگاری ہے‘۔ایسے میں جاتے جاتے نانا ہم سے مسکرا کر یہ کہہ گیا ہے؎
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے