Breaking
اتوار. اکتوبر 11th, 2026

سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کے اختیارات اور آئینی جواب دہی کا سوال

سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کے اختیارات اور آئینی جواب دہی کا سوال

سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کے اختیارات اور آئینی جواب دہی کا سوال

تحریر: محمد اعجاز الدین احمد عاجزؔ
رابطہ:9700389755

جمہوری نظام کی مضبوطی کا انحصار صرف انتخابات کے انعقاد پر نہیں، بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد کس حد تک برقرار ہے۔ انتخابات اسی وقت اپنی حقیقی معنویت رکھتے ہیں جب ہر شہری کو اپنے ووٹ کے استعمال کا یکساں موقع ملے، انتخابی ادارے کسی دباؤ کے بغیر کام کریں اور ان کے فیصلے قانون اور آئین کے مطابق ہوں۔ ہندوستان میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کو اسی مقصد کے تحت ایک اہم آئینی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ آئین کا آرٹیکل ۳۲۴ کمیشن کو انتخابات کی نگرانی، رہنمائی اور کنٹرول کے اختیارات دیتا ہے، جب کہ آرٹیکل ۳۲۶ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخابی نظام کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اس کے باوجود، الیکشن کمیشن کے اختیارات اور اس کے کام کرنے کے طریقۂ کار سے متعلق کئی ایسے پہلو ہیں جن پر قانونی اور آئینی سطح پر بحث ہوتی رہی ہے۔ اسی پس منظر میں حالیہ دنوں میں چیف الیکشن کمشنر کے اختیارات، کمیشن کی اجتماعی فیصلہ سازی، انتخابی فہرستوں کی نظرِ ثانی، ڈیجیٹل نظاموں کے انتظام اور اعلیٰ انتخابی عہدوں پر تقررات کے قانونی جواز سے متعلق سوالات سپریم کورٹ آف انڈیا کے سامنے اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔یہ مقدمات محض انتظامی اختلافات یا سیاسی کشمکش کی بازگشت نہیں، بلکہ ان کا تعلق آئینی حاکمیت، ادارہ جاتی خودمختاری اور قانونی جواب دہی کے اس بنیادی اصول سے ہے جس کے مطابق کوئی بھی منصب قانون سے ماورا نہیں ہو سکتا۔ ان سوالات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ انتخابی عمل میں معمولی سی بے ضابطگی یا شفافیت کی کمی بھی عوام کے اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے۔ ایسے معاملات میں سپریم کورٹ کا کردار محض قانونی تنازعات کا فیصلہ کرنے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ وہ آئینی اصولوں کی تشریح اور اداروں کے اختیارات کی حدود متعین کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ انتخابی اداروں کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے ضروری آزادی کیسے فراہم کی جائے اور ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ ان کے اختیارات قانون کے تابع رہیں۔ یہی توازن جمہوریت کی ساکھ، آئینی بالادستی اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
چیف الیکشن کمشنر کے اختیارات اور اجتماعی فیصلہ سازی
شیلندر منی ترپاٹھی بنام یونین آف انڈیا کے مقدمے میں بنیادی سوال یہ اٹھایا گیا ہے کہ آیا چیف الیکشن کمشنر، کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے، دیگر کمشنرز کی رائے سے اختلاف کی صورت میں یک طرفہ فیصلے کرنے کا مجاز ہے، یا ادارے کے معاملات کو قانون میں مقرر کردہ اجتماعی اور اکثریتی طریقۂ کار کے مطابق طے کیا جانا چاہیے۔ عرضی گزار نے فہرست رائے دہندگان کی نظرِ ثانی، فارم ۶ میں مبینہ تبدیلیوں، ڈیجیٹل نظاموں تک رسائی اور بعض اپیلوں کے اندراج جیسے معاملات میں دیگر کمشنرز، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی، کی رضامندی کے بغیر اقدامات کیے جانے پر اعتراض کیا ہے۔اس ضمن میں یہ امتیاز ملحوظ رہنا ضروری ہے کہ اختلافِ رائے اور غیر قانونی اقدام دو الگ امور ہیں۔ اجتماعی اداروں میں اختلاف ایک فطری امر ہے، تاہم اس اختلاف کو رفع کرنے کا طریقہ قانون کے تابع ہونا چاہیے۔ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز ایکٹ، ۲۰۲۳ء کی دفعہ ۱۸ اسی تناظر میں اہمیت رکھتی ہے، جس کی تشریح کے ذریعے اتفاقِ رائے، اکثریتی فیصلے اور سربراہ کے انتظامی اختیار کی حدود کا تعین مطلوب ہے۔
سپریم کورٹ کے معروف فیصلے ٹی۔ این۔ شیشن بنام یونین آف انڈیا، ۱۹۹۵ء، کے تناظر میں بھی یہ سوال اہم ہے کہ آیا چیف الیکشن کمشنر کو دیگر کمشنرز کے مقابلے میں اول بین المساوین، یعنی برابر کے ارکان میں اول، کی حیثیت حاصل ہے، یا اس کی سربراہی اسے غیر محدود یک طرفہ اختیار عطا کرتی ہے۔ تاہم، اس سوال کا حتمی جواب متعلقہ قانونی دفعات، عدالتی نظائر اور مقدمے کے حقائق کی روشنی میں ہی ممکن ہے۔
ستمبر ۲۰۲۶ء کے اواخر میں اس معاملے کی جلد سماعت کی درخواست پیش کیے جانے اور ۵ اکتوبر ۲۰۲۶ء کی کارروائی سے متعلق رپورٹ کے مطابق، سپریم کورٹ نے متعلقہ فریقین سے جواب طلب کیا اور درخواستوں کو یکجا کرنے کی ہدایت دی۔ چیف الیکشن کمشنر کو عبوری طور پر معطل کرنے اور بعض انتخابی اقدامات پر روک لگانے کی استدعا بھی کی گئی، تاہم اس مرحلے پر معطلی کی درخواست منظور نہیں ہوئی۔ عدالت نے مبینہ یک طرفہ فیصلوں اور کمشنرز کے درمیان اختلافات سے متعلق اعتراضات پر متعلقہ ریکارڈ اور وضاحت طلب کرنے کی ضرورت کو اہمیت دی۔ واضح رہے کہ نوٹس کا اجرا یا درخواست کی سماعت بذاتِ خود درخواست گزار کے مؤقف کی عدالتی توثیق نہیں ہوتا، حتمی نتیجہ قانونی دلائل اور شواہد کے جائزے سے ہی برآمد ہوگا۔
فہرست رائے دہندگان ، فارم ۶ اور ڈیجیٹل نظام کی جواب دہی
فہرست رائے دہندگان میں نام کا اندراج محض ایک انتظامی کارروائی نہیں، بلکہ شہری کی جمہوری شرکت کا بنیادی وسیلہ ہے۔ اسی لیے فارم ۶ میں مبینہ تبدیلیوں کا معاملہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ عرضی گزار کے مطابق، جولائی ۲۰۲۶ء میں اس فارم میں ایسا اقرار نامہ شامل کیا گیا جس کے ذریعے درخواست گزاروں سے خصوصی جامع نظرِ ثانی، یعنی اسپیشل انٹینسو ریویژن، کے بعدفہرست رائے دہندگان میں نام شامل ہونے سے متعلق معلومات طلب کی جانے لگیں۔ اعتراض یہ ہے کہ اگر فارم ۶ رجسٹریشن آف الیکٹرز رولز، ۱۹۶۰ء کے تحت مقرر ہے تو اس میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی کے لیے متعلقہ قواعد میں باقاعدہ ترمیم ضروری ہے۔
اس معاملے میں اصل سوال فہرست رائے دہندگان کی صحت برقرار رکھنے کی ضرورت نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لیے اختیار کردہ طریقۂ کار قانونی حدود سے ہم آہنگ ہے یا نہیں۔ فہرست رائے دہندگانکی درستگی، اہلیت کی جانچ اور غیر متعلقہ اندراجات کی روک تھام الیکشن کمیشن کی اہم ذمہ داریاں ہیں، مگر ان ذمہ داریوں کی انجام دہی شہریوں کے حقوق، شفافیت اور قانونی یکسانیت کو ملحوظ رکھ کر ہونی چاہیے۔
اسی طرح، ای سی آئی نیٹ اور ای آر او نیٹ جیسے ڈیجیٹل نظاموں کی انتظامی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ عرضی میں عوامی نمائندگی ایکٹ، ۱۹۵۰ء کی دفعہ ۱۳ (ب) کا حوالہ دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انتخابی رجسٹریشن افسران کو اپنے قانونی فرائض کی انجام دہی کے لیے ضروری ڈیجیٹل رسائی حاصل ہونی چاہیے۔
گوا کے ۹۷ ووٹروں کا معاملہ اس بحث کی نمایاں مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق، مقامی انتخابی رجسٹریشن افسران نے ان ووٹروں کو اہل قرار دیا، لیکن ڈیجیٹل نظام میں ان کے نام بحال کرنے کی سہولت دستیاب نہ ہونے کے باعث ان کا اندراج متاثر ہوا۔ فروری ۲۰۲۶ء میں گوا کے چیف الیکٹورل افسر کی جانب سے بھیجے گئے آٹھ مراسلات کا حوالہ دیتے ہوئے بھی اس مسئلے کی نشان دہی کی گئی ہے۔
یہ صورتِ حال ایک اہم اصول کی یاد دہانی کراتی ہے۔ ٹیکنالوجی قانون کی معاون ہونی چاہیے، اس کا متبادل نہیں۔ اگر کسی مجاز افسر کا قانونی فیصلہ محض نظامی رکاوٹ کے باعث نافذ نہ ہو سکے تو انتظامی شفافیت اور قانونی اختیار کے درمیان خلل پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ تاہم، کسی تکنیکی خرابی یا رسائی کے اختلاف کو بذاتِ خود غیر قانونی اقدام کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا؛ اس کے لیے متعلقہ احکامات، ڈیجیٹل آڈٹ ٹریل اور انتظامی ریکارڈ کی جانچ ناگزیر ہے۔
مغربی بنگال میں تقریباً ۱۶ لاکھ ۱۰ ہزار اپیلوں کا معاملہ بھی اسی تناظر میں قابلِ توجہ ہے۔ عرضی گزار کے مطابق، ان اپیلوں کا تعلق ایسے ووٹروں کے اندراج سے ہے جن کے نام عدالتی افسران کی جانچ کے بعد فہرست رائے دہندگانمیں شامل کیے گئے تھے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا اپیلوں کے اندراج اور ان پر کارروائی کا طریقۂ کار متعلقہ قانونی اختیارات اور مقررہ ضابطوں کے مطابق تھا۔ فہرست رائے دہندگانکی اصلاح کے لیے اپیل کا حق ضروری ہے، لیکن اس حق کا استعمال بھی منصفانہ سماعت، مناسب اختیار اور قانونی تحدیدات کے تابع ہونا چاہیے۔
اعلیٰ انتخابی عہدوں پر تقررات اور قانونی جواز
الیکشن کمیشن کی داخلی فیصلہ سازی کے ساتھ اعلیٰ انتخابی عہدوں پر تقررات کی قانونی حیثیت بھی ایک اہم آئینی سوال ہے۔ سوری پائیالا بنام یونین آف انڈیا کے عنوان سے دائر درخواست میں آئین کے آرٹیکل ۳۲ کے تحت رٹ آف کو وارنٹو جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ اس رٹ کا بنیادی مقصد یہ جانچنا ہے کہ کوئی شخص کس قانونی اختیار کے تحت کسی عوامی منصب پر فائز ہے۔اس درخواست میں گیانیش کمار، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کی تقررات کو چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز ایکٹ، ۲۰۲۳ء کی مبینہ عدم تعمیل کی بنیاد پر چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست گزار نے ۱۴ مارچ ۲۰۲۴ء کے ان نوٹیفکیشنز پر اعتراض کیا جن کے ذریعے گیانیش کمار اور سکھبیر سنگھ سندھو کو الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا، جب کہ ۱۷ فروری ۲۰۲۵ء کے نوٹیفکیشن کے تحت گیانیش کمار کی چیف الیکشن کمشنر اور وویک جوشی کی الیکشن کمشنر کے طور پر تقرر کو بھی سوالیہ نشان بنایا گیا ہے۔عرضی میں ایکٹ کی دفعات ۵، ۶ اور ۸(۱) کے تقاضوں، سرچ کمیٹی کے کردار، امیدواروں کے انتخاب اور سلیکشن کمیٹی کے طریقۂ کار سے متعلق اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق، مارچ ۲۰۲۴ء میں دو خالی عہدوں کے لیے سرچ کمیٹی کی جانب سے چھ ناموں کی سفارش اور انتخابی عمل کی زمانی ترتیب سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا مقررہ قانونی تقاضوں کی مکمل پابندی کی گئی تھی۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے ۲۲ مارچ ۲۰۲۴ء کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے دو خالی عہدوں کے لیے دس ناموں کی ضرورت سے متعلق نکتے کو بھی پیش کیا گیا ہے۔یہاں بنیادی اصول یہ ہے کہ تقرر کی قانونی حیثیت کا تعین محض منتخب افراد کی انتظامی قابلیت یا ذاتی شہرت کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ قانون نے اگر اہلیت، امیدواروں کے پینل اور انتخابی کمیٹی کے طریقۂ کار کے لیے مخصوص شرائط مقرر کی ہیں تو ان کی پابندی لازم ہے۔
آئینی حقوق، تحقیق اور عدالتی احتیاط
زیرِ بحث درخواستوں میں آئین کے آرٹیکل ۱۴، ۱۹(۱)(الف)، ۲۱ اور ۳۲۶ کے اصولوں کے علاوہ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے آرٹیکل ۲۱ اور شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کے آرٹیکل ۲۵ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ ان دفعات اور بین الاقوامی اصولوں کا بنیادی تعلق مساوات، آزادی، شہری شرکت اور حقیقی انتخابات سے ہے۔ ان کی روشنی میں انتخابی انتظام کو محض سرکاری کارروائی نہیں، بلکہ عوامی نمائندگی اور جمہوری اقتدار کے جواز کی بنیاد سمجھنا چاہیے۔شیلندر منی ترپاٹھی کی عرضی میں بعض انتظامی اقدامات کی قانونی حیثیت کے تعین، ڈیجیٹل ریکارڈ محفوظ رکھنے، انتخابی رجسٹریشن افسران کی رسائی بحال کرنے اور گوا کے ووٹروں کے معاملے کی جانچ کے لیے آزادانہ تحقیق کی استدعا بھی کی گئی ہے۔ اس ضمن میں ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن یا خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے اور سائبر سکیورٹی و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کو اس میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔تاہم، ادارہ جاتی جواب دہی اور کسی فرد کی ذاتی یا فوجداری ذمہ داری کا تعین دو الگ قانونی مراحل ہیں۔ بے ضابطگی کے شبہے پر ریکارڈ کی جانچ اور وضاحت طلب کرنا ضروری ہو سکتا ہے، مگر کسی فرد کو قصوروار قرار دینے کے لیے معتبر شواہد اور مقررہ قانونی کارروائی ناگزیر ہیں۔ اسی طرح، آرٹیکل ۳۶۱ کے تحت استثنا، آرٹیکل ۳۲۴(۵) کے آئینی تحفظات اور رٹ آف کو وارنٹو کے دائرۂ اطلاق سے متعلق سوالات کا فیصلہ متعلقہ آئینی دفعات اور عدالتی نظائر کی روشنی میں ہونا چاہیے۔عدالت کا منصب نہ تو آئینی اداروں کی خودمختاری کو بلاجواز محدود کرنا ہے اور نہ ہی انہیں قانونی احتساب سے بالاتر قرار دینا۔ اس کا اصل فریضہ یہ ہے کہ اختیارات کی حدود متعین رہیں، قانونی طریقۂ کار کی پاسداری ہو اور شہریوں کے حقوق کو مؤثر تحفظ حاصل ہو۔
خودمختاری اور جواب دہی کا توازن
سپریم کورٹ کے سامنے زیرِ بحث یہ سوالات ایک وسیع تر آئینی حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ جمہوری اداروں کی قوت صرف ان کے قانونی اختیار میں نہیں، بلکہ اس اختیار کے شفاف، منصفانہ اور قابلِ تصدیق استعمال میں بھی مضمر ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کی مؤثر قیادت، دیگر کمشنرز کا قانونی کردار، فہرست رائے دہندگا ن کی صحت، ڈیجیٹل نظاموں کی شفافیت اور اعلیٰ عہدوں پر تقررات کا ضابطہ جاتی جواز، یہ سب ایک ہی آئینی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔انتخابی اصلاحات اور قانونی پابندی کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا درست نہیںدونوں کا مقصد جمہوری نظام کو زیادہ معتبر، منصفانہ اور مستحکم بنانا ہے۔ اسی طرح، ادارہ جاتی خودمختاری کا تحفظ اس وقت زیادہ بامعنی ہوتا ہے جب فیصلوں کی بنیاد واضح ہو، اختلافِ رائے کو قانونی طریقے سے حل کیا جائے اور جواب دہی کو کمزوری کے بجائے شفافیت کی علامت سمجھا جائے۔
بالآخر، جمہوریت کا حسن کسی ایک منصب، شخصیت یا فیصلے میں نہیں، بلکہ اس آئینی میزان میں ہے جس پر اختیار اور ذمہ داری، آزادی اور احتساب، انتظامی کارکردگی اور شہری حقوق کو پرکھا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ کے سامنے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ ان عناصر کے درمیان ایسا متوازن قانونی اصول واضح کرے جو الیکشن کمیشن کی خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے اسے آئین و قانون کا پابند بھی بنائے۔ ان مقدمات میں اٹھائے گئے اعتراضات کا حتمی فیصلہ متعلقہ ریکارڈ، فریقین کے جوابات اور عدالتی تجزیے کی روشنی میں ہی ممکن ہے۔ اس لیے کسی الزام یا استدلال کو فیصلہ صادر ہونے سے پہلے حتمی حقیقت قرار دینے کے بجائے آئینی عمل کی تکمیل کا انتظار ہی قانون پسندی اور عدالتی احتیاط کا تقاضا ہے۔جمہوری اعتماد کی پائیداری اسی وقت ممکن ہے جب اقتدار کا ہر سرچشمہ قانون کے تابع ہو، ہر آئینی ادارہ اپنے دائرۂ اختیار سے آگاہ رہے اور ہر شہری کے حقِ رائے دہی کو انتظامی مصلحتوں سے بالاتر اہمیت حاصل ہو۔ یہی آئینی جواب دہی کا جوہر اور جمہوریت کی حقیقی ضمانت ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے